“Lo! as for those whom the angels take (in death) while they wrong themselves, (the angles) will ask; In what were you engaged? They will say: We were oppressed in the land. (The angles) will say: Was not Allah’s earth spacious that you could have migrated therein?…” Surah An-Nisa 97
الحمد للہ… الله نے مجھے اکیلا ضرور کیا لیکن کبھی بے آسرا نہیں چھوڑا… دوسروں کی خوشیوں میں میری خوشیوں کا سامان کیا… مجھ سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کو اتنی خوشیاں دیں کہ کبھی کسی محرومی کا احساس ہی نہیں ہوا… اور سالوں کیسے بیت گۓ پتہ بھی نہیں چلا…
.
ہاں زندگی میں انسانیت اور انسانوں کی زبانوں پر سے یقین کراچی میں آ کر کھویا… پہلے ہی جتا دیتے ہیں کہ خود سب کچھ کرنا پڑے گا… پھر بڑی بڑی باتیں ، بڑے بڑے ڈائیلاگز… اور جب ذمہ داری پڑتی دیکھی تو دم دبا کر اپنوں میں بھاگ لئے… اتنی باتیں ہوتی ہیں، کوئی بھی بات کو بہانہ بنایا جا سکتا ہے… اور میں تو لوگوں کے بہانے پہلے ہی بتا سکتی ہوں کہ میرے بارے میں کیا کیا بہانے بنائیں گے… یہ کھیل اتنا دیکھا کہ با لا خر فیصلہ کرنا پڑا کہ لوگوں کو پا کر کھونے سے بہتر ہے پانے سے پہلے ہی کھو دیا جاۓ… کیونکہ دوسروں کو تو کیا فرق پڑنا ہے، انکی اپنی زندگی تو پہلے ہی سیٹ ہوتی ہے… خیر غیروں کی حرکتوں کا کیا برا ماننا نہ ان سے توقع نہ امید…
اپنے اپنے ہی ہوتے ہیں، سالوں بعد بھی گلے لگا ہی لیتے ہیں، خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں… یہی تو ہے اپنا پن…
.
غیروں سے ہمدردی تو کی جاسکتی ہے، انکی مالی مدد کی جا سکتی ہے… اور بس… اس سے آگے بات ظرف کی ہوتی ہے یا اسٹیٹس کی ہوتی ہے… جس کے پاس اسٹیٹس ہو اس میں اکثر ظرف کی کمی ہوتی ہے اور جس کے پاس ظرف ہو اسکے پاس اسٹیٹس نہیں ہوتا… اسٹیٹس والے نیچے والوں کو اتنا ڈرا دیتے ہیں اور اتنی کنڈیشنز لگا دیتے ہیں کہ وہ ڈر کر دور دور ہی رہیں اور ان کو بہانہ بنانے میں آسانی ہو…. اور یہ بیماری پاکستان کو بھی کھا گئی اور اس میں رہنے والوں کی آزادی کو بھی…
.
خدا بیٹیوں کو باپ دے تو اسے ظرف بھی دے… ورنہ اپنے باپ بھی لاوارث چھوڑ جاتے ہیں… دوسروں کا تو پھر کیا بھروسہ… سر پر ہاتھ پھر کہیں نہ کہیں سے اپنوں میں سے کوئی ہی رکھتا ہے…
.
ویسے اکیلی لڑکی یا عورت کے ساتھ یہ بڑا مسلہ ہے کہ ہر مرد یہ سمجھتا ہے کہ وہ ان کو پھنسانے کو کوشش کر رہی ہے یا انکے لئے جال بن رہی ہے یا پھر ان بے چاروں کی معاشرے میں اور گھر میں عزت نہ خراب ہو جاۓ… اس لئے اتنی دفعہ بہن یا بیٹی کہیں گے کہ اکیلی عورتوں کو ہی اپنی نیت پر شک ہونے لگتا ہے کہ شاید یہی بات ہو… اور میرا تو جانتے بھی ہیں سب کہ یہ حال کہ کوئی ایک فٹ دور کرے تو خود کو ایک ہزار فٹ دور کر لیتی ہوں کہ کسی کے لئے مسلہ نہ بن جاؤں… لیکن پھر بھی لوگوں کو خطرہ ہی رہتا ہے… بزدل اور ڈرپوک انسان…
.
چلو پاکستان کا یہ رخ بھی دیکھ لیا… کاش میری بیٹی بھی لوگوں کا ظرف پہچاننے کے قابل ہو جاۓ…پاکستان میں دس سال بہت اچھے گذرے… لوگوں کی پہچان ہوئی… زندگی خود گزارنے کا طریقہ آگیا… بس کراچی سے دل بھر گیا… کراچی پاکستان سے بہت مختلف نکلا… کراچی میں کراچی والے ہی رہ سکتے ہیں… کراچی کراچی والوں کو ہی مبارک ہو… شکر ہے کہ پاکستان بہت بڑا ہے… اور بہت بڑا دل بھی ہے اسکا… کراچی والوں کو بہت پہلے ہی دیکھنا اور سننا چھوڑ دیا تھا… الله اب ان سے دور لے جاۓ… اتنی دور کہ جہاں کی ہوائیں بھی یہاں سے نہ گزرتی ہیں…
.
.
Recent Comments