G for Goodness…کام کی بات
July 18, 2010 1 Comment
سوچتے رہنے سے سوچ نکھرتی ہے۔ بولنے سے آوازنکھرتی ہے۔ لکھتےرہنےسےلکھائی نکھرتی ہے۔ ٹائپ کرتے رہنےسے ٹائپنگ تیز ہوتی ہے۔ اورکام کرتے رہنے سے کام میں نکھارآتاہے۔ لیکن ان سب کے لئےکام کی بات کا ہونا شرط ہے۔
سب سے زیادہ کام کی بات یہ ہے کہ رمضان سے پہلے یہ عہدکر لیں کہ ایساکوئی کام نہیں کرینگے جس سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف ہو۔ دوسرے انسانوں میں ابتداء والدین بہن بھائیوں اولاد پڑوسیوں دوستوں اور رشتہ داروں سے ہو۔
جگہ جگہ تھوکنا کوڑا پھینکنا شامیانے لگا کر گلیاں اور سڑکیں بلاک کرنا۔ تقریبات میں کھانا ضائع کرنا۔ دوسروں کی دیواروں پر لکھنا۔ جانوروں کے ساتھہ جانوروں جیسا سلوک کرنا۔ گھر ہوٹل یا دکان کی گندگی باہرڈال دینا۔ ٹریفک کے قوانین توڑنا۔ یہ سب حرکتیں گٹھیا اور جاہلانہ سوچ کی ترجمانی کرتی ہیں اور ایسے کام کرنے والے مسلمانوں سے تو غیرمسلم بھی گھن کھاتے ہیں پتہ نہیں الله اور اس کے رسول ایسے غلیظ مسلمانوں کو کیسے برداشت کرتے ہوں گے۔
یہ سارے ہی کام دوسروں کی تکلیف کا باعث بنتے ہیں لہذا جہاد توان کے خلاف ہونا چاہئے آواز تو اس کے خلاف اٹھنی چاہئے۔
اس رمضان اپنے پیٹ بھرے رشتہ داروں کے ہاں جاکر یاان کو بلا کر روزہ اڑاکر رمضان کاتقدس پامال کر نے کے بجائےانھی روپوں سے خاموشی سےشعبان کےآخری ہفتے میں کسی کے گھر مہینہ بھر کا راشن بھردیں۔ شاید کہیں کوئی خودکشی کرنے سے بچ جائے۔ دینی لوگ تو عطیات بٹورنے میں مصروف ہوں گے۔ لہذا با شعور لوگوں کو یہ کام کرنا پڑےگا۔
Make this Ramadan as peaceful as can be for everyone starting from family members, neighbors, friends and people in our surroundings. Make a promise to Allah (SWT) that we won’t do anything that will hurt any human being. No spitting, no littering, no breaking roads and blocking traffic by fixing tents for any reason, wall-chalking, pasting banners on building and public places etc. We must rise ourselves as a dignified nation instead of showing that we are only good in ignorance.
I really like the starting of your article. The four sentences are very effective with the ending.
People face the most horrible situations in Ramadan. The more peaceful it should be the more tiring it gets. One of the disadvantages of having Ramadan in Pakistan is that the prices shoot up to sky.
So if sellers stopped robbing people and if people refrained from continuously saying, ” KAM KARY ISKO< KAM KARY". We would actually have peace then.