Mission Pakistan
July 25, 2010 Leave a comment
اچھا ایسا کرتے ہیں سب چودہ اگست کاٹارگٹ دیتے ہیں خود کو کہ کیا کرنا ہے۔ بھئی اپنے سے وعدہ۔ مثلا کہ کوڑا نہیں پھینکوں گا سڑکوں پر۔ پان نہیں کھاؤں گا۔ جگہ جگہ تھوکوں گا نہیں۔ ٹریفک کے قوانین نہیں توڑوں گا۔ لڑکیوں سے زیادہ پاکستان میں دلچسپی لوں گا۔ اورلڑکیاں عہد کرسکتی ہیں کہ لڑکوں سے زیادہ پاکستان میں انٹرسٹ لوں گی۔ اور شادی اسی سے کروں گا یا کروں گی جسے قومی ترانہ آتا ہو۔ میں صبح سات بجے دکان کھولوں گا اور جلدی بند کروں گا تاکہ بجلی بچے اور زندگی میں نظم وضبط پیدا ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔
ویسے آپس کی پاکستانیوں کی بات ہے۔ اگراتنا بھی سوچ لیں ناکہ میری زندگی ہی پاکستان کی زندگی ہے تو بھی کافی بہتری آسکتی ہے۔ لیکن اسکے لئے پہلے اپنی اہمیت پہچاننی ہوگی۔ آخر پیدا کیوں ہوا اورکس طرح مروں۔
کیونکہ فی الحال تک توہم پاکستان کے قائم ہونے کو بھی اپنی پیدائش کی طرح ایک حادثہ سمجھتے ہیں۔ اور سوچتے ہیں کہ جس طرح ہم جیسے تیسے بڑے ہو ہی جاتے ہیں پاکستان بھی چل ہی جائے گا۔
چلیں یہی عہد کرلیں کہ جب تک اس ملک کی سڑکوں پررلنے والے بچوں کو وہ نہیں مل جاتا جو میرے پاس ہےہم نےچین سے نہیں بیٹھنا۔ کوئی ایک بچہ یا بچی۔ کیا پورا پاکستان ان بچوں کا گھر نہیں بن سکتا۔ کوئی ایسی جگہ جہاں وہ بے فکر ہو کر سوجائیں۔ ہنسیں کھیلیں۔ جسطرح ہمارےبچےمزے کرتے ہیں۔ کیا سارا ٹھیکہ ایدھی صاحب نےلے رکھا ہے۔ کہ صرف انھی کو جنت میں جانا ہے۔ اور یہ تو دنیا بھرکے پاکستانیوں کامشن ہونا چاہئے۔ قرض بھئی ان پر۔اور فرض ہے ہم سب پر۔
Hmmmmmmm, mission for all Pakistanis around the world. One thing is for sure. Nothing will change until I do. We need to set our priorities for everything; to spend time on and for, to spend money on and for, to get education for and to use education for. Since our parents have not trained us properly, we will initiate. We can train ourselves for our better future, which is the next moment, the next day, every coming moment. We can show the world that we don’t excel only in searching pornographic sites. We can discipline ourselves. We can control our internal desires without any external pressure. We can become a support to each other. All around the world.
Recent Comments