Waste of Money
August 1, 2010 1 Comment
پچھتر کروڑ روپے ماہانہ لوگوں کی مفت خوری پر خرچ ہو رہا ہے۔ کل سے مجھے بخار آیا ہواہے یہ سوچ سوچ کے۔۔۔ سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔ سیلانی ویلفئیر والے سو جاتے ہیں رات کو۔۔۔ نیند کیسے آجاتی ہے انہیں۔۔۔ اس رقم سے اتنے پھلدار درخت تو لگ ہی سکتے ہیں کہ کراچی کی آدھی عوام بھوک کےوقت ہاتھہ پھیلانے کےبجائے درختوں سے پھل توڑ کر کھا لے۔۔۔ کوئی فیکٹری لگ سکتی ہے۔۔۔ کوئی پولٹری فارم بنایا جاسکتا ہے۔۔۔ اور کچھہ نہیں تو کچھہ گائے بکریاں خرید کر دےدیں کہ دودھ پی کر ہی پیٹ بھر لیں۔۔۔
انکو یہ خیال نہیں آتاکہ حضرت سلیمان تک کسی کا پیٹ نہیں بھر سکے تھے۔ یہ کیا کسی کو کھلائیں گے۔۔۔ اور جنکے آباؤ اجداد نےانگریزوں سے سر کے خطابات حاصل کئے ہوں وہ بھلا روٹی کپڑا اور مکان دینگے۔۔۔ غلام ابن غلام ابن غلام صرف غلامی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔۔۔ عوام کو انکا حق صرف وہ دے سکتا ہے جو خدا کے سوا کسی کا غلام نہ ہو۔۔۔
اور یہ جو داتاگنج بخش ۔۔ شہباز قلندر۔۔ عبدالله شاہ غازی اور دیگر اولیاء کے مزارات پر گندگی اور غلاظت کا ڈھیر ہوتاہے۔۔۔ وہاں سے بچے اغواء کئے جاتےہیں۔۔۔ لڑکیاں اور عورتیں اغواء کرکے کہاں کہاں پہنچائی جاتی ہیں۔۔۔ منشیات کا کاروبار وہاں ہوتاہے۔۔۔ یہ سب کون سے دین اور کس تہذیب کا کاحصہ ہے۔۔۔ جتنے غلیظ طریقے سے وہاں کھاناپک اور بٹ رہا ہوتاہے وہ انسانیت کو ذلیل کرنے کے برابر ہے۔۔۔اسلام کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔۔۔
ہمارے دینی مسالک کے آقاؤں کواور خاص کرجماعت اسلامی والوں کو کوٹ ٹائی میں اور عورتوں کے بال دکھانے میں کفر نظرآجاتا ہے یہ کرپشن اور غلاظت نظر نہیں آتی۔۔۔ اولیاء کامنکر ہونا الگ موضوع ہے لیکن کون سی حدیث میں لکھا ہے کہ انکے مزارات کو محل بنادیں چاہے وہاں انسان ذلیل ہو تے رہیں چار دانے چاول کے لئے۔۔۔ سیاسی لیڈرزکے مزارات تو شاید قوم کی بد حالی کے نام پر جو بھیک مانگی جاتی ہے اس سے تعمیرہوتے ہیں۔۔۔ لیکن انکی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے۔۔۔ اچھے شہداء ہیں بھئی۔۔۔
nkk
This is something very serious out of the thousand other serious things happening around the country that we take non seriously.
Reblogging this. Thank you for putting some light on this.