A Big Trial
August 19, 2010 Leave a comment
عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں۔۔۔ تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے۔۔۔ اقبال
یہ اصغر علی صاحب ہیں۔۔۔ ایک ایماندار اور حب الوطن پاکستانی۔۔۔ اورنگی ٹاؤن کے رہائشی۔۔۔ کوئی دو ماہ قبل ان سے پہلی ملاقات ہوئی تھی اتفاقا۔۔۔ بنگالی کمیو نٹی سے تعلق ہے پیشے کے لحاظ سے درزی ہیں۔۔۔ رمضان سے چند دن پہلے ان سے تفصیل سے بات ہوئی۔۔۔ حالات کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔۔۔ پہلی جماعت میں داخلہ لیا تو سنہ اکھتر کی جنگ چھڑ گئی۔۔۔ جو حالات ان پر گذرے اسکی وجہ سے دس سال کی عمر میں انھیں کام پر بٹھا دیا گیا۔۔۔ انکے استاد نے انھیں صرف کام ہی نہیں سکھایا بلکہ تربیت بھی کی جسکی وجہ سے ان میں زندگی کا شعور ہے۔۔۔ محنت سے حالات بہتر ہوئے۔۔۔ چند سال قبل کراچی میں چلنے والی آندھی طوفان کی وجہ سے جو کلفٹن کی ایک مارکیٹ میں آگ لگی تھی اس میں انکی دکان بھی جل گئی۔۔۔ اسکے بعد بہت کچھہ بھگت کراب دوبارہ کام شروع کیا ہے۔۔۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنی مجبوریوں کو بے ایمانی کا بہانہ نہیں بنایا اور نہ ہی بچوں کی تعلیم کا سلسلہ روکا۔۔۔
ایسی ہی کہانی محمد ابراہیم صاحب کی ہے۔۔۔ بچوں کو حفظ بھی کروایا دوسری تعلیم بھی دلوائی۔۔۔ کل رات تقریبا ایک بجےتک دونوں میاں بیوی سے بات چیت ہوئی۔۔۔ اوروں کی طرح ان کا بھی سوال تھا کہ بہت کچھہ کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا کریں۔۔۔
ان کو یہی کہا کہ پہلی بات تو یہ کریں کہ غیر ضروری تکلفات اور رسم و روایات چھو ڑدیں۔۔۔ میرا نہیں خیال کہ نماز روزے اور تلاوت قرآن کے علاوہ فی الوقت کوئی بڑی عبادت اس سے بڑھ کرہو گی کہ انسانی زندگیاں بچائی جائیں اور انھیں با شعور زندگی کا راستہ دکھایا جائے۔۔۔ اپنے محلوں اوراپنے علاقوں کو خود کنٹرول کرنا سیکھیں۔۔۔

Recent Comments