Sialkot Incident
August 25, 2010 Leave a comment
“…Verily We have tried them as We tried the People of the Garden, when they resolved to gather the fruits of the (garden) in the morning….. But made no reservation, (“If it be Allah.s Will”)….. Then there came on the (garden) a visitation from thy Lord, (which swept away) all around, while they were asleep….. So the (garden) became, by the morning, like a dark and desolate spot, (whose fruit had been gathered)….. As the morning broke, they called out, one to another,-….. “Go ye to your tilth (betimes) in the morning, if ye would gather the fruits.”….. So they departed, conversing in secret low tones, (saying)-…… “Let not a single indigent person break in upon you into the (garden) this day.”….. And they opened the morning, strong in an (unjust) resolve….. But when they saw the (garden), they said: “We have surely lost our way:….. “Indeed we are shut out (of the fruits of our labour)!”…… Said one of them, more just (than the rest): “Did I not say to you, ‘Why not glorify ((Allah))?’”….. They said: “Glory to our Lord! Verily we have been doing wrong!”….. Then they turned, one against another, in reproach….. They said: “Alas for us! We have indeed transgressed!….. “It may be that our Lord will give us in exchange a better (garden) than this: for we do turn to Him (in repentance)!”….. Such is the Punishment (in this life); but greater is the Punishment in the Hereafter,- if only they knew!……. Surah Al-Qalam/The Pen, 17 – 33
باشعور اور بے شعور شخص میں کیا فرق ہے۔۔۔
شاید وہی جو ریاض شاہد مرحوم صاحب اور پچھلے تیس پینتیس سالوں کے فلم ڈائریکٹرز میں ہے۔۔۔ سید نورکی چوڑیاں دیکھیں یا کوئی بھی پنجابی فلم۔۔۔ شروع سے آخر تک بے دردانہ وحشیانہ طریقوں سےلوٹ مار اور قتل دکھائے جاتے ہیںیا بے ہودہ رقص یا خواتین کے ساتھہ زیادتیاں اورپھر انکا لازمی انجام طوائف بن جانا۔۔۔۔۔۔۔ کیا اسی کو فن کی خدمت کہتے ہیں۔۔۔ کیاپاکستان اور اسلام کو دنیا میں اسطرح پیش کرنا چاہیے۔۔۔ ان فلموں کے ڈائریکٹرز کو ایوارڈز دئے جاتے ہیں۔۔۔ انکے مرد وعورت اداکارجیسی تیسی اداکاری کرکے پیسے سمیٹ کر ایوارڈز جیت کر گھر بیٹھہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا انکا کام یہاں ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ کبھی ان سب نے یہ سو چا کہ انھوں نے پاکستانی معاشرے کو دیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید ایسے کردار جو حقیقت میں اسی ظالمانہ طریقوں سے لوگوں کی جان لیتے ہیں جیسا ان فلموں میں دکھایا جاتاہے سیالکوٹ کا واقعہ بھی اسی طرح کسی فلم کاسین لگتا ہے۔۔۔ جسے فلموں ہی کی طرح سارے تماشائیوں نے ملکر لطف لیا۔۔۔
تین چار دن پہلے ایک شخص نے اپنی ماں, بہن, بھابھی اور بھانجی کو پٹرول چھڑک کر آگ لگادی۔۔۔ بہت سے واقعات ایسے ہو چکے ہیں۔۔۔ یہ تو ان علاقوں کی بات ہے جہاں شعور ہے نہیں۔۔۔ پڑھے لکھے لوگوں کو دیکھہ لیں۔۔۔ کتنی مائیں ہیں جو اپنے بیٹوں کو چھوٹی عمر سے یہ جملے کانوں میں ڈالتی ہیں کہ باہر جارہے ہو دیکھہ کے چلنا۔۔۔ کسی کو غلطی سے ٹکرلگ جائے تو سوری کہہ دینا۔۔۔ کسی کی چیزکو بغیر پوچھے ہاتھہ نہ لگانا۔۔۔ باہر کوڑا نہ پھینکنا سڑک گندی ہوگی۔۔۔ کسی سے بد تمیزی سے بات نہ کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کو باہر جاتے وقت نصیحت کرتی ہیں کہ دوسری لڑکیوں کی اسی طرح عزت کرنا جیسے ہماری۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے معاشرے میں مائیں بہنیں جس طرح بیٹوں بھائیوں کو لاڈ میں بگاڑتی ہیں بعد میں اسکا انجام صرف وہ ہی نہیں بلکہ دوسرے بھی بھگتتے ہی۔۔۔۔ ڈی پی او سیالکوٹ, پولیس والے اور عوام یقیناایسے ہی بد نصیب ماؤں کی اولادیں ہیں جو صدقہ جاریہ کے بجائے گناہ جاریہ بن جاتے ہیں۔۔۔
Recent Comments