Kaffarah
November 12, 2010 Leave a comment
لوگ کہتے ہیں کہ کاروبار دو طریقوں سے ہوتا ہے۔۔۔ ایک تو یہ کہ جس چیز کی طلب زیادہ ہے وہ بیچ کر دولت کمائیں۔۔۔ دوسرے کہ جو چیز آپ بیچنا چاہ رہے ہیں لوگوں کو اسکی اہمیت کا احساس دلائیں کہ وہ کتنی فائدہ مند ہے۔۔۔ کیونکہ لوگ صرف فائدہ کی بات سمجھتے ہیں۔۔۔ کسی کام کے کرنے میں کیا فائدہ ہے۔۔۔ کسی سے ملنے میں کیا فائدہ ہے۔۔۔ تعلیم کا کچھہ فائدہ ہے کہ نہیں۔۔۔ نماز, روزہ, قرآن کا کچھہ فائدہ ہے کہ نہیں۔۔۔
بقول میری کزن کے۔۔۔ لوگوں کو سب سے زیادہ اعتراض اس بات پر ہوتا ہے کہ بلی پالنے کا کیا فائدہ ہے۔۔۔ بکری گائے دودھ دیتی ہیں۔۔۔ مرغیاں انڈے دیتی ہیں۔۔۔ ان سب کا گو شت بھی ہم کھاتے ہیں۔۔۔ باقی جانور بھی ہمارے کچھہ نہ کچھہ کام آتے ہیں۔۔۔ بلی تو صرف کھاتی ہےیا بچے دیتی ہے۔۔۔ بھئی کبھی بلی کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں کتنی معصوم ہوتی ہے۔۔۔ توپاکستانی بھی یہی کرتے ہیں۔۔۔ امریکہ ان کو بھی تو پال رہا ہے۔۔۔
آج صبح بازار گئی تو دکان پر میاں بیوی اپنے پانچ چھہ سالہ بچے کے ساتھہ کھڑے تھے۔۔۔ بیوی سر سے پاؤں تک ڈھکی ہوئی لیسز دیکھنے میں مشغول تھیں۔۔۔ بچہ اسکول کی یونیفارم پہنے دکان کی چیزیں بے جگہ کرنے میںمصروف تھا۔۔۔ اوروالد محترم جو کہ پینتیس سال کے تو ہونگے بہت خوش اخلاق ہونے کی کوشش کررہے تھے۔۔۔ بچے سے کہنے لگے ارے بھئی سلمان خان کیا کررہےہو یہ تودبنگ ہے۔۔۔
میں نے ان سے کہا کہ اتنے چھوٹے بچے کو انڈین اداکاروں اور فلموں کے نام سے پکارتے ہیں اورتوقع کرتے ہیں کہ بچے بڑے ہوکر قائداعظم کی طرح بااصول بنیں گےسارابڑوں کاقصور ہے۔۔۔ تو کہنے لگےارے ےےے اسے تو ساری فلمیں یاد ہیں ٹی وی نے اس کا دماغ خراب کردیا ہے۔۔۔ میں نے جواب دیا کہ ٹی وی بھی بڑے ہی لاکردیتے ہیں بچہ خود تو نہیں خریدتا۔۔۔ اس پر زور سے ہنسے۔۔۔ بیوی خاموش اپنی چیزیں دیکھتی رہیں۔۔۔ اتنے میں پیچھے والے دکاندار نے تیسرے سے زور سے کہا۔۔۔ کہاں ہو بھئی قائداعظم۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا کہ بچوں کو فخر کروانے کے لئے انڈین اداکاروں کے نام اور کسی کا مذاق اڑانے کے لئے قائد اعظم کے نام کا استعمال۔۔۔
وہ صاحب شیعہ تھےاور اس گلی کے دکاندار سنی ہیں۔۔۔ لیکن اس معاملے میں انکی ذہنی ہم آہنگی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔۔۔ دل چاہا محرم سے پہلے ہی ان کی عقلوں پرماتم کرلوں۔۔۔
مجھہ جیسے مسلمانوں کے خلاف انکا ایکا مثال بن جاتاہے۔۔۔ تھے تو یہ سب ہمیشہ سے ہی ایسے۔۔۔ لیکن ان کی اس گھٹیا اور پست سوچ کو طاقت اور اعتماد کس نے نے بخشا۔۔۔ کراچی کے عوام کو پاکستانیت کے بجائے ہندوستانیت میں ڈھالنا اور اس جہالت اور بے غیرتی پر فخر کرنا سکھانا۔۔۔ کس کاسب سے بڑا کارنامہ ہے۔۔۔ ورنہ الگ جھنڈےترانے اور قائد کے نعرے کاکیاکام۔۔۔۔۔۔
خیرجو میرا فرض تھا میں نے پورا کیا۔۔۔
Recent Comments