Common Muslims
December 29, 2010 Leave a comment
“There shall be no compulsion in religion: the right way is now distinct from the wrong way. Anyone who denounces the devil and believes in God has grasped the strongest bond; one that never breaks, God is All-Hearer, The Omniscient”…Surah Al-Baqarah/The Cow 256
زمانہ, نسل, قوم, اورعلاقوں کو ہٹاکر خاتم الرسل اور خاتم النبیین محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے پہلے کے زمانے تک کی انسانی تاریخ پڑھیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ ہر دورمیں فساد ظلم اور خونریزی کی وجوہات کیا تھیں۔۔۔ ہر دورمیں انسان تین بنیادی کرداروں میں تقسیم نظرآئیں گے۔۔۔ حکمران و امراء اور ان کا دفاع کرنے والےجو کہ ہمیشہ ظالم رہے, مختلف طبقات میں بٹی ہوئی عوام جو کہ ہمیشہ مظلوم کہلائی اور اس عوام کو ظلم سے نجات دلانے والے نجات دہندہ یعنی رسول وانبیاء اور انکے حواری یا اور کوئی بھلے لوگ۔۔۔ آسمانی کتابوں کے نزول کی وجہ بھی عوام کی بھلائی تھی کیونکہ وہی مظلومیت پر رویا گایا کرتے تھےیا یہ کہ کوئی نظام ہوتا تو ہم پیروی کرتے فلاح پاتے ابھی تو ظالموں کی وجہ سے مجبور ہیں۔۔۔ ورنہ تمام پیغمبر تونبوت سے پہلے بھی نیک فطرت اورنیک سیرت ہوتے تھےجبھی تو انکواتنی اہم ذمہ داری سونپی جاتی تھی۔۔۔ رہے ظالم حکمران وامراء اور انکے ساتھی کی اقلیت تو وہ ہدایت پا جائیںتو ٹھیک ورنہ انھوں نے جھنم کا ہی راستہ اپنایا ہوا تھا۔۔۔ بڑے سے بڑے معجزے بھی انھیں قائل نہ کرسکے۔۔۔۔
جسطرح تمام پیغمبروں کا پیغام ایک ہی تھا یعنی ایک رب کی غلامی ۔۔۔ ان کا طریقہ ایک ہی تھا یعنی عدل, مساوات, رحم۔۔۔ مقصد ایک ہی تھا امن, عدل, خوشحالی۔۔۔۔۔۔ اسی طرح الله اور رسول کے مخالفین کا پیغام ایک ہی تھا یعنی طاقتور انسان کی غلامی۔۔۔ طریقہ ایک ہی تھا یعنی ظلم, جبراور خود غرضی۔۔۔ مقصد ایک ہی تھا الله سے بغاوت اور شیطان کی پیروی۔۔۔ انکےدرمیان میں رہ گئے عام عوام جن کی دلچسپیاں اورخواہشات نہیں بلکہ اعمال بتاتےہیں کہ وہ ان دونوں میں سے کس قسم کانظام چاہتے ہیں۔۔۔ لہذا رسول الله کی حدیث کا مفہوم ہے کہ جیسے تمھارے اعمال ہونگے تم پر ویسے ہی حکمران ہونگے۔۔۔
“If you reject ((Allah)), Truly Allah hath no need of you; but He liketh not ingratitude from His servants: if ye are grateful, He is pleased with you. No bearer of burdens can bear the burden of another. In the end, to your Lord is your Return, when He will tell you the truth of all that ye did (in this life). for He knoweth well all that is in (men’s) hearts”….Surah Az-Zumr/The Troops, 7…
عام انسانوں کی اکثریت نےہمیشہ بادشاہوں, حکمرانوں, سیاستدانوں, جاگیرداروں, سرمایہ کاروں کا ساتھہ دیا یاپھر اپنے اپنے زمانے کے مولویوں کے دامن میں پناہ ڈھونڈی۔۔۔ حالانکہ ہرقوم نےاپنےحکمرانوں پر ظلم وزیادتی, معاشی و سماجی استحصال اورآمرانہ طرز حکومت کے الزامات لگائے۔۔۔ اپنے لئے بھلائی, عدل و انصاف, خوشحالی اور امن کی دعائیں مانگیں۔۔۔ اور جب بھی خدا نے ان کی پکار اور آہ وزاری کے صلے میں ایسے نظام کو قائم کرنے کے لئے اسی قوم کے بہترین لوگوں کو چنا تاکہ لوگوں کی یہ شکایات دور ہو جائیں تو پھر وہی عوام اپنے نبیوں اور رسولوں کے خلاف کھڑی ہو جا تی تھی۔۔۔ ہرقوم کی اکثریت کا اعتراض یہ ہوتا تھا کہ وہ انکے معاشرے میں رچی بسی قدیم رسم و رواج اور خاندانی, قبائلی, نسلی یا مذہبی روایات کو ختم نہیں کرنا چاہتے۔۔۔ انکو یہ نکتہ کبھی سمجھہ نہیں آیاکہ یہ بلاوجہ کے رسم و رواج اور خاندانی, قبائلی, نسلی یا مذہبی روایات ہی تو وہ ہلہ گلہ ہیں جس کو بنیاد بنا کر یہ بادشاہ, خلیفہ, حکمران, سیاستدان, , جاگیردار, سرمایہ کار اور کسی بھی قوم کے دینی اجارہ دار ظلم وزیادتی, معاشی و سماجی استحصال کا بازار گرم رکھتے ہیں کیوں کہ انھیں سب چیزوں کی وجہ سے تو ان کی حکمرانیاں, اجارہ داریاں اور عیاشیاں قائم ہوتیں ہیں۔۔۔ اور ایک بات جس کا انھیں سو فیصد یقین ہوتا ہےوہ یہ کہ عوام کبھی بھی رسم و رواج اور خاندانی, قبائلی, نسلی یا مذہبی روایات کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کریں گے۔۔۔ اپنے اوپر ظلم وزیادتی برداشت کرلیں گے اور انکی عیاشیوں کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھائیں گے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ آباؤ اجداد کے رواج, نسل, رنگ, زبان, مذہبی عقائد کو بنیاد بنا کر عام انسانوں کو وہ بڑی آسانی سے پیغمبروں, رسولوں یا کسی بھی ایسےبھلے شخص کے خلاف ورغلا لیتے تھے۔۔۔ لوگ ان تمام چیزوں کی محبت میں اتنے بے عقل ہو جاتے تھے کہ یہ بھی نہیں سوچتے تھے کہ جس شخص کے پیغام کو وہ رد کررہے ہیں وہ انھیں میں سے ہے اور وہ خود اسکے بہترین کردار کے گواہ ہیں۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ شخص بے غرض اور پر خلوص ہے اس کا ساتھہ نہیں دیتے تھے۔۔۔ کچھہ کشمکش میں ایک جانب ہو کر تماشہ دیکھتے کہ دیکھیں یہ شخص سچا ہو نے کے باوجود رائج الوقت نظام کے خلاف کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔۔۔اکثریت کا رد عمل دیکھتے۔۔۔ بہت ہی کم لوگ ہوتے جو نظام بدلنے والے کا ساتھہ دیتے۔۔۔
جسطرح مسلمانوں کی تباہی میں اسلام, قرآن اور رسول کی کوئی غلطی نہیں۔۔۔ اسی طرح پاکستانیوں کی ناکامی کا سبب پاکستان, نظریہ پاکستان, اقبال اور قائداعظم نہیں۔۔۔۔۔۔ دونوں کی ذلت کی وجہ بد نیتی, بد اعمالیاں, غیر دلچسپی یا غفلت ہیں۔۔۔
“Wherever you are, death will find you out, even if you are in towers built up strong and high… If some good befalls them, they say, “This is from Allah” but if evil, they say, “This is from thee” (O Prophet). Say: “All things are from Allah.” But what hath come to these people, that they fail to understand a single fact?…. Whatever good, (O man!) happens to you, is from Allah. but whatever evil happens to you, is from your (own) soul…and We have sent you (O Muhammad) as an apostle to (instruct) mankind. And enough is Allah for a witness”….Suran An-Nisa/The Women, 78/79
Recent Comments