Successful Marriages?
January 19, 2011 Leave a comment
A family is a complex unit of a nation. Woven through complicated ties, the threads of relations are very delicate. Once broken, they need to be stitched (in Pakistan they are usually knotted the ugly way) immediately or fixed somehow. Otherwise, the gap turns into tremors and shake the nation as the effects of an earthquake.
قیامت کی نشانیاں ہیں بھئی۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ تو کیا ساری پاکستانیوں نے ہی پوری کرنی ہیں۔۔۔ کوئی اور قوم بھی تو حصہ لے۔۔۔ ساری حیرانیاں تے پریشانیاں ہمارا سرمایہ حیات کیوں بھئی۔۔۔
ایک خاتون پچھلے چند سالوں سے کسی کو پسند کرنے لگی ہیں اور اپنے میاں سے طلاق لینے کے آخری مراحل میں پہنچ چکی ہیں۔۔۔ میاں طلاق دینا نہیں چاہتے لیکن ان کو یہ بھی پتہ ہے کہ بیوی اب مانے گی نہیں۔۔۔ لہذا انھوں نے دوسری شادی کے لئے کوششیں شروع کردی ہیں۔۔۔ ابھی سے۔۔۔ یہ صاحب بہت ہی واجبی سے پڑھے ہیں لکھے کا پتہ نہیں۔۔۔ ان دونوں کے درمیان رہ گئے وہ پانچ بچے جو دونوں نے مل کرپچھلے پچیس سالوں میں پیدا کئے۔۔۔ بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی ہے۔۔۔ دوسری کی منگنی۔۔۔ باقی ایک بیٹی اور دو بیٹے لائن میں ہیں۔۔۔ یہ سنی مگر سید گھرانے سے ہیں۔۔۔
ایک اورصاحب ہیں۔۔۔ انکی بیوی کسی بیماری میں مبتلا تھی۔۔۔ شادی سے چند دن پہلے یہ بات کھلی لیکن ان صاحب نے ہمدردی میں رشتہ نہیں توڑا۔۔۔ ڈاکٹرز نے بھی کہا کہ شاید شادی کے بعد ٹھیک ہوجائے۔۔۔ پچھلے دس سالوں میںبہتری نہ آسکی۔۔۔ اب یہ صاحب دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ انکے خیال میں تیسری چوتھی شادی میں کوئی برائی نہیں۔۔۔ کافی تعلیم یافتہ اور لبرل ہیں۔۔۔ خوش اخلاق اور گڈ لکنگ ہیں۔۔۔ اورکیونکہ سچا مسلمان ایک سے زیادہ شادیاں کرتاہے اور شادیوں کامقصد سیکچوئل انٹرکورس ہوتاہے۔۔۔ اور کیونکہ انکے باپ دادا نے بھی ایک سے زیادہ شادیاں کی تھیں لہذا وہ بھی کریں گے اور اس سلسلے میں سولہ سے لے کر کتنی بھی عمر کی خواتین کی تلاش میں ہیں۔۔۔ انکی اپنی عمر بتیس سال ہے۔۔۔ ان کے ساتھہ ہیں وہ تین بچے جو انھوں نے پچھلے دس سال میں پیدا کئے۔۔۔ یہ شیعہ سنی مکس ہیں۔۔۔
ہمارے نیچے اپارٹمنٹ میں نہایت ہی خوبصورت جوڑا رہتا ہے۔۔۔ دونوں تعلیم یافتہ, دونوں شیعہ گھرانے سے۔۔۔ نیچے دونوں اپارٹمنٹ خریدے ہوئے ہیں۔۔۔ الله نے تین خوبصورت بیٹوں سے بھی نوازا ہے۔۔۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے کینیڈاسے واپس آکر رکے ہیں۔۔۔ شاید ہی کوئی دن گذراہو کہ پوری بلڈنگ انکے لڑنے بھڑنے, رونے دھونے, چیخنے چلانے کی آوازیں نہ سنے۔۔۔ کپڑے, جوتے, گھر, گاڑی, مجلس, خاندان, شاپنگ, بچے۔۔۔ کونسا ایسا موضوع ہے جس پر دونوں میں لڑائیاں نہ ہوتی ہوں۔۔۔ حتی کہ طلاق پر آکر بات رک جاتی ہے۔۔۔ البتہ بیوی صاحبہ بچوں کو دن میں ستر مرتبہ الو کاپٹھا کہہ کر شوہر سے بدلہ لے لیتی ہیں۔۔۔
فون آیا میرے پاس کسی جاننے والےکا۔۔۔ ایک ساٹھہ پینسٹھہ سالہ خاتون کو آنکھہ کی سرجری کے لئے پچیس ہزارروپے کی ضرورت ہے۔۔۔ میں نے تفصیلات معلوم کیں تو معلوم ہوا کہ سب اولادوں کی شادیاں کردی ہیں۔۔۔ جس بیٹے کے ساتھہ رہتی ہیں اسکی تنخواہ سات ہزار ہے, وہ بچپن سے شریف, مسکین اور دماغی طور پر کم ہے۔۔۔ اسکے تین بچے ہیں۔۔۔ میں نے کہا ان پر زکوات جائز نہیں۔۔۔ وہ بیٹوں سے اپنا حق مانگنے کے بجائے غیروں کے آگے ہاتھہ پھیلانا گوارا کرسکتی ہیں۔۔۔ کم دماغ کی شادی کیوں کردی اوراتنابھی شریف نہیں۔۔۔ تین بچے تو پیدا کرلئے نہ۔۔۔ پھر ڈاکٹر صاحب کی گارنٹی کے باوجود وہ مصر ہیں کہ چائنا میڈ نہیں, اصل جاپانی لینس لگوائیں گی۔۔۔ حالانکہ چائنا کی نظر سے دیکھیں گی تو انکے حالات جلدی بدلیں گے۔۔۔۔ اب اگر وہ خاتون اس جرم کا اقرارکریں کہ انھوں لاکھوں عام پاکستانی خواتین کی طرح بچوں کے لئے تکلیفیں اٹھائیں مگر انکی تربیت نہیں کی۔۔۔ انھیں اسی خود غرض سوچ کے ساتھہ پالا جس میں معاشرے کی بھلائی نہیں بلکہ لاتعلقی یا انتقام ہوتا ہے۔۔۔ کہ بس کسی طرح سب میرے بچوں کو مل جائے۔۔۔ اور وہ اب مثبت سوچ پھیلائیں گی عورتوں میں۔۔۔ تب تو میں انکی مدد کروں گی ورنہ خدا حافظ۔۔۔۔ اسکے بعد دوبارہ فون نہیں آیا۔۔۔
Recent Comments