Slaughter House

“and their salah was nothing at Ka’bah but whistling and clapping”… Surah Al-Anfaal/The Booty 35

In Pakistan, Eid-ul-Adha like many other religious occasions brings fun, levity and joyful activities for the majority.  From sacrifice to slaughter, the whole process is full of pollution, mismanagement, carelessness, discomfort and show-off.  But since everyone, from Ph. D to an illiterate, practice the same manner, nobody bothers to think about changing it.

Now animals are sold on roads and roundabouts producing tons of pollution and discomfort for pedestrians and drivers.  Karachi is presenting a view of a bakra-mandi.  On Eid-Day, it will become an enormous slaughter-house.

At least learn it from Saudis, how they manage to clean up right after Eid-ul-Adha for next group of pilgrims.  Twenty million people at Hajj means at least ten million slaughtering of animals, cleaning up their mess, distributing and packaging their meat.  It is not a joke.  It seems like a miracle that happens there every year.

Lets say five million Pakistanis do sacrifice, which means at least six million animals slaughtered every year.  One-third is for poor and needy, which makes 2 million animals to be distributed among them.  If each animals produce minimum 20 Kg meat, that will be equal to 40 million Kg.  Now even 1/2 Kg per person will serve 80 million individuals in three days.  No one should sleep hungry at least during these three days of Eid-ul-Adha in the Islamic Republic of Pakistan.

MQM’s gangsters collect animals’ skin by threat but never reveal what do they do with so many skins.  No wonder their jobless leader enjoys sitting in London and offering haleem to his partners in politics.  How can the intellectuals and degree holders in this gang be trusted by people?

By the way, what objection do mullahs and religious scholars have on running Pakistan on secular basis.  Muslims of Pakistan, or should I say Muslims everywhere; they are practically living a secular life.  They wait for an angel politician to run the government and they go to religious deities for religious matters.  This is secularism, separating religion and politics.


اور ان کی نماز کچھہ نہ تھی کعبہ کے پاس مگر سیٹیاں اور تالیاں بجانا۔۔۔۔

سورہ الانفال, آیت پینتیس

پاکستان میں بقرعید بھی باقی مذہبی تہواروں کی طرح بڑا شغل, مستیاں اور ہلا گلا لے کرآتی ہے۔۔۔ قربانی کے جانور مہنگے خریدے کہ سستے, قربانی ایک دن کی کہ تینوں دن, کس کو گوشت بانٹا, کتنا بچا لیا, کھالیں کہاں کہاں سے جمع کرنی ہیں, کتنا گوشت خیرات میں وصول کرنا ہے۔۔۔ مسلمانوں کے سوچنے اور کرنے کے لئے کافی بڑے کام ہیں۔۔۔

جانور حلال کے روپوں سے خریدے یا حرام کے, شہر کے گلی کوچوں اور سڑکوں کو کتنا آلودہ کیا, خطبہ حجھ الوداع کیا تھا۔۔۔ یہاں تک ابھی پاکستانی مسلمانوں کا ذہن  نہیں پہنچا۔۔۔

پورا شہر گاؤں بن گیا ہے۔۔۔ اب تو جانوروں کے ریوڑ سڑکوں اور  چوراہوں پر بک رہے ہیں۔۔۔ پہلے ہی گندگی کم تھی کیا۔۔۔ یہ کیسی عبادتیں ہیں جو غلاظت, آلودگی اور تکلیف سے بھری ہوئی ہیں۔۔۔

اور کچھہ نہیںتو سعودیوں سے سیکھہ لیں۔۔۔ ہر سال بیس لاکھہ مسلمانوں کا حج, یعنی کم ازکم دس لاکھہ جانوروں کا ذبیحہ,حرم کی صفائی, جانوروں کے گوشت کو بانٹنا۔۔۔ سب مذاق نہیں, معجزہ ہے۔۔۔۔

ویسے پاکستان میں کم ازکم پچاس لاکھہ لوگ تو یہ فرض ادا کرتے ہوں گے۔۔۔ جسکا مطلب ہے تقریبا پچاس ساٹھہ لاکھہ قربانیاں۔۔۔ غریبوں کو ایک تہائی ملتا ہے جسکا مطلب بیس لاکھہ جانور۔۔۔۔ بیس لاکھہ کا گوشت اگر بیس کلو فی بکرا بھی ہو تو چار کڑوڑ کلو بنتا ہے۔۔۔ آدھا کلو کے حساب سے تقسیم کریں تو آٹھہ کڑوڑ افراد کو ملے گا۔۔۔ پھر بھی کوئی پاکستانی بھوکا ہو۔۔۔

وجہ پوچھو تو کہتے ہیں کہ اصل میں پاکستان میں جہالت بہت ہے۔۔۔ حالانکہ پی ایچ ڈی  اور ماسٹرز کی ڈگریوں والوں کے گھر جائیں تو وہ بھی اس شغل میں سب سے آگے نظر آئیں گے۔۔۔ تو پھر پتہ نہیں کون سی تعلیم علم کہلاتی ہے۔۔۔ جہاں تک رحمن ملک, عشرت العباد اور کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی بات ہے تو یہ تینوں بے غیرت تعلیم یافتہ نہیں بلکہ پی ایچ ڈی کے ڈاکوہیں۔۔۔۔۔

ایم کیو ایم کے غنڈے بدمعاش خوداری اور غیرت کا تقدس پامال کرتے ہوئے دھمکیاں دے دیکر کھالیں جمع کرتے ہیں۔۔۔  انکا یقینا چمڑے کا کاروبار ہوگا۔۔۔۔ آخر کو لندن میں خالی خولی بیٹھہ کر حلیمیں کھلانا, خرچ کیسے پورا ہوگا۔۔۔۔ اس تنظیم میں شامل پڑھے لکھے کہلانے والوں کی تعلیم وتربیت یا ذہنی حالت پرکیا بھروسہ جا سکتا ہے۔۔۔ ہیہات ہیہات۔۔۔۔

الطاف حسین کہتا ہے کہ جمہو ریت کو ختم نہیں ہونے دینگے۔۔۔ لیکن جمہوریت تو نام ہے اکثریت کی رائے کی حکمرانی۔۔۔ اور پاکستان میں اکثریت موجود ہی نہیں۔۔۔ ہزاروں کی تعداد میں اقلیتیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہو اب سمجھی۔۔۔ ان عوامی اقلیتوں کو ایک نہ ہونے دینا اصل میں جمہوریت ہے الطاف, زرداری اور نوازشریف کی۔۔۔

ویسے بڑی ہمت ہے الطاف, زرداری, رحمن ملک اور نوازشریف کی۔۔۔ دن رات, صبح شام, رمضان, ذوالحجہ, ساراسال گالیاں کھاتے ہیں, بد دعائیں لیتے ہیں, کوئی انکے ماں باپ پر افسوس کررہا ہے, کوئی انکی اولادوں کی بربادی کی دعا کررہا ہے۔۔۔۔ پھر بھی خوشی خوشی جیتے ہیں۔۔۔۔

ویسے اگر پاکستانی مسلمان سیاست کے لئے سیاستدانوں اور دینی مسئلوں کے لئے ملاؤں اور عالموں کی طرف دیکھتے ہیں تو کیا وہ عملی طوپر سیکیولر اور لادین نہیں ہوئے۔۔۔ پھر ملاؤں کو اعتراض کیا ہے اگر حکمران سیکیولرہوں۔۔۔۔ کیونکہ سیکیولر ازم کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ سیاست سے دین جدا ہو۔۔۔

 

اور ایک نیا تماشہ لگا ہے عمران خان کا۔۔۔۔۔۔ عمران خان صاحب نے ابھی تک اس عوام کے نعرے اور عطیات دیکھے ہیں۔۔۔ اور دونوں میں ہماری عوام خوب ماہر ہے۔۔۔ ان کے مطالبات ماننے کے بجائے ذرا ان سے کوئی مطالبہ منواکرتو دیکھیں۔۔۔  پتہ چل جائے گا کہ یہ عمران خان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔۔۔

 


About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.