Bookshelves

“A bookshelf is as particular to its owner as are his or her clothes; a personality is stamped on a library just as a shoe is shaped by the foot.”  Alen Bennett

“The true university these days is a collection of books.”  Thomas Carlyle

“Respect books, you’ll be respected by the world.”  Ammi Huzoor (my mom)

 

Children بچے

Once there was a town, where lived many families with their children.  The parents were worried about their children’s behaviour.  They complained to each other that their children are irresponsible, abusive, undisciplined, non-serious about their education.  An old scientist also lived there.  He wanted to help the parents so he prepares a magical formula called “parentade” to improve children’s behaviour.  Parents were excited.  The formula worked.  Children started doing things on time, by themselves.  No more mess on dinning tables, no more shouting and running around, no more fighting.  Genius talks, mind blowing ideas, they all got A+ in their exams.  That was it.  Parents were sick and tired.  They were sick and tired of coping with their children’s extraordinary discipline and responsible behaviour.  Their children refused to accept the fun ideas their parents had for them, instead they started guiding their parents to make their life useful.  Finally, all parents arranged a meeting and invited the scientist.  They wanted him to prepare the antidote to that formula.  They wanted their children back to normal as they were before.

Above is the summary of an English poem “Parentade”, a very interesting idea for parents and to learn their lesson.

.

کب کب ایسا نہیں ہوتا کہ جب جب کمپیوٹر پر کچھ لکھنے بیٹھتی  ہوں تب تب کمپیوٹر کے سب سب بانیوں کوسلام کرنے کو لب مل مل جاتے ہیں، دل کھل کھل جاتا ہے، ذہن دھل دھل جاتا ہے… گو کہ گفتگو میں تکرار ایک عیب سمجھا جاتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں… انگریزی میں یہ بھی زبان خوبی کہلاتی ہے…

May God guide my parents, ameen!

.
اگر کمپیوٹر شیطانی ایجاد ہے بھی تو فی الحال تو آدھے سے زیادہ اسلام کو پھیلانے اور اسلامی مظاہروں کا کم اسی پر ہو رہا ہے… اردو بھی شاید اب کمپیوٹر پر ہی لکھی پڑھی جا رہی ہے… میں نےتو کچھ بچوں کو کہا بھی کہ بھی انٹرنیٹ پر جواردوٹا ئیپنگ کی سا ئیٹس ہیں ان پر اردو ٹائپ کیا کرو تو اردو کی ہجے ٹھیک ہو جا ے گی… شعروشاعری بھی ہے، کہانیاں بھی، محاورے بھی… طالبعلموں کے لئے تو بہت فاعدہ مند ہے… 
.
پرسوں ڈاکٹرعلی رضا نقوی کی خبر سنی تو دل باغ باغ ہو گیا… ایران کی حکومت نے انہیں کافی ایوارڈز دیے ہیں اوراب ایران کی حکومت نے انھیں اپنے ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ سے نوازا ہے… ڈاکٹرعلی رضا نقوی ایک پاکستانی ہیں… انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام، دونوں کو علم سے کوئی دلچسپی نہیں… بالکل  ٹھیک کہا…با لکل صحیح اگر اس ملک میں علم کی اہمیت ہوتی تو علم کے  ساتھ گورنر عشرت العباد اتنا بڑا اور برا مذاق نہ کرتے کہ رحمن ملک کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیتے… کھلا جرم ہے یہ… لیکن یہ دلچسپی جب پیدا ہوتی ہے جب اہل زبان اپنی زبان میں نئے خیالات کا تعارف کرتے ہیں اور وہ بھی اپنی قوم کے مزاج، ذہنی سطح اور مختلف عمروں کا خیال رکھتے ہوۓ… خیر یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اردو میں کچھہ لکھا ہی نہیں جا رہا… حقیقت یہ ہے جو ڈاکٹرعلی رضا نقوی نے بیان کی کہ عوام کو دلچسپی نہیں…
.
تو ایک کام یہ بھی ہے کہ عوام کو بد تمیزی اور جہالت سے نکال کر شائستگی اور اردو کی طرف کیسے لایا جاۓ… اکثر لوگ شائستگی کا مطلب لیتے ہیں چکنی چپڑی باتیں مسکراتے ہو ۓ کرنا، بلاوجہ لوگوں کی تعریف کرنا، جیسے کہ صبح کے شوز میں ہوتی رہتی ہیں… شائستہ نام رکھنے سے، ہندی تلفظ میں بات کرنے سے، بھارتی اداکاروں کے قدموں پر گر پڑنے سے، انکو خدا بنا کر پیش کرنے سے کوئی شائستہ نہیں ہوجاتا… بلکہ یہ امن، دوستی اور انسانیت کا نہایت گھٹیا تصور ہے… لیکن کیا کریں، جب کوئی اپنی ذاتی ترقی اور پیسے کے پیچھے پاگل ہوجاۓ تو اس سے کچھ بھی توقع رکھی جا سکتی ہے… 
.
ویسے لوگوں کو میری باتیں پسند نہیں آتیں، کہتے ہیں اس طرح کہنے سےلوگوں کے دل ٹوٹ جاتے ہیں… ارے بھئی، لوگ پاکستان کی قدریں برباد کریں، ملک توڑیں، پاکستانیوں کو غلط سوچ دیں، اردو زبان کے ساتھ مذاق کریں، عورت کی عزت کو ناچنے گانے جلوے دکھانے کے لئے مخصوص کر دیں، معصوم بچوں کے ذہنوں کو منی اور شیلا کی جوانیوں کے تصور سے آلودہ کریں اور میں شائستگی دکھاؤں انکو… انکے دل ٹوٹنے کا خیال کروں، ارے ان کمبختوں کا تو سر توڑ دینا چاہیے… اور اس کالے  بھوتوں کے بادشاہ کا جو لندن میں بیٹھا ہے قیمہ کر دینا چاہیے…
.
خیر… شائستگی کا مطلب ہے ڈھنگ کی باتیں، جس میں ملک و قوم کی عزت اور غیرت کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کی ذہنی تعمیر کا بھی خیال رکھا جاۓ… 
.
اس سلسلے میں کچھہ ٹی وی ڈراموں نے اچھی کوشش کی… جیسے کہ “ہمسفر” میں احمد فراز کی غزل… سب کو یاد ہو گئی… ڈراموں کے نام فیض احمد فیض اور دوسرے شاعروں کے مصروں پر بھی اچھی بات ہے… کاش مزاحیہ ڈراموں کے نام محاوروں پر ہوتے… بلکہ پاکستان کی ساٹھہ فیصد آبادی یعنی بچوں کے لئے, جو کہ اکثریت ہونے کے باعث اپنا جمہوری حق رکھتے ہیں, چھوٹی چھوٹی کہانیاں تو بنائی ہی جا سکتی ہیں… دس ہزار قسم کے علمی مقابلوں کا انتظام کیا جا سکتا ہے… بچے ویسے ہی مقابلوں سے بڑے خوش ہوتے ہیں… اتنے چینلز ہیں لیکن بچوں کے لئے ایک بھی نہیں… دو چار پروگرامز ہوتے ہیں وہ بھی شاید ہی کوئی بچہ دیکھتا ہو… سب ہندی ڈبنگ کیے ہو ۓ انگلش چینلز دیکھتے ہیں…  دنیا کے بچے جب بڑے ہوۓ تو انہوں نے اپنے بچوں کو کھیلوں کے نئے سٹائلزدیے… پتنگوں، غبّاروں، پتلیوں کے تماشوں، سٹریٹ گمیز، کو نئی شکل، نئے رنگ دیے… امریکا اور دوسرے ممالک میں بڑے بڑے اداکار بچوں کی فلموں میں کام کرتے ہیں، مشہور گلوکار گانے گاتے ہیں، بڑے بڑے با صلاحیت ہدایتکار اور مصنف اس میں دلچسپی لیتے ہیں…
.
پاکستان کی فلمی تاریخ میں “بیداری” واحد فلم ہے جس میں سنتوش کمار صاحب نے کام کیا، کوئی ہیروئن نہیں تھی، صرف بچے اور انکا استاد جو انھیں پاکستان سے محبت کا درس دیتا رہتا ہے… “آؤ بچوں سیرکرائیں تم کو پاکستان کی”، “یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران”، “ہم لاۓ ہیں طوفان سے کشتی نکل کے”… اسی فلم کے گانے تھے جو آج تک گاۓ جا رہے ہیں… ٹی وی پر “عینک والا جن”، سہیل رعنا کے موسیقی کے پروگرامز کے علاوہ کوئی بچوں کی چیز نہیں جو بچوں نے دیکھی ہو شوق سے… اور تو اور چودہ اگست پر یوم آزادی کے پروگرامز میں بھی وہی گھسے پٹے اداکار گلوکار آ جاتے ہیں پرفارمنس کے لئے اور بڑے بوڑھے وزراء اور پرانے اداکار گلوکار خوش ہو کر تالیاں بجا رہے ہوتے ہیں… ارے ایک ایک منٹ کا سکرپٹ لکھ کر نہیں دیا جا سکتا بچوں کو کہ صدر، وزیراعظم کے سامنے پرفارم کر سکیں…  
.
بچے بچوں سے سیکھتے ہیں اور شوق سے سیکھتے ہیں… پاکستان کے بچوں کا تو جواب نہیں… پہاڑوں جیسی ہمّت ہے انکی… اور دریاؤں اور سمندروں جتنا خون جگر، جو ساری زندگی رستا رہتا ہے اور ختم نہیں ہوتا… کیسے کیسے حالات سے گذرتے ہیں، عجیب بے ہنگم ماں باپ کو برداشت کرتے ہیں… بدتمیز، جاہل، گا لیاں دینے والے اور مجرم سیاست دانوں اور حکمرانوں کی دہشت سہتے ہیں… اور ان سے توقع رکھی جاتی ہے کہ تہذیب یافتہ، تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ بڑے ہوں… کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ بچوں کا دل چاہتا ہوگا کہ کاش ہمارے ماں باپ ہمارے ہاں پیدا ہو ۓ ہوتے تومزہ چکھا دیتے والدینیت کا…
.
انکی پیدائش کے وقت سے جو ڈرامہ شروع ہوتا ہے تو وہ وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وہ اذیت سے چیخ نہ اٹھیں… اور اس وقت مولوی حضرات سامنے آ جاتے ہیں اپنے جنّت اور جہنّم کے فتوے لے کر… حمایت علی شاعر کے الفاظ کو تھوڑا سے تبدیل کردیں تو ماں باپ سے کہا جا سکتا ہے… تخلیق کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جان کا زیاں، اولاد کو اولاد سمجھ مشغلہ دل نہ بنا… بھوک، پیاس، گندگی، خوف، بیماریاں، زبان اور قومیت کے بارے میں احساس کمتری، چالیس چالیس پچاس پچاس سالوں کی عمروں والے زندہ کارٹون…. کوئی اچھا نظارہ نہیں پاکستان اور خاص کر کراچی کے بچوں کے پاس، جگہ جگہ تو الطاف حسین کی بد صورت تصویروں کی صورت میں اذیت کے سامان موجود ہیں… اچھی سوچ آۓ کہاں سے…

Happiness for Elderly People – خوشیاں بزرگوں کے لئے

The sources of happiness are innumerable.  They are spread all around and are present in every colour, even in dark in form of sweet dreams.
.
Happiness matters a lot in old age.  Elderly people should know how to make their last years cheerful for themselves and memorable for others.  Humans are not scarce and all mankind is one family.  They can make new ties and build new relationships.  It is a blessing to spend time among a group of your own age.  Oldies can make new friends, listen to their stories, comfort each other, share good memories and enjoy hobbies, such as reading, writing, painting, watching movies.  They are weak physically but still can discuss ideas.
.
In Pakistan, retirees, disabled or unwanted parents or grandparents who get to live in shelters or charities should be grateful to God Almighty for handing them over to better care-takers and new companions.  They should also be thankful to the administration, staff and donors to supply them with food, water, clothes and accommodation.
.
To make Pakistan a productive society, people must change their mind-set of relying upon their children in old age.  It was a problem long ago, not now.  Kudos to Mr. Abdus-Sattar Edhi and many other charities for their life time services in this regard.  Recalling the apathy and insensitivity of blood relation instead of enjoying the new fortune is ungratefulness and not a healthy exercise.
.
Old age is not a curse or a disease.  People just need to remind themselves that they can’t be completely useless after having a life time experience of almost everything.  If nothing they can do, still can use their tongue to express their feelings, say invocations in abundance, speak out the truth, teach the goodness, recite Qur’an, names of Allah, wazaif, pure words and say prayers for everyone.
.
However, there are many examples of how some men and women in old age succeeded in sustaining themselves.  There is a lady, illiterate though and underprivileged, at the age of 60, she has found a job to look after disabled old lady in a well-off family.  I have spoken to many rickshaw drivers aged above 70 who are driving rickshaw and making their own money because they don’t want to be a burden on their sons and daughters.  There is a gol-gappay wala, a decent man with a charming smile, age around 65, still working while his sons are earning too.  Many gardeners of age above 70 work at road-side nurseries and provide home services for taking care of plants.
.
If elderly people can find working opportunities under these crucial circumstances, why can’t the educated youth of Pakistan?
.
.
شکایت کیوں اسے کہتے ہو یہ فطرت ہے انساں کی
مصیبت میں خیال عیش رفتہ آ ہی جاتا ہے….
جوش ملیح آبادی
کون کہتا ہے نجومی، ہاتھ دیکھنے والے، زائچہ بنانے والے لوگوں کے مستقبل کے بارے میں پتہ ہوتا ہے کہ کل کیا ہوگا… ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ صبح اٹھہ کر کیا دیکھنا نصیب ہوگا یا شام کو اچانک کیا خبر مل جائے گی… ابھی یہی ہوا… اچانک دروازے پر دستک ہوئی، چوکیدار نے کہا باجی نیچے ڈاکٹر ریحانہ آئی ہے آپ کو بلا رہی ہے… میں نے کہا انکو کیسے پتا چلا کہ کہ میں یہاں ہوں اور وہ خود اوپر کیوں نہیں آئیں… کہنے لگا ہمیں نہیں پتہ، آپ نیچے آ کر خود بات کرو… میں گئی تو واقعی وہی تھیں… تین سال بعد دمام سے واپس آئیں ہیں، بتانے لگیں کہ وہاں کینسر ہو گیا تھا، پھر آپریشن ہوا، اب ٹھیک ہیں… شکر خدا کا… حالانکہ نفسیاتی ڈاکٹر نہیں ہیں پھربھی خواتین کو زندہ دلی کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقے بتانے کی ماہر ہیں… ڈاکٹر بھی اپنے علاج کے لئے کبھی کبھی دوسرے ڈاکٹروں کا محتاج ہو جاتا ہے… 
آج کے دور میں سب سے زیادہ کس کی اہمیت ہے؟  بالکل ٹھیک کہا، ٹی وی کی…چلیں ڈراموں کی بات کرتے ہیں… صرف تین ڈرامے…
ڈراموں پر اطہر شاہ خان جيدي کے دو شعر یاد آ گۓ…  
اک اداکار رکا ہے تو ہوا اتنا ہجوم
مڑ کے ديکھا نہ کسي نے جو قلمکار چلا
چھيڑ محبوب سے لے ڈوبے گي کشتي جيدي
آنکھ سے ديکھ اسے ہاتھ سے پتوار چلا
.
“ہمسفر” دیکھنے میں اچھا ہے لیکن اس پر بات کرنے کو کچھہ خاص نہیں ہے…
.
“میرے قاتل میرے دلدار” اچھا ہے، اس میں ہیروئن کا فیصلہ اچھا لگا کہ اس نے اپنے جیٹھہ سے شادی کرلی جس نے اس کا گھر تباہ کیا تھا… کیوں باقی لاٹھی اسی کے ہاتھہ میں ہے جس سے وہ سب کو ٹھیک رکھتا ہے… 
.
“جنت سے نکالی ہوئی عورت”… بڑا اچھا لگا اس میں ثمینہ پیرزادہ کا کردار… گوکہ مجھے یہ خاتون پسند نہیں لیکن ہیں خوبصورت اور بہت اچھی اداکارہ بھی… ایک خاتون کو ساٹھہ سال کی عمرمیں طلاق ہو جائے تواسکی زندگی کیا ہو جاتی ہے… لیکن مجھے بہت ہی پسند آیا کہ ایک تو یہ خاتون جاب کرتی ہیں اور دوسرے کسی کا معاملات میں نہیں بولتی اور تیسرے یہ کہ بیٹے کے گھر میں اپنی وجہ سے مسلے دیکھہ کر وہ اپنے والد کے پرانے گھر میں آ جاتی ہے اور اکیلے رہنے لگتی ہے…
.
اسی طرح کرنا چاہیے، غصے میں نہیں، بلکہ اپنی آزادی اور اختیار کے لئے… مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا… کیا ضروری کہ کسی پر بھی بلاوجہ بوجھہ بنا جائے اور اولاد یا کسی بھی رشتے پر اخلاقی اور جذباتی دباؤ ڈالا جائے… بلکہ مجھے تو ان بوڑھے لوگوں پرغصہ آتا جو ایدھی اور مختلف اداروں میں زندگی گذار رہے ہیں، کھانا پینا مل رہا ہے، ایک چھت کے نیچے ہیں، بہت سے کمانے والوں کا پیسہ ان پر خرچ ہورہا ہے… اور پھر وہ ان رشتوں کو روتے رہتے ہیں جو انکو چھوڑ کر چلے گئے… کیا پتہ مجبوری ہو… اور نہ بھی ہو تو بھئی نئے رشتے بنالیں… انسانوں کی کمی نہیں… شکرکریں کہ گھر کی چخ چخ سے جان چھوٹی… دعا دیں انکو جنہوں نے اتنا انتظام کیا، آپ کو سڑک پر رلنے سے بچا لیا… اب نئی جگہ پر نئے لوگوں سے لطف لیں… ضروری نہیں کہ پچھلوں کی شکایتیں کریں کہ ہے کیسے نکلے… یہ سوچیں آپ نے کہاں کہاں کس کس کو اپنی اولاد کی خاطر نقصان پہنچایا… اور کیا کبھی اولاد کو الله کے احکامات اور احترام انسانیت سکھایا… جس طرح آپ اپنی زندگی کا کنٹرول چاہتے تھے اسی طرح آپ کی بہو بیٹے بیٹیاں بھی چاہتے ہیں… ان کے سر پر سوار نہ رہیں… خود بھی خوش رہیں اور انھیں بھی خوش رہنے دیں… 
بزرگ بہت خوش رہ سکتے ہیں اگر وہ یہ سوچ لیں کہ وہ بیکار نہیں ہیں… اتنی زندگی کے تجربات کے بعد بیکار ہو بھی نہیں سکتے… اگر کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم زبان سے قرآن، درود، کلمات، دعائیں تو پڑھ سکتے ہیں… 
.
اس ڈرامے کی طلاق کا کیس دیکھہ کر باجی کی کالج کی ایک دوست یاد آ گئیں… ان کے والد نے اسی طرح ایک دن غصے میں کھانےکی میز پراپنی خاموش صفت بیوی کو طلاق دے کر بائیس تئیس سال کی شادی ختم کردی… ایک بیٹے کو جو کالج میں ماں کے ساتھ رہنا پڑا اور بیٹی جو کالج میں تھیں اور چھوٹے بیٹے کو باپ کے ساتھہ… پتہ نہیں کیسے سامنا کیا ہوگا ان سب نے باقی سب کا…
.
جب سے پاکستان بنا ہے، کراچی کی قوم پاکستان سے پہلے کی خوشیوں کو روۓ جا رہی ہے… اور پاکستان کے ذریعے ملنے والی تمام خوشیوں کے مواقع برباد کئے چلے جا رہی ہے… پرانی رسمیں، پرانی یادیں، حسرتیں، ملامتیں، اپنےعزیز رشتوں سے کبھی انتہا ہمدردی کبھی شدید انتقام کبھی نہ ختم ہونے والی شکایتیں کبھی دھمکیاں… بس ایک چکرہے جوچلے چلے جا رہا ہے، سب اس سے پریشان لیکن کوئی اسے روکنے پرتیارنہیں…
.
بھئی الله نے اتنی بڑی دنیا بنائی ہے کچھہ اس پر بھی توجہ دے لو، ہزاروں قسم کے لوگ ہیں، حسین نظارے ہیں… خوشحالی اور خوشی وہ چیزیں ہیں جو ہرجگہ اورہررنگ میں بکھری پڑی ہیں… حتی کہ اندھیرے میں بھی خوابوں کی شکل میں… بس لوگوں کے پہچاننے کی دیر ہوتی ہے…
.
.

Human Empowerment – مرد کے سکون اور عورت کے اختیار کی ابتدا

‘Women Empowerment’, what is so fascinating about this slogan?  And more stupid it sounded when thousands of men sent their women on streets to beg before a politician who being the citizen of another country, self-exiled for many years, promised them to help in getting their rights through Pakistani parliament.  It appeared to be even more hideous when women started the jalsa with emotional speeches and ended with singing and dancing for no reason.

Which rights and authority are they talking about – that women will not be treated inhumanly at homes (the homes that they had come from), get their rights of education and making decisions for their life?  These rights are already mentioned in both constitutions – Qur’an and the national constitution of Pakistan.  It is only that men and women don’t respect both of them and obey none.

Those women at Bagh-e-Jinnah were representing thirty or fourty thousand families of Karachi.  Were they there as a victim of their men’s injustice at home?  Then what would parliament do about this?  If Altaf Hussain is their saviour, as their quaid he can just order the Karachiite men to behave and that is it.  This way it would set an example for ‘macho man’ all over Pakistan.

So basically, what I think that this jalsa was arranged to achieve many goals, such as, diverting people’s attention from Balochistan issue and to warm Imran Khan to keep his hands off Karachi – but to solve women’s issues.

Just think about it.  There was no Altaf Hussain when Ms. Fatimah Jinnah, Mrs. Rana Liaquat Ali Khan and Mrs. Bilqees Edhi were born.  How these honourable ladies grew up to be so powerful and stepped forward with leading and administrative qualities.  Their men at home encouraged them and helped them, not the stupid strangers on the streets.

LEARNING is important for women.  Women need to learn how to read, write and calculate, how to raise their sons not as their supporting cane but as a useful citizens for all, how to discuss issues with their men at home and find their solution, how to keep their honour while being out on the streets.  Why do they wait for men to give them a purpose of life, define their status in society, teach them what Qur’an says about their status?

Men’s period of tranquility begins when they accept women as equal human beings and let them live and perform accordingly. Crushing women’s rights in the name of securing their honour and dignity results in men’s own destruction.

عبدالستار ایدھی کو پاکستان نے ایک شناخت دی جس کا بدلہ انہوں نے نیکیوں کے ایک ختم نہ ہونے والے سلسلے کو شروع کر کے دیا…اور آج ایدھی صاحب ذاتی طور پر ایک بہت بڑا نام ہی نہیں بلکہ پاکستان کی پہچان ہیں… 
١٩٢٨ گجرات میں پیدا ہو ۓ… انیس سال کی عمر میں ١٩٤٧ میں ہجرت کر کے پاکستان آۓ… ١٩٥١ میں اپنی مدد آپ کے اصولوں کے تحت ایدھی ٹرسٹ کے نام سے  میٹھادر میں ایک ڈسپنسری  قائم کر کے باقاعدہ فلاح وہ بہبود کا سلسلہ شروع کیا… ١٩٦٥ میں ٣٧ سال کی عمرمیں ١٨ سالہ  بلقیس ایدھی صاحبہ سے شادی کی جو کے انکی ہی ڈسپنسری میں نرس تھیں… انکے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں نے اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہو ۓ انکے مشن میں انکا ساتھہ دیا… 
انسانوں کی فلاح و بہبود کے اسلامی تصور کو عملی طور پر ثابت جس طرح ان دونوں نے کیا، آج کے زمانے میں اور پاکستان میں اسکی مثال نہیں ملتی… 
انکی کامیابی کا راز کیا ہے… دونوں میاں بیوی کوئی خاص تعلیم یافتہ نہیں… دولتمند بھی نہیں تھے… دونوں انگلش سے بلکل فارغ… لیکن بچے پڑھے لکھے بلکہ فیصل ایدھی تو ڈاکٹر ہیں… سٹائلش بھی نہیں… لیکن حکومت کی برابری کی سطح پر ایک فلاحی نظام قائم کر کے دکھانا اور چلانا بہت بڑا کارنامہ ہے… کونسی فلاحی عامه کی سروس ہے جسکا ایدھی فاونڈیشن  نے انتظام نہیں کیا ہوا ہے… 
انکی اہلیہ بلقیس ایدھی صاحبہ گو کہ کبھی کبھی ایدھی صاحب کی ایک شوہر کی حیثیت سے.شکایات کرتی نظر آتی ہیں .. لیکن انہوں نے ایدھی صاحب کا جس طرح ساتھہ دیا خاص طور پر خواتین کے معاملات حل کرنے میں اور انکو صحیح سوچ دینے میں، انکو عزت کا راستہ دکھانے میں، انکو ایک چھت مہیا کرنے میں… وہ انکا بڑا کارنامہ ہی نہیں بلکہ انکی حکمت اور سمجھداری کی علامت ہے… ایدھی صاحب لا کھہ کوشش سے بھی خواتین کے لئے خود کچھ نہیں کر سکتے تھے… 
مادرملّت اور رعنا لیاقت علی خان کی  قائدانہ اور انتظامی صلاحیتیں تمام پاکستانی خواتین کا لئے مثال ہیں… محترمہ فاطمه جناح اور رعنا لیاقت علی خان کے بعد بلقیس ایدھی صاحبہ تیسری خاتون ہیں جنہوں نے اپنے عورت ہونے کا ہر لحاظ سے بہترین استعمال کیا… اور اپنے ہی گھر کے مردوں کے ساتھہ مل کر پاکستان کی بہتری کے لئے کام کیا… عورتوں کے حقوق، آزادی، اختیار کیا ہوتا ہے کس حد تک ہوتا ہے اور اسے پاکستان کی عزت، معاشرتی قدروں اوردینی حدود کو قائم رکھتے ہوۓ کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، کس طرح خود کوعورتیں قابل بھروسہ اورقابل عمل بنا سکتی ہیں… ان خواتین نے سکھایا… 
یہ وہ خواتین ہیں جن کو سخت ترین حالات ملے کام کرنے کے لئے، اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے لئے، عورت کی طاقت اور ہمّت کا صحیح مظاہرہ کرنے کے لئے، عورت کا ایک انسان ہونے کے ناطے اپنا حق اور اختیار استعمال کرنے کے لئے، عورت کے درست اور بروقت فیصله  کرنے کی اہلیت دکھانے کے لئے … انکو عیش وعشرت، سہولتوں، گھر کی چار دیواری میں بیٹھ کر معاشرے کو جہنّم بنانے کے طریقوں، چار نوالوں اور پانچ کپڑوں اور چند زیورات کے لئے سازش اور چالاکیاں کرنے، شوہر کو قابو کرنے اور بھائیوں کو بھڑکانے کے منصوبوں سے کوئی سروکار نہ تھا… انکی زندگی کا مقصد اپنے جسم کی چوٹی چوٹی خواہشات پوری کرنا نہیں تھا بلکہ پاکستان جیسے تحفے کا احترام کرنا، اس خطہ زمین کا نام روشن کرنا اور اپنی قوم کے لوگوں کو انکے پیروں پر کھڑا کرنا اور انھیں خودداری کا راستہ دکھانا تھا…
اگر انکے گھر کے مرد انکی راہ میں رکاوٹ بنتے تو کیا یہ اتنا سب کچھ کر پاتیں؟  یا اگر یہ خواتین اپنے مردوں کی راہ کی رکاوٹ بن جاتیں تو وہ مستقل مزاجی کے ساتھ کام کر پاتے؟  کیا تحریک پاکستان کامیاب ہوتی اور پاکستانی میں اتنے بڑے بڑے فلاحی ادارے قائم ہوتے؟  تو بات ساری ہے ایک دوسرے کو سمجھنے کی…. معاشرے ہمیشہ سے مردوں کے ہاتھوں میں رہے ہیں اور شاید قیامت تک رہیں گے… کامیاب صرف وہ معاشرے ہو ۓ جہاں مردوں نے خواتین کو انسان تسلیم کیا اور پہلے انکو انکے حقوق اور عزت انکے گھروں میں دئے…. 
چاہے معامله عورتوں کو گھرکی چار دیواری کے اندر بٹھاکر رکھنے کا ہو یا تعلیم، ملازمت یا کسی بھی مقصد کے لئے گھر سے باہر جانے کی اجازت دینے کا… ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی تب ہی ہوتی ہے جب ایک خاندان کی عورتیں اور مرد مل کر کوئی فیصلہ کرتے ہیں، کسی بھی قسم کے حالات میں کوئی متفقہ راستہ اختیار کرتے ہیں، گھر کے اندر انصاف اور آزادی را ۓ کی فضا پیدا کرتے ہیں… ہر رشتہ دوسرے رشتے کی آزادی اور حقوق کا خیال رکھتا ہے… ایک گھر کے افراد ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں… 
یہ ہوتی ہے مرد کے سکون اور عورت کے اختیار کی ابتدا… جب مرد اور عورت مل کرخوشی خوشی  ذمہ داریاں بانٹ لیتے ہیں… جس کو جو آسان لگے اور وہ اسے ایک طویل عرصے تک انجام دے سکے…

 

Women’s freedom, rights and issues…

Women’s freedom, women’s right, women’s issues, women’s life, what’s with women?  Can’t they do anything by themselves?

Do they know what is freedom?

Do they know when they say women’s rights, what are they asking for?

Do they know who is key initiator of women’s issues?

Do they know the purpose of their lives?

Freedom demands responsibility and honour.  Rights doesn’t mean you are always right.  Issues are not solved by creating issues or crying over them.

The rights abused inside houses cannot be achieved on streets, through the dividers of Pakistani nation.


خواتین کو آزادی یا حقوق مردوں کے سدھرنےسے ملیں گے۔۔۔ انکے لئے ناچنے گانے سے نہیں۔۔۔ ایم کیو ایم قانون پاس کروانے کے لالچ کس کو دی رہی ہے۔۔۔ قانون پر یہاں عمل کون کرتا ہے۔۔۔ ایم کیو ایم کےمردوں کو تو دیکھیں۔۔۔ الطاف تقریر بھی سرعام ناچ گا کرکرتا ہے۔۔۔ مصطفےکمال سرعام گالیاں دیتاہے جس کو دل چاہے۔۔۔ باقی ایم کیو ایم والے سرعام پان تھوکتے پھرتے ہیں۔۔۔ یہ غلیظ مرد کسی کو کیا آزادی دیں گے۔۔۔ 

پاکستان کی خواتین کا بھی کیا معیار ہے۔۔۔ آزادی کے لئے غلاموں کا سہارا لیتی ہیں۔۔۔ پاکستان کے سرکاری خرچ پر لندن میں بیٹھہ کر خوب تماشہ لوٹا الطاف بھائی نے سرعام ماؤں بہنوں کو نچا کر۔۔۔ ایم کیو ایم کے جلسے میں آتش بازی, ہلا گلا۔۔۔ آزادی ناچنے گانے کی۔۔۔ اس آزادی کے لئے تو پوری دنیا کھلی پڑی ہے۔۔۔ بے حساب فائدے بھی ملتے ہیں۔۔۔ فری میں تھکایا خود کو۔۔۔


ہاں تو ناظرین کرام, کس کا کتنا خون کھول رہا ہے امریکہ کی بلوچستان قرارداد پر۔۔۔ اپنی اپنی غیرت  کا ٹمپریچر نوٹ کرلیں کہیں ٹھنڈی تو نہیں پڑگئی۔۔۔ 

اچھا طنز ومزاح, لعنت ملامت اور اصلاح کی باتیں بعد میں۔۔۔۔۔۔ پہلے نارمل باتیں۔۔۔

پہلے ذرا یہ بتائیں کہ میں نے قارئین کے بجائے ناظرین کیوں لکھا۔۔۔ بھئی قارئین  کہتے ہیں پڑھنے والے کو اور ناظرین دیکھنے والے کو۔۔۔ تو میں نے آج تک لوگوں کو تحریروں پر نگاہ ڈالتے یا دوڑاتے تو دیکھا ہے لیکن پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔ پڑھنا ہوتاہے آواز کے ساتھہ۔۔۔ جیسے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے غار حرا میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے فرمایا کہ۔۔ اقراء مطلب کہ پڑھو۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ ما انا بقار مطلب کہ میں نہیں پڑھ سکتا۔۔۔۔۔۔ اگر پڑھنے کا مطلب دیکھنا نگاہ ڈالنا ہوتا تو مسئلہ ہی کوئی نہیں تھا۔۔۔ نہ ہی اس کا مطلب ہے کسی چیزکو یاد کر کے دہرانا۔۔۔ ورنہ وحی کے ذریعے دل و دماغ میں اتار کر بول دینا کافی تھا۔۔۔ جیسے ہم کرتےہیں کہ قرآن یاد کیا, حفظ کیا اور سنا دیا۔۔۔ اور اسی لئے جب بچے کہتے ہیں کہ پڑھ لیا تو پوچھا جاتا ہے بتاؤ کیا پڑھا۔۔۔ تو پڑھنے کا تعلق آواز سے ہے۔۔۔

اقبال نے کہا۔۔۔

تیرے وجود پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ کشا ہیں نہ رازی نہ صاحب کشاف۔۔۔

ویسے یہ بھی قرآن کا معجزہ ہے۔۔۔ عربی زبان کا بھی۔۔۔ اور کیا۔۔۔۔۔ کیسا۔۔۔۔

اور جو میں کہتی ہوں کہ انسان ہو یا جانور۔۔۔ جو سنتا ہے وہ بولتا ہے۔۔۔ تو وہ کوئی نہیں سنتا۔۔۔۔۔۔ دیکھہ لیں انجام۔۔۔ کس طرح پاکستان میں روز اردو کا جنازہ نکلتا ہے۔۔۔ روزانہ ایک لفظ دفنایا جاتا ہے۔۔۔۔ کھیال, خیال۔۔۔ آکھری, آخری۔۔۔ پیگام, پیغام۔۔۔ مکصد, مقصد۔۔۔ کیامت, قیامت۔۔۔ کیمہ, قیمہ۔۔۔ کھاب, خواب۔۔۔کائداعظم, قائداعظم۔۔۔ اکبال, اقبال۔۔۔ کھریت, خیریت۔۔۔ کھشی, خوشی۔۔۔ گلت, غلط۔۔۔۔ مکدر, مقدر۔۔۔ کھلاسہ, خلاصہ۔۔۔ کھریدار, خریدار۔۔۔ کبول, قبول۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش لوگوں کو سمجھہ آجائے کہ عزت اور علم, الفاظ کو بگاڑنے سے نہیں ملتے۔۔۔ الفاظ کو بگاڑنا جہالت کی نشانی ہے۔۔۔

اور ایک تماشہ یہ بھی لگتا ہے کہ دنیا کی تھیرپی کرنے والوں کی اولادیں بھی اسی تلفظ کے ساتھہ بات کرتی ہیں اور وہ بھی ٹی وی پر۔۔۔ ہاں ہاں, ڈرتی نہیں ہوں, پروفیس معیز کی بات کررہی ہوں۔۔۔ لیکن کیا کریں, جدید تہذیب کے اصولوں کے مطابق مشہور لوگوں  کے پہننے اوڑھنے, بات کرنے کے طریقوں پرتنقید نہیں کی جا سکتی۔۔۔ اخلاقیات کے خلاف ہے۔۔۔

سنا ہے کسی زبان کوسیکھنا ہو تو اسکی شاعری سیکھہ لیں۔۔۔ شاعری کیا ہے۔۔۔ الفاظ کو مختصر جملوں کی شکل میں اس طرح ترتیب دینا کہ ہر جملہ کا آخری لفظ ہم آواز بھی ہو لیکن کوئی جملہ اکیلا کوئی معنی نہ دے۔۔۔ اس طرح کا جملہ مصرعہ کہلاتا ہے۔۔۔ اور مصرعہ سے مصرعہ ملکر شعر بنتا ہے۔۔۔ چارمصرعے جمع ہو جائیں تو رباعی کہلا تی ہے۔۔۔ پانچ مصرعے  ملکر مخمس بناتے ہیں۔۔۔ اور چھہ ملکرمسد س۔۔۔۔۔۔ پس شاعری کے لئے آخر میں ہم آواز ہونا ضروری ہے۔۔۔ یہ نثر یعنی باتوں کی طرح آزاد نہیں۔۔۔ شاعری میں اظہار خیال کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ الفاظ ضائع نہیں ہوتے۔۔۔اور یہ طرز گفتگو قرآنی بھی ہے۔۔۔

شاعری صرف شاعر کے خیالات یا احساسات کا نام نہیں۔۔۔ کیونکہ ہر کسی میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ چند الفاظ کو منظم کرکے جو کچھہ کہنا ہے جلدی سے کہہ کر چھٹی کرے۔۔۔ اس لئے لوگ شاعروں کے کلام سے استفادہ  کرتے ہیں۔۔۔ لیکن ذرا دھیان سے, عبید الله علیم نے کہا تھا۔۔۔ 

کھلتا کسی پہ کیوں میرے دل کا یہ معاملہ

شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

عام لوگ شاعروں کو پاگل سمجھتے ہیں۔۔۔ لیکن علامہ اقبال نے شاعروں کو بڑا اعزاز بخشا۔۔۔ انھیں قوم کی آنکھہ بنا دیا۔۔۔

قوم گویا جسم ہے, افراد ہیں اعضائے قوم

منزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست وپائے قوم

محفل نظم حکومت, چہرہ زیبائے قوم

شاعر رنگیں نوا ہے دیدہ بینائے قوم

مبتلائےدرد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھہ

کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھہ

مزید فرماتے ہیں۔۔


شعر وشاعری کا شوق سبکو ہوتا ہے۔۔۔ اس بات کایقین تب آیا جب ایک دن بابا کو دھیمے دھیمے سہگل کا گانا گاتے سنا۔۔۔ حا لانکہ انھوں نے زندگی میں ٹک کے دو منٹ کبھی کوئی فلم نہیں دیکھی۔۔۔ بلکہ دیکھی ہی نہیں اور نہ گانے سنے۔۔۔ بس چار پانچ شعر آتے ہیں۔۔۔۔ 

تنگدستی اگرچہ ہو غالب

تندرستی ہزار نعمت ہے

بابا کے شعروں کے کلیکشن میں سے یہ پہلا شعر تھا جوان کے منہ سے سنا۔۔۔ 

 میں نے تو یہ دیکھا کہ چہرے کو چمکتا ہوا بنانا ہو تو کریلے, بینگن, گاجریں اور کچی پیاز کھائیں اورمیک اپ چھوڑ دیں اور موقع ملے تو سرسوں کا تیل بھی لگائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

بالوں کو صحت مند بنانا ہو تو دہی, بند گوبھی, ہری پیاز اور انڈا کھائیں, اورفکر کرنا, سوچنا چھوڑ دیں۔۔۔۔۔۔۔ 

وزن کم کرنا ہو تو جو کھانا ہو اور جتنا کھاناہو بارہ سے چودہ گھنٹے کے وقفے سے کھائیں اورساتھہ میں دس بارہ چھوٹی والی ہری مرچیں, وقت پرکھانے کے بجائے جب بھوک لگے تب کھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

خون پتلا کرنا ہو تو اور دوران خون کو نارمل کرنا ہو تو لوکی, ترئی اورٹنڈے کھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ان تمام کھانوں کے ساتھہ پانی ضرور پئیں۔۔۔ پینے پر یاد آیا کہ کوکا کولا کی نئی ریسرچ نے سب کو شرابی ثابت کردیا۔۔۔ ہم بھی عجب  بے ضرر قوم ہیں, امریکہ جب  چاہے کچھہ نیا فارمولا ایجاد کرکے ہمیں کھلا پلا دیتا ہے اور ہم کھا پی لیتے ہیں۔۔۔ اور تعریف کرتے ہیں کہ واہ کیا قوم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر امریکہ اپنی ایجاد پر نئی ریسرچ کرکے ہمیں گناہ گار ثابت کردیتا ہے۔۔۔ اور ہم گالیاں دینا شروع کردیتے ہیں کہ کتنی دھوکہ باز قوم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ دینی لوگوں کو ابھی تک پتہ نہیں چلا شاید۔۔۔ با جماعت صلوت استغفارکب پڑھیں گے۔۔۔۔ اور ٹی وی پر کوکا کولا کے ایڈز آئے چلے جارہے ہیں۔۔۔اورادھر ٹی وی پر کوکا کولا کے ایڈز آئے چلے جارہے ہیں۔۔۔ ثابت یہ ہوا کہ یہ کہنا چھوڑ دیں کہ ہم مسلمانوں سے تو امریکن اچھے ہیں, دھوکہ تونہیں دیتے۔۔۔ لیکن کبھی کبھی سوائے دھوکے کے کچھہ نہیں دیتے۔۔۔ 

دوسرا تماشہ یہ لگتا ہے کہ فہد مصطفے صاحب, ندا پاشا صاحبہ, محترمہ شائستہ زیدی صاحبہ۔۔۔ بھارتی فلموں کی تشہیر کرتی نظر آتے ہیں کہ کہیں کوئی ان غلاظتوں سے بچ نہ جائے۔۔۔ حالانکہ بھارتی فلمیں تو پاکستانیوں کا اوڑھنا بچھونا ہیں۔۔۔ وہ ان سے غافل کیسے رہ سکتے ہیں۔۔۔ اور دؤلت اور شہرت کے لئے تو کسی بھی حد تک گرا جاسکتا ہے چاہے وہ بھارتی فلموں کےسیلز پرسن بن کر ہی کیوں نہ ملے۔۔۔۔آخرکار  گلی گلی والی سیلز مین شپ سے تو ہہتر ہے۔۔۔ جو قوم اتنی بے غیرت ہو جائے اسکے ساتھہ جو نہ ہو وہ کم ہے۔۔۔ حالانکہ نادیہ خان اور مایہ خان کے انجام سے سبکو سبق سیکھہ لینا چاہئے۔۔۔ کل تک پرستاروں کے فون پر فون۔۔۔ اور آج کوئی ٹکے کو نہیں پوچھتا۔۔۔ خیر ان پر تنقید بھی جدید تہذیب کے اصولوں کے مطابق نہیں کی جاسکتی ۔۔۔۔ تعریفیں یہ آپس میں ایکدوسرے کی حد سے زیادہ کرلیتے ہیں۔۔۔ 

یاالله, میں اس قوم سے بیزار ہوں جو پاکستان کی نمک حرامی کرنے کے بعد خود کو پاکستانی کہلائے۔۔۔۔


SCANDALOUS AFFAIRS

Meera’s English, Veena Malik and Mathira’s salacious photographs, Saima Khan and Nargis’s x-rated stage dance, Maya Khan’s super domineering hosting, Nadia Khan’s interference in people’s personal life and many other women with immodest scandals – all bashed up by men of great virtue and character.  Yeah, the common men of Pakistan.   Musarrat Shaheen is said to be the only surviving ‘screen prostitute’ who is eligible for elections in her area.  Men, bearded or clean shaved,  highly relish these situations, surpassing their limits in condemning, cursing and criticizing women for being ‘morally and sexually adulterated’.
These kind of women are commonly titled as ‘bitches’ and men demand their expulsion from society and severe punishment by the government and law even if it be stoning her to death.
Somehow, grieving, howling, moaning, mourning, wailing, weeping, bleeding and wounded, naked and exposed, women have remained the only source of amusement and entertainment for Pakistani men.
While in this very same ,yet, undefined society, many male politicians, celebrities and even common men have been found engaged in lewdness, lechery and sexploitation and have been caught red handed – shockingly all were/are deliberately disregarded and voluntarily exonerated from all sins and crimes.  They should have been called ‘dogs’ and ‘pigs’ too.
Tell me honestly, who do Mrs. Reema Khan, soon to be Mrs. Meera, Mrs. Sana, Mrs. Saima Noor, Mrs. Noor, Ms. Resham, Ms. Nirma, Mrs. Musarrat Shaheen and other female actresses and stage dancers please and upset by oscillating their bodies and shaking their breasts and buttocks so frequently and constantly in the name of fun, art and freedom?  Who do they discompose their physical formation for?  They say their purpose is not to seduce anyone but then why do men feel like that?  Why don’t those men present there stop them – I mean the producer, the director, the actors, the hero?
Why was MAYA KHAN fired immediately while Syed BILAL QUTUB from Alim Online is still there after that controversial program – no public pressure and no condemnation from religious side?
Why was Nadia Khan terminated while Syed Mustafa Kamal was justified after calling public “Ulloo ka Patha” – no conviction by law, no public stricture?
Why are Veena Malik and Mathira called ‘BITCHES’ while Moammar Rana is not called a ‘DOG’ after posing nude in a photo session?
One thing I still haven’t understood is what evil is Veena Malik or Mathira or any other female producing that Katrina Kaif, Kareena Kapoor, Vidia Balen and other Bollywood actresses have not done?  Lollywood actresses only compete with them in getting naked to buy men’s attention and money.  The google searches have decided who can do it better.  Pakistani men are the most fervent viewers of Bollywood nudity and find it more safe for their faith and purity.
Why don’t men (actors) step forward to defend their co-female colleagues when they are scurrilously attacked by the society and judged by muftis and scholars – I mean Nadeem Baig, Shan, Moammar Rana, Babar Ali, Afzal Khan Rambo, Umar Sharif and those who support art and have been through that medium, like Talat Hussain, Shakeel, Rahat Kazmi, Usman Pirzada, etc.?
It is quite possible that the celebrities purposely propagate these kind of scandals to entertain themselves and to satisfy the lust of popularity.  They would commit suicide if they come to know how their ‘freedom of expression’ sometimes effects and spoils people’s life.
The biggest injustice that we have done to ourselves and our country is that we have handed over the domination and superiority to men who are coward, unjust and unfortunate literates.

Fathers in history

 

 ایک ایسا وقت بھی گذرا تھا, اس بستی کے ہر کوچے پر

 جب کوئی بھی تصویرنہ تھی, اس کرہ ارض کے پردے پر

جب دنیا خالی خالی تھی, سناٹا تھا, ویرانی تھی

بابا آدم, ماں حوا کو, یہاں خلقت ایک بسانی تھی

یہ جوڑا تھا انسانوں کا, اعلی ادنی مطلوب نہیں 

رشتے میں بندھ کر آئے تھے, صرف عورت مرد کا روپ نہیں

تابعداری, نا فرمانی۔۔۔ ہر حال کے تھے سنگھی ساتھی 

دن عیش کے ساتھہ ہی دیکھے تھے, پھر سزا بھی ساتھہ میں ہی کاٹی

دو انساں کیسے جیتے ہیں, روتے روتے ہنستے ہنستے

حوا شوہر پر جاں دیتیں, وہ بیوی کے دیوانے تھے

وہ داعی چین سکون کے تھے, وہ مساوات کے حامی تھے

وہ جب بچے پیدا کرتے, اک لڑکا اک لڑکی ہوتے

آغاز تھا یہ انسانوں کا, جنھیں کائنات سب تکتی تھی

شوہر بیوی, اماں ابا, بھائی بہنا, بیٹا بیٹی

***

پھر ایسا وقت بھی آیا کہ جب عورت بے توقیر ہوئی 

سارہ اور ہاجرہ بھول گئیں, مریم کی بھی تحقیر ہوئی

پھر لے کر پیار محبت کا, پیغام رسول الله آئے

جو مردوں کے تو باپ نہیں, بیٹی کے والد کہلائے

اپنی بیٹی کی عزت کو, خود آپ کھڑے ہوجاتے تھے

اوروں کی بیٹیوں کے دکھہ پر, کڑھتے اور اشک بہاتے تھے

وہ جنکا فرض عیادت تھا, ایک غیر, یہودی عورت کی

سامان اٹھاتے تھے اسکا جو ان سے نفرت کرتی تھی  

سمجھاتے تھے یہ امت کو, بیٹی رحمت, بیٹی عصمت

کیوں بیٹی زندہ دفن کرو, بیٹی پالو, پالو جنت

فرماتے تھے کہ قابل حب,  مجھے مشک, نماز اور عورت ہیں 

عورت کو جو کمتر جانیں, کیا پھر بھی شامل امت ہیں

*** 

وہ وقت بھی آخر کار آیا, انسانیت پامال ہوئی

مردوں پہ غلامی چھائی, عورت ذلت سے بے حال ہوئی

تو قائداعظم  نے آکر, کچھہ یوں سب پر احسان کیا

بن کر بابائے قوم, مسلمانوں کو پاکستان دیا 

دنیا کو جناح نے سکھلایا, بہنیں تقدیر بدلتی ہیں

اور بھائی کا بازو بن کر, ہر مشن پہ ساتھہ نکلتی ہیں

مائیں بہنیں بیوی بیٹی, گونگی بہری تصویر نہیں

یہ قدم ملا کر ساتھہ چلیں, یہ پیروں کی زنجیر نہیں

فرمایا قائداعظم نے, کوئی قوم ترقی کر نہ سکے

جب تک عورت کو ساتھہ نہ لے, جب تک عورت کا ساتھہ نہ دے

How many fathers do I have in history?

Prophet Adam (peace be upon him), the father of entire human species;

Prophet Muhammad (pbuh) – the father of daughters, not sons (as it is said in Qur’an) – who told me about my rights;

Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah, the ‘Father of Nation’;

and my biological father, who was the cause of my birth and raised me up;

and then my spiritual fathers, who became the source of guidance.

The first three names are alive but the world has lost them as a character.  They did not appear as a dominating gender but as a partner to their females.  They co-operated, changed the history and influenced the mankind.

I wonder what language did father Adam and mother Hawwa/Eve (peace be upon both of them) speak in Paradise?  How were they sent to earth?  How they felt for being the first human-couple on earth?  How did they feel about beginning human history on earth?  Did they behave like today’s husbands and wives?

I also wonder why did Prophet Muhammad (pbuh) mention women ‘worth loving’, like perfume and prayer/namaz?  He smiled to his wives, discussed matters with them, helped them.  He stood up in respect for his daughter.  He listened to women’s complaints and favoured them against their husbands.  He even visited a sick Jewish woman to know how is she feeling.  He never raised his voice against any woman whether known or strange.

Quaid-e-Azam said that no nation can rise unless their women stand side by side to their men.

The world is not Adamic  anymore.  It has been divided into groups, tribes, nations, race, gender, faith, cultures,  relations and connections – it is not the matter of ‘right and wrong’ anymore – nothing right now seems to unite them, not even Islam as it is redefined by various religious groups.  Women everywhere are in search of their status in society.  Thinking of them as a competitor or a rival, they have lost their own identity.  The identity of being a human being and act like one and a slave of the God Almighty and behave like one.

Why do women go to men to know about their status and rights in Islam, why don’t they find out themselves, why do men have to define things for them?


B.A. Notes in Urdu

 

اردو نوٹس بیچلرز کے لئے۔۔۔ بیچلرز انگریزی کا لفظ ہے جسکا مطلب ہے کنوارا۔۔۔ اسکو چودھویں سال کی ڈگری کا نام کیوں دیاگیا اور پاکستان میں اسکا مقصد سمجھہ نہیں آتا۔۔۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کچھ لیولز ہونے چاہئیں انکا کوئی بھی نام رکھا جائے, کوئی بھی کسی بھی عمر میں جو لیول پاس کرے اسکو وہ ڈگری دے دیں۔۔۔

کیونکہ تعلیمی عمل کو چودہ سال تک کھینچنے کے لئے خواہ مخواہ کا سلیبس بنایا جاتاہے,  کون کتابیں لکھ رہا ہے, کیا لکھہ رہا ہے, کون سے اسباق ہیں اور انکا موضوع کیا ہے… کچھہ چیزیں پہلی کلاس سےایم اے تک پڑھائی جاتی ہیں مگر پھر بھی طالبعلم نہ انھیں سمجھتے ہیں نہ ان پر بحث کر سکتے ہیں… مثلا تاریخ پاکستان, نظریہ پاکستان, اردو ادب, انگلش لٹریچر۔۔۔

ہر نئی نسل نئی حکومت کی طرح برے نظام کی وجہ اپنے سے پہلوں کی غفلت کو قرار دیتی ہے۔۔۔  لیکن نئی نسل یہ بھول جاتی ہے کہ پچھلی نسل کی غفلت کی وجہ نئی نسل ہی ہوتی ہے۔۔۔ ہر نسل کے لوگ جب اپنی اولادوں کے لئے خود غرض ہو جائیں, دوسروں کاحق ماریں, جھوٹے دستاویزات بنوائیں, رشوت لیں, رشوت دیں۔۔۔ تواگلی نسل کو جینے کے لئے صرف ایک  جرائم پیشہ معاشرہ ہی ملتا ہے جسکے حصہ دار خود انکے گھر اور خاندان کے لوگ ہوتے ہیں۔۔۔

ویسے بیچلرز کی ڈگری کا مقصد کیا ہوتا ہے۔۔۔ پہلی جماعت سے بیچلرز تک چودہ سال اور مونٹیسوری سے سولہ سال بنتے ہیں۔۔۔ اور بیچلرز کی ڈگری لینے والے کی عمر انیس بیس اکیس سال کی تو  ضرورہو گی۔۔۔ تو ایک انسان کے پچے یا بچی کو سولہ یاچودہ سال کے مسلسل تعلیمی عمل کے بعد کس قابل ہو جانا چاہئے۔۔۔ کس حد سمجھدار اور باشعور ہو جانا چاہئے۔۔۔  کس قسم کی باتیں اسے سمجھہ آجانی چاہئیں۔۔۔ کس حد تک فیصلے کرنے اور انھیں نبھانے کی اہلیت ہونی چاہئیے۔۔۔ مذہبی, سیاسی, قانونی اورسماجی مسائل کی کس حد تک سمجھہ ہونی چاہئے اور انکو حل کرنے میں کیا کردار ہونا چاہئے۔۔۔۔ کس مضمون پر کتنا عبورہونا چاہئے۔۔۔ کیا مضامین کی کومبینیشن آج کل کے حساب سے ہے۔۔۔۔ کیا بیچلرز کی ڈگری طلبہ وطالبات کو موجودہ دور اور حالات کے حساب سے ملازمتوں یا کاروبار کے لئے تیار کرتی ہے یا اسکا مقصد یہ ہوتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔ اگر ملازمت یا کاروبار کے لئے تیاری نہیں تو پھر چودہ یا سولہ سال سات آٹھہ گھنٹے گھر سے باہر گذارنے کا کیا مقصد ہے۔۔۔

ہمارے بچے ساتویں نہیں تو آٹھویں جماعت سے تو ضرورعشق ورومانس کی باتیں سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ اور بہت اچھی طرح والدین, ٹیچرز, محلے والوں کو چکر بھی دے دیتے ہیں۔۔۔اسکے لئے انھیں کسی ٹریننگ یا استاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔ اور اس طرح پانچ چھہ سال میں اس فیلڈ کی اونچ نیچ کو خوب سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ لیکن باقی معاملات کے معاملے میں نہ صرف وہ بچے بنے رہتے ہیں بلکہ ایک حد تک خود کو احمق, بے وقوف اور ناکارہ بھی ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ اکثر والدین, رشتہ دار یا دوست وغیرہ بھی انھیں اسی قسم کی خصوصیات کا احساس دلادلا کر معصوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔

 چودہ یاسولہ سال زندگی کا ایک بہت بڑا اوراہم حصہ ہوتے ہیں۔۔۔ اتنےعرصے تو جانوروں کو ٹریننگ دی جائے تو وہ بھی قابل توجہ کام سر انجام دینے لگتے ہیں۔۔۔ بلکہ وہ کام اس حد تک ان جانوروں کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں کہ انھیں جنگل میں چھوڑ دیا جائے تو ان کی کمیونٹی انھیں قبول نہیں کرتی۔۔۔ اور نہ ہی وہ خود جنگل کے ماحول میں ایڈجسٹ ہو پاتے ہیں۔۔۔ ساتھہ ساتھہ ایسے جانور اپنے مالک کےلئے کمائی کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔۔۔ اپنے مالک کے ایک اشارے یا منہ سے نکلنے والے ایک لفظ سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔۔۔

اب ذرا بیچلرز ڈگری کے خواہشمند یا وہ جو یہ ڈگری حاصل  کر چکے ہیں اپنا موازنہ ان جانوروں سے کریں, اس میں سرکس کے جانور بھی شامل ہیں۔۔۔ کہ کیا سیکھا اور کیاکرنے کے قابل ہیں۔۔۔

اردو زبان کے اصل مجرم کون ہیں۔۔۔ وہ جو خود تو بڑے اردو ادب کے ستون کہلائے مگر اپنی اولادوں کوانگریزوں کا پرستار چھوڑ گئے۔۔۔ وہ جنھوں نےقوم کو یہ سوچ دی کہ اردو زبان میں عشق ومحبت کے قصے سنائے جاسکتے ہیں, انتقام و نفرت و سازشوں سے  بھر پور اسکرپٹس لکھے جا سکتے ہیں, فتووں سے بھری کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔۔۔ لیکن ملک وقوم کی کی ترقی کا کام نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ یا وہ جو اپنی اولادوں کو باہر کی یونیورسیٹیز میں پڑھاتے ہیں مگرقوم کو اردو کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔۔۔ یا خود ساری عوام جو نہ بولنے کو تیار, نہ سننے کو, نہ کچہ کرنے کو۔۔۔

ہمیں کیوں اپنے اس جرم کا احساس نہیں ہوتا کہ ہرایرے غیرے کو اسکول کھولنے کی اجازت دے کر, ہر قسم کا سلیبس باہر سے درآمد کر کے, اپنے میں سے ہی اٹھے ہوئے مجرمانہ ذہنیت کے استادوں استانیوں کو تعلیمی اداروں کوبرباد کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرکے ہم نے اپنے ہی بچوں کا مستقبل تباہ کیا۔۔۔

بیچلرز کے لیول کے لئے کورس کی کتابیں ضروری ہیں یا کالجز اور یونیورسٹیز میں ایک تفصیلی سلیبس دے کر طلبہ سے تحقیقی کام کروانا۔۔۔ جبکہ ایک طرف حال یہ ہے کہ تیسری چوتھی پانچویں جماعت کے بچوں کو اردو میں نظم, شعر, مضمون, کہانیاں لکھنے کو دی جاتی ہیں۔۔۔ ضروردیں لیکن اسکے لئے انھیں پڑھنے کا وقت, تیاری کا وقت دیں نہ کہ بچے ٹیوشن یا بڑوں سے چیزیں لکھوا کر نمبر حاصل کریں۔۔۔

سیاق و سباق کے ساتھہ تشریح کریں, کسی ایک شاعر, ادیب, افسانہ نگار کے حالات زندگی لکھیں یا فن پر تبصرہ کریں, کسی نظم یا سبق پر تبصرہ کریں یا خلاصہ لکھیں۔۔ سروے کرکے دیکھہ لیں کہ یہ کتنا بڑا بوجھہ ہے طلبہ پر۔۔۔ اور جب بوجھہ ہلکا کرنے کے لئے والدین, اساتذہ ہی راستے فراہم کردیں توپھرجہالت کا شکوہ حکومت سے کرنا بےکارہے۔۔۔۔

ایک بات یہ بھی ہے کہ نثر میں جو اقتباسات اور شاعری کے جو حصے منتخب کئے گئے ہیں وہ کس بناء پر۔۔۔  کتاب کے آخر میں مشکل الفاظ کے معنی بھی دے دیا کریں کیونکہ سو دو سو سال پرانی اردو تو اب بولی نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ اب تو لب ولہجہ بھی پاکستانی نہیں رہا۔۔۔ کم از کم کراچی میں تو ہندوستانی فلموں کا لہجہ اور الفاظ  نئی نسل کی شخصیت کا حصہ ہیں۔۔۔ بلکہ کافی ساری ٹیچرز اور اسکول اونرز بھی اسی تلفظ میں بات کرتی ہیں۔۔۔

کیا پاکستان میں پہلی جماعت یا مونٹیسوری سے بیچلرز تک مضامین, خاص طور پر اردو اور اسلامیات میں کوئی سیکوینس یادرجہ بندی ہے۔۔۔ کہ کس عمر یا جماعت کے بچوں میں کم از کم اتنی پڑھنے یا لکھنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔۔۔

What is Bachelor’s Degree? http://www.collegeonline.org/library/choosing-degree/bachelors-degree

As the examination days for Bachelors are approaching closer,  Google search for notes in Urdu is increasing every day.  Most searches are for Psychology, Political Science and Education notes in Urdu language.

There are many websites and facebook pages available for Urdu readers but they mostly consist of poetry, excerpts from Urdu Literature, religious substance by religious groups and news in general.  Nothing I could find that can help the students with discussions and explanation in Urdu.

I still don’t understand the reason of category “Arts” and for including Political Science, International Relations and Education in it.  To make things easier why don’t we introduce the credit system (like in many other countries).  Students can achieve the degree by availing certain credit points for different subjects.  Government will have to provide the syllabus and students can do their research to prepare notes and give examination.

The students of Arts or B.A. are mostly private students.  Even regular students don’t attend classes since they complain that lecturers and teachers ask them to come to the coaching in the evening and get the marks.  If this is really happening, no matter what , students must complain this to someone, inform personally or write to the authorities.

 

 قومی شناختی کارڈ کے لئے, ڈرائیونگ کے لئے, ووٹ ڈالنے کے لئے بلکہ شاید نکاح کے لئے بھی۔۔۔ اٹھارہ سال کا ہونا کیوں ضروری ہے۔۔۔ شاید اسلئے کہ اٹھارہ سال دنیا میں گذارنے کے بعدایک لڑکا یا لڑکی اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اپنی شناخت کرواسکیں, ذاتی حیثیت میں بھی اور قومی لحاظ سے بھی۔۔۔ شاید اسلئے کہ ان پربھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھنے کے بعد اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔۔۔ شاید اسلئے کہ اٹھارویں سال تک پہنچتے پہنچتے ایک لڑکا یا لڑکی کم از کم دو الیکشن سیزنز تو دیکھہ ہی لیتے ہیں, اسکا طریقہ, اسکا نتیجہ, اس پر بحث مباحثہ انکے ذہن میں رہ جاتا ہے, اور وہ ذہنی طور پراس قابل ہوتے ہیں کہ ملک وقوم کے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔۔۔ اور جو ملک اور قوم کے لئے صحیح یا غلط شخص کا انتخاب کرنے کی اہلیت رکھتا ہو وہ اپنے ذاتی زندگی کافیصلہ کرنے کابھی حق رکھتا ہے۔۔۔ اسکا مطلب ہے کہ قومی شناختی کارڈ ذمہ داری اورسمجھداری کی علامت ہے۔۔۔

کیا یہ معلومات یعنی قومی شناختی کارڈ کی اہمیت, ووٹ کی اہمیت, ٹریفک کے قوانین, شادی اور طلاق سے متعلق قرآنی احکامات,  ہمارےتعلیمی کورس کا حصہ نہیں ہونی چاہئیں۔۔۔ انٹرمیڈیٹ کے طلبہ وطالبات یعنی سولہ سترہ سال کے نوجوانوں کوان اہم موضوعات کے بارے میں بتانا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔۔۔ 

لیکن یہ باتیں ہیں اٹھارویں سال میں آنے سے پہلے کی۔۔۔ اٹھارہ کے بعد کیا کیا جائے, کیا سیکھا جائے, کیا سمجھا جائے۔۔۔

Why eighteenth year of life seems suitable for NIC, for driving, for right to vote and even for marriage?  What a person can witness and experience in just eighteen years?  Or is it enough time to become responsible for dealing personal affairs as well as communal and national matters?

What youth is supposed to do at eighteen, shouldn’t they be educated about those matters before their legitimate time?

اچھا چلیں یہ پوچھہ لیتے ہیں کہ بی اے کرنے کے بعد کیا کرنا ہے۔۔۔ ملازمت ڈھونڈنی ہے یا ماسٹر کرنا ہے۔۔۔

ہمارے معاشرے میں اس سوال کے متوقع اور پسندیدہ جوابات ہیں … مجھے آگے پڑھنا ہے, بہت قابل بننا ہے, دنیامیں نام پیدا کرنا ہے, باعزت مقام بنانا ہے, اپنےخواب پورے کرنے ہیں, غریبوں کا سہارا بننا ہے, ملک وقوم کی خدمت کرنی ہے۔۔۔

ان جوابات پر میرے اعتراضات یہ ہیں۔۔۔ کہ سب سے پہلے تویہ سارے کام کرنے کے لئےہمت, توانائی, وقت اور جذبہ کی ضرورت ہوتی ہے جو بیچلرز کرنے تک آدھی بھی نہیں رہ جاتے۔۔۔ چودہ پندرہ سولہ سترہ سال کے تعلیمی عمل میں یہ سارے خزانے کام آجاتے ہیں اور یہ سارے کام خواب بن جاتے ہیں۔۔۔

دوسری بات یہ کہ بھئی کتنا پڑھ لینا ہے, کتابوں سے رٹ رٹ کر امتحان دے دے کر  چودہ پندرہ سولہ سترہ سال ایک ہی طور زندگی گذار کر جی نہیں بھر جاتا۔۔۔ کتنا قابل بننا ہے,  ویسے بھی زیادہ پڑھ لکھہ کرانسان قابل نہیں قابیل بن جاتا ہے۔۔۔ اور دنیا میں نام پیداکرنے اور مقام بنانے کی بات ہے تو میں نے خود پی ایچ ڈیز کو لانڈرومیٹ چلاتے اور عام سی پرنسپل کی جاب کرتے دیکھا ہے۔۔۔

غریبوں کا سہارا بننا اور ملک وقوم کی خدمت دو بہت پیچیدہ مسئلے ہیں جنکو بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں سمجھہ سکتےاورنہ بہت زیادہ غیر پڑھےلکھے۔۔۔ کیونکہ دونوں کاموں کا تعلق ایک مضبوط سماجی اور معاشی نظام سے ہے۔۔۔ جبکہ دونوں کومحض نیکی ثواب کا کام سمجھہ کرکسی خاص وقت اور حالات میں کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے وہ ایک نظام کی شکل اختیار نہیں کرپاتے۔۔۔

ویسے ایک بات ہےکہ ہم میں سے ہرایک زیادہ سے زیادہ غریبوں کا سہارا بن کرخدا سے نزدیک ہوناچاہتاہے اور اسے انسانیت کی خدمت اور سب سے بڑی عبادت سمجھتاہے۔۔۔ اور آج خدا نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لاکھوں کی خواہش کے مطابق دردمند, بے بس, مجبور, بےسہارا, غریب لوگ کڑوڑوں کی تعداد میں سامنے لاکر کھڑے کردئیے ہیں کہ کروانکی مدد اور ہو جاؤ میرے نزدیک۔۔۔  یہ کڑوڑوں بے سہارا وہ لوگ ہیں جو کل تک ہمارے رزق کا سامان کررہے تھے۔۔۔ اگر ہم نے انکے مسائل میں دلچسپی لے کر انھیں بہتری کی طرف لے آئے ہوتےتوآج ہم ایک آسان زندگی گذار رہے ہوتے۔۔۔

پس ثابت یہ ہوا کہ نیکی کرنے کی دعا مانگنے سے پہلے اسکی منصوبہ بندی بھی کرلینی چاہئیے اور ذہنی اور  جسمانی طور پر خود کونیکی کے مواقع فراہم کرنے والےحالات کے لئے تیار بھی کرلینا چاہئیے۔۔۔

اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ انسان کسی قابل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ دشمنوں کو للکار کرمٹانے کی باتیں کرنے والے, روٹی کپڑا مکان فراہم کرنے کے دعوے کرنے والے, انسانوں کو آزادی اور انسانی حقوق کا خواب دکھا کر لادینیت یا سیکیولرازم کی طرف لانے والے, اپنے جوش ایمانی سےلوگوں کی تقدیریں بدل دینےوالے, اپنے خطبات سے اور فتووں سے دوسروں کے جنت اور جہنم کا فیصلہ کرنے والے۔۔۔ مچھر جیسے حقیر سمجھے جانے والے کیڑے کے آگے بے بس ہوجاتے ہیں۔۔۔ دوا کام آرہی ہے نہ دعا۔۔۔

علامہ اقبال نے کہا کہ… ہو عالم ایجاد میں جو صاحب ایجاد, ہردورمیں کرتا ہے طواف اسکا زمانہ۔۔۔۔۔۔

اقبال کا مطلب شاید سائنسی ایجادات بھی رہا ہو جنکی وجہ سے مسلمان صاحب ایمان مغربی دنیا کے غلام بن گئے ہیں کیونکہ سائنسی چیزیں ایجاد کرنا ہمارے ہاں کفر سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کافر ایجاد کرے تو مصلحتا استعمال کرنے کا فتوی موجود ہے۔۔۔۔۔۔

لیکن یقینا صاحب ایجاد سے اقبال کی مراد صاحب تدبیر ہے یعنی مشکلات سے نکلنے کے لئے وقت اور حالات کے حساب سے حل بتانے والا۔۔۔ کیونکہ مسلمان اپنی حرکتوں کی وجہ سے دشمنوں کو اپنے پیچھے لگا لاتے ہیں اور جو حالات پیدا ہوتے ہیں ان سے نکلنے کے لئے صاحب تدبیر لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ جو بعد میں قوم کے ہیرو یا باپ کہلاتے ہیں۔۔۔

ویسے جو بی اے کے بعد جابس تلاش کرنا چاہتے ہیں انکے خیال میں انھیں کس قسم کی جابس مل سکتی ہیں۔۔۔ انکی تنخواہ کتنی ہوسکتی ہے۔۔۔ اس تنخواہ میں وہ کب تک گذارہ کرسکتے ہیں۔۔۔

بی اے کی ڈگری تو ویسے بھی کئی سال پہلے اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔۔۔ بی اے میں پڑھائے جانے والے مضامین کا پاکستان میں کیا کام۔۔۔ نفسیات, سیاسیات, عمرانیات, معاشیات, گھریلو معاشیات, لائبریری سائنس, تاریخ, اسلامی تاریخ, تاریخ پاکستان, بین الاقوامی تعلقات, عربی, فارسی, تعلیم, سوشل ورک, جغرافیہ۔۔۔۔

تو جس نظام جس تعلیم کا فائدہ نہ ہو اسے بدل کیوں نہیں دیتے۔۔۔ اپنے لئے نہ سہی, اگلی نسلوں کے لئے سہی۔۔۔وہ دعا دینگی کہ کوئی ہمارے لئے کام  آسان کرگیا۔۔۔

میر امن دہلوی  - 1809 – 1733              سرسید احمد خان – 1898 – 1817

مولوی نذیر احمد – 1912 – 1831            مولانا محمد حسین آزاد – 1910 – 1832

سید مہدی علی محسن الملک – 1907 – 1837     خواجہ الطاف حسین حالی – 1914 – 1837

علامہ شبلی نعمانی – 1914 – 1857         مولوی عبدالحق – 1961 – 1870

منشی پریم چند – 1936 – 1880             مرزا فرحت الله بیگ – 1947 – 1884

رشید احمد صدیقی – 1977 – 1892         احمد شاہ پطرس بخاری – 1958 – 1898

غلام عباس – 1982 – 1909        خواجہ میر درد – 1784 – 1720             میر تقی میر – 1810 – 1722

خواجہ حیدر علی آتش – 1846 – 1778   مرزا اسد الله خاں غالب – 1869 – 1797

مومن خان مومن – 1856 – 1800        نواب مرزا خان داغ دہلوی – 1905 – 1831

سید فضل الحسن حسرت موہانی – 1951 – 1875     علی سکندر جگر مراد آبادی – 1960 – 1890

علامہ اقبال – 1938 – 1977     فیض احمد فیض – 1984 – 1911

مرزا محمد رفیع سودا – 1781 – 1703     شیخ محمد ابراہیم ذوق – 1854 – 1789

میر ببر علی انیس – 1874 – 1802     خواجہ الطاف حسین حالی – 1914 – 1837

نظیر اکبر بادی – 1830 – 1735     علامہ شبلی نعمانی – 1914 – 1857

سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی – 1921 – 1843      شبیر حسن خاں جوش ملیح آبادی – 1982 – 1896

سیماب اکبر آبادی – 1951 – 1880    احسان دانش – 1983 – 1892

حفیظ جالندھری – 1982 – 1900

یہ اردو ادب کے چند مشہور نام ہیں۔۔۔ کچھہ شاعر اور کچھہ نثر نگار۔۔۔ ان میں سے کچھہ کےنام پہلی جماعت سے سنتے اور پڑھتے چلے آئے ہیں پھر بھی نہ انکی تاریخ پیدائش یاد ہوتی ہے نہ تاریخ وفات, نہ جگہ پیدائش اور نہ وجہ پیدائش۔۔۔ چودہ سالوں کے دوران جب انکا نام آئے نوٹس بنانے کے لئے بھاگ دوڑ مچی ہوتی ہے۔۔۔ ان میں سر فہرست نام ہے سرسید احمد خان, علامہ اقبال اور غالب۔۔۔

ویسے اتنے سارے ناموں میں صاحب تدبیر کون نکلا۔۔۔ میرے حساب سے علامہ اقبال۔۔۔ ایک وژن دے کر ہندوستان کی مسلمان اقلیت کو پاکستان کی مسلمان اکثریت میں بدل دیا۔۔۔ قلم اور سوچ کی طاقت کا صحیح استعمال۔۔۔

باقی سب بھی ٹھیک تھے, انہوں نے اپنے لحاظ ادبی کام بھی کئے, سیاسی بھی, مذہبی بھی اور سماجی بھی۔۔۔ مزاح بھی لکھا اور بچوں کے ئے بھی۔۔۔ غزل, نعت, مرثیہ, رباعی, نظمیں۔۔۔۔۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انکے کلام میں یہ سب مل جاتا ہے۔۔۔

دوسرا بڑا نام حفیظ جالندھری کا ہے جنھوں نے اقبال کے تصور پاکستان کے مقصد کو سمجھتے ہوئے قومی ترانہ لکھہ ڈالا اور کیا کمال لکھا کہ جتنی مرتبہ پڑھیں مزہ آتا ہے۔۔۔ کم الفاظ کے شعروں کے قافیہ اسطرح ملائے ہیں کہ نہ پڑنا مشکل نہ یاد کرنا اور مقصد بھی سمجھہ آجائے دو قومی نظریے کا۔۔۔

ویسے ان دو بڑے ناموں کو ہم نہ جانے کیوں پیچھے رکھتے ہیں۔۔۔ حسد کرنے یا مقابلے کی بات نہیں۔۔۔ ذرا سب کی تاریخیں ملاحظہ فرمائیے۔۔۔ سب ہی اگے پیچھے ایکدوسرے کے زمانے سے وابستہ تھے۔۔۔ ایک ہی خطے کے رہنے والے تھے۔۔۔ ان میں سب سے پرانے میر درد اور سب سے نئے فیض احمد فیض ہیں۔۔۔ لیکن جس نے کچھہ حاصل کرلیا وہ دو بڑے نام یہی تھے۔۔۔ اقبال اور حفیظ جالندھری۔۔۔

ویسے بی اے  کے باقی مضامین بھی پڑھنے کی نہیں بلکہ ٹی وی پروگرامز دیکھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔۔۔ تقریبا سارے مضامین کے موضوعات پر کسی نہ کسی چینل پر بات چیت یا بحث ہورہی ہوتی ہے۔۔۔ اخبارات اور رسالوں سے بھی نوٹس بنائے جاسکتے ہیں۔۔۔

سیاسیات میں دنیا کی مشہور تقریریں بھی شامل کرنی چاہئیں جن میں قائد اعظم کی تقاریر بھی شامل ہوں اوران لوگوں کے حالات زندگی جن کی کوششوں نے انکے ملکوں کی سیاست پرمثبت اثر ڈالا۔۔۔ خواہ مخواہ میں صدیوں پرانےسیاسی نظام جو اب کہیں نہیں ان پر بحث کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔ انھیں تو حوالہ کے لئے پڑھیں اور بس۔۔۔ البتہ خلافت مدینہ اور رسالت کے سیاسی پہلوؤں کو ضرور کورس میں شامل ہونا چاہئیے۔۔۔۔۔۔

ایجو کیشن تو مضمون نہیں بلکہ خود ایک کیٹیگوری ہے۔۔۔ اس میں تو سارے ہی مضامین آجاتے ہیں۔۔۔

بلکہ آرٹس گروپ ختم کرکے جتنے مضامین ہیں انھیں دو بنیادی کیٹیگوریز سیاسیات اور تعلیم میں لازمی کردیں۔۔۔ دو سال یعنی سات سو تیس دن کافی ہو سکتے ہیں اگرصحیح طریقے سے پابندی کے ساتھہ پڑھایا جائے۔۔۔

یہ جو کچھہ اسباق اور کچھہ مشقیں ہم تقریبا ہر سال کرتے چلے آرہے ہوتے ہیں وہ طریقہ بھی تبدیل ہونا چاہئیے۔۔۔ اور کچھہ ہونہ ہو ۔۔۔ کچھہ کام تو ملے گا طلباء کو  سوچنے کے لئے۔۔۔ اور کچھہ ہونہ ہو ۔۔۔ کچھہ کام تو ملے گا طلباء کو سوچنے کے لئے۔۔۔

 

اردو زبان کے امتحانات۔۔۔۔۔۔۔ بہت ہی پیچیدہ ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ نہیں کے ساتھہ۔۔۔۔۔۔۔

پتہ ہے کیا۔۔۔ اتنا غصہ آتا تھا پرچوں میں الٹے سیدھے سوال پڑھ کر۔۔۔

روشنی ڈالئے, اظہار خیال کیجئے, تبصرہ کیجیے۔۔۔  بھئی یہ بھی تو بتائیں یہ سب کرتے کیسے ہیں۔۔۔ کیا اظہار خیال کا مطلب ہوتا ہے ذاتی رائے, توواقعی سچی رائے لکھنے پر نمبرز مل جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو قسم کے سوال سب سے زہر لگتے تھے۔۔۔ ایک یہ کہ, بتائیے شاعر اس شعر میں کیا کہنا چاہتا ہے۔۔۔ اور وہ بھی وہ شاعر جو انتقال فرما چکے ہیں۔۔۔ بھئی یہ تو شاعر خود ہی بتا سکتاہے, ہمیں کیا پتہ اب کہ وہ کسں سے کیاکہنا چاہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ اصولا اس قسم کے سوالات کے لئے زندہ شاعروں کی شاعری کا انتخاب کرناچاہیے کہ انسان کبھی ملاقات کرکے پوچھہ ہی لے کہ بھئی آپ اپنے شعروں میں کیا کہنا چاہتے ہیں, تفصیل سے بتائیے, امتحانات میں جوابات لکھنے ہوتے ہیں۔۔۔

ویسےجو شاعرآج زندہ ہیں انکا کلام انکے مرنے کے بعد اردو سلیبس کا حصہ بنے گا۔۔۔ اور ایک بات تو طے ہے کہ امتحانات میں سوالات کا اندازجب تک بھی یہی رہے گا۔۔۔ لہذا آج کے شاعروں کو چاہیے کہ کل کے طلبہ وطالبات کی آسانی کے لئے اپنی شاعری کی وجوہات , اپنے خیالات قلمبند یا فلمبند کروا جائیں۔۔۔

ایک بات سوچنے کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں زندگی کی لہر دوڑ جائے گی اگرزندہ شعراء, ادیب اور افسانہ نگاروں کے لکھے کو پڑھایا جائے, بلکہ اردو کے پیپرز انھیں سے چیک کروائے جائیں۔۔۔ ایک تو انکا دل ہی خوش ہو جائے گا, دوسرے انکو کام مل جائے گا, تیسرے ان میں مزید بہتر اور کچھہ نیا لکھنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔۔۔

اچھا, دوسرا سوال جو کہ سوال نہیں بلکہ مطالبہ ہوتا تھا اور مجھے نہایت عجیب لگتا تھا وہ یہ کہ۔۔۔ فلاں فلاں بات یا کسی کے جملے پر بحث کیجئے۔۔۔ اب پہلی بات تو یہ کہ ہمارے گھر میں بحث مباحثے پر پابندی تھی, امی کوسخت برا لگتا تھا زبان چلانا, اسلئے پحث کرنا ہی نہیں آتی تھی۔۔۔ دوسرے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کاپی پر بحث کیسے کی جاتی ہے کیونکہ بحث کرنے کے لئے کسی دوسرے کا سامنے ہونا اور بات کرنا ضروری ہوتا ہے۔۔۔ خود ہی خود تو یا پڑھا جا سکتا ہے یا لکھا جاسکتاہے, بحث نہیں کی جاسکتی۔۔۔

یہ تو اب پتہ چلا کہ کسی بات کی بال کی کھال اتار دینا, کہاں سے شروع ہوئی, کیسے شروع ہوئی, اس کے اچھے یابرے اثرات کیاہوئے, انجام کیا ہوا۔۔۔ یہ سب کچھہ لکھنا بحث کرنا کہلاتا ہے۔۔۔

اچھا ٹیچرز اتنا بتاتے نہیں جتنا امتحانات میںلکھنے کو دیتے ہیں۔۔۔ اورآجکل تواورغضب ہے۔۔۔ کچھہ بھی نہیں بتاتے اور سب کچھہ پوچھہ لیتے ہیں۔۔۔

 سب سے بڑا سانحہ تعلیمی دور کا یہ ہوتا ہے کہ ساری چیزیں تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد رفتہ رفتہ سمجھہ میں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور پڑھے لکھے کا حال اس کرکٹر جیسا ہوجاتا ہے جو خود تو کبھی صحیح نہ کھیل پائے مگر ریٹائرمنٹ کے بعد وہ وہ مشورے دیتاہے, وہ تنقیدیں کرتا ہے  جیسے بابائے کرکٹ ہے۔۔۔

اچھامزے کی بات یہ ہے کہ سارے طالبعلم اپنے زمانےمیں برے نظام تعلیم کا رونا رورہے ہوتے ہیں۔۔۔ مگرجب والدین بنتے ہیں تو کہتے ہیں, ہمارے زمانے میںبھی تو آخرپڑھائی ہوتی تھی, ہمارے اساتذہ ایسے سخت اور قابل ہوتے تھے, ایک آجکل کے ٹیچرز ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ سب کہتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ آج کی یا کے ٹیچرز کل انھیں کے زمانے کے اسٹوڈینٹس تھے۔۔۔ کل انھوں نے جو سیکھا آج سکھا رہے ہیں۔۔۔

یہ کوئی نہیں کرتا کہ بی اے کے ایجوکیشن/تعلیم منتخب کرنے والوں سے پوچھے کہ تمھارے ہوتے ہوئے  تعلیمی نظام میں بہتری کے بجائے براوقت کیسے آیا۔۔۔ سترہ, اٹھارہ, انیس, بیس, اکیس۔۔۔ پانچ سالہ اعلی تعلیم کا کیا نتیجہ نکلا۔۔۔۔

کم عمری میں اگرکسی نے کوئی بہت بڑا تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے تو اب تک صرف دوشخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ۔۔۔ محمد بن قاسم الثقفی اورفاتح سلطان محمد یا محمد ثانی۔۔۔

محمد بن قاسم الثقفی کاتعلق شہر طائف سے تھا جہاں توہین رسالت کی گئی اسطرح کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو پتھر مارمار کرشدید زخمی کر دیاگیا, اور جب الله سبحانھ وتعالی نے فرشتے بھیجے یہ پوچھنے کے لئے کہ اگرآپ صلی الله علیہ وسلم چاہیں توشہر کو انتقاما تباہ کردیا جائےتو فرمایا کہ نہیں, یہ نادان لوگ ہیں, شاید ان کی نسلوں میں سے ایمان والے لوگ پیدا ہوں۔۔۔ پتہ نہیں طائف کے باشندوں کو معلوم ہے کہ نہیں کہ وہ کتنی عظیم قوم ہیں, انکا ایک بیس سالہ نوجوان ہندوستان کی سرزمین اور خاص طورپرسندھ کی سرزمین کے لئے رحمت بن کرآیا۔۔۔ کبھی پاکستانیوں نے طائف والوں کا شکریہ اداکیا۔۔۔۔۔۔ صرف سترہ سال کی عمر میں کامیاب فوجی آپریشن کیا اور ہنوستان میں پہلےاسلامی سیاسی نظام کی بنیاد ڈالی۔۔۔ کل بیس سالہ زندگی, نہ قبر کا نام و نشاں, نہ کوئی  پتھریلی یادگار۔۔۔ لیکن آٹھہ سو سال بعد بھی کڑوڑوں مسلمان بغیر کسی مطلب کےعزت اورفخر سے نام لیتے ہیں۔۔۔

فاتح سلطان محمد کاتعلق ترکی سے تھا۔۔۔ اکیس سال کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کیا اور بازنطینی حکومت کا خاتمہ کردیا۔۔۔ ترکی کے لوگ پانچ سو سال بعد بھی انھیں اپنا ہیرو مانتے ہیں۔۔۔  اور باقی اسلامی دنیا بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔۔۔ 

تصور کیا جاسکتا ہے کہ اتنی چھوٹی عمروں میں اتنی بڑی کامیابی کے لئے انکی سولہ سترہ سال کی عمر تک کی زندگی کیسی گذری ہوگی۔۔۔ یہ ہمارے مسلمان نوجوان تھے جن پر ان کے بڑوں نے بھروسہ کرکے اتنی بڑی ذمہ داریاں ڈالیں۔۔۔

اب ذرا آج کے بڑے اور نوجوان, دونوں کا رویہ دیکھیں زندگی, قوم اور ملک کے بارے میں۔۔۔ کیا آج کے بڑوں کو حجاج بن یوسف اور سلطان مراد کی طرح اپنی تربیت اور تعلیم پر اتنا بھروسہ ہے کہ وہ اپنے کسی چھوٹے کو اتنا بڑاکام کرنے دیں کہ ملک وقوم کی تاریخ بدل جائے۔۔۔ کیا ہمارے ہاں نوجوانوں کو ملک وقوم سے متعلق کوئی نور بصیرت دیا بھی جاتا ہےکہ نہیں۔۔۔

اوپر والے دونوں سوالوں کا جواب ہے نہیں۔۔۔ کیونکہ ہمارے ہاں اولاد کو ملک وقوم کی امانت نہیں بلکہ بہت عرصہ تک اپنابچہ ہی سمجھا جاتا ہے اوربچہ بھی اسی میں خوش رہتا ہے کہ میں معصوم ہوں لہذا بڑا کام کرنے سوچنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ نور بصیرت جن ذرائع سے سمجھہ آتا ہے یعنی صبر مطلب کہ جمے رہنا, حکمت یعنی صحیح فیصلہ کرنے کی سمجھہ,  تزکیہ نفس مطلب کہ غیر ضروری باتوں اور کاموں سے اجتناب, تفکر, یقین۔۔۔ اسکے لئے وقت کس کے پاس ہے۔۔۔

البتہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہر دور میں کچھہ نہ کچھہ نوجوان اتنی مایوسیوں اور بند ماحول میں بھی خود ہی اپنے لئے زندگی کاراستہ چن لیتے ہیں اور اسطرح اکثر دوسروں کے لئے بھی زندگی آسان کردیتے ہیں۔۔۔

توہین رسالت کے ذکر پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا نام یادآجاتا ہے اور ساتھہ ہی ممتاز قادری, جس نے کچھہ ملاؤں کی جوشیلی تقریریں سن کر اقدام قتل کا فیصلہ کیا۔۔۔ وہ ملازمت تو حکومت کی کررہا تھا مگر اسکی وفاداریاں مولویوں کے ساتھہ تھیں, اس نے اپنی عقل, اپنے جذبات, اپنے اعمال کو اپنے عالموں کے اختیار میں دے رکھا تھا۔۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ملا دوسروں کو تو جوش دلاتے ہیں لیکن خود کوئی ایسا کام نہیں کرتے۔۔…۔ اور جو انکی تقریریں سن کر قانون ہاتھہ میں لے اسے جنتی قرار دے کر لوگوں کو اسکے پیچھے لگا دیتے ہیں۔۔۔

ہماری فلم انڈسٹری اوراردو ادب کےکچھہ لکنے والوں نے بہت پہلے سے اس سوچ کو عام کیا ہوا ہے کہ عدالتوں سے انصاف نہ ملنے پر خودانتقام لینے والا اور اس کے لئے قانون کو توڑنے والا عوام کا ہیرو ہوتا ہے۔۔۔

شاید اسی عام تاثر کی وجہ سے ہمارے ہاں کے ہر مردوں عورتوں کو اپنی غلطیاں, اپنے جرائم جسٹفائے کرنے کی عادت ہوگئ ہے۔۔۔ اور شاید اسی لئے ممتاز قادری کا جرم ہمیں نظر نہیں آرہا۔۔۔

توہین رسالت کا قانون ہونا چاہئے اس میں تو کوئی بحث ہی نہیں۔۔۔ لیکن توہین کے مجرم کو بغیر وارننگ قتل کرنا, تعلیم سے ہٹانا, ڈرانا دھمکانا, گھریا علاقے سے نکال دینا۔۔۔ کونسا اسلام ہے۔۔۔ کیا اسلامی طریقہ یہ نہیں کہ اسے عدالت میں لےجایا جائے, اسکی بات سنی جائے, اسکو بحث کرنے کاموقع دیا جائے۔۔۔ کیا پتہ وہ توبہ ہی کرلے۔۔۔

ویسے بھی اسلامی تعلیمات کامقصد انسانوں کی اصلاح کرنے کا موقع دینا ہے, فورا سزانہیں۔۔۔ اور پھراگر ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے رسول کی, قرآن کی عزت کرے تو پھر وجہ بھی توفراہم کریں۔۔۔۔

ویسے کیا مولوی ہونے کے لئے ضروری کہ وہ مسکین, دوسروں کی خیرات زکواہ پر پلنے والا, محدود سے علم والا, بے ڈول روتا پیٹتا شخص ہو۔۔۔ یا پھرایک خاص لباس پہنے, گردن اکڑائے, اپنی کرسی پر بیٹھہ کر دوسرے فرقوں کی برائیاں نکالنے والا, لوگوں کے عام مسائل سے ہٹ کراپنی خانقاہوں اور آستانوں پردکانداروں کی طرح بیٹھہ کرگاہگوں کا انتظار کرنے والا بے ڈول کوئی شخص ہو۔۔۔ آخر مولوی کوئی نارمل انسان کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔ سوال کرے, سوال سنے, جواب دے, جواب لے۔۔۔

 

Is current educational process in private schools worth spending money on it?

How many O’ Levels students have completed their A’ Levels since it’s introduction in Pakistan?  How many of them have really achieved what they wanted?

ایک اہم بات ہے اوروہ یہ, کہ طلبہ کو خود بھی پوچھنا اورسوچنا چاہئے۔۔۔ کہ بی اے میں دو سال کے لئے ایجوکیشن اور پھر مزید بی ایڈ کے لئے دو یاتین سال کی پڑھائی کا مقصد کیا ہے۔۔۔ ہمارے ہاں جتنی دیر لگتی ہے رزلٹ آنے اور تعلیمی سال شروع ہونے میں, تو چار پانچ سال کے بجائے تقریبا سات سال لگ جاتے ہیں۔۔۔ بی اے سال اول کی طالبعلم جوعموما اٹھارہ انیس سال کی ہوتی ہے, بی ایڈ کرنے تک پچیس چھبیس کی ہوجاتی ہے۔۔۔ اکثر تو اس دوران اس کی شادی ہوجاتی ہے اور ملازمت اسے گھر اور بچوں کے لئے کرنی پڑتی ہے۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عام پرائیویٹ اسکولوں میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ پاس لڑکیاں کم تنخواہ پر رکھہ کر کام چلایا جاتا ہے۔۔۔ لڑکے شاید ہی ایجوکیشن میں آتے ہوں گے۔۔۔

پھر یہ کہ دوسال ایجوکیشن پڑھنے کے بعد ان میں کیا صلاحیتیں پیدا ہوئیں کیا وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ۔۔۔ آزادانہ اور مثبت سوچ رکھتے ہوں۔۔۔ کسی بھی موضوع پر لکھہ سکیں یابحث کرسکیں۔۔۔ پروفیشنلزم کا مظاہرہ کرسکیں۔۔۔  کسی بھی درجہ کے بچوں کو نتیجہ خیز بنیادی تعلیم دے سکیں۔۔۔ تعلیمی نظام میں جو غلطیاں ہیں انھیں تبدیل کرسکیں۔۔۔

آج تک کےبحث ومباحثوں کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آج تک ہم نے اپنے نظام تعلیم کی ناکامی کا صرف ایک اندازہ لگایا ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ شاید ہم مغربی دنیا کے نظام تعلیم کو نہ صحیح سمجھہ پائے اور نہ رائج کرپائے۔۔۔ نتیجہ کے طور پہ ہم ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو یا تومغربی دنیامیں کامیابی حاصل کرچکے ہوں یا کم از کم اسکے حق میں بول سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ اندازہ نہ لگا پائے کہ یہی تو ہماری ناکامی کی اصل وجہ ہے۔۔۔

دوسری اہم سوچنے والی بات یہ ہے۔۔۔ کہ ہمارے ایجوکیشن/ تعلیم کے سلیبس میں حسب عادت غیر ملکیوں کے نظریات کے علاوہ دارلعلوم دیو بند, علی گڑھ تحریک, ندوہ العلماء وغیرہ کا ذکر ہے لیکن کہیں بھی ابوعلی الحسین ابن عبدالله ابن سینا اور ابن طفیل کے نام کا ذکر نہیں جنکے نام خاص طور پرایجوکیشنل فلاسفی یعنی فلسفہ تعلیم کے موضوع پر مغربی دنیا میں افلاطون اورارسطو کے ساتھہ آتے ہیں۔۔۔ بو علی سینا نے مونٹیسوری اور یوتھہ کی تعلیم کے اصول وضع کئے۔۔۔ ہم جانتے نہیں۔۔۔ یہ مسلمانوں پر ظلم نہیں تو کیا ہے۔۔۔ ایجوکیشنل سائیکا لوجی کی انگلش کی کتاب (جسکو ڈاکٹر عبدالرؤف نے لکھا ہے جو کہ کافی ڈگریز ہولڈر ہیں) سے اسلامی حوالہ جات غائب ہیں۔۔۔ ایجوکیشن کی انگلش میں کورس بک کا سائز ہے تقریبا پانچ انچ بائے   تقریبا سات انچ اور کل صفحات کی تعداد ایک سو چونتیس۔۔۔ گو کہ اس میں امتحانات میں آنے والے عام سوالات کے جوابات  موجود ہیں اور طلبہ نے صرف رٹا لگانا ہے۔۔۔  لیکن طلبہ کے تعلیمی رجحان کے لحاظ سے تو یہ چھوٹی کمزور سی کتاب بھی بہت موٹی ہے۔۔۔

عربیوں نے اپنے مفکرین کے مجسمے بنا کر انکو خراج تحسین پیش کیااورہم ایک علامہ اقبال کی قدر نہ کر سکے۔۔۔  البتہ ہمارے سیاستدانوں نے افتتاحی تختیوں کی یا پھر چوک پر پتھر سے بنے آرٹ کی شکل میں اپنی نا اہلی کے ثبوت ضرور چھوڑے ہیں۔۔۔ کراچی میں جگہ جگہ نصب ملیں گی۔۔۔  میں اسے کہتی ہوں اپنی زندگی میں خود اپنے ہاتھوں سے اپنے کتبے لگانا۔۔۔ کیونکہ یہ تختیاں ہوتی ہیں جن پر انکے کل کارناموں کی تاریخ لکھی ہوتی ہےانھیں اپنی قوم سے تو توقع ہوتی نہیں کہ وہ انھیں اچھے لفظوں میں یاد کریں گے۔۔۔

ویسے ایک بات ہےاور سچی بات ہےکہ ۔۔۔ جس قسم کے نظام تعلیم کی پاکستان میں ضرورت ہے اس کے لئے ماں اور باپ تو اگلےسو سال تک راضی نہیں ہوں گے,  سرپرست ہاتھہ نہیں رکھنے دینگے, ڈونرز فنڈنگ نہیں کریں گے۔۔۔۔۔۔

پہلی چیز تو یہ پسند نہیں آئے گی کہ تعلیمی کورس سب کے لئےایک جیسا ہو, دوسرے یہ کہ لوکل سلیبس پر مشتمل ہو, تیسرے یہ کہ بچوں کو گدھا بنائے بغیر کچھہ سکھایا جائے, چوتھے یہ کہ مقابلہ بازی نہ ہو, پانچویں یہ کہ موجودہ طریقوں اور سوچ سے ہٹ کر ہو, چھٹے یہ کہ کم بجٹ کا ہو, ساتویں یہ کہ اس میں کسی کی شو شا نہ ہو۔۔۔۔۔۔

لہذا یہ تجربہ کیا جاسکتا ہے صرف یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچوں پر۔۔۔

شاید اسی لئے زیادہ تر رسولوں اور پیغمبروں کو والدین کے ہوتے ہوئے بھی ایک یا دونوں والدین سے دور رکھہ  کرپالا گیاہو۔۔۔

ان یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچوں کی اہمیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نیوٹرل ہوتے ہیں۔۔۔ اگرانھیں اچھائی کی طرف راغب نہ کیا جائے تو خودبخود برائی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔۔۔ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ معاشرے کے خلاف انتقامی جذبات و خیالات بھر کر ان کو اپنے برے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔۔۔اور معاشرے پر کس بری طرح اثرانداز ہوتے ہیں اسکی مثالوں سے صرف پاکستانی معاشرہ نہیں بلکہ ساری دنیا بھری پڑی ہے۔۔۔

نظام تعلیم میں سے ذرا دیر کو تربیت اورتنظیم والاحصہ نکال دیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ ہماری زندگیوں سے تو یہ عرصہ دراز سےغائب ہی ہے اور والدین سمیت کوئی اس میں ذاتی طور پر اورعملی طور حصہ لینے پرتیار نہیں۔۔۔ بلکہ شاید وزارت تعلیم سے بھی اسکا مطالبہ کرنے پر تیارنہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میرے حساب سے جو کچھہ وزارت تعلیم کی ذمہ داری بنتی ہے وہ ہے لکھنا اور پڑھنا سکھانا اور حساب کتاب کی سمجھہ بوجھہ پیدا کرنا۔۔۔

پھر وزارت تعلیم ملک کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے معاملات سے بیگانہ رہتی ہے جہاں امراء ور شرفاء کےبچے کچھہ سیکھنے سکھانے جاتے ہیں۔۔۔ اور باقی جوآبادی بچی اس کا شاید دس فیصد سرکاری اسکولوں کا رخ کرتا ہوگا۔۔۔ تو اتنی کم تعداد کے لئے صرف لکھنے پڑھنے اور تھوڑے بہت حساب کتاب سکھانے کا بندوبست کرنا موجودہ تعلیمی بجٹ میں کوئی مشکل کام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر ہے بھی تو تعلیمی بجٹ کو بلاوجہ کے اور فضول ترین بے نظیر انکم سپورٹ کے بجٹ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔۔۔

I don’t know why has Turkey agreed upon supporting the most useless Benazir Income Support Program in Pakistan?  Oh, I get it.  It could be the program to generate income for Benazir’s poor family.  Any country must visit Pakistan and take public opinion before responding to our official beggars.

اچھا اس بجٹ میں سے تعلیمی اداروں کی دیکھہ بھال بھی نکال دیں تو جو کام بچا وہ خیراتی اداروں میں اور یتیم خانوں میں ہو ہی رہا ہے۔۔۔ لہذا پاکستان میں کم از کم دس سال تک وزارت تعلیم کی ضرورت نہیں۔۔۔

اب جو کام بچا ہے تعلیم سے متعلق, یعنی لکھنا پڑھنا گننا, اسکے لئے پورا پورا سال ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچے تو زیادہ جلدی اور اچھا نتیجہ دے سکتے ہیں۔۔۔

اپنے ملک کا جو بیڑہ ہم سب نے مل کرغرق کیا ہے۔۔۔ اسکو دیکھتے ہوئے اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ بھلا اس سے کیا فائدہ ہوگا۔۔۔ ملازمتیں تو پہلے ہی کہیں نہیں ہیں۔۔۔

بہت آسانی سےسمجھہ میں آنے والی بات تو یہ ہے کہ۔۔۔ پرائیویٹ اسکولوں کالجوں والے یا تو ترقی یافتہ ملکوں کا رخ کر تے ہیں یا پھر پرائیویٹ اداروں کے درمیان گھومتے ہیں۔۔۔ سرکاری اسکولوں کالجوں میں جائیں بھی تو مقصد کچھہ دینا نہیں ہوتا بلکہ آسان ملازمت اور حکومتی مراعات کا حصول ہوتاہے, اسی لئے ان سے بہت امیدیں رکھنا فضول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرکاری اور خیراتی اسکولوں اور اداروں میں تھوڑ ے بہت ہی سہی پڑھے لکھے باشعور لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں یہ فٹ ہو سکتے ہیں۔۔۔

اس کے علاوہ بھی ذرا دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں تو بہت سے مسلمان ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک بھی پاکستان سےبد تر حالت میں ملیں گے۔۔۔ پڑھنے پڑھانے والوں کے لئے ہر ملک کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔

ہاں اسکی کچھہ شرائط ہیں۔۔۔ ایک صبر یعنی جلد بازی نہ کرنا۔۔۔ دوسرا قناعت یعنی بہت زیادہ کی توقع نہ رکھنا۔۔۔ تیسرا تسلسل کے لئے مستقل جگہ اور اسباب کا انتظام ہونا تاکہ غیر متوقع حالات کا اثرنہ پڑے ۔۔۔ چوتھے, کیونکہ مستقل مزاجی سے کسی مقصد کے لئے کام کرنے والوں کی کمی رہتی ہے, اس کے لئے متبادل انتظام رکھنا۔۔۔

افسوس کی بات ہے کہ دو ہزار گیارہ میں بھی کسی نے مونٹیسوری اورایلمینٹری کلاسز میں وڈیوز اور کمپیوٹرز کو مستقل ذریعہ تعلیم نہیں بنایا۔۔۔ جبکہ پرائیویٹ, سرکاری اور خیراتی۔۔۔ سارے تعلیمی ادارے اسے افورڈ کر سکتے ہیں۔۔۔ اور یہ اکثر انسانی ذرائع کا اچھا متبادل  بھی ثابت ہوتے ہیں۔۔۔

کسی نے بہت اچھی بات کی تھی کبھی۔۔۔ کہ ساری اردو الف سے ے, ساری انگلش اے سے زی/زیڈ اور سارا حساب ایک سے دس تک کے ہندسوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کم ازکم اتنی تعلیم تو کوئی بھی دے سکتا ہے اور کوئی بھی لے سکتا ہے۔۔۔ اور کتنے سال لگتے ہیں اتنی سی چیزیں سکھانے میں۔۔۔ کیا الف سے آم, ب سے بلی , آموں کی تعداد اور رنگ, بلیوں کی حرکات بتانے کے لئے کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔

سب سے پہلا کام تو یہ کرسکتےہیں کہ کچھہ عرصہ کے لئے تعلیمی عمل کو تین بنیادی حصوں/لیولز میں تقسیم کردیں۔۔۔  پہلے حصہ کا تعلق عمراورکسی مقررہ وقت سے نہ ہو بلکہ اسکا مقصد صرف اور صرف خود سے پڑھنے, لکھنے اور گننے کی صلاحیت پیدا کرنا ہو۔۔۔  ایک خاص بنیادی درجے تک  کا امتحان جو بھی جس عمر اورجس حال میں بھی پاس کرلے اسے ایک ڈگری دے دیں۔۔۔ ایسے امتحان ہر چھہ ماہ بعد لئے جا سکتے ہیں۔۔۔ معاشرہ انسانوں پرمحنت کرنے سے بنتا ہے, چیزوں پر نہیں۔۔۔ انسان صحیح ہوں تو چیزیں رفتہ رفتہ صحیح ہوجاتیں ہیں۔۔۔

اگر ایجوکیشن/ تعلیم کو نویں جماعت  سے شروع کردیں۔۔۔۔۔۔ ( جوکہ مشکل نہیں کیونکہ یہ تجربہ  بہت پہلے ہمارے اسکول میں نویں جماعت میں کیا جا چکا ہے اور وہ بھی سائنس کی کیٹیگوری میں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کالج کے مزید دوسال ملا کراسے چار سال کابنادیں۔۔۔ اگر اس چار سالہ کورس میں چھٹیوں کی تعداد کم کر کے وقت اور ایام کی مکمل منصوبہ بندی کے ساتھہ پڑھایاجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس سے بہت سے فائدے ہوسکتے ہیں۔۔۔

کیا مشکل ہے۔۔۔ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔

کیا کہا حکومت نہیں کرے گی, نہیں مانے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو حکومت کی بات کون کررہاہے۔۔۔ یہاں عوام اور حکومت ایک دوسرے کی سنتے ہی کب ہیں اورکب پرواہ کرتے ہیں۔۔۔ سرکاری اسکولوں میں تو آج تک بھی مونٹیسوری سسٹم نہیں ہے۔۔۔ پھر یہ ہمارے تعلیمی اور معاشرتی نظام کا حصہ کیسے بن گیا کہ اس کے  بغیر سانس نہیں لیا جاسکتا۔۔۔ سیدھی سی بات ہے۔۔۔ پرائیوٹ, یہ ملک سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر پرائیویٹلی ہی چل رہا ہے۔۔۔ آغا خان بورڈ, اسلامی فرقوں کے اسکول, حفظ کے مدرسے, او لیولز۔۔۔ کیا سرکار فنڈنگ کرتی ہے۔۔۔ تونویں جماعت یعنی چودہ سالہ بچوں کے لئے چار سال کا تعلیم کا کورس, بیس سال کی عمر میں ایک نوجوان یا  نو جوانی علم دینے کے لئے تیار۔۔۔  حکومت یہ تبدیلی لے آئے تو کیا ہی بات ہے۔۔

ویسے جہاں اتنے تجربات ہور رہے ہیں وہاں ایک اور سہی۔۔۔ مطلب یہ کہ نظام واقعی بدل دیں۔۔۔ نہیں, نہیں, بھئی کتابیں نہ بدلیں, سلیبس تبدیل کرلیں۔۔۔ نویں جماعت سے جو مضامین کا مرکب یا کامبینیشن دیا جاتا ہے سائنس, آرٹس, ہوم اکنامکس اور کامرس کا۔۔۔ وہ آج کی دنیا میں فضول ہے۔۔۔ اسکے بدلے تمام طلبہ کے لئے نویں دسویں میں تمام مضامین کا آسان تعارف یا بنیادیات لازمی کردیں۔۔۔ کالج لیول سے مین کیٹیگوریز میڈیسن/طب, انجینئرنگ, تعلیم, زراعت, ماحولیات, اور قانون کردیں۔۔۔

جو مضامین بلا وجہ آرٹس گروپ میں تھے یعنی سائیکالوجی/نفسیات, سوشیالوجی/عمرانیات, پولیٹیکل سائنس/سیاسیات, انٹرنیشنل ریلیشنز/بین الاقوامی تعلقات, اکانومی/معاشیات, لائبریری سائنس, جغرافیہ, تاریخ پاکستان, تاریخ اسلام, سوشل ورک, عربی, فارسی وغیرہ کو دو یا تین اختیاری مضامین کی حیثیت سے مین کیٹیگوریز میں شامل  کردیں۔۔۔ بلکہ کمپیوٹر سائنس, بزنس/ کاروبار, فلسفہ کو بھی ان میں شامل کردیں۔۔۔ کیونکہ یہ وہ مضامین ہیں جن کاتعلق اوپر والی تمام مین کیٹیگوریز سے ہے۔۔۔

اس طرح دوسالوں میں اگر مین کیٹیگوریز کے چھہ پیپرز ہوں تو اردو لازمی, انگلش لازمی اور چار اختیاری مضامین ملاکر کل بارہ پیپرز بنیں گے۔۔۔ یعنی ایک سال میں چھہ پیپرز۔۔۔

اگلے دوسالوں یعنی بیچلرز ک لئےاسی کا ایڈوانس لیول ہوگا۔۔۔

اس طرح پہلی سے آٹھویں جماعت, نویں دسویں اور انٹرمیڈیٹ۔۔۔ تین بنیادی درجہ یا لیولز بن گئے۔۔۔ ان بارہ سالوں کے بعد تقریبا اٹھارہ سال کی عمر ایک لڑکا یا لڑکی معاشرے میں اپنا کوئی  رول ادا کرنے کے قابل ہونگے۔۔۔

ہوم اکنامکس ننانوے فیصد لڑکیوں کے لئے ہے اور اسکے لئے میمن فاؤنڈیشن اور دوسرے پرائیویٹ ادارے موجود ہیں اور بہت اچھا کام کررہے ہیں۔۔۔ اسی طرح فائن آرٹس کے اپنے کالجزاورسینٹرز ہیں۔۔۔

حکومت کی آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے ہیں اس لئے انھیں ہوم اکنامکس اور فائن آرٹس پر ضائع نہیں ہونا چاہیے۔۔۔

اس طرح سرکاری کالجز میں مزیدطالبعلموں کے لئے جگہ بن جائے گی۔۔۔


 

 

 

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.