نیکی کے کام اور کراچی

نیکی کے کام اپنی مرضی یا مقابلے اور حسد کے بجاۓ معاشرے کی ضرورت کے مطابق کیے جائیں تو بہتری آتی ہے ورنہ سارے وسائل اور محنت ضائع ہوجاتے ہیں اور وہ ادارے بوجھ بن جاتے ہیں…. 
عمرشریف نے فرمایا کہ وہ ایک ہسپتال بنا رہے ہیں کراچی میں… اور چھپا چھپا طنز انہوں نے کیا عمران خان پر وصی شاہ کے پروگرام میں … کہ عمر شریف صاحب کے ہسپتال کا نام ماں ہے اور ہے سب کے لئے ہے اور عمران خان نے ہسپتال کے نام اپنی ماں کے نام پر رکھ کر شاید خود غرضی کا ثبوت دیا ہے اور عمر شریف صاحب تو ٹھہرے مخلص اور انسانیت سے بھر پور انسان…
چلو کچھ بھی ہے، عمران خان اور انکی والدہ ہیں تو پاکستانی… عمر شریف صاحب افضا الطاف فلائی اوور کے بارے میں کیا کہیں گے جسکا نام ایک برطانوی شہری کی برطانوی بیٹی کے نام پر رکھ دیا… اب اس فلائی اوور پر کتنا کمایا جاۓ گا پارٹی چلانے کے لئے یہ اور بات ہے… ظاہر ہے مڈل کلاس ہیں اور کہاں سے پیسہ آۓ گا… ان سب کو سب کچھ معلوم ہوتا ہے لیکن ایسے انجان بن جاتے ہیں جیسے کل پیدا ہوۓ ہیں… 
پتہ نہیں اردو بولنے والوں کے دلوں سے حسد کا مادّہ کب ختم ہوگا… 
اگر عمر شریف صاحب کے پاس پیسہ آ ہی گیا ہے تو کراچی میں بہت اور چیزیں کرنی پڑی ہیں… اور وہ شاید نیا ہسپتال بنانے سے زیادہ اہم اور فائدہ مند ہوں… مثلا شہزاد راۓ نے اسکول کو بدل ڈالا… عمر شریف صاحب کسی پہلے سے قائم شدہ ہسپتال کی قسمت کو بدل ڈالیں… یا پھر اسی پیسے کوعلاقوں کی صفائی کے لئے خرچ کردیں، گلی گلی جا کر مہم چلیں صفائی کی… آخر بے تاج بادشاہ ہیں طنز و مزاح کے… لوگ محبت کرتے ہیں ان سے… کیا انکے چاہنے والے انکی اتنی سی بات نہیں مانیں گے اور صفائی کے معاملے میں انکا ساتھ نہیں دیں گے… کیونکہ گندگی کم ہوگی اور درخت لگیں گے تو خود بخود آدھی سے زیادہ بیماریاں ختم ہو جائیں گی… یا ایدھی صاحب کی اتنی ساری سروسز ہیں ان میں سے کسی کا چارج سنبھال لیں… انکی میڈیکل سروسز کو سپانسر کردیں دوسرے علاقوں میں… اپنا  ڈیڑھ انچ کا ہسپتال کب تک فنڈنگ کریں گے اور کہاں سے اسٹاف لیں گے اور کہاں سے تنخواہیں دیں گے اور کب تک… یا کے کے ایف اور لندن سیکر یٹریٹ کی طرح چلائیں گے… کیونکہ مڈل کلاس تو چندہ بھی اتنا نہیں دے سکتی اور کہیں ابھی تک کوئی قابل قدر فنڈ ریزنگ بھی نہیں دیکھی…
ویسے سب سے بڑا احسان عمر شریف صاحب کا کراچی والوں پر یہ ہوگا کہ کراچی سے الطاف یزید کی تصویریں ہٹا کر وال چاکنگ مٹوا دیں… اب شاید وہ کہیں کہ یہ تو حکومت کا کام ہے … تو بھئی کس کی حکومت ہے کراچی کے ٨٠ فیصد پر اور الطاف کی تصویریں کیا ظاہر کرتی ہیں اور کتنے اداکار اور گلوکار اسکے قدموں میں بیٹھتے ہیں… کیا وہ اس مڈل کلاس غریب لندن نژاد پارٹی کو اس بات کا احساس نہیں دلا سکتے… 
اور دوسری بات کہ کراچی کے ٨٠ فیصد حصّے پر قابض پارٹی کا ایک لفظ منہ سے نہیں نکل رہا مہاجر صوبے کے معاملے میں… مصطفی کمال، فاروق ستار، خوشبخت شجاعت، نسرین جلیل. ہارون رضا، فیصل سبزواری، حیدر عبّاس رضوی…  سب شیطانی مسکراہٹ لئے خاموش بیٹھے ہیں… کوئی ایم کیو ایم کے حامی اداکار گلوکار مذاق کار… سب خاموش؟
اور مہاجر صوبہ کس قسم کا نام ہے… مہاجر کس قوم کا نام ہے؟ عمر شریف تو سمجھدار شخص ہیں پڑھے لکھے… اپنے ابن یزید قائد کو نہیں سمجھا سکتے؟
یا الله! انکی یہ خاموشی اگر پاکستان کے خلاف ہے تو ان سب کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردیں… آمین 
.
.

Sincerity is a Must

Abû Ruqayyah Tamîm b. `Aws al-Dârî relates that the Prophet (peace be upon him) said: “Religion is Sincerity.”
We asked: “To whom, O Messenger of Allah?”
He said: “To Allah, His Book, His Messenger, and the leaders of the Muslims and to the common Muslim.” [Sahîh Muslim]

.

نہایت غصّہ آ رہا ہے جیو پر… تین گھنٹے “اک نظر میری طرف” دکھایا اور ڈرامہ ابھی بھی باقی ہے… حالانکہ پورے سیریل میں جو کام کے جملے ہیں وہ یا تو نعمان اعجازکی والدہ کا کردار ادا کرنے والی خاتون نے بولے ہیں یا پھر رضا نامی کردار نے جو کہ دو تین جگہ کہانی کا رخ موڑنے کا سبب بنے… خاص طور پر اپنے بڑے بھائی فارس سے یہ کہنا کہ “کیا مرد کی طرف  سے کسی عورت کو تحفظ دینے کے لئے نکاح کا پیغام دینا کیا اس عورت کی بدکرداری ظاہر کرتا ہے… اگرآپ منصف تھے تو صرف صفت کو گھر سے کیوں نکالا، مجھے بھی نکالتے، آپ اندر سے ہندو ہیں، آپ لوگوں نے صفت کو ستی کرنے کی کوشش کی، جب اس نے آواز اٹھائی تو آپ نے اس کے کردار پر الزامات لگا کر گھر سے نکال دیا، کاش آپ مسلمان ہوتے”… سچی پوچھیں تو اس لحاظ سے کم از کم کراچی کے مردوں میں تو کوئی بھی مسلمان نہیں لگتا… باقی قوموں کو کچھ کہتے ڈر لگتا ہے… ابھی حامد میر پر کیس بن چکا ہے… 
میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ اس ملک کو سب سے زیادہ ضرورت ہے اس مسکنیت سے نجات دلانے کی جس کو سیاستدانوں اور مولویوں نے ہماری شخصیت کا حصّہ بنا دیا ہے… مانگنا، ہاتھ پھیلانا… دوسری قوموں کے آگے گر جانے کی حد تک محبت جتانا… بغیرحالات کا جائزہ لئے خواہ مخواہ دنیا کو گا کے بتانا کہ “یہ ہم نہیں”… اور دنیا کونسی ہمارے اداکاروں، گلوکاروں کو اتنی اہمیت دیتی ہے کہ انکے گاۓ ہوۓ گانوں اور کہے ہوۓ دفاعی کلمات پراعتبار کرے… کیا کیا ہے انہوں نے… انٹرنیشنل آڈینس حاصل کرنا تو دور کی بات، اپنے ہی لوکل ویورز کھودۓ… 
قسم سے میں نے آج تک باہر ملکوں کے شوبزکے لوگوں کو اتنا ہاۓ ہوئی اورواویلا مچاتے نہیں دیکھا… مجھے تو یہ نہیں سمجھ آتا کہ ان میں خاص بات کیا ہے… کیا بہت زبانیں سیکھ کر دکھادیں، یا مفت میں ملک و قوم کے لئے کام کیا ایدھی کی طرح، یا پاکستان میں کوئی مثبت سماجی، روحانی، معاشی تبدیلی لا دی، یا فوجیوں کی طرح اپنی جانیں قربان کردیں…. پوری زندگی پتہ نہیں شراب اور کس کس حال میں رہتے ہیں… جب بیماریاں لگ جاتی ہیں تو اپیلیں لے کرآ جاتے ہیں…. جس طرح یہ محنت کرتے ہیں اسی طرح تمام لوگ اپنے اپنے شعبوں میں محنت کرتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں… ذرا باتیں تو سنیں چکنی چپڑی، ہنسی آتی ہے… گاڑی نہیں تھی تو اتنی مشکل سے لیکن سٹوڈیو وقت پر پنہچتے تھے… اور سخت سردی میں یہ سین فلمایا… سین کرواتے ہوۓ گر کر زخمی بھی ہوۓ پھر بھی نہیں گھبراۓ… اف، دن رات صبح شام، گھنٹوں شوٹنگ پر ہوتے ہیں، اتنی محنت کرنی پڑتی ہے… بیماربھی ہوں توجانا پڑتا ہے… ماں باپ راضی نہیں تھے، خاندان نے برامنایا پھر بھی ہمت نہیں ہاری… تعلیم بھی حاصل کی اور اداکاری یا گلوکاری بھی کی، بچوں کو بھی پالا… اپنے ملک کے لوگوں کی محبت میں اتنی محنت کی… میرے چاہنے والے کہتے ہیں کہ آپ ٹی وی پر نظر کیوں نہیں آتے… 
مجھ سمیت کون ہے جس نے اپنی زندگی میں اتنی محنت نہ کی ہوگی… سبھی کے ساتھ مشکلات آتی ہیں، گھر والے یا رشتہ دار مخالفت کرتے ہیں، سردی گرمی برسات کی پرواہ کیے بغیر محنت کرتے ہیں، ہمت نہیں ہارتے، اپنے آس پاس کے لوگوں کو ہنساتے ہیں، لوریاں اور گانے سناتے ہیں، دلاسہ دیتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، زخمی ہوتے ہیں، بیماری میں بھی گھر کی فکر کرتے ہیں…. اورکسی کے باپ پر احسان تو نہیں کرتے کہ بس اب ہر چینل پر بیٹھے اپنی تعریفیں ہی گنواۓ چلے جارہے ہیں… اور دل اتنے چھوٹے کہ خود کہتے ہیں کہ “ہم تو بس عوام کی پذیرائی سے حوصلہ پاتے ہیں… عوام دیکھتی ہے تو ہم زندہ ہیں” یا رونے لگتے ہیں کہ ہاۓ عوام بھول گئی، ہاۓ ہمیں کوئی دیکھتا سنتا نہیں… اچھا اپنی کمائی تو ساری اڑا دیتے ہیں، دوسرے ملکوں جا کر بیٹھ گئے، سب عیش کر لئے… ہاں آخرعمرمیں روتے ہوۓ لوگوں کے سامنے آ جاتے ہیں ہاتھ پھیلاۓ… “الله کے نام پہ تعریف کردو، ہمارے پھٹے پرانے کارناموں کو یاد کرو، ہم بیمار ہیں، پیسے اڑا چکے ہیں، منصوبہ بندی کی نہیں تھی اس لئے علاج کرادو”… روتے رہیں گے کہ حکومت کچھ نہیں کرتی… الله نہ کرے حکومت کچھ کرے انکے لئے… اور یہ حکومت میں آ گۓ توجو بجٹ کا چورا بچتا ہے حکومتی اور سیاسی ڈاکوں کے بعد، وہ یہ لے جائیں گے، لوٹ کا مال ہے بھئی، جس کے ہاتھ لگے، جس کا زور چل جاۓ … اور مزید عیا شیاں کریں گے… ملک پھر بھی نہیں سدھرے گا کیونکہ عوام کو گانے بجانے میں لگا دیں گے اور فوج بے چاری اکیلی نمٹے گی دشمنوں سے… 
ویسے صحیح بات ہے نا… کوئی کتنا کما لے لیکن کرپشن سے زیادہ بد نیتی ہے کہ حکومت کے خزانے پر نظر رکھتے ہیں… یہ سوچتے ہی نہیں کہ بیت المال غریبوں اور ضرورت مندوں کا حق ہے… بس ہمیں مل جاۓ … اپناعیا شیوں میں اڑا دو، حکومت پر زور ڈال کردوسروں کا ہتھیا لو… 
بابا ہمیشہ کہتے ہیں… نیت ثابت، منزل آسان… اگر پاکستانی اپنی نیتیں بھی ٹھیک کر لیں تو اور بد نیتی سے بازرہیں تو بہت کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے… 
.

 

Cute Tamanna Begum

Dunya main itna kuch dekhnay baad koi tamanna nahi reh jati.  So Tamanna nahi raheen.

Tamanna Begum passed away today and even buried before the news of her death would spread.  A legendary actress who had 50 years of experience in film, radio, tv and stage.  She worked with almost all celebrities of Pakistan including Muhammad Ali, Zeba, Rani, Nadeem, Waheed Murad, Shahid, Deeba, Shubnum, Shamim Ara, Qawi Khan, Babra Sharif, Sangeeta, Abid Ali, Lehri, Rangeela, Munawwar Zarif, Munawwar Saeed, Nisho, Umar Sharif, Moin Akhtar and almost everyone in that field.  She was the best pair with Nanna (Rafi Khawar).  She usually played loud and evil but was a sweet person in real, a true pure and simple lady.

She was cute, chubby and very confident.   In my childhood, I used to get angry on her that why is she so evil and doesn’t let people live happily in movies.  But later I started enjoying her characters.  Her exaggerated expressions were just like fairy tale characters.  I really loved her commanding style.

This is my favourite song and one of the reasons I like it, is Tamanna Begum.

http://www.youtube.com/watch?v=6tlI_hUdZik

The King of Ghazal

The shining star of Pakistan, the bearer of soft and soothing voice, widely known as “The King of Ghazal”, Ustad Mehdi Hasan Khan Sahib is a valuable asset of Pakistani music.  The singer and composer of numerous musical masterpieces has proved himself to be the best vocalist in South Asian region.  Being honest to his profession, this legend has produced thousands of enchanting songs and ghazals that will be remembered for centuries.

Born in 1927 in Rajhistan (Indo-Pak Subcontinent), he inherited the talent from his forefathers and was groomed by his father Ustad Azeem Khan and other family members.  He sang for radio and in films as a playback singer and ruled the two medias for years.  His national songs are a precious possession of this country.  He has entertained his listeners for more than four decades with his soothing, melodious voice.  It is a very difficult task to sort out the best audios out of his entire presentations.

His work had been highly appreciated by the presidents of Pakistan  which happened to be Army dictators.  He was awarded “Tamgha-e-Imtiaz” by Gen. Ayub Khan, the “Pride of Performance” by Gen. Zia-ul-Haq and “Hilal-e-Imtiaz” by Gen. Pervez Musharraf.  He also achieved the “Saigal Award” in Jalandhar, India and the “Gorkha Dakshina” award in Nepal in recognition of his matchless performance in traditional music.  This is very strange and a sad reality that his passion was never recognized by any civilian government of Pakistan.

Whatever the awards he has been granted, but the fact is that the real pleasure touches an artist’s mind and soul when he/she is being applauded by the audience, the common people.

Death is the ultimate reality of this life.  Mehdi Hasan Khan Sahib, no doubt a grand name and one of symbols of Pakistan, at the age of almost 85 is living his last moments.  A bouquet, a Get-Well-Soon card, a note of thank to admire his dedication, few gentle words and a face-to-face smile can make this end “pleasing” instead of “suffering”.

He lived an honorable life and his farewell should be remarkable as well, I wish!

May Allah (SWT) make his last moments and his return easy and peaceful for him.  May he be blessed with peace and mercy in both worlds.  Ameen!

I am always lost when try to find the best piece out of his collection.  Following are the few of the best of his performances.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.