Children بچے

Once there was a town, where lived many families with their children.  The parents were worried about their children’s behaviour.  They complained to each other that their children are irresponsible, abusive, undisciplined, non-serious about their education.  An old scientist also lived there.  He wanted to help the parents so he prepares a magical formula called “parentade” to improve children’s behaviour.  Parents were excited.  The formula worked.  Children started doing things on time, by themselves.  No more mess on dinning tables, no more shouting and running around, no more fighting.  Genius talks, mind blowing ideas, they all got A+ in their exams.  That was it.  Parents were sick and tired.  They were sick and tired of coping with their children’s extraordinary discipline and responsible behaviour.  Their children refused to accept the fun ideas their parents had for them, instead they started guiding their parents to make their life useful.  Finally, all parents arranged a meeting and invited the scientist.  They wanted him to prepare the antidote to that formula.  They wanted their children back to normal as they were before.

Above is the summary of an English poem “Parentade”, a very interesting idea for parents and to learn their lesson.

.

کب کب ایسا نہیں ہوتا کہ جب جب کمپیوٹر پر کچھ لکھنے بیٹھتی  ہوں تب تب کمپیوٹر کے سب سب بانیوں کوسلام کرنے کو لب مل مل جاتے ہیں، دل کھل کھل جاتا ہے، ذہن دھل دھل جاتا ہے… گو کہ گفتگو میں تکرار ایک عیب سمجھا جاتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں… انگریزی میں یہ بھی زبان خوبی کہلاتی ہے…

May God guide my parents, ameen!

.
اگر کمپیوٹر شیطانی ایجاد ہے بھی تو فی الحال تو آدھے سے زیادہ اسلام کو پھیلانے اور اسلامی مظاہروں کا کم اسی پر ہو رہا ہے… اردو بھی شاید اب کمپیوٹر پر ہی لکھی پڑھی جا رہی ہے… میں نےتو کچھ بچوں کو کہا بھی کہ بھی انٹرنیٹ پر جواردوٹا ئیپنگ کی سا ئیٹس ہیں ان پر اردو ٹائپ کیا کرو تو اردو کی ہجے ٹھیک ہو جا ے گی… شعروشاعری بھی ہے، کہانیاں بھی، محاورے بھی… طالبعلموں کے لئے تو بہت فاعدہ مند ہے… 
.
پرسوں ڈاکٹرعلی رضا نقوی کی خبر سنی تو دل باغ باغ ہو گیا… ایران کی حکومت نے انہیں کافی ایوارڈز دیے ہیں اوراب ایران کی حکومت نے انھیں اپنے ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ سے نوازا ہے… ڈاکٹرعلی رضا نقوی ایک پاکستانی ہیں… انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام، دونوں کو علم سے کوئی دلچسپی نہیں… بالکل  ٹھیک کہا…با لکل صحیح اگر اس ملک میں علم کی اہمیت ہوتی تو علم کے  ساتھ گورنر عشرت العباد اتنا بڑا اور برا مذاق نہ کرتے کہ رحمن ملک کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیتے… کھلا جرم ہے یہ… لیکن یہ دلچسپی جب پیدا ہوتی ہے جب اہل زبان اپنی زبان میں نئے خیالات کا تعارف کرتے ہیں اور وہ بھی اپنی قوم کے مزاج، ذہنی سطح اور مختلف عمروں کا خیال رکھتے ہوۓ… خیر یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اردو میں کچھہ لکھا ہی نہیں جا رہا… حقیقت یہ ہے جو ڈاکٹرعلی رضا نقوی نے بیان کی کہ عوام کو دلچسپی نہیں…
.
تو ایک کام یہ بھی ہے کہ عوام کو بد تمیزی اور جہالت سے نکال کر شائستگی اور اردو کی طرف کیسے لایا جاۓ… اکثر لوگ شائستگی کا مطلب لیتے ہیں چکنی چپڑی باتیں مسکراتے ہو ۓ کرنا، بلاوجہ لوگوں کی تعریف کرنا، جیسے کہ صبح کے شوز میں ہوتی رہتی ہیں… شائستہ نام رکھنے سے، ہندی تلفظ میں بات کرنے سے، بھارتی اداکاروں کے قدموں پر گر پڑنے سے، انکو خدا بنا کر پیش کرنے سے کوئی شائستہ نہیں ہوجاتا… بلکہ یہ امن، دوستی اور انسانیت کا نہایت گھٹیا تصور ہے… لیکن کیا کریں، جب کوئی اپنی ذاتی ترقی اور پیسے کے پیچھے پاگل ہوجاۓ تو اس سے کچھ بھی توقع رکھی جا سکتی ہے… 
.
ویسے لوگوں کو میری باتیں پسند نہیں آتیں، کہتے ہیں اس طرح کہنے سےلوگوں کے دل ٹوٹ جاتے ہیں… ارے بھئی، لوگ پاکستان کی قدریں برباد کریں، ملک توڑیں، پاکستانیوں کو غلط سوچ دیں، اردو زبان کے ساتھ مذاق کریں، عورت کی عزت کو ناچنے گانے جلوے دکھانے کے لئے مخصوص کر دیں، معصوم بچوں کے ذہنوں کو منی اور شیلا کی جوانیوں کے تصور سے آلودہ کریں اور میں شائستگی دکھاؤں انکو… انکے دل ٹوٹنے کا خیال کروں، ارے ان کمبختوں کا تو سر توڑ دینا چاہیے… اور اس کالے  بھوتوں کے بادشاہ کا جو لندن میں بیٹھا ہے قیمہ کر دینا چاہیے…
.
خیر… شائستگی کا مطلب ہے ڈھنگ کی باتیں، جس میں ملک و قوم کی عزت اور غیرت کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کی ذہنی تعمیر کا بھی خیال رکھا جاۓ… 
.
اس سلسلے میں کچھہ ٹی وی ڈراموں نے اچھی کوشش کی… جیسے کہ “ہمسفر” میں احمد فراز کی غزل… سب کو یاد ہو گئی… ڈراموں کے نام فیض احمد فیض اور دوسرے شاعروں کے مصروں پر بھی اچھی بات ہے… کاش مزاحیہ ڈراموں کے نام محاوروں پر ہوتے… بلکہ پاکستان کی ساٹھہ فیصد آبادی یعنی بچوں کے لئے, جو کہ اکثریت ہونے کے باعث اپنا جمہوری حق رکھتے ہیں, چھوٹی چھوٹی کہانیاں تو بنائی ہی جا سکتی ہیں… دس ہزار قسم کے علمی مقابلوں کا انتظام کیا جا سکتا ہے… بچے ویسے ہی مقابلوں سے بڑے خوش ہوتے ہیں… اتنے چینلز ہیں لیکن بچوں کے لئے ایک بھی نہیں… دو چار پروگرامز ہوتے ہیں وہ بھی شاید ہی کوئی بچہ دیکھتا ہو… سب ہندی ڈبنگ کیے ہو ۓ انگلش چینلز دیکھتے ہیں…  دنیا کے بچے جب بڑے ہوۓ تو انہوں نے اپنے بچوں کو کھیلوں کے نئے سٹائلزدیے… پتنگوں، غبّاروں، پتلیوں کے تماشوں، سٹریٹ گمیز، کو نئی شکل، نئے رنگ دیے… امریکا اور دوسرے ممالک میں بڑے بڑے اداکار بچوں کی فلموں میں کام کرتے ہیں، مشہور گلوکار گانے گاتے ہیں، بڑے بڑے با صلاحیت ہدایتکار اور مصنف اس میں دلچسپی لیتے ہیں…
.
پاکستان کی فلمی تاریخ میں “بیداری” واحد فلم ہے جس میں سنتوش کمار صاحب نے کام کیا، کوئی ہیروئن نہیں تھی، صرف بچے اور انکا استاد جو انھیں پاکستان سے محبت کا درس دیتا رہتا ہے… “آؤ بچوں سیرکرائیں تم کو پاکستان کی”، “یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران”، “ہم لاۓ ہیں طوفان سے کشتی نکل کے”… اسی فلم کے گانے تھے جو آج تک گاۓ جا رہے ہیں… ٹی وی پر “عینک والا جن”، سہیل رعنا کے موسیقی کے پروگرامز کے علاوہ کوئی بچوں کی چیز نہیں جو بچوں نے دیکھی ہو شوق سے… اور تو اور چودہ اگست پر یوم آزادی کے پروگرامز میں بھی وہی گھسے پٹے اداکار گلوکار آ جاتے ہیں پرفارمنس کے لئے اور بڑے بوڑھے وزراء اور پرانے اداکار گلوکار خوش ہو کر تالیاں بجا رہے ہوتے ہیں… ارے ایک ایک منٹ کا سکرپٹ لکھ کر نہیں دیا جا سکتا بچوں کو کہ صدر، وزیراعظم کے سامنے پرفارم کر سکیں…  
.
بچے بچوں سے سیکھتے ہیں اور شوق سے سیکھتے ہیں… پاکستان کے بچوں کا تو جواب نہیں… پہاڑوں جیسی ہمّت ہے انکی… اور دریاؤں اور سمندروں جتنا خون جگر، جو ساری زندگی رستا رہتا ہے اور ختم نہیں ہوتا… کیسے کیسے حالات سے گذرتے ہیں، عجیب بے ہنگم ماں باپ کو برداشت کرتے ہیں… بدتمیز، جاہل، گا لیاں دینے والے اور مجرم سیاست دانوں اور حکمرانوں کی دہشت سہتے ہیں… اور ان سے توقع رکھی جاتی ہے کہ تہذیب یافتہ، تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ بڑے ہوں… کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ بچوں کا دل چاہتا ہوگا کہ کاش ہمارے ماں باپ ہمارے ہاں پیدا ہو ۓ ہوتے تومزہ چکھا دیتے والدینیت کا…
.
انکی پیدائش کے وقت سے جو ڈرامہ شروع ہوتا ہے تو وہ وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وہ اذیت سے چیخ نہ اٹھیں… اور اس وقت مولوی حضرات سامنے آ جاتے ہیں اپنے جنّت اور جہنّم کے فتوے لے کر… حمایت علی شاعر کے الفاظ کو تھوڑا سے تبدیل کردیں تو ماں باپ سے کہا جا سکتا ہے… تخلیق کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جان کا زیاں، اولاد کو اولاد سمجھ مشغلہ دل نہ بنا… بھوک، پیاس، گندگی، خوف، بیماریاں، زبان اور قومیت کے بارے میں احساس کمتری، چالیس چالیس پچاس پچاس سالوں کی عمروں والے زندہ کارٹون…. کوئی اچھا نظارہ نہیں پاکستان اور خاص کر کراچی کے بچوں کے پاس، جگہ جگہ تو الطاف حسین کی بد صورت تصویروں کی صورت میں اذیت کے سامان موجود ہیں… اچھی سوچ آۓ کہاں سے…

Learning Chinese in Pakistan

So this is the list of my top posts out of more than 300 writings from Sept 10, 2010 – Sept 10, 2011 beside homepage clicks;

1) Elderly people of Pakistan 215                    2) Theory of Islamic State 153

3) Famous Theories of Islamic State 141     4) Eighteen Weeks 121

5) Veena and Mufti 118                                        6) Urdu 116

7) Hazrat Hussain ibn Ali 107                         8 ) Mother Language Day  105

Not bad! Right?

The rest had less than 100 clicks.  The descriptions from search engines that worries me the most are the ones probably typed by our desperate students.  For example, ‘B.A Nafsiyaat (Psychology) notes in Urdu”, ‘B.A Siyaasiyaat (Political Science) notes in Urdu’, ‘Urdu notes B.A.’………….

Somebody should seriously start an Urdu blog for students of Bachelors.  Coaching centers don’t arrange classes for them except for English.  Private tutors charge Rs. 4000 to Rs. 6000 per subject which most of the students cannot afford.  Arts is mainly considered the subject of private students who mostly belong to lower-middle class or middle class.

The standard of our education in public or private schools is almost same.  The only difference is that private schools charge high fees for preparing difficult syllabus to teach at home, most probably by tutors.

We have made ourselves totally dependent upon schooling.  If there are no schools, children can’t learn anything and they do whatever they want to.  This thinking has created an environment of hopelessness and disappointment.

I wonder why everybody talks about changing educational system but nobody takes interest in how, nobody shares their opinion or give suggestions.  We have not introduced Sal Khan’s videos in schools and educational institutions.  All it takes a television/monitor and a video/CD and a little introduction and explanation.  We don’t show Harun Yahya’s scientific work in classes.  For years we have been arguing either Dr. Abdus-Salam’s profile should be the part of science book or not as he was Qadyani.  While at the same time we have no objection on including other non-Muslim scientists and inventors from different parts of the world.

We want our children to learn English and still be a good Muslim but we don’t show our children the Islamic presentations of ICNA and Astrolab.  We don’t encourage them listen to children’s songs in Arabic.

Our children make faces while learning Urdu, Islamiyat, English, Math, S.Studies, Pakistan Studies, Geography, Science.  In this non-learning environment of Pakistan, government has imposed another language to learn as a subject.  Who is going to make the syllabus for Chinese?  Who will teach it?

Wouldn’t it be a good idea to first unified the whole educational system before introducing any foreign languages in schools.  We need to get rid of subject wise categories till matriculation.

Foreign languages can be taught on national tv channel like we used to learn Arabic on PTV long time ago.  Why bothering the already collapsed educational system?

 

 

 

 

Kaffarah

لوگ کہتے ہیں کہ کاروبار دو طریقوں سے ہوتا ہے۔۔۔ ایک تو یہ کہ جس چیز کی طلب زیادہ ہے وہ بیچ کر دولت کمائیں۔۔۔ دوسرے کہ جو چیز آپ بیچنا چاہ رہے ہیں لوگوں کو اسکی اہمیت کا احساس دلائیں کہ وہ کتنی فائدہ مند ہے۔۔۔ کیونکہ لوگ صرف فائدہ کی بات سمجھتے ہیں۔۔۔ کسی کام کے کرنے میں کیا فائدہ ہے۔۔۔ کسی سے ملنے میں کیا فائدہ ہے۔۔۔ تعلیم کا کچھہ فائدہ ہے کہ نہیں۔۔۔ نماز, روزہ, قرآن کا کچھہ فائدہ ہے کہ نہیں۔۔۔

بقول میری کزن کے۔۔۔ لوگوں کو سب سے زیادہ اعتراض اس بات پر ہوتا ہے کہ بلی پالنے کا کیا فائدہ ہے۔۔۔ بکری گائے دودھ دیتی ہیں۔۔۔ مرغیاں انڈے دیتی ہیں۔۔۔ ان سب کا گو شت بھی ہم کھاتے ہیں۔۔۔ باقی جانور بھی ہمارے کچھہ نہ کچھہ کام آتے ہیں۔۔۔ بلی تو صرف کھاتی ہےیا بچے دیتی ہے۔۔۔  بھئی کبھی بلی کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں کتنی معصوم ہوتی ہے۔۔۔ توپاکستانی بھی یہی کرتے ہیں۔۔۔  امریکہ ان کو بھی تو پال رہا ہے۔۔۔

آج صبح بازار گئی تو دکان پر میاں بیوی اپنے پانچ چھہ سالہ بچے کے ساتھہ کھڑے تھے۔۔۔  بیوی سر سے پاؤں تک ڈھکی ہوئی لیسز دیکھنے میں مشغول تھیں۔۔۔ بچہ اسکول کی یونیفارم پہنے دکان کی چیزیں بے جگہ کرنے میںمصروف تھا۔۔۔ اوروالد محترم جو کہ پینتیس سال کے تو ہونگے بہت خوش اخلاق ہونے کی کوشش کررہے تھے۔۔۔ بچے سے کہنے لگے ارے بھئی سلمان خان کیا کررہےہو یہ تودبنگ ہے۔۔۔

میں نے ان سے کہا کہ اتنے چھوٹے بچے کو انڈین اداکاروں اور فلموں کے نام سے پکارتے ہیں اورتوقع کرتے ہیں کہ بچے بڑے ہوکر قائداعظم کی طرح بااصول بنیں گےسارابڑوں کاقصور ہے۔۔۔ تو کہنے لگےارے ےےے اسے تو ساری فلمیں یاد ہیں ٹی وی نے اس کا دماغ خراب کردیا ہے۔۔۔ میں نے جواب دیا کہ ٹی وی بھی بڑے ہی لاکردیتے ہیں بچہ خود تو نہیں خریدتا۔۔۔ اس پر زور سے ہنسے۔۔۔ بیوی خاموش اپنی چیزیں دیکھتی رہیں۔۔۔ اتنے میں پیچھے والے دکاندار نے تیسرے سے زور سے کہا۔۔۔ کہاں ہو بھئی قائداعظم۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا کہ بچوں کو فخر کروانے کے لئے انڈین اداکاروں کے نام اور کسی کا مذاق اڑانے کے لئے قائد اعظم کے نام کا استعمال۔۔۔

وہ صاحب شیعہ تھےاور اس گلی کے دکاندار سنی ہیں۔۔۔ لیکن اس معاملے میں انکی ذہنی ہم آہنگی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔۔۔ دل چاہا محرم سے پہلے ہی ان کی عقلوں پرماتم کرلوں۔۔۔

مجھہ جیسے مسلمانوں کے خلاف انکا ایکا مثال بن جاتاہے۔۔۔ تھے تو یہ سب ہمیشہ سے ہی ایسے۔۔۔ لیکن ان کی اس گھٹیا اور پست سوچ کو طاقت اور اعتماد کس نے نے بخشا۔۔۔ کراچی کے عوام کو پاکستانیت کے بجائے ہندوستانیت میں ڈھالنا اور اس جہالت اور بے غیرتی پر فخر کرنا سکھانا۔۔۔ کس کاسب سے بڑا کارنامہ ہے۔۔۔ ورنہ الگ جھنڈےترانے اور قائد کے نعرے کاکیاکام۔۔۔۔۔۔

خیرجو میرا فرض تھا میں نے پورا کیا۔۔۔

ادیبوں اور شاعروں نے کبھی یہ سوچا تھا کہ ان کےآگے آنے والی نسل اس قابل ہے بھی یا نہیں کہ ان کے لکھے کو سمجھنا تو دور کی بات پڑھ بھی سکے۔۔۔  مصوروں اداکاروں گلوکاروں نے کبھی دھیان دیا کہ کل ان کے ملک میں کوئی انکے نام کو پہچاننے والا بھی کوئی ہوگا۔۔۔ اسکول مافیا نے کبھی سوچاکہ لوگ اپنے بچے اسکولوں سے نکال کر کام پر بٹھادیں گے یا بھیک منگوائیں گے تو ان کا کاروبار کیسے چلے گا۔۔۔ ماں باپ سوچتےہیں کہ ان کی اولاد کل کسی کا سہارا بنے گی یا ملک و قوم پربوجھہ۔۔۔ یا کسی بھی پیشے کے لوگ اپنی بقا کاسوچتے ہیں۔۔۔ لیکن ہمارے ہاں ہر فیلڈ کے لوگ شکایتیں کررہے ہیں کہ انکے پروفیشن میں کوئی آگے اسکوپ نہیں ہے۔۔۔ جسکا مطلب یہ ہےاس فیلڈ کے لوگوں نے آپادھاپی کر کے خوب نام اور پیسہ کمایا لیکن مل کر اسے آگےچلانے کی کوشش نہیں کی۔۔۔
ان سب نے یہ تو دکھایا کہ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے۔۔۔ کبھی یہ نہ دکھایا کہ کیا ہونا چاہئے۔۔۔ اپنے بچوں کو محل بنادئے جنھیں چھوڑ کے سب باہر چلے گئے۔۔۔ کبھی قوم کے بچوں کے لئے بھی ملکر کوئی کام کردیاہوتا۔۔۔ یہی بچے بڑے ہوکراپنے محسنوں کے نام کو زندہ رکھتے۔۔۔ اس طرح وحشی اور جنگلی پن اور بے حسی کا مظاہرہ تو نہ کرتے۔۔۔ اپنے اپنے کنوؤں میں قید ہو کرہلے گلے مچانے کے بجائے ایک آزاد فضا کاماحول ہی قائم کردیتے۔۔۔ سب ہی خوش ہو جاتے۔۔۔
اور اب بھی کیا کوئی کفارہ ادا کرنے کو تیار ہے۔۔۔ اپنی اپنی غفلتوں کا۔۔۔

Mission Pakistan

اچھا ایسا کرتے ہیں سب چودہ اگست کاٹارگٹ دیتے ہیں خود کو کہ کیا کرنا ہے۔ بھئی اپنے سے وعدہ۔ مثلا کہ کوڑا نہیں پھینکوں گا سڑکوں پر۔ پان نہیں کھاؤں گا۔ جگہ جگہ تھوکوں گا نہیں۔ ٹریفک کے قوانین نہیں توڑوں گا۔ لڑکیوں سے زیادہ پاکستان میں دلچسپی لوں گا۔ اورلڑکیاں عہد کرسکتی ہیں کہ لڑکوں سے زیادہ پاکستان میں انٹرسٹ لوں گی۔ اور شادی اسی سے کروں گا یا کروں گی جسے قومی ترانہ آتا ہو۔ میں صبح سات بجے دکان کھولوں گا اور جلدی بند کروں گا تاکہ بجلی بچے اور زندگی میں نظم وضبط پیدا ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔
ویسے آپس کی پاکستانیوں کی بات ہے۔ اگراتنا بھی سوچ لیں ناکہ میری زندگی ہی پاکستان کی زندگی ہے تو بھی کافی بہتری آسکتی ہے۔ لیکن اسکے لئے پہلے اپنی اہمیت پہچاننی ہوگی۔ آخر پیدا کیوں ہوا اورکس طرح مروں۔
کیونکہ فی الحال تک توہم پاکستان کے قائم ہونے کو بھی اپنی پیدائش کی طرح ایک حادثہ سمجھتے ہیں۔ اور سوچتے ہیں کہ جس طرح ہم جیسے تیسے بڑے ہو ہی جاتے ہیں پاکستان بھی چل ہی جائے گا۔
چلیں یہی عہد کرلیں کہ جب تک اس ملک کی سڑکوں پررلنے والے بچوں کو وہ نہیں مل جاتا جو میرے پاس ہےہم نےچین سے نہیں بیٹھنا۔ کوئی ایک بچہ یا بچی۔  کیا پورا پاکستان ان بچوں کا گھر نہیں بن سکتا۔ کوئی ایسی جگہ جہاں وہ بے فکر ہو کر سوجائیں۔ ہنسیں کھیلیں۔ جسطرح ہمارےبچےمزے کرتے ہیں۔ کیا سارا ٹھیکہ ایدھی صاحب نےلے رکھا ہے۔ کہ صرف انھی کو جنت میں جانا ہے۔ اور یہ تو دنیا بھرکے پاکستانیوں کامشن ہونا چاہئے۔ قرض بھئی ان پر۔اور فرض ہے ہم سب پر۔

Hmmmmmmm, mission for all Pakistanis around the world.  One thing is for sure.  Nothing will change until I do.  We need to set our priorities for everything; to spend time on and for, to spend money on and for, to get education for and to use education for.  Since our parents have not trained us properly, we will initiate.  We can train ourselves for our better future, which is the next moment, the next day, every coming moment.  We can show the world that we don’t excel only in searching pornographic sites.  We can discipline ourselves.  We can control our internal desires without any external pressure.  We can become a support to each other.  All around the world.

Urdu Opinion پہلی پہلی اردو

کچھہ لکھنے بیٹھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اپنی زبان میں کچھہ لکھنا بھی کتنا مشکل ہے۔ یہ سمجھہ نہیں آتا کہ شروع کیسے کیا جائے اوراسےآگے کیسےبڑھایاجائے۔ میراخیال ہےکہ لکھہ کر پڑھنے سے بولتے ہوئے لکھنا زیادہ آسان ہے۔ کیونکہ اس طرح دوبارہ پڑھنا نہیں پڑتا۔ بھئی پہلے سے پتہ ہوتا ہےکہ کیا لکھا تھا۔ حالانکہ یہ پہلی لکھائی نہیں ہے۔ بس ذراپچیس تیس سال کاوقفہ آگیاہے۔ اس وقت صفحات پرلکھہ لکھہ کرمٹایاجاتاتھا اوراب کمپیوٹرپر ٹائپ کرکرکے ڈیلیٹ کیاجاتاہے۔ الفاظ اور چیزوں کاہیر پھیرہے ورنہ عمل تو وہی ہے۔

اچھاپاکستان سے شروع کرتےہیں۔ الله پاکستان کی حفاظت فرمائے موجودہ سیاستدانوں کے شر سے بھی اورآنےوالی نسلوں کو باہرملکوں میں پلنے والی سیاستدانوں کی اولادوں کے شر سے بھی۔ آمین۔

امی نے سکھایاکہ کسی کا حق نہ مارنا۔ کسی کو تکلیف نہ دینا۔ کسی کی بدعانہ لینا۔

کیا سیاستدانوں کی مائیں نہیں ہوتیں جو ان کو یہ سب باتیں بتائیں۔ اوراگر ہوتیں ہیں تو اپنی اولادوں کی تربیت کیوں نہیں کرتیں۔ اوراگرتربیت کرتیں ہیں تو پھر بڑی ہی بدقسمت ہیں کہ ایسی بدتر اولادوں کی مائیں کہلاتیں ہیں۔
توپھر کیا۔ توپھر یہ کہ الله پاکستان کے تمام بے گھر بچوں کی بلائیں ان سیاستدانوں کے بچوں پر ڈال دیں ۔  جب تک بلاول حسین نواز ہمزہ شہبازلاوارث نہیں ہوں گے اس ملک کے بچوں کو ان کا حق نہیں ملے گا۔

Hey, it’s a good experience to type an opinion in Urdu.  It’s feels great to criticize politicians in Urdu.  May be our politicians can understand this better.  Also their followers and their voters.

You see, I always say that Pakistani politicians are illiterate but they are not idiot.  They know that whatever the literacy rate may be in Pakistan but they can fool the public in Urdu in a better way.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.