Politics and Women

Islam is not the religion of personalities but characteristics.  People in Islam are identified by their qualities.  Like people of Makkah pointed at Prophet Muhammad (pbuh) calling him “the truthful” and “the trustworthy”.  Not the qualities like, if they can eat two-dozen moving worms, they can walk on their hands and stand on their head, can dance on a string and make people crazy with the twist of their tongue, etc.

Similarly, politics in Islam is simply defined as working for the betterment of people.  Islam does not classify the process of betterment of people into spiritual and political, thus, the governing bodies are not categorized into religious and non-religious or modern or secular.

The most unfortunate thing that has been happening in Pakistan is that ignorant keep joining politics, even those having bachelors and master degrees and running business have no idea what politics means in Islam.  No matter where they belong, they are the follower of same slavish mentality and same methodology.

More than new faces or new characters, Pakistan needs people who can be identified with characteristics.

.

.

قسم سے کہ رہی ہوں کہ اگر پاکستانی عوام، سیاستدانوں کی طرح وقتی اختلافات بھلا کے ایک ہوجائیں، ایک دوسرے کا کہا سنا معاف کر دیں، ایک دوسرے کو کردار کی تمام غلاظتوں کے ساتھ قبول کرنا شروع کردیں اور صرف مالی فائدوں کی فکر کریں… تو وہ بھی سیاستدانوں کی طرح بہت جلد خوشحال بن سکتے ہیں…
اسکی تازہ ترین مثال ماروی میمن ہیں… مرد اس سے بھی زیادہ خبیث ہیں لیکن عورتیں ذرا جلد نظر میں آ جاتی ہیں اور انکا فیصلہ بھی جلد ہو جاتا ہے… 
.
ماروی میمن کا ایکسپریس نیوز پر انٹرویو سن کر احساس ہوا کہ شاید مولوی حضرات ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ عورت ناقص العقل ہے کہ صحیح فیصلہ نہیں کر سکتی… عورت بھول جاتی ہے اس لئے اس کی آدھی گواہی ہے مرد کے مقابلے پہ… عورت کی زبان پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اسے کسی فیصلے میں شریک کرنا چاہیے… وغیرہ وغیرہ… 
حیرت کی بات یہ ہے کہ ماروی میمن کو کیا یہ اندازہ نہیں تھا کہ نواز شریف کے ساتھ ملیں گی تو ان سے کیا کیا سوالات پوچھے جائیں گے… اور میڈیا انکی پرانی وڈیوز اور دعوے نکال کر دکھا سکتا ہے… سب سے اچھی بے وقوفانا بات یہ کہ اتنے سارے سال پرویز مشرف کے ساتھ غلطی سے گزاردیے… کمال ہے، خود اپنے کردار اور خصوصیات کے گھٹیا ہونے کی گواہی دیتے آهن اور عوام اور میڈیا کچھ کہے تو پابندی لگاتے ہیں، توہین حکومت کے قوانین بناتے ہیں…. کچھ تو تیاری کر لیتیں… ویسے مزہ بہت آیا… کہ جو حشر یہ سیاستدان قوم کا کرتے ہیں وہ ایک گھنٹے میں انکا ہو گیا… 
.
کیا ماروی میمن صاحبہ اپنے بزنس وغیرہ کے معاملات بھی اسی طرح نمٹاتی ہیں؟  بزنس سے یاد آیا کہ نواز شریف بھی تو کاروباری آدمی ہے… خیر امید ہے نواز شریف کے ساتھ انکی ذہنی، سیاسی اور کاروباری ہم آہنگی ہو جاۓ گی… لہٰذا پاکستانیوں کو ماروی میمن سے بحیثیت انسان کچھ امیدیں تھیں تو وہ بھی ختم کر لینی چاہییں… کیونکہ پاکستان میں انسان، کردار اور سیاست ایک ساتھ نہیں چل سکتے…
.
پرویز مشرف صاحب نے جس طرح خاندان کا طعنہ ماروی میمن کو دیا… کاش اپنے ساتھ کھڑے مرد سیاستدانوں کو بھی یہ طعنہ دے دیتے… وہ زیادہ حقدار ہیں اس طعنے کے… انکو پتہ نہیں تھا کہ سیاستدانوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا، یہ اپنا ساتھ دینے کے وعدے پر پیسے گھسیٹتے ہیں اور فیصلہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں تاکہ بعد میں وہی پھنسے… سارے کے سارے اسی طرح کھیلتے ہیں… 
.
ادھر ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور کراچی کی دوسری جماعتیں مل کر کیا بھتے کا چکر چلا رہی ہیں… لگ رہا ہے اس خونی اور وحشی کھیل کے ذریعے امریکہ کا کوئی کارنامہ چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے… وہ تو بعد میں کھلتا ہے معاملہ کہ کیا ہو گیا… کیونکہ زرداری تو بس انتظار کرتا ہے الطاف کی فون کال کا… کہ فون کال آۓ گی، کوئی سخت اقدام کرے گی ایم کیو ایم تو پھر وہ ایکشن لے گا… اور کاروباری لوگوں کو دونوں نہیں پوچھ رہے… انکے نقصان کا کیا ہوگا… آگے انکی کیا سیکیورٹی ہے… کچھ نہیں… باقی سارے لیڈرز خاموش بیٹھے ہیں…
.
اور کاروباری لوگ بھی کتنے بے وقوف ہیں… ایم کیو ایم کی باتوں میں آ گئے… سب سے مکار تو یہی جماعت ہے… یعنی کہ کراچی میں بھتہ خوری اور کاروبار کی بد حالی پر احتجاج بھی کیا تو خود اپنا ہی کاروبار بند کر کے… کیا فرق پڑا حکومت، ممبران قومی اسمبلی اور سیاست دانوں پر… یہی تو انکو کام دیا ہے کہ کسی طرح انکا دیوالیہ نکال دو…. پہلے یہ دہشت گردی مچاتے ہیں تو بزنس کمیونٹی ہڑتال اور کاروبار بند کرنے کی دھمکی دے دیتی ہے… پھر ایم کیو ایم ہمدرد بن کر یوم سیاہ مناتی ہے اور احتجاج میں دکانیں بند کراتی ہے… 
.
اور جو ٹی وی پر یہ آ کر بکواس کرتے ہیں کہ ہم کیوں اپنے ووٹنگ ایریا میں تباہی لانا چاہیں گے، اس طرح تو ہمارے ووٹرز بھاگ جائیں……. تو یہ باتیں تو وہاں ہوتی ہیں جہاں ووٹرز کا ہی نہیں بلکہ ہر انسان کا احترام کیا جاۓ اور اس کا حق مانا جاۓ … فیئر الیکشنز ہوتے ہوں….
.
یہ ساری کی ساری جماعتیں تو بندوق کے زور پر سارے کام کرواتی ہیں… فنڈز انہیں اسی کام کے ملتے رہتے ہیں انکے غیر ملکی آقاؤں سے… ورنہ جو عوام کے فلاح و بہبود انکا مقصد زندگی ہوتا تو خدا بزرگ و برتر کبھی انسانوں سے مخلص لوگوں پر اپنی رحمت کے دروازہ بند نہیں کرتا… اب ایدھی اور انصار برنی ٹرسٹ اور بہت سے اداروں کے ہوتے ہو ۓ سیاسی جماعتوں کو خدمت خلق وغیرہ کھولنے کی کیا ضرورت تھی… انہیں تو نظام صحیح کرنا چاہیے… ملکی وسائل کو کس طرح استعمال میں لانا ہے، لوگوں کو اپنے پیروں پر کس طرح کھڑا کرنا ہے… گلی گلی لوگوں کے حالات اور خیالات کا جائزہ لینا وغیرہ… 
بہت ضرورت ہے کہ اسلامی طرز سیاست کے اعلی تصورات کو طلبہ اور نئی نسل میں عام کیا جاۓ… شاید کوئی نسل کبھی فائدہ اٹھا لے…

.
کاش خوشبخت شجاعت، نسرین جلیل، ماروی میمن اور بے شمار ان جیسی عورتیں سیاست میں آنے سے پہلے تحریک پاکستان کی عظیم خواتین محترمہ فاطمه جناح، رعنا لیاقت علی خان، بی اماں، لیڈی عبدللہ ہارون کے بارے میں پڑھ لیتیں کہ ملک کو حاصل کیسے کیا جاتا ہے اور کیسے قائم رکھا جاتا ہے…

ان سب کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اسلام شخصیات کا نہیں کردار کا مذہب ہے… اور صرف کردار سے ہی نظام قائم بھی ہوتا ہے اور چلتا بھی ہے…

.
.

Human Empowerment – مرد کے سکون اور عورت کے اختیار کی ابتدا

‘Women Empowerment’, what is so fascinating about this slogan?  And more stupid it sounded when thousands of men sent their women on streets to beg before a politician who being the citizen of another country, self-exiled for many years, promised them to help in getting their rights through Pakistani parliament.  It appeared to be even more hideous when women started the jalsa with emotional speeches and ended with singing and dancing for no reason.

Which rights and authority are they talking about – that women will not be treated inhumanly at homes (the homes that they had come from), get their rights of education and making decisions for their life?  These rights are already mentioned in both constitutions – Qur’an and the national constitution of Pakistan.  It is only that men and women don’t respect both of them and obey none.

Those women at Bagh-e-Jinnah were representing thirty or fourty thousand families of Karachi.  Were they there as a victim of their men’s injustice at home?  Then what would parliament do about this?  If Altaf Hussain is their saviour, as their quaid he can just order the Karachiite men to behave and that is it.  This way it would set an example for ‘macho man’ all over Pakistan.

So basically, what I think that this jalsa was arranged to achieve many goals, such as, diverting people’s attention from Balochistan issue and to warm Imran Khan to keep his hands off Karachi – but to solve women’s issues.

Just think about it.  There was no Altaf Hussain when Ms. Fatimah Jinnah, Mrs. Rana Liaquat Ali Khan and Mrs. Bilqees Edhi were born.  How these honourable ladies grew up to be so powerful and stepped forward with leading and administrative qualities.  Their men at home encouraged them and helped them, not the stupid strangers on the streets.

LEARNING is important for women.  Women need to learn how to read, write and calculate, how to raise their sons not as their supporting cane but as a useful citizens for all, how to discuss issues with their men at home and find their solution, how to keep their honour while being out on the streets.  Why do they wait for men to give them a purpose of life, define their status in society, teach them what Qur’an says about their status?

Men’s period of tranquility begins when they accept women as equal human beings and let them live and perform accordingly. Crushing women’s rights in the name of securing their honour and dignity results in men’s own destruction.

عبدالستار ایدھی کو پاکستان نے ایک شناخت دی جس کا بدلہ انہوں نے نیکیوں کے ایک ختم نہ ہونے والے سلسلے کو شروع کر کے دیا…اور آج ایدھی صاحب ذاتی طور پر ایک بہت بڑا نام ہی نہیں بلکہ پاکستان کی پہچان ہیں… 
١٩٢٨ گجرات میں پیدا ہو ۓ… انیس سال کی عمر میں ١٩٤٧ میں ہجرت کر کے پاکستان آۓ… ١٩٥١ میں اپنی مدد آپ کے اصولوں کے تحت ایدھی ٹرسٹ کے نام سے  میٹھادر میں ایک ڈسپنسری  قائم کر کے باقاعدہ فلاح وہ بہبود کا سلسلہ شروع کیا… ١٩٦٥ میں ٣٧ سال کی عمرمیں ١٨ سالہ  بلقیس ایدھی صاحبہ سے شادی کی جو کے انکی ہی ڈسپنسری میں نرس تھیں… انکے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں نے اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہو ۓ انکے مشن میں انکا ساتھہ دیا… 
انسانوں کی فلاح و بہبود کے اسلامی تصور کو عملی طور پر ثابت جس طرح ان دونوں نے کیا، آج کے زمانے میں اور پاکستان میں اسکی مثال نہیں ملتی… 
انکی کامیابی کا راز کیا ہے… دونوں میاں بیوی کوئی خاص تعلیم یافتہ نہیں… دولتمند بھی نہیں تھے… دونوں انگلش سے بلکل فارغ… لیکن بچے پڑھے لکھے بلکہ فیصل ایدھی تو ڈاکٹر ہیں… سٹائلش بھی نہیں… لیکن حکومت کی برابری کی سطح پر ایک فلاحی نظام قائم کر کے دکھانا اور چلانا بہت بڑا کارنامہ ہے… کونسی فلاحی عامه کی سروس ہے جسکا ایدھی فاونڈیشن  نے انتظام نہیں کیا ہوا ہے… 
انکی اہلیہ بلقیس ایدھی صاحبہ گو کہ کبھی کبھی ایدھی صاحب کی ایک شوہر کی حیثیت سے.شکایات کرتی نظر آتی ہیں .. لیکن انہوں نے ایدھی صاحب کا جس طرح ساتھہ دیا خاص طور پر خواتین کے معاملات حل کرنے میں اور انکو صحیح سوچ دینے میں، انکو عزت کا راستہ دکھانے میں، انکو ایک چھت مہیا کرنے میں… وہ انکا بڑا کارنامہ ہی نہیں بلکہ انکی حکمت اور سمجھداری کی علامت ہے… ایدھی صاحب لا کھہ کوشش سے بھی خواتین کے لئے خود کچھ نہیں کر سکتے تھے… 
مادرملّت اور رعنا لیاقت علی خان کی  قائدانہ اور انتظامی صلاحیتیں تمام پاکستانی خواتین کا لئے مثال ہیں… محترمہ فاطمه جناح اور رعنا لیاقت علی خان کے بعد بلقیس ایدھی صاحبہ تیسری خاتون ہیں جنہوں نے اپنے عورت ہونے کا ہر لحاظ سے بہترین استعمال کیا… اور اپنے ہی گھر کے مردوں کے ساتھہ مل کر پاکستان کی بہتری کے لئے کام کیا… عورتوں کے حقوق، آزادی، اختیار کیا ہوتا ہے کس حد تک ہوتا ہے اور اسے پاکستان کی عزت، معاشرتی قدروں اوردینی حدود کو قائم رکھتے ہوۓ کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، کس طرح خود کوعورتیں قابل بھروسہ اورقابل عمل بنا سکتی ہیں… ان خواتین نے سکھایا… 
یہ وہ خواتین ہیں جن کو سخت ترین حالات ملے کام کرنے کے لئے، اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے لئے، عورت کی طاقت اور ہمّت کا صحیح مظاہرہ کرنے کے لئے، عورت کا ایک انسان ہونے کے ناطے اپنا حق اور اختیار استعمال کرنے کے لئے، عورت کے درست اور بروقت فیصله  کرنے کی اہلیت دکھانے کے لئے … انکو عیش وعشرت، سہولتوں، گھر کی چار دیواری میں بیٹھ کر معاشرے کو جہنّم بنانے کے طریقوں، چار نوالوں اور پانچ کپڑوں اور چند زیورات کے لئے سازش اور چالاکیاں کرنے، شوہر کو قابو کرنے اور بھائیوں کو بھڑکانے کے منصوبوں سے کوئی سروکار نہ تھا… انکی زندگی کا مقصد اپنے جسم کی چوٹی چوٹی خواہشات پوری کرنا نہیں تھا بلکہ پاکستان جیسے تحفے کا احترام کرنا، اس خطہ زمین کا نام روشن کرنا اور اپنی قوم کے لوگوں کو انکے پیروں پر کھڑا کرنا اور انھیں خودداری کا راستہ دکھانا تھا…
اگر انکے گھر کے مرد انکی راہ میں رکاوٹ بنتے تو کیا یہ اتنا سب کچھ کر پاتیں؟  یا اگر یہ خواتین اپنے مردوں کی راہ کی رکاوٹ بن جاتیں تو وہ مستقل مزاجی کے ساتھ کام کر پاتے؟  کیا تحریک پاکستان کامیاب ہوتی اور پاکستانی میں اتنے بڑے بڑے فلاحی ادارے قائم ہوتے؟  تو بات ساری ہے ایک دوسرے کو سمجھنے کی…. معاشرے ہمیشہ سے مردوں کے ہاتھوں میں رہے ہیں اور شاید قیامت تک رہیں گے… کامیاب صرف وہ معاشرے ہو ۓ جہاں مردوں نے خواتین کو انسان تسلیم کیا اور پہلے انکو انکے حقوق اور عزت انکے گھروں میں دئے…. 
چاہے معامله عورتوں کو گھرکی چار دیواری کے اندر بٹھاکر رکھنے کا ہو یا تعلیم، ملازمت یا کسی بھی مقصد کے لئے گھر سے باہر جانے کی اجازت دینے کا… ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی تب ہی ہوتی ہے جب ایک خاندان کی عورتیں اور مرد مل کر کوئی فیصلہ کرتے ہیں، کسی بھی قسم کے حالات میں کوئی متفقہ راستہ اختیار کرتے ہیں، گھر کے اندر انصاف اور آزادی را ۓ کی فضا پیدا کرتے ہیں… ہر رشتہ دوسرے رشتے کی آزادی اور حقوق کا خیال رکھتا ہے… ایک گھر کے افراد ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں… 
یہ ہوتی ہے مرد کے سکون اور عورت کے اختیار کی ابتدا… جب مرد اور عورت مل کرخوشی خوشی  ذمہ داریاں بانٹ لیتے ہیں… جس کو جو آسان لگے اور وہ اسے ایک طویل عرصے تک انجام دے سکے…

 

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.