وصیت اور نصیحت
February 22, 2012 Leave a comment
پچھلے کچھ سالوں میں کچھ ایسا ہوا ہے کہ تخلیقی عمل رک سا گیا ہے… نقلی نقلی ہونے کی سی بوآرہی ہے ہواؤں سے… محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سب سرخاموشی سے تیز تیز قدموں کسی کے پیچھے بھاگے چلے جا رہے ہیں… نظریں ایک جگہ جمی ہوئی… بس تسلی کے لئے کبھی کبھی ادھر ادھر دیکھہ لیتے ہیں کہ سب ساتھہ ہیں کہ نہیں… شاید اکیلے بھاگنے سے ڈرتے ہیں… رک کے مزے بھی تو نہیں لیتے اس پاس کے نظاروں کے… جس جس کا وقت ختم ہوتا جاتا ہے اسے ایک گڑھے میں پھینک کر آگے بڑھ جاتے ہیں… لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا، کلمہ پڑھنے کا موقع بھی نہیں ملتا آخری سانسوں میں، بس اچانک ایکسیڈنٹ ہو گیا یا پھرکوئی مارگیا آکر یا پھر آٹے کی لائن میں کھڑے ہوۓ مر گئے … میں نے بہت پہلے سنا تھا کہ کسی نے پاکستان میں تجربہ کیا تھا کہ کتنے لوگ مرتے وقت کلمہ یاد رکھتے ہیں، تو ١٠٠ میں سے صرف ٣ لوگوں کو موقع ملا کلمہ پڑھ کر دم نکلنے کا… موت کچھ ایسے ہی ہوتی ہوگی کہ… اک سیکنڈ میں وہاں سے ہم اٹھے، سیٹل ہونے میں جہاں زمانے لگے… کافی دہلا دینے والا خیال ہے… اور ہمارا یہ حال کہ وہی رٹے رٹاۓ جملے، وہی گانے، وہی لوگ، وہی خیالات، وہی رسومات، وہی آئیڈیاز، وہی سیاست دان، وہی اداکار اور گلوکار، وہی طنز، وہی مزاح… لگتا ہے جیسے پچھلے بیس پچیس سالوں کی پاکستانی نسل ضا یع ہو گئی… برائی اور تنزلی کے علاوہ کسی چیز میں ترقی نہیں کی… پہلے لوگ اپنے مسلمان ہونے پر اور پاکستانی ہونے پرشرما تے، بڑی آسانی سے کہ دیتے تھے کہ ہم سے تو یہودی اچھے، امریکی اچھے … اب تو اپنے انسان ہونے پر بھی شرمندہ ہیں، کہتے ہیں کہ ہم سے تو کتا بلی اچھے…
.
اور اگر یہ سب کچھہ غلط ہے اور صرف میرا خیال اور وسوسہ ہے توپھریقینا لوگ خوش ہونا اور شکرکرنا بھول چکے ہیں…
.
سوچ رہی ہوں وصیت لکھہ دوں… حدیث سنی ہے کہ انسان پر تین دیں ایسا نہ گزریں کہ وہ وصیت نہ کر دے… کچھ یہی مفہوم ہے حدیث کا… لیکن وصیت لکھتے کیسے ہیں… کوئی گھر، زیور، جائیداد تو ہے ہی نہیں، جو زمین لی تھی کہ وصیت لکھنے کو کچھہ تو ہوگا تو وہ فیضان زینب کےعبّاس نقوی نے ہتھیا لی… سنا ہے مجلسوں میں جا جا کر لوگوں کو گھیرتا ہے… خیرگرین کارڈ بھی نہیں کہ کسی کے نام کر جاؤں… بقول امی کی کتابی باتوں کے، اصل جائیداد علم ہوتا ہے، تہذیب ہوتی ہے، نیک اعمال ہوتے ہیں… انکی وصیت کے لئے لکھنے لکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی… انہیں تو اپنی زندگی میں لمحہ لمحہ دوسروں کے حوالے کرنا ہوتا ہے اور پھر یہ صدقہ جاریہ بن جاتے ہیں… کچھہ بچی کچی کتابیں رہ گئیں ہیں وہ کوئی لے گا نہیں… لائبریری والے بھی لے کر کسی کونے میں ڈال دیں گے… ایک نظرکا چشمہ ہے جس کے شیشوں سے زیادہ تواب میری آنکھیں صاف دیکھہ لیتی ہیں… جوتوں کا ایک وقت میں ایک جوڑا رکھتی ہوں اس لئے اس قسم کی کوئی کلیکشن نہیں ہے…
.
خیر اچھا ہی ہے… سکندراعظم بھی تو خالی ہاتھہ ہی چلا گیا دنیا سے… بینظربھٹو کی بھی ہرچیز یہیں رہ گئی اور اب زرداری عیش کر رہا ہے… قائداعظم اور علامہ اقبال بھی خالی ہاتھہ دفناۓ گئے… بس فرق یہ ہے کہ کچھہ کے مرنے پر رویا جاتا ہے اورسلام کیا جاتا ہے انکی عظمت کو… اور کچھہ کے مرنے کی دعائیں مانگی جاتیں ہیں کہ ان سے جان چھوٹے…
میں ان دونوں میں سے نہیں ہوں… خیرایسا بھی نہیں، کوئی تو آنسو بہا ہی لے گا، اب اتنا بھی تنگ نہیں کیا میں نے کسی کو… اپنی اس بات پر مجھے ایک شعریاد آ گیا کسی اور کا کہ…
ہم جادۂ ہستی سے چپ چاپ نہیں گزرے
کچھ کام بگاڑے بھی، کچھ کام سنوارے بھی
بے سود نہیں جیتے ہم درد کے مارے بھی
دنیا تیری زینت ہیں کچھ خواب ہمارے بھی
.
وصیت کا مسلہ تو حل ہوا… لیکن کفن کتنے کا آتا ہے… اور بھئی خدا کے لئے سخی حسن کے قبرستان میں دفن نہ کرنا مجھے، اتنی وحشت ہے وہاں، قبریں اوپرنیچے، آگے پیچھے… فیضان حسین ٹھیک رہے گا، کم از کم ڈسپلن تو ہے قبروں میں…
.
اورمیں اس ٹینشن میں نوالہ نوالہ کرکے دو روٹی کھا چکی ہوں پچھلے ایک گھنٹے میں… بھوک لگتی ہے نہ ٹینشن میں… شاید اسی لئے نفسیاتی ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ٹینشن نہ لیں وزن بڑھ جائے گا….
.
یہ کھا لو تو یہ ہو جائے گا، وہ کھا لو تو یوں ہو جائے گا، یوں با ل لمبے ہو جائیں گے، ایسے کرو تو چہرہ چمک جائے گا، پیٹ اندر چلا جائے گا، ہونٹ گلابی ہو جائیں گے …….
.
بات یہ ہے کہ کسی کھا نے وانے سے، منہ پہ یا بالوں میں لگانے وگانے سے کچھ نہیں ہوتا…. سا ری بات انسان کے خوش رہنے کی ہے، اور اپنے آپ کو مصروف رکھنے کی … جو جس حال میں جس طرح خوش رہ لے… یہ ہے اصل صلاحیت …
کچھ کو یہ خوشی قناعت سے مل جاتی ہے، بس جو مل گیا خیر ہے، کچھ دیر ادھر ادھر بیٹھے، باتیں کیں، کسی سے کہا، کسی کو سنا … کچھ اسے دوسروں کے لئے قربا نیاں دے کر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ایدھی صاحب کی مثال ہمارے سامنے ہے، اور لوگ بھی ہیں ایسے … اکثر کو یہ خوشی انتھک محنت کے بعد ملنے والی دنیا وی نعمتوں سے ملتی ہے، یہ بھی بہت اچھی بات ہے … کوئی کوئی لوگ جگہ جگہ گھوم پھر کر، نگر نگر کی سیر کر کے، قدرت کے حسین منا ظر سے لطف اندوز ہو کر اپنی خوشیوں کا انتظام کر تے ہیں، اس میں بھی کوئی برائی نہیں… کسی کو اپنی زندگی کا مقصد حاصل کرنے کی کوششوں میں اتنا مزہ آ تا ہے کہ وہ سا ری تکلیفیں بھول جاتے ہیں، ہر نقصان برداشت کرتے ہیں… ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جواپنی لگی بندھی ملازمت کرنے کے بعد اپنے مشغلوں میں وقت گزارتے ہیں، جیسے کہ کتاب پڑھی، فلم دیکھی، پھول پودوں کا خیال رکھا وغیرہ…. دینی مزاج کے لوگ زیادہ سے زیادہ نوافل اور مذہبی فرائض میں خوشی پا تے ہیں…
خوشیاں حاصل کرنے کا حق سب کوہے اورخوشیاں حاصل کرنے کے وہ سارے طریقے اچھے ہیں جن سے کسی دوسرے کا حق نہ ما را جا رہا ہو، کسی کا بلا وجہ دل نہ دکھ رہا ہو، کسی کا مالی یا جانی نقصان نہ ہو رہا ہو… اور الله سبحانہ وتعالی کے احکامات کی خلاف ورزی نہ ہو رہی ہو…
.
اور کچھ لوگ پارٹی اور محفلوں کے بغیر نہیں رہ سکتے، وہ چاہتے ہیں کافی سارے لوگ انکے آس پاس رہیں، ہنستے بولتے رہیں، ساتھ ساتھ گانے شانے چل رہے ہوں، کھا نا پینا ہو رہا ہو، اور مزے کی بات یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ سا رے انتظامات بھی کر لیتے ہیں… پہلے میں سمجھتی تھی کہ یہ بڑی ہمّت کا کام ہے، مختلف لوگوں کو جمع کر کے انکی خوشی کا انتظام کرنا… لیکن تھوڑے عرصے بعد سمجھ آیا کہ یہ تو ہمّت د کھا دیتے ہیں لوگوں کو جمع کر کے مگرایسے لوگوں کی خوشی صرف وقتی ہی ہوگی… وہ لوگ جو جمع ہو جاتے ہیں وہ کیا ہیں اور وہ کیا کرتے ہیں اپنے میزبان کی خوشی کے لئے… بس کھا پی کر ہلا گلا کیا اور تعریف کر کے چلے گئے… اگر یہی سب کچھ کھا نے پینے کے بغیر ہو، کوئی مستیاں نہ ہو رہیں ہوں بلکہ کام کی باتیں کی جائیں تو کیا یہی سا رے لوگ اس طرح جمع ہونگے… یا اسی میزبان کو ان لوگوں کی ضرورت پر جائے تو کیا یہ اسی جذبے سے اس کی مدد کریں گے… میرا نہیں خیال اور میرا مشاہدہ بھی یہی ہے…
.
ایک بات ہے… ہماری پوری قوم نہ پارک بنانے پر خوش ہوتی ہے، نہ کوئی اور ترقیاتی کاموں پر… ہاں مزارات ایک سے ایک بنوالو اور اس کے لئے فنڈنگ بھی کر دیں گے… ترقیاتی کام حکومت کی زمہ داری ہیں… کہتے ہیں کہ یہ چار دن کی دنیا ہے اصل منزل تو قبر ہے… تو بھئی پھر گھر، کپڑے، کھانا، زیور سب ہی چھوڑ دو، یہ بھی تو یہیں رہ جاتے ہیں….

Recent Comments