Women’s freedom, rights and issues…

Women’s freedom, women’s right, women’s issues, women’s life, what’s with women?  Can’t they do anything by themselves?

Do they know what is freedom?

Do they know when they say women’s rights, what are they asking for?

Do they know who is key initiator of women’s issues?

Do they know the purpose of their lives?

Freedom demands responsibility and honour.  Rights doesn’t mean you are always right.  Issues are not solved by creating issues or crying over them.

The rights abused inside houses cannot be achieved on streets, through the dividers of Pakistani nation.


خواتین کو آزادی یا حقوق مردوں کے سدھرنےسے ملیں گے۔۔۔ انکے لئے ناچنے گانے سے نہیں۔۔۔ ایم کیو ایم قانون پاس کروانے کے لالچ کس کو دی رہی ہے۔۔۔ قانون پر یہاں عمل کون کرتا ہے۔۔۔ ایم کیو ایم کےمردوں کو تو دیکھیں۔۔۔ الطاف تقریر بھی سرعام ناچ گا کرکرتا ہے۔۔۔ مصطفےکمال سرعام گالیاں دیتاہے جس کو دل چاہے۔۔۔ باقی ایم کیو ایم والے سرعام پان تھوکتے پھرتے ہیں۔۔۔ یہ غلیظ مرد کسی کو کیا آزادی دیں گے۔۔۔ 

پاکستان کی خواتین کا بھی کیا معیار ہے۔۔۔ آزادی کے لئے غلاموں کا سہارا لیتی ہیں۔۔۔ پاکستان کے سرکاری خرچ پر لندن میں بیٹھہ کر خوب تماشہ لوٹا الطاف بھائی نے سرعام ماؤں بہنوں کو نچا کر۔۔۔ ایم کیو ایم کے جلسے میں آتش بازی, ہلا گلا۔۔۔ آزادی ناچنے گانے کی۔۔۔ اس آزادی کے لئے تو پوری دنیا کھلی پڑی ہے۔۔۔ بے حساب فائدے بھی ملتے ہیں۔۔۔ فری میں تھکایا خود کو۔۔۔


ہاں تو ناظرین کرام, کس کا کتنا خون کھول رہا ہے امریکہ کی بلوچستان قرارداد پر۔۔۔ اپنی اپنی غیرت  کا ٹمپریچر نوٹ کرلیں کہیں ٹھنڈی تو نہیں پڑگئی۔۔۔ 

اچھا طنز ومزاح, لعنت ملامت اور اصلاح کی باتیں بعد میں۔۔۔۔۔۔ پہلے نارمل باتیں۔۔۔

پہلے ذرا یہ بتائیں کہ میں نے قارئین کے بجائے ناظرین کیوں لکھا۔۔۔ بھئی قارئین  کہتے ہیں پڑھنے والے کو اور ناظرین دیکھنے والے کو۔۔۔ تو میں نے آج تک لوگوں کو تحریروں پر نگاہ ڈالتے یا دوڑاتے تو دیکھا ہے لیکن پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔ پڑھنا ہوتاہے آواز کے ساتھہ۔۔۔ جیسے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے غار حرا میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے فرمایا کہ۔۔ اقراء مطلب کہ پڑھو۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ ما انا بقار مطلب کہ میں نہیں پڑھ سکتا۔۔۔۔۔۔ اگر پڑھنے کا مطلب دیکھنا نگاہ ڈالنا ہوتا تو مسئلہ ہی کوئی نہیں تھا۔۔۔ نہ ہی اس کا مطلب ہے کسی چیزکو یاد کر کے دہرانا۔۔۔ ورنہ وحی کے ذریعے دل و دماغ میں اتار کر بول دینا کافی تھا۔۔۔ جیسے ہم کرتےہیں کہ قرآن یاد کیا, حفظ کیا اور سنا دیا۔۔۔ اور اسی لئے جب بچے کہتے ہیں کہ پڑھ لیا تو پوچھا جاتا ہے بتاؤ کیا پڑھا۔۔۔ تو پڑھنے کا تعلق آواز سے ہے۔۔۔

اقبال نے کہا۔۔۔

تیرے وجود پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ کشا ہیں نہ رازی نہ صاحب کشاف۔۔۔

ویسے یہ بھی قرآن کا معجزہ ہے۔۔۔ عربی زبان کا بھی۔۔۔ اور کیا۔۔۔۔۔ کیسا۔۔۔۔

اور جو میں کہتی ہوں کہ انسان ہو یا جانور۔۔۔ جو سنتا ہے وہ بولتا ہے۔۔۔ تو وہ کوئی نہیں سنتا۔۔۔۔۔۔ دیکھہ لیں انجام۔۔۔ کس طرح پاکستان میں روز اردو کا جنازہ نکلتا ہے۔۔۔ روزانہ ایک لفظ دفنایا جاتا ہے۔۔۔۔ کھیال, خیال۔۔۔ آکھری, آخری۔۔۔ پیگام, پیغام۔۔۔ مکصد, مقصد۔۔۔ کیامت, قیامت۔۔۔ کیمہ, قیمہ۔۔۔ کھاب, خواب۔۔۔کائداعظم, قائداعظم۔۔۔ اکبال, اقبال۔۔۔ کھریت, خیریت۔۔۔ کھشی, خوشی۔۔۔ گلت, غلط۔۔۔۔ مکدر, مقدر۔۔۔ کھلاسہ, خلاصہ۔۔۔ کھریدار, خریدار۔۔۔ کبول, قبول۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش لوگوں کو سمجھہ آجائے کہ عزت اور علم, الفاظ کو بگاڑنے سے نہیں ملتے۔۔۔ الفاظ کو بگاڑنا جہالت کی نشانی ہے۔۔۔

اور ایک تماشہ یہ بھی لگتا ہے کہ دنیا کی تھیرپی کرنے والوں کی اولادیں بھی اسی تلفظ کے ساتھہ بات کرتی ہیں اور وہ بھی ٹی وی پر۔۔۔ ہاں ہاں, ڈرتی نہیں ہوں, پروفیس معیز کی بات کررہی ہوں۔۔۔ لیکن کیا کریں, جدید تہذیب کے اصولوں کے مطابق مشہور لوگوں  کے پہننے اوڑھنے, بات کرنے کے طریقوں پرتنقید نہیں کی جا سکتی۔۔۔ اخلاقیات کے خلاف ہے۔۔۔

سنا ہے کسی زبان کوسیکھنا ہو تو اسکی شاعری سیکھہ لیں۔۔۔ شاعری کیا ہے۔۔۔ الفاظ کو مختصر جملوں کی شکل میں اس طرح ترتیب دینا کہ ہر جملہ کا آخری لفظ ہم آواز بھی ہو لیکن کوئی جملہ اکیلا کوئی معنی نہ دے۔۔۔ اس طرح کا جملہ مصرعہ کہلاتا ہے۔۔۔ اور مصرعہ سے مصرعہ ملکر شعر بنتا ہے۔۔۔ چارمصرعے جمع ہو جائیں تو رباعی کہلا تی ہے۔۔۔ پانچ مصرعے  ملکر مخمس بناتے ہیں۔۔۔ اور چھہ ملکرمسد س۔۔۔۔۔۔ پس شاعری کے لئے آخر میں ہم آواز ہونا ضروری ہے۔۔۔ یہ نثر یعنی باتوں کی طرح آزاد نہیں۔۔۔ شاعری میں اظہار خیال کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ الفاظ ضائع نہیں ہوتے۔۔۔اور یہ طرز گفتگو قرآنی بھی ہے۔۔۔

شاعری صرف شاعر کے خیالات یا احساسات کا نام نہیں۔۔۔ کیونکہ ہر کسی میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ چند الفاظ کو منظم کرکے جو کچھہ کہنا ہے جلدی سے کہہ کر چھٹی کرے۔۔۔ اس لئے لوگ شاعروں کے کلام سے استفادہ  کرتے ہیں۔۔۔ لیکن ذرا دھیان سے, عبید الله علیم نے کہا تھا۔۔۔ 

کھلتا کسی پہ کیوں میرے دل کا یہ معاملہ

شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

عام لوگ شاعروں کو پاگل سمجھتے ہیں۔۔۔ لیکن علامہ اقبال نے شاعروں کو بڑا اعزاز بخشا۔۔۔ انھیں قوم کی آنکھہ بنا دیا۔۔۔

قوم گویا جسم ہے, افراد ہیں اعضائے قوم

منزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست وپائے قوم

محفل نظم حکومت, چہرہ زیبائے قوم

شاعر رنگیں نوا ہے دیدہ بینائے قوم

مبتلائےدرد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھہ

کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھہ

مزید فرماتے ہیں۔۔


شعر وشاعری کا شوق سبکو ہوتا ہے۔۔۔ اس بات کایقین تب آیا جب ایک دن بابا کو دھیمے دھیمے سہگل کا گانا گاتے سنا۔۔۔ حا لانکہ انھوں نے زندگی میں ٹک کے دو منٹ کبھی کوئی فلم نہیں دیکھی۔۔۔ بلکہ دیکھی ہی نہیں اور نہ گانے سنے۔۔۔ بس چار پانچ شعر آتے ہیں۔۔۔۔ 

تنگدستی اگرچہ ہو غالب

تندرستی ہزار نعمت ہے

بابا کے شعروں کے کلیکشن میں سے یہ پہلا شعر تھا جوان کے منہ سے سنا۔۔۔ 

 میں نے تو یہ دیکھا کہ چہرے کو چمکتا ہوا بنانا ہو تو کریلے, بینگن, گاجریں اور کچی پیاز کھائیں اورمیک اپ چھوڑ دیں اور موقع ملے تو سرسوں کا تیل بھی لگائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

بالوں کو صحت مند بنانا ہو تو دہی, بند گوبھی, ہری پیاز اور انڈا کھائیں, اورفکر کرنا, سوچنا چھوڑ دیں۔۔۔۔۔۔۔ 

وزن کم کرنا ہو تو جو کھانا ہو اور جتنا کھاناہو بارہ سے چودہ گھنٹے کے وقفے سے کھائیں اورساتھہ میں دس بارہ چھوٹی والی ہری مرچیں, وقت پرکھانے کے بجائے جب بھوک لگے تب کھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

خون پتلا کرنا ہو تو اور دوران خون کو نارمل کرنا ہو تو لوکی, ترئی اورٹنڈے کھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ان تمام کھانوں کے ساتھہ پانی ضرور پئیں۔۔۔ پینے پر یاد آیا کہ کوکا کولا کی نئی ریسرچ نے سب کو شرابی ثابت کردیا۔۔۔ ہم بھی عجب  بے ضرر قوم ہیں, امریکہ جب  چاہے کچھہ نیا فارمولا ایجاد کرکے ہمیں کھلا پلا دیتا ہے اور ہم کھا پی لیتے ہیں۔۔۔ اور تعریف کرتے ہیں کہ واہ کیا قوم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر امریکہ اپنی ایجاد پر نئی ریسرچ کرکے ہمیں گناہ گار ثابت کردیتا ہے۔۔۔ اور ہم گالیاں دینا شروع کردیتے ہیں کہ کتنی دھوکہ باز قوم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ دینی لوگوں کو ابھی تک پتہ نہیں چلا شاید۔۔۔ با جماعت صلوت استغفارکب پڑھیں گے۔۔۔۔ اور ٹی وی پر کوکا کولا کے ایڈز آئے چلے جارہے ہیں۔۔۔اورادھر ٹی وی پر کوکا کولا کے ایڈز آئے چلے جارہے ہیں۔۔۔ ثابت یہ ہوا کہ یہ کہنا چھوڑ دیں کہ ہم مسلمانوں سے تو امریکن اچھے ہیں, دھوکہ تونہیں دیتے۔۔۔ لیکن کبھی کبھی سوائے دھوکے کے کچھہ نہیں دیتے۔۔۔ 

دوسرا تماشہ یہ لگتا ہے کہ فہد مصطفے صاحب, ندا پاشا صاحبہ, محترمہ شائستہ زیدی صاحبہ۔۔۔ بھارتی فلموں کی تشہیر کرتی نظر آتے ہیں کہ کہیں کوئی ان غلاظتوں سے بچ نہ جائے۔۔۔ حالانکہ بھارتی فلمیں تو پاکستانیوں کا اوڑھنا بچھونا ہیں۔۔۔ وہ ان سے غافل کیسے رہ سکتے ہیں۔۔۔ اور دؤلت اور شہرت کے لئے تو کسی بھی حد تک گرا جاسکتا ہے چاہے وہ بھارتی فلموں کےسیلز پرسن بن کر ہی کیوں نہ ملے۔۔۔۔آخرکار  گلی گلی والی سیلز مین شپ سے تو ہہتر ہے۔۔۔ جو قوم اتنی بے غیرت ہو جائے اسکے ساتھہ جو نہ ہو وہ کم ہے۔۔۔ حالانکہ نادیہ خان اور مایہ خان کے انجام سے سبکو سبق سیکھہ لینا چاہئے۔۔۔ کل تک پرستاروں کے فون پر فون۔۔۔ اور آج کوئی ٹکے کو نہیں پوچھتا۔۔۔ خیر ان پر تنقید بھی جدید تہذیب کے اصولوں کے مطابق نہیں کی جاسکتی ۔۔۔۔ تعریفیں یہ آپس میں ایکدوسرے کی حد سے زیادہ کرلیتے ہیں۔۔۔ 

یاالله, میں اس قوم سے بیزار ہوں جو پاکستان کی نمک حرامی کرنے کے بعد خود کو پاکستانی کہلائے۔۔۔۔


Ghalib-e-Khasta

I really do admire Mirza Ghalib’s unusual ideas sometimes.  The universe is full of places where nobody lives but building a house that has no walls and roof,  sounds unique and a technical challenge for modern age architects.  If Ghalib had walked around the earth, he would have come to know that he doesn’t need any efforts to build such a house.  Our own planet is the best place to fulfill this desire.  The floor, roofed with sky and walled with air.  Not all homeless but very few feel like they are homed while wandering around.  If Ghalib’s reason was to avoid neighbours then one can go anywhere, in forests, on mountains, to deserts or caves.  Neighbours are not found in those areas.

Mullah Naseeruddin was born a few centuries before Ghalib though, he somehow willed the part of Ghalib’s strange desire.  I have heard that Mullah’s tomb has only a door with no walls around.  God knows if Ghalib was aware of it.


مرزا غالب نے کہا کہ۔۔۔ 

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے

کوئی ہم سایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار 

اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

  غالب ایک مرتبہ دنیا کےگرد چکر لگا لیتے تو انھیں پتہ چل جاتا کہ زمین گول ہے, آسمان اس کی چھت اور ہوا اس کی دیواریں ۔۔۔ لہذا انھیں یہ خواہش پوری کرنے کے لئے کچھہ کرنے کی ضرورت نہیں, خواہش کرنے کی بھی نہیں۔۔۔ بس ذرا بے گھر ہونا ہے۔۔۔ رہی ہمسایوں کی بات, تو ان سے بچنے کے لئے کہیں بھی جایا جاسکتا ہے۔۔۔ جنگل, پہاڑ, صحرا, غار۔۔۔ پڑوسی ان جگہوں پر نہیں پائے جاتے۔۔۔ 

لیکن ایک بات ضرور ہے۔۔۔ ملا نصیرالدین, غالب سے کچھہ صدیاں پہلے پیدا ہوئے تھے۔۔۔ لیکن غالب کی بے درودیوار والی خواہش پر کسی حد تک عمل کر گئے۔۔۔ سنا ہے انکے مقبرہ پر صرف دروازہ ہے, دیواروں کے بغیر۔۔۔ پتہ نہیں یہ بات غالب کو معلوم بھی تھی یا نہیں۔۔۔

I never had any friends so I cannot comment on this.  Ghalib was a social person, he had known better the difference between a friend and an adviser.  In my personal opinion, taking a nap to save energy is better than joining friends for rubbish.  I am not criticizing him but truly, he was an intelligent person and he knew it.  He could have earned a lot and lived better instead of leading a street life.

But it wasn’t his fault.  There were no other sources available to be social like we have now.  Social websites are a good platform for friendly activities and safe too.  Especially for a homey, lazy and lousy person like me, they are safe too.  Nor I complain, neither I become a danger and embarrassment for anyone.

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح۔۔۔ کوئی چارہ ساز ہوتا, کوئی غمگسار ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غالب اگردوستی یاری کے چکروں میں نہ پڑتے تو بہت کچھہ کرجاتے۔۔۔ نصیحت کے لئے قرآن اورغمگساری کے لئے الله کافی ہے۔۔۔ باقی تو بھئی یا تو انسان روزی حاصل کرلے یا تماشے۔۔۔

 ویسے دوستی یاری کے لئے سوشل ویب سائٹس بہت اچھا پلیٹ فارم ہیں۔۔۔ باتیں بھی ہو جائیں اور کچھہ بگڑے بھی نہیں۔۔۔ نہ آنا جانا, نہ کسی کو اعتراض۔۔۔ دل چاہے بات کرو, دل چاہے نہ کرو۔۔۔ میرے جیسی گھریلو ٹائپ, کاہل اور فالتو خواتین جو بلاوجہ گھر سے باہر نکلنا ہی نہ چاہتی ہوں, کے لئے تو یہ بہت آسان اور محفوظ راستہ ہے۔۔۔ نہ مجھے کسی سے شکایت, نہ کسی کو مجھہ سے خطرہ۔۔۔ امن ہی امن, چین ہی چین, سکون ہی سکون۔۔۔  

اور کیا کہا غالب نے۔۔۔ ہاں بھلا کر تیرا بھلا ہوگا, اور درویش کی صدا کیا ہے۔۔۔

  خیر چھوڑیں غالب کو۔۔۔ غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں, روئیے زار زار کیا, کیجیے ہائے ہائے کیوں……….نہ غالب خستہ کے بغیر کوئی کام بند تھے اور نہ کسی اور کے بغیر۔۔۔ کام بند ہونے بھی نہیں چاہئیں۔۔۔ بلکہ جو جہاں ہے اسے وہیں کام کرتے رہنا چاہیے۔۔۔ کیونکہ لوگ اپنی جگہوں اور کام کے عادی بھی ہوتے ہیں اورماہر بھی ۔۔۔ وہ محاورہ سنا ہے نا کہ۔۔۔ جس کا کام اسی کو ساجھے, اور کرے تو ٹھینگا باجے۔۔۔۔۔۔۔ 

So, life goes on.  Life is a condition itself and that is why it should be free of all man-made conditions.

Mother Language Day – Urdu

I have an opinion about celebrating ‘international days’.  As we know, it’s a part of globalization but I think the reason for fixing one day is not to promote but to assess the damage done to anything in three hundred and sixty five days.  That is because all they come up with is the statistics showing how things have declined or let’s say how much more careless people have become about their symbols or belongings or relationships.

Today, the world is celebrating ‘The International Language Day or International Mother Tongue Day’.  My mother language is Urdu.  It’s also my father’s language.  My siblings and relatives speak it too.  So it is my family language.  That’s not all.  Urdu is also our national language.  So it’s the most common source of communication for Paksitanis at every level.  The strange thing is that we still misunderstand each other.

One reason I love Suhail Rana is that he taught children the way to own symbols of Pakistan.  I couldn’t find the audio or video of his song that he composed about URDU but I remember the lyrics and the tone.  “apni zaban Urdu, qoumi zaban Urdu… hum sub ka naaz hay tu piyari zaban Urdu… tu Pakistan ka aizaaz hay sarmaya hay, tu nay hum sub ko ik markaz pay aan milaya hay, such to ye hay tun nay hum sub ka maan barhaya hay… teray saath duaaen sub ki jahan bhi jaye tu, apni zaban Urdu.  May Allah (SWT) bless Suhail Rana for his love and passion for this homeland and keep him healthy and wealthy.  Ameen!

اپنی زبان اردو, قومی زبان اردو۔۔۔ ہم سب کا ناز ہے تو پیاری زبان اردو۔۔۔ تو پاکستان کا اعزاز ہے سرمایہ ہے, تو نے ہم سب کو اک مرکزپہ آن ملایا ہے, سچ تو یہ ہے تو نے ہم سب کا مان بڑھایا ہے, تیرے ساتھہ دعائیں سب کی جہاں بھی جائے تو۔۔۔ اپنی زبان اردو, قومی زبان اردو۔۔۔۔

The history of Urdu language can be googled.  The horrible statistics about how this language is losing it’s value would be available everywhere in Pakistan.  So instead of talking about Urdu, I thought of talking in Urdu, I mean writing, I mean typing in Urdu.  Because the more you speak, read or write a language, the more it is promoted.  But what should I say?

How did my daughter learn Urdu so well?  I taught her the alphabets when she was three.  Then time to time, I helped her in spelling two or three letter words.  To pick the language, I used to sing her lullaby and poems in Urdu.  I played audios of children songs by Suhail Rana, national songs, songs from old Pakistani movies because they had lyrics and their music was soothing and Urdu dramas and comedy shows.  It’s easy.  Anyone can do that.

Another thing that I believe in is that language can be a source of communication, source of enjoyment, source of learning but not of progress.  China has already set an example.

یہ ساری چیزیں گول کیوں ہیں۔۔۔ کائنات ایک دائرے کے اندر۔۔۔ سیارے, ستارے, چاند, ایٹم, گیند ,پلیٹ, موسمبیاں, کینو, سیب, آلو, ٹینڈے, پوریاں, چوڑیاں, لڈو, گلاب جامن…… جو مکمل گول نہیں, ان میں بھی گولائی موجود ہے۔۔۔ جیسے درخت کا تنا, گاڑی کے پہیے, انسان کا سر, الطاف حسین اور اور انکے بیشتر چیلے, نواز بغیر شریف اور انکے رفقاء بدکار۔۔۔ ویسے ابلیس کی مجالس شوری میں یہ کون سے والے مشیر ہوسکتے ہیں۔۔۔

ڈاکٹرصاحب نے ٹھیک کہا تھا۔۔۔ دنیا دھیرے دھیرے اپنے منطقی انجام تک پہنچ رہی ہے۔۔۔ انسان اپنے ہاتھوں پہنچنے والی تباہی کےبعد خود اپنی مرضی سے اسلام پر راضی ہوں گے۔۔۔ گلوبلائزیشن نے اسلام کی خلافت ارضی  کا راستہ آسان  کردیا۔۔۔

صحیح بات ہے ورنہ مسلمان خود تو مل بیٹھنے سے رہے۔۔۔ پڑھتے پڑھاتے بھی نہیں۔۔۔ دوسروں کو کیا سکھاتے۔۔۔

اور دوسری صحیح بات یہ کہ انسان کی حقیقت ایک ذرہ کی ہے یعنی جیسے کلونجی کا دانہ ,رائی کبھی دیکھی نہیں ورنہ اسی کا دانہ کہتی ۔۔۔ اور یہ کہ۔۔۔ دانہ خاک میں ملکر گل وگلزار ہوتا ہے۔۔۔ اور خاک دھول مٹی کی کراچی میں کمی نہیں۔۔۔ اس مصرعہ پر یقین تب تب آتا ہےجب جب میں دسٹنگ کرتی ہوں۔۔۔ چھینک چھینک کر نظام تنفس ٹھیک ہوجاتا ہے, جھاڑ جھاڑ کرجسم ریت کا پہاڑ بن جاتا ہے۔۔۔ طویل غسل صفائی کے بعد شخصیت کا نکھارقابل دید ہوتا ہے۔۔۔
ویسے کراچی میں دھول مٹی آتی کہاں سے ہے اور آہی جاتی ہے تو پھر جاتی کیوں نہیں۔۔۔ لیکن جائےتو کیوں۔۔۔ لوگ اتنا دل سے لگا کررکھتے ہیں, کھانوں میں ملا کر کھاتے ہیں, چلتے چلتے اڑاتے ہوئے چلتے ہیں۔۔۔ اور یہ بھول جاتےہیں کہ دھول مٹی مشینری میں گھس جائے تو چیزیں کام کرنا بند کردیتی ہیں۔۔۔ جیسے کراچی میں رہنے والوں کے دماغ۔۔۔

تیسری بات یہ کہ۔۔۔ ابھی سرمد طارق کی سائٹ پران کی پوسٹ پڑھی, دیوار۔۔۔ انگریزی میں ہے۔۔۔ اچھا لکھتے ہیں مگر مشکل باتیں ہوتی ہیں۔۔۔ خیر۔۔۔ تو مجھے وہ پوسٹ پڑھ کے خیال آیا کہ یہ اپنے ہی استعمال میں آنے والی چیزوں کے ساتھہ لاتعلقی یا نہ جاننے کی بیماری  بیس تیس سال پہلے والی نئی نسل کی ہے۔۔۔ ورنہ ہماری بزرگ خواتین کواپنی ہر چیز کی تاریخ پتہ تھی۔۔۔ تاریخ سے ہندسوں اور مضمون, دونوں صورتوں میں جڑا رہنا ویسے بھی دل کو تسلی دیتاہے۔۔۔
تو انکو پتہ ہوتا تھا کہ انکی شادی کاجوڑا کہاں سے چلتا ہوا انکے پاس آیا۔۔۔ انکی ساڑھی پر سونے کے تاروں کا کام کس نے کروایا۔۔۔ شادی کا جھومر ساس کو انکی
ساس نے اپنی ساس کی نشانی کے طورپردیا تھا۔۔۔ گوٹا کس کس نے لگایا, دوپٹہ کیسے رنگا, کون سا موسم تھا, اس دن کیاپکا تھا,  کھانا پکانے والی آئی تھی کہ چھٹی کی تھی, کس کابچہ سیڑھیوں سے پھسلا تھا ۔۔۔

حالانکہ یہ خواتین گلی کےکونے پر کھڑی کردی جائیں تو گھر نہیں پہنچ سکتی تھیں لیکن اپنی چیزوں اور گھریلو واقعات کی ساری تاریخ ازبر یاد ہوتی تھی۔۔۔ ایک آجکل کی خواتین ہیں۔۔۔ پوچھو بچہ کہاں ہے تو کہیں گی پتہ نہیں ,ابھی تو یہیں تھا۔۔۔

نسل در نسل سفر کرنے والے زیور, کپڑے, جوتے,برتن۔۔۔ سب کی انوکھی داستان ہوتی تھی۔۔۔ جس سے اس زمانے کے رہن سہن کا ہی نہیں, بلکہ میل جول, رسم و رواج, ادب آداب کا بھی پتہ چلتا تھا۔۔۔
انسانی تاریخ کے ایک نسل سے دوسری تیسری نسل تک پہنچنے کا سب سے اہم ذریعہ انسانی زبان ہی تو ہے۔۔۔ اگر اس کا بھروسہ نہ کیا تو پھر کس کاکیا۔۔۔

I really enjoyed this tribute of Lata Haya, an Indian poetess, to Urdu language and the way she read it in rhythm.


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.