The ex-Pakistanis (currently the citizens of other countries visit Pakistan for inspection every five or ten years) have no right to criticize the system here if they had played no role in building it or correcting it.
Common mentality of Karachiites is so pathetic, especially of women. Someone does a part of his job and they start worshiping him. Why keep uttering ‘save Karachi, build Karachi, Karachi Altaf ki basti’? Saving Karachi from whom? Building Karachi with what? This whole country is Quaid-e-Azam’s basti, who’s Altaf? Thousands of Altaf Hussain, Zardar, Gilani, Nawaz Sharif, Shahi Syed can be found rolling on the streets of Pakistan but there is not one Quaid-e-Azam, not even produced by our colleges and universities.
The whole Pakistan is ours. What about Lahore, Peshawar, Quetta and other cities of Pakistan? We get gas from Baluchistan, food from Punjab, “nuts (very hardworking though)” and smuggled fabric from KhayberPakhtunkhwa ….in return we deliver Indian passion and MQM kay unday from Sindh.
There is a difference between Arabs and Pakistanis. Arabs want to get rid of the dictators. We transform elected political workers into dictators. They are so many. Hundreds in every province. They all are alike. Getting rid of one won’t solve the problem.
We need to kill this trend of giving unnecessary attention and appreciation to the political leaders.
بات ختم اسطرح ہوئی کہ پاکستان کے نظام پر انگلی اٹھانے کاحق اسے دیا جاسکتاہے جس نے اسے بہتر بنانے کی کوشش کی ہو۔۔۔ یا اب کچھہ کرنا چاہتا ہو۔۔۔ دو, پانچ, دس سال بعد وطن کو منہ دکھانے والے دیسی غیر ملکیوں کو اپنا منہ بگاڑنے کی اجازت ضرور ہے مگر آئینے کے سامنے۔۔۔ یاپھروہ یہ بتائیں کہ دنیا میں پاکستان کو کسطرح شناخت کروایا۔۔۔
بات شروع ہوتی ہے اس بات سے کہ تبدیلی کیسے لائی جائے۔۔۔ بقول ان خواتین کےجو کہ رشتہ دار بھی ہیں, کراچی کو کیسے بچائیں, ایم کیوایم ہی یہ کام کرسکتی ہے۔۔۔ یار دیکھو اب جیسی بھی ہے اوروں سے بہتر ہے۔۔۔ دیکھو نہ مصطفے کمال نے کتنا کام کیا۔۔۔ کوئی کیا کرتا ہے یہ اسکا ذاتی معاملہ ہے۔۔۔
نیت بری نہیں انکی۔۔۔ لیکن ہمارے گھریلو, تعلیمی اور معاشرتی نظام جسطرح کا ہے اس میں مثبت عمل تو کیا مثبت سوچ پیدا ہونا بھی محال ہے۔۔۔ ہمارے گھر بڑوں کے قبضے میں, تعلیم بروں کے قبضے میں اور معاشرہ گرے پڑوں کے قبضے میں۔۔۔
میرے اعتراضات یہ ہیں۔۔۔
بات تبدیلی کی ہو یابچانے کی, نام پاکستان کا آنا چاہیے کراچی کا نہیں۔۔۔ اور کراچی کو بچانا کس سے ہے۔۔۔ بچانے کےلئے ملک میں رہنا ضروری ہوتا ہے بھاگنا نہیں۔۔۔ سیاستدانوں کے معاملے میں ہم اتنے قناعت پسند کیوں ہیں کہ اوروں سے تو بہتر ہے۔۔۔ سب سے بہتر کیوں نہیں۔۔۔ اور مصطفے کمال نے چار پل بنا کر کسی پر احسان نہیں کیا۔۔۔ یہ ان کافرض تھا۔۔۔ ایم کیوایم نے اس فرض کو جلد ہی کیش بھی تو کرالیا۔۔۔ پنجاب تک پہنچ گئے۔۔۔ مصطفے کمال کے نام اورچار کاموں ان کے ہزاروں کی عزت بچا لی۔۔۔ اور ایم کیوایم نے اگر کسی پر احسان کیا ہے تو وہ انڈیا ہے۔۔۔ انڈیا کی مصنوعات کراچی میں کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔۔۔ انکی ثقافت کراچی والوں کا مذہب بن چکا ہے۔۔۔ اور جہاں تک بات ذاتی معاملے کی ہے تو ذاتی معاملات گھر کی چار دیواری تک ہوتے ہیں۔۔۔ بلکہ گھر میں بھی ذاتیات کی حدیں ہو تی ہیں… مکمل کپڑے کچن میں نہیں اتارے جا سکتے نہ ہی باتھہ روم میں بیٹھہ کر کھانا کھا یا جاسکتاہے۔۔۔ اور کوئی ذاتی پسند کی بنیاد پر ایسا کرے تو گھرکے باقی لوگ اسے روکتے ہیں نہ مانے تو پاگل خانے بھی بھیج سکتےہیں۔۔۔ کیو نکہ کچھہ حرکتیں ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔۔۔ اور انکے لئے آزادی کا کوئی قانون نہیں ہوتا۔۔۔ جیسے ننگا ہونا, زنا کرنا, شراب پینا, سگریٹ پینا, پان تھوکنا۔۔۔
اسی طرح گھر سے ایک انچ باہر بھی ہو تو انسان, چاہے وہ سیاستدان ہو یا عام آدمی, ذاتی پسند اور ناپسند سے باہر ہوتا ہے۔۔۔ اسکے ہر لفظ اور ہر عمل کا اثر دوسرے پر پڑتا ہے۔۔۔
گھر سے باہر عقیدہ تو ذاتی معاملہ ہو سکتا ہے لیکن عقیدے کا ڈھنڈورا پیٹ کردوسروں کی زندگی مشکل بنا نہیں۔۔۔
گھر سے باہر خوشی منانا تو ذاتی معاملہ ہو سکتا ہے لیکن اس طرح نہیں کہ آس پاس کے لوگوں کی روز مرہ زندگی کو تکلیف دہ بنایا جائے۔۔۔
اور جہاں تک مغربی ممالک کا تعلق ہے تو انھوں نے اجتماعی طورپر بڑے بڑے گناہوں کو ذاتیات یا ذاتی پسند یا ناپسند کا معاملہ قرار دے کراپنی سڑکوں اور گلیوں کو بظاہر پرسکون بنالیا ہے۔۔۔ لیکن اسکا عذاب وہ ذاتی زندگی میں کسطرح جھیلتے ہیں۔۔۔ اس سے ساری دنیا واقف ہے۔۔۔
Recent Comments