Beauties and the beast -فریادی عورتیں الطاف کے در پر

Anyone think Altaf is stupid? No, he is not.  He is the best beast to control the people of Karachi, even women.  No one should doubt now how fake peer, faqeer, aamil and few ignorant mullahs control women and make them go crazy.  Hence proved that women of Karachi are born brainless, with the purpose to be cheated by cunning men.  Men give them wise advise, they will reject.  Men say to them, I Love You, admire their beauty, their dresses, their figure and sing them cheap, they will love you.

I can’t believe they are so slavish.  They don’t want to learn those techniques to control their own lives and make good decisions.  Just running after men (even if he is ugly like Altaf) to seek refuge from men.

 ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ الطاف حسین نے ایک تیر سے اتنے شکار کر کیسے لئے؟…
بیرونی باطل طاقتوں کو بھی خوش کردیا… بلوچستان کا مسلہ بھی دب دبا گیا کراچی کی عوام میں… وہ مرد جو اپنی خواتین کو “آئی لو یو” کہنے پر، رومانوی گانے سننے پر اور لڑکوں کو دکھانے کے لئے  فیشن کرنے پر اتنا غصّہ کرتے ہیں کہ اریب قریب کے کسی بھی نا معقول لڑکے سے رشتہ طے کر دیتے ہیں، ان کو بھی چکّر دے دیا… عمران خان کو دکھا دیا کہ کراچی کی عورتیں بھی الطاف حسین کے ساتھ ہیں لہذا ایم کیوایم ہی قابض رہے گی کراچی پر، چاہے وہ کچھ کرے یا نا کرے، اتنی نفرت بھر دی ہے مہاجر کے نام پر… مولویوں اور انتہا پسندوں کو کھلا چیلنج کر دیا ساری لڑکیوں اور عورتوں کو سرعام نچا کر… طوائفوں کو ایک نکتہ دے دیا کہ اگر سری عورتوں کو کھلے عام نا چنے کا حق ہے تو انکے لئے الگ جگہ کیوں… خود خواتین بھی خوش ہو گیں کہ کھلے میں ناچنے گانے کا موقع مل گیا اور انکے گھر کے مردوں نے برا بھی نہیں منایا… اور اب عورتیں بھی اعتراض نہیں کرسکتیں اپنے شوہروں پرکہ فلاں ناچنے والی کے پاس کیوں گئے… 
لیکن بھئی خوشبخت شجاعت، نسرین جلیل بھی جوش میں خوب ناچیں حیدر عبّاس رضوی کے سنگ… فیملی کے لوگ تھے اپنے ہی…
نسرین جلیل کو تو یہ سب کچھ کرنے کا صلہ فورا ہی مل گیا اور وہ ڈپٹی کنوینر بن گیں… خوشبخت شجاعت صاحبہ بھی جلد ہی کوئی پو زیشن پا لیں گی… حالانکہ بقول انکے، انکے سکول کے امیر بچوں کے امیروالدین تک انکی نصیحت نہیں سنتے… 
اگراسٹیج پر عتیقہ اوڈھو یا ثمینہ پیرزادہ یا بشری انصاری یا کوئی اور اداکارہ ہوتیں تو حیرت کی بات نہ ہوتی… کیوں کہ یہ ڈائیلا گ تو وہ بھی یاد کر کے بول سکتی تھیں… ناچنے گانے اور اداکاری کے لئے انہوں نے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے… لہذا یہ کام تو انکا تھا… 
سنا ہے ایک لا کھہ خواتین تھیں جلسے میں… چلو دو لا کھہ کرلو… دو لا کھہ کا مطلب ہے کہ تقریبا تیس چالیس ہزارخاندانوں کی نمائندہ… کیا سب کی سب غریب خاندانوں سے تھیں؟  کیا سب کی سب جاہل تھیں؟  کیا سب کے ہی مرد قتل ہوے تھے اور وہ اکیلی زندگی گذار رہی ہیں؟ سب کی سب کیا سن کر اور کیا سمجھ کر گئیں…
کیا اختیارچاہیے… کہ مرد انکو ماریں نہیں بلکہ وہ مردوں کو ماریں، شوہر پورا خرچہ اٹھائیں اور تمام خواہشات پوری کریں، ان سے بچے زیادہ نہ پیدا کروائیں، تعلیم مکمل کرنے دیں، ملازمت کی اجازت دیں یا گھر بیٹھ کر کھلائیں، ساری رسومات اور روایت پوری کرنے کے لئے دولت لا کر دیں، انکے بیٹے انکی مرضی سے شادی کریں، انکے بھا ئی انکے لاڈ اٹھاتے رہیں، انکو ناچنے گانے کی آزادی چاہیے… 
عورتیں بچے پیدا کرنے سے گھبراتی ہیں، مسائل پیدا کرنے سے نہیں… عورتوں کے مسائل زیادہ ترگھریلواور انکے اپنے پیدا کردہ ہوتے ہیں ہوتے ہیں، ان کا حل کس کے پاس ہے؟  مرد اگر نہیں سنتے تو کیا اس طرح سن لیں گے؟  
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جلسے میں موجود دو لا کھہ خواتین خود بھی ان ہی مسائل میں گھری ہوئیں ہیں یا صرف ملک کے دوسرے حصوں کی خواتین کی نمائندہ تھیں؟ کن مردوں کی شکایات لے کر کس کے پاس گئیں تھیں؟  اگروہ خود ان ہی مسائل کا شکار ہیں توآج تک الطاف حسین نے انکے مردوں کو کیوں نہیں سدھارا یا مرد صرف قانون پاس کرنے سے سدھرتے ہیں؟  اتنے سالوں میں ایم کیو ایم نے انکی تعلیم، صحت اور خوشحالی کے لئے کیا کیا اور اب وہ ایم کیو ایم کے جھنڈے تلے کس سے فریاد کرنے آئیں تھیں؟  کیا انہوں نے تعلیم، صحت، ملازمتوں، مہنگائی، سڑکوں پر ماحول، گندی جیسے اہم مسائل پر مطالبات پیش کئے؟
کسی عورت نے یہ کہا کہ میرا باپ، شوہر، بھائی، بیٹا پان تھوک تھوک کر کراچی کو گندا غلیظ کرتے ہیں. انکو کوڑے لگاۓ جائیں… کسی عورت نے یہ کہا کہ میرا باپ، شوہر، بھائی، بیٹا ہماری فرمائشوں کے لئے کراچی کے اداروں میں کرپشن کرتے ہیں انکو جیل بھیجا جائے… کسی عورت نے یہ کہا کہ میں صبح کہ شوز دیکھنے کے بجاۓ کہیں قرآن کی تجوید ٹھیک کرنے یا انگلش یا حساب سیکھنے جاؤں گی تاکہ اپنے بچوں کو خود پڑھا سکوں… کسی عورت نے یہ کہا کہ میں مجرم ہوں پاکستان کی کہ کراچی کی سڑکوں پر بلڈنگ اور گھروں سے بھربھرکر کوڑا پھینکتی ہوں مجھ کو سدھارنے کے لئے مجھ پرسرعام لعنت بھیجئے… کسی عورت نے یہ اعتراف کیا کہ میں ہی اپنے گھر میں ساس، بہو، نند، بھابی کو اذیتیں دیتی ہوں، بچوں کو گلی میں کھیلنے دیتی ہوں تاکہ وہ اغوا ہوجایئں یا مار جایئں تو شور مچا سکوں کہ یہ کیسا ملک ہے اور کیسا نظام ہے؟  

 
اور سب سے بڑی بات کہ اگر مرد اتنے ہی برے ہیں تو ان سے شادیاں کیوں کرتی ہیں… ماں باپ زبردستی کرتے ہیں تو پھر انکا گریبان پکڑیں، انکے خلاف جائیں عدالتوں میں کہ انہوں نے یہ غلاظت پسند کی تھی مرے لئے…
مجھے یقین ہے خوشبخت شجاعت کو بھی یہ خیالات نہیں آۓ ہونگے… وہ تو ڈائیلا گ بول کر، ناچ گا کر چلی گئیں… با اختیارخاتون ہیں نا آخر…
اگر مسلہ صرف مردوں کے سلوک کا اور حقوق کا ہے تو وہ تو الطاف حسین کی ایک دھاڑ کی مار ہے… کس مرد کے بچے کی مجال کے کراچی میں الطاف حسین کی بات ٹالے… الطاف حکم کرے اور نیم کے درخت نہ لگ جائیں… الطاف ایک دھاڑ مارے اور کراچی کی سڑکوں پر دھول مٹی نظر آ جائے… الطاف پھٹ پڑے اور پھر کوئی تھوک کر دکھاۓ …

 
دنیا نے صرف الطاف حسین کی تقریر، گانا، رومانس اور خواتین کا ناچ گا نا دیکھا… 

Let’s Welcome the Threat

Shumaila Kanwal didn’t kill herself for the reasons of hunger and poverty like hundreds of poor do everyday.  Her suicide attempt was a protest against the system of Pakistan.  She was not ready to bear the insensitivity of the judicial system.  She preferred to die over living like a helpless woman among the unconcerned people.  Unconcerned and feeling-less!

This is so sad to see and hear from the educated women of Karachi devaluing Shumaila’s death as she did it for a stupid or no reason at all.  For most of them, this is the case of Punjab and what can they do about it.  Others don’t even know if someone named Shumaila finished her life for some reason.

She ended her life for the sake of “JUSTICE”.  A word and an idea which is very strange in Pakistan.  It’s a good thing that her husband was killed by an American official so her voice is heard even after her death.  Otherwise, hundreds of women are brutally murdered and tortured by their own family members on daily basis.  Who cares about them?  Forget about the adults for they might have done something wrong but what about little girls raped and killed by their blood relatives and neighbours.

To bring revolution for the sake of JUSTICE, we must start from our own homes.  Raise voice against crimes at homes.  Stop trusting each other for stupid reasons.  Stop obeying the elders unnecessarily and illogically so they also fear accountability before further messing the things up.  Same goes for the politicians.

Keep an eye on the people we live with and the people we deal with everyday.  Stop neglecting little children so they don’t become an easy prey for sexual abuse….by their own beloved and respected elders.  Notice things at job, at public places, at food streets, at schools and colleges, in shopping areas…… and then notify them.  Justice will be served everywhere only when we will stop injustices everywhere.

Don’t rely upon the judicial system.  If they start settling the disputes so easily, how will they earn their livelihood?  More chaos means more cases, which means more business.

USA is threatening Pakistan for cutting aids.  This could be a threat for the politicians because they fill their bank accounts with American aid.  The common citizens don’t even get the crumbs.  So why should they care about it?

We’ve lost the case of Dr. Afia.  Let Shumaila win her case against the American terrorist.  Let’s welcome this threat of America.  It’s the politicians will go hand to mouth, not public.

Don’t listen to any of the politicians.  The only thing they can do is to generate fear of America and of losing their aid.  Let’s get rid of this fear.  God’s world is full of sources and resources.

Elected Dictators

The ex-Pakistanis (currently the citizens of other countries visit Pakistan for inspection every five or ten years) have no right to criticize the system here if they had played no role in building it or correcting it.

Common mentality of Karachiites is so pathetic, especially of women.  Someone does a part of his job and they start worshiping him.   Why keep uttering ‘save Karachi, build Karachi, Karachi Altaf ki basti’?  Saving Karachi from whom?  Building Karachi with what?  This whole country is Quaid-e-Azam’s basti, who’s Altaf?  Thousands of Altaf Hussain, Zardar, Gilani, Nawaz Sharif, Shahi Syed can be found rolling on the streets of Pakistan but there is not one Quaid-e-Azam, not even produced by our colleges and universities.

The whole Pakistan is ours.  What about Lahore, Peshawar, Quetta and other cities of Pakistan?  We get gas from Baluchistan, food from Punjab, “nuts (very hardworking though)” and smuggled fabric from KhayberPakhtunkhwa ….in return we deliver Indian passion and MQM kay unday from Sindh.

There is a difference between Arabs and Pakistanis.  Arabs want to get rid of the dictators.  We transform elected political workers into dictators.  They are so many.  Hundreds in every province.   They all are alike.  Getting rid of one won’t solve the problem.

We need to kill this trend of giving unnecessary attention and appreciation to the political leaders.

بات ختم اسطرح ہوئی کہ پاکستان کے نظام پر انگلی اٹھانے کاحق اسے دیا جاسکتاہے جس نے اسے بہتر بنانے کی کوشش کی ہو۔۔۔ یا اب کچھہ کرنا چاہتا ہو۔۔۔ دو, پانچ, دس سال بعد وطن کو منہ دکھانے والے دیسی غیر ملکیوں کو اپنا منہ بگاڑنے کی اجازت ضرور ہے مگر آئینے کے سامنے۔۔۔ یاپھروہ یہ بتائیں کہ دنیا میں پاکستان کو کسطرح شناخت کروایا۔۔۔

بات شروع ہوتی ہے اس بات سے کہ تبدیلی کیسے لائی جائے۔۔۔ بقول ان خواتین کےجو کہ رشتہ دار بھی ہیں, کراچی کو کیسے بچائیں, ایم کیوایم ہی یہ کام کرسکتی ہے۔۔۔ یار دیکھو اب جیسی بھی ہے اوروں سے بہتر ہے۔۔۔ دیکھو نہ مصطفے کمال نے کتنا کام کیا۔۔۔ کوئی کیا کرتا ہے یہ اسکا ذاتی معاملہ ہے۔۔۔
نیت بری نہیں انکی۔۔۔ لیکن ہمارے گھریلو, تعلیمی اور معاشرتی نظام جسطرح کا ہے اس میں مثبت عمل تو کیا مثبت سوچ پیدا ہونا بھی محال ہے۔۔۔ ہمارے گھر بڑوں کے قبضے میں, تعلیم بروں کے قبضے میں اور معاشرہ گرے پڑوں کے قبضے میں۔۔۔
میرے اعتراضات یہ ہیں۔۔۔
بات تبدیلی کی ہو یابچانے کی, نام پاکستان کا آنا چاہیے کراچی کا نہیں۔۔۔ اور کراچی کو بچانا کس سے ہے۔۔۔ بچانے کےلئے ملک میں رہنا ضروری ہوتا ہے بھاگنا نہیں۔۔۔ سیاستدانوں کے معاملے میں ہم اتنے قناعت پسند کیوں ہیں کہ اوروں سے تو بہتر ہے۔۔۔ سب سے بہتر کیوں نہیں۔۔۔ اور مصطفے کمال نے چار پل بنا کر کسی پر احسان نہیں کیا۔۔۔ یہ ان کافرض تھا۔۔۔ ایم کیوایم نے اس فرض کو جلد ہی کیش بھی تو کرالیا۔۔۔ پنجاب تک پہنچ گئے۔۔۔ مصطفے کمال کے نام اورچار کاموں ان کے ہزاروں کی عزت بچا لی۔۔۔ اور ایم کیوایم نے اگر کسی پر احسان کیا ہے تو وہ انڈیا ہے۔۔۔ انڈیا کی مصنوعات کراچی میں کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔۔۔ انکی ثقافت کراچی والوں کا مذہب بن چکا ہے۔۔۔ اور جہاں تک بات ذاتی معاملے کی ہے تو ذاتی معاملات گھر کی چار دیواری تک ہوتے ہیں۔۔۔ بلکہ گھر میں بھی ذاتیات کی حدیں ہو تی ہیں… مکمل کپڑے کچن میں نہیں اتارے جا سکتے نہ ہی باتھہ روم میں بیٹھہ کر کھانا کھا یا جاسکتاہے۔۔۔ اور کوئی ذاتی پسند کی بنیاد پر ایسا کرے تو گھرکے باقی لوگ اسے روکتے ہیں نہ مانے تو پاگل خانے بھی بھیج سکتےہیں۔۔۔ کیو نکہ کچھہ حرکتیں ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔۔۔ اور انکے لئے آزادی کا کوئی قانون نہیں ہوتا۔۔۔  جیسے ننگا ہونا, زنا کرنا, شراب پینا, سگریٹ پینا, پان تھوکنا۔۔۔
اسی طرح گھر سے ایک انچ باہر بھی ہو تو انسان, چاہے وہ سیاستدان ہو یا عام آدمی, ذاتی پسند اور ناپسند سے باہر ہوتا ہے۔۔۔ اسکے ہر لفظ اور ہر عمل کا  اثر دوسرے پر پڑتا ہے۔۔۔
گھر سے باہر عقیدہ تو ذاتی معاملہ ہو سکتا ہے لیکن عقیدے کا ڈھنڈورا پیٹ کردوسروں کی زندگی مشکل بنا نہیں۔۔۔
گھر سے باہر خوشی منانا تو ذاتی معاملہ ہو سکتا ہے لیکن اس طرح نہیں کہ آس پاس کے لوگوں کی روز مرہ زندگی کو تکلیف دہ بنایا جائے۔۔۔

اور جہاں تک مغربی ممالک کا تعلق ہے تو انھوں نے اجتماعی طورپر بڑے بڑے گناہوں کو ذاتیات یا ذاتی پسند یا ناپسند کا معاملہ قرار دے کراپنی سڑکوں اور گلیوں کو بظاہر پرسکون بنالیا ہے۔۔۔ لیکن اسکا عذاب وہ ذاتی زندگی میں کسطرح جھیلتے ہیں۔۔۔ اس سے ساری  دنیا واقف ہے۔۔۔


Billingual

پاکستان کی ہی بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ کیسے۔ بھئی بات کرکے اور کیسے۔
جس کے ہاتھہ میں پاکستان کا قومی پرچم ہو ۔ لبوں پرقومی ترانہ۔ زبان پر قومی نغمے۔ ذہن میں نظریہ پاکستان اوردل میںپاکستانی عوام کے لئے خلوص۔  ووٹ ایسے ہی لوگوں کا حق ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے وہ پاکستان کا خیرخواہ نہیں بلکہ ملک کا غدار ہے ۔

ویسے اردوکاتوبیڑہ غرق ہونا ہی تھا۔ ہمارے مشہورشاعروں اورادیبوں کی اولادیں باہر ملکوں میں پلی بڑھیں ان کے آگے نسل کا تو کیا ہی کہنا ۔ جو یہاں سے گیا وہ کم ازکم زبان سے تواجنبی ہو ہی جاتا ہے۔
بےچارےاردودان۔  اپنی اولادوں کواپنی زبان پر فخر کرنا نہ سکھا سکےاردو کی خدمت کیا کرتے۔

عجیب بات یہ ہے کہ انگریزی آکسفورڈ کی کتابوں سے سکھاتے ہیں انٹرٹینمینٹ کے لئے ہندوستانی فلمیں دکھاتے ہیں ان کے گانے سناتے اور دکھاتےہیں اورچاہتے ہیں کہ بچے تہذیب یافتہ ہوں۔ پھر جب بچے اپنی تربیت کے اثرات ظاہر کرتے ہیں تو ساراالزام حکومت نظام تعلیم اور معاشرے پرلگا کر دل کی تسلی کر لیتے ہیں۔

عجب منافقت ہےبھئی۔
Yeah, that’ s right, we do something and expect totally opposite.  I wish if there was a channel dedicated to just Pakistani national songs, an educational channel for children, a channel just for Pakistani and especially for the women of Karachi teaching them every nick and nook of house hold, how to keep the kitchen and bathroom clean, how to organize a house, how to discipline children, how to educate themselves for a better life, how get skilled for community work, etc.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.