Writing and Talking…

پرسوں شام محلے میں کسی کا انتقال ہوگیا۔ عشاء کے وقت جنازہ لے کر جارہے تھے سب۔ جو کوئی بھی تھا دوسروں کے کاندھوں پرتھا۔ جیسے لے جائیںجہاں دفنا دیں۔ لوگوں کےآگے اتنا بے بس ہوجاتاہے انسان۔ رب کےسامنے کیا حال ہو گا۔
اچھا کل حیدری جاناہوا۔ ایک کھلونوں کی دکان پرایک والد صاحب اپنے سات آٹھہ سالہ بیٹے کو لے کر آئے۔ دکاندار نے کچھہ کھلونے نکالے۔ ان میں سے ایک کھلونے کابٹن دبایا توایک ہندوستانی گانے کی آواز آئی۔ ذرا سوچیں کون سا گانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھائی کے پان بنارس والا۔۔۔۔۔آگے بھی بول تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس دکاندار کو تو خیر کیا احساس ہونا تھا۔ بچے کے والد نے بھی کچھہ نہیں کہا۔۔۔۔۔۔ جس ملک میں بچوں کے کھلونوں میں اتنے گٹھیا گانےبھرے ہوئے ہوں انکےذہنوں میں اس عمر سے پان کی محبت ڈالی جائے ان سے کس قسم کی شخصیت کی توقع کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ فکر کرے کون۔۔۔۔۔۔ والئ کراچی تعلیم یافتہ جماعت کے کارکن الله جانے کس نظام کے بدلنے کی باتیں کرتے ہیں۔ جس عام آدمی کو وہ اختیار دینا چاہتے ہیں پہلے اس کی سوچ تو بدلیں اسکی  تربیت تو کریں۔ عام آدمی کو اختیار اور آزادی کےمعنی تو بتائیں۔

اور یہ بھی سمجھہ نہیں آیا کہ جس قوم کے سترفیصدلیڈران اور وزراء جاہل ہوں اور جو پڑھے لکھے ہیں وہ ان جاہلوں کے مقابلے پہ بے بس ہوں۔۔۔۔ جس ملک کی ستر فیصد آبادی قصبوں اور دیہاتوں میں رہتی ہو۔ شہری آبادی کا ستر فیصد حصہ دیہاتی ہو۔ وہاں انگریزی کی تعلیم کا کیا فائدہ۔ کیونکہ بچے جن ملکوں کی کتابیں پڑھتے ہیں وہیں کے خواب دیکھنے لگتے ہیں ان کے جس دور کے شاعر اور مصننفوں کا ورد کرتے ہیں اسی دور میں جیتے ہیں۔ ترقی کیسے ہوگی۔  ہمارے ہاں انگلش سیکھنے کامطلب ہے گرامر سیکھنا۔ حالانکہ گرامر سیکھنے کا مقصد ہوتا ہے رائٹنگ اسکلزآنا۔ کیونکہ بولتا تو انسان اپنے موڈ اور حالات کے حساب سے ہے۔ پنکچوئیشن کی تو ضرورت نہیں ہوتی بولنے کے لئے۔ لیکن کتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں جنکو لکھنا آتا ہے۔
جو ذرا بہتر انگریزی جانتے ہیںوہ اردو کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے سو گز گہری کھائی میں پڑی کوئی چیز ہو۔ بچوں کو بھی دکھاتے ہیں۔ بیٹا وہ دیکھو ہماری قومی زبان۔۔۔۔ نہ نہ زیادہ آگے نہ بڑھنا ورنہ اسی کے لیول پہ چلے جاؤگے کوئی اٹھائے گا بھی نہیں۔۔۔۔۔ اور انگریزی کون پڑھے گا ہمارے ہاں تواب اردو لکھنے پڑھنے والے موجود نہیں۔ اردومیں جو کچھہ ہے انڈیا سے درآمد ہوتا ہے۔ لہذا کسی اعلی سوچ کے پیدا ہونے کا امکان نہیں۔

I usually argue with me that writing is different than talking.  Writing needs punctuation while talking needs expressions.  But sometimes I do agree with myself that for a writer, writing is just like talking.  Whether it has an expression or not but it might leave an impression.

In Pakistan, very unfortunately, we are lacking both; the writers and the talkers.  Nobody wants to read and write and nobody wants to talk.  See, you move around the city and you just hear the typical dialogues.  People don’t talk about issues because they aren’t listening to and they aren’t reading about them.  Common people like me should start talking in their surroundings, something different, something important, something interesting.  Otherwise the system won’t change.  We need to get rid of these typical dialogues.

If you can’t talk then tell them with your eyes.  You see someone holding any party flag, just give them a hideous look so they feel that they are doing something wrong.  See someone spitting look at them the way they feel ashamed of themselves.

SMS, chatting, Indian movies and dramas, silly and vulgar jokes, girls interested in boys, boys interested in girls, wasting time in checking or deceiving each other, that’s not life and that’s nothing at all to be proud of ….. give yourself a new look, a decent one, so you can face yourself in the mirror.  Do something for yourself because that will also be a good contribution towards your community and your country.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: