Ik aah…

کاش کوئی مجھہ کو سمجھاتا کہ پاکستانیوں کی سمجھہ میں کیوں نہیں آتا۔۔۔
دکاندار صبح سویرے کاروبار شروع کریں۔۔۔ صبح سات بجے سے بارہ بجے تک پانچ گھنٹے ہوتے ہیں خریداری کے لئے۔۔۔ عورتیں بچوں کو گھر پر چھوڑیں۔۔۔ ٹھنڈے ٹھنڈے وقت میںشاپنگ کریں۔۔۔ بجلی نہ بھی ہو تو مسئلہ نہیں۔۔۔ بارہ سے چار بجے تک دکانیں چاہے بند کردیں کھانا پکائیں کھائیں۔۔۔ قیلولہ کریں یا جو دل چاہے کریں۔۔۔ شام چار سے آٹھہ یا نو بجے تک پھر چار پانچ گھنٹے مل جاتے ہیں کاروبار کے لئے۔۔۔ میرا خیال ہے ایک دن میں اس سے زیادہ شاپنگ کون کرتا ہوگا۔۔۔

دوسری بات یہ کہ درزی کڑھائی والے ڈوپٹہ رنگنے والے اور دوسرے لوگ بھی کام وقت پہ کیوں نہیں کرتے۔۔۔ اورجس جگہ بیٹھے ہوں ادھر ہی کیوں تھوک دیتے ہیںپان۔۔۔ اور پان کھاتے ہی کیوں ہیں اتنا۔۔۔ پھر مہنگائی کو کیوں روتے ہیں۔۔۔ انکی دکانیں صاف ستھری اور منظم کیوں نہیں ہوتیں۔۔۔۔۔ اور سب س بڑھ کر کسٹمرز کو یہ سب برا کیوں نہیں لگتا۔۔۔ میں اکیلی ہی سبکو لیکچرز دیتی رہتی ہوں۔۔۔  اسی لئے کوئی سنتا نہیں۔۔۔  لیکن اتنا فائدہ ضرور ہوا ہے کہ کم از کم میرا کام وقت پرکردیتے ہیں۔۔۔ میرے لیکچرز سے جان چھڑانے کا یہ طریقہ سوچا انھوں نے۔۔۔ بلکہ اب تو کہتے ہیں کہ ہم گھر پہ پہنچا دیں گے۔۔۔ ویسے یہ آسانی ہےپاکستان میں کہ کوئی بھی وجہ ہو گھر بیٹھے کام ہو جاتا ہے خواتین کا۔۔۔
اور قسم سےمجھے آج تک سمجھہ نہیں آیاکہ کراچی میں دس گیارہ بجے ناشتہ تین بجے دوپہر کا کھانا سات بجے شام کی چائے اور دس گیارہ بجے رات کا کھانا کسطرح کھالیتے ہیں۔۔۔ بقول امی اور بابا کے اس سے نحوست پھیلتی ہے۔۔۔ بارہ سے ایک دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا مغرب کے بعد۔۔ اپنے گھر میں ہمیشہ یہی دیکھا۔۔۔ تقریبات بھی جلدی کھانا کھلا کر جلدی ختم کریں۔۔۔
اچھا باقی شہروں میں کتنے بم دھماکے ہو چکے ہیں۔۔۔ تو بھئی اب عقل پکڑ لیں۔۔۔ خودکش حملہ آور ایک اجنبی شخص ہی ہو سکتا ہے۔۔۔ تو علاقے کے لوگ اجنبیوں پر نظر رکھیں۔۔۔ کون آرہا ہے کون جارہا ہے کون کتنی دیر کس ہوٹل میں بلاوجہ چائے پی رہا ہے۔۔۔ کون غیر شخص کیا خرید رہا ہے۔۔۔ محلے والوں سے شیعہ سنی کرنے کے بجائے اچھے تعلقات رکھیں۔۔۔ خاص کر بچوں پر نظر رکھیں۔۔۔ دکانیں کھولتے وقت چیک کرلیں۔۔۔ کسی جگہ بھی جمع ہوں لیکن ارد گرد نظر رکھیں۔۔۔ امی بابا کہتے ہیں سب سےزیادہ نقصان غفلت اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے ہوتاہے۔۔۔ اب بھئی پتہ ہے ہر جمعہ کو عبادت گاہوں پر حملہ ہوتاہے تو کوئی انتظام کرلیں۔۔۔ راستوں پر جو بلاوجہ کےباکس بورڈز ٹائرز کوڑے کے ڈھیر ہیں انکو ہٹائیں۔۔۔ کوئی اجنبی گاڑی پارک کرے تو پو چھیں کہ بھئی کتنی دیر میں واپس آؤ گے۔۔۔
ایک بات سمجھہ میں آئی ہے مجھے۔۔۔ کچھہ سال پہلے ڈیلمیشن ٹو دیکھی تھی۔۔۔ اس میں جو مس ڈی ویل کو برین واش کرتےہیں ڈاکٹرز۔۔۔ تواسپیل پتہ ہے کیسے ٹوٹتا ہے۔۔۔ چرچ کی بیل سے۔۔۔ ویسے میں نے کہیں پڑھا تھا کہ بیل شیطان کی آواز ہوتی ہے۔۔۔ شاید اسی لئے یہ بیل سسٹم ایجاد ہوا ہے۔۔۔ خیرتو میں یہ کہہ رہی تھی کہ اگر بیل کی آواز سےاچھے اسپیل ٹوٹ سکتے ہیں تو پھر سورہ یسین اور آیت الکرسی سے برے اسپیلز ٹوٹ سکتے ہیں۔۔۔ دونوں تو آزمائی ہوئی ہیں۔۔۔تو جو یہ دہشت گردی کے لئے جو برین واشنگ کرتے ہیں اسکا بھی کوئی علاج عوامی لیول پر تو ضرور ہوگا۔۔۔ اگر فوج ہمیں بچانے شہروں میں آگئی تو سرحدوں پر کون پہرہ دیگا۔۔۔ سرحدوں کےاندر کا کام عوام کا ہے۔۔۔ یہ جودنیا کی سب گھٹیا اور نکمی حکومت کو منتخب کیا ہے تو ان سے سیکیورٹی کے لئےفوج نہیں اچھی پولیس مانگیں۔۔۔ روٹی کپڑا اور مکان تو ہر خوددار انسان حاصل کر سکتا ہے یہ تو محنت کرنے پر ہے۔۔۔ یہ نعرہ تو جہا لت کا نعرہ ہے۔۔۔ حکومت سے تحفظ اور انصاف مانگیں۔۔۔ کیونکہ یہ دو چیزیں ہوں گی تو کام کے مو اقع پیدا ہونگے۔۔۔ باقی کام خود بخود آسان ہو جا ئیگا۔۔۔

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: