Parrots

ایک حکایت ہے۔۔۔ ایک امیرآدمی تھا۔۔۔ اسکے پاس ایک طوطا پلا ہوا تھا۔۔۔ طوطا اسے بہت عزیز تھا۔۔۔  وہ اپنےطوطے سے باتیں کرکراپنا دل بہلاتا تھا اسکابہت خیال بھی رکھتا تھا۔۔۔ ایکدن وہ آدمی تجارت کی غرض سے سفر پہ نکلتاہے اور جانے سے پہلے طوطے سے پوچھتاہےکہ اسکے لئے کیا لائے۔۔۔ طوطا خلاف معمول کوئی فرمائش بتانے کے اپنے مالک سے کہتا ہے کہ آپ جس ملک میں جائیں اور درختوں کے جھنڈ کے پاس سے گذر ہواور طوطے نظرآئیں توانکو میرا سلام کہئےگا اور بس اتنا پیغام دے دیجئے گاکہ ساتھیو میں یہاں پنجرے میں ہوں اچھاکھاتاہوں اچھاپیتا ہوں اور تم وہاں آزاد ہو۔۔۔ امیرآدمی وعدہ کرلیتاہے۔۔۔ دوران سفر اسکا گذر ایک درختوں کے جھنڈ کے پاس سےہوتاہے اورطوطوں کی آوازیں آتیں ہیں تو اسے اپنا وعدہ یادآتاہے۔۔۔ وہ طوطوں کومخاطب کرکے اپنے طوطے کا پیغام دیتاہے۔۔۔ پیغام سنتے ہی ایک طوطا درخت سے زمین پرآگرتا ہے۔۔۔ آدمی کو افسوس ہوتا ہے کہ کیوں اس نے یہ پیغام دیا خواہ مخواہ ایک طوطے کی جان چلی گئی۔۔۔ وطن واپسی پر طوطا اس سے پوچھتا ہے تو وہ سارا ماجرا بیان کرتا ہے۔۔۔ سب کچھہ سنتے ہی طوطا پنجرے میں پھڑپھڑاتا ہے اور بے سدھ ہو جاتاہے۔۔۔ مالک کو بہت دکھہ ہوتاہے۔۔۔ وہ رو رو کراسے آوازیں دیتاہے۔۔۔ مگربے سود۔۔۔ بالآخر وہ پنجرے کو باہر لے جاکر طوطے کو دفنانے کے لئے باہر زمین پر نکال کر رکھتا ہے۔۔۔ طوطا اڑ کر سامنے درخت کی شاخ پرجابیٹھتاہے۔۔۔ مالک حیران ہوکرپوچھتاہے طوطے میاں یہ کیا۔۔۔ طوطا نے کہا مالک مجھے میرے جنگل کے ساتھیوں نے یہ پیغام دیا کہ آزادی مرکر ہی حاصل ہوتی ہے۔۔۔

اب نتیجہ کیا نکلا۔۔۔ نتیجہ یہ نکلا کہ طوطا طوطا کردی نی میں اپے طوطی ہوئی۔۔۔ آج سے مینوں پکارئیے طوطی پلیزکچھہ ہور نہ آکھاں کوئی۔۔۔۔۔۔
ویسےایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ آزادی مرکر ہی حاصل ہوتی ہے موت چاہے جھوٹ موٹ کی ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ یاد نہیں وہ دودوستوں کی کہانی۔۔۔ ریچھہ کو دیکھہ کرایک درخت پر چڑھ جاتاہے دوسرے کو چڑھنا نہیں آتا تووہ جھوٹ موٹ مردہ بن جاتاہے۔۔۔۔۔۔ ویسے بہت سال تو لوگ درخت پر چڑھنے والے دوست کو برا کہتے رہےکہ مطلبی ہاتھہ بڑھاکر دوسرے کوبھی اوپر گھسیٹ لیتا بے چارے کو جھوٹ موٹ کا مردہ بننا پڑا۔۔۔ لیکن غلطی دوسرے والے کی بھی تھی۔۔۔ بھئی اپنے دوست سے درختوں پر چڑھنا سیکھہ لیتا۔۔۔ اب اسکے نکمے پن کی وجہ سےدوسرے کو برابھلا کہا جاتاہے۔۔۔
ویسے ہمارے ہاں یہی ہوتاہے۔۔۔ جسکو کوئی اسکلز آتی ہوں سب اس پر تکیہ کرتے ہیں اور اپنی چادریں پھینک دیتے ہیں۔۔۔ اسکی طرف سے کوتاہی ہوئی نہیں اور لگے سب اس پر لعن طعن کرنے۔۔۔ او بھئی تم سب بھی ویسے ہی بن جاؤ۔۔۔ سیکھہ لو کچھہ۔۔۔

باجی نے اپنے طوطےکا نام رکھا تھا باقر خان بخاری۔۔۔ بہت بولتاتھا۔۔۔ باجی کو کالج نہیں جانے دیتا تھا۔۔۔ وہ
جوتے پہنتی تھیں تو شو لیسز کھول دیتاتھا۔۔۔ ایکدن تو فرمو دم لہراتی ہوئی گذری تو اسکی دم کاٹ لی۔۔۔ فرمو کون۔۔۔ بھئی ہماری پہلی بلی۔۔۔ ہم گلی سے اسے چھوٹا سابچہ لائے تھےبعدمیں ہم نے اسے اماں کہنا شروع کردیا تھا بہت سمجھدار جو ہوگئی تھی۔۔۔ جبکہ میری بیٹی ابتک بھی مجھےاماں نہیں کہتی۔۔۔۔۔۔۔۔ خیرتومیں باقرکابتارہی تھی ایکدفعہ ہم سے غفلت ہو گئی۔۔۔ ہم اسکے پر کاٹنا بھول گئے۔۔۔ ایک شام اسے موقع ملا اور وہ میرے کندھے سے اڑگیا۔۔۔ سب سے زیادہ دکھہ باجی کوتھا۔۔۔ امی کافی دن ہم کو دلاسے دیتی رہیں کہ واپس آجائےگا کیونکہ جو طوطاایک مرتبہ انسانوں میں رہ لے جنگل کےطوطے اسے برداشت نہیں کرتے۔۔۔ ٹھونگیں مار مار کے اسے نکال دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ بھئی جیسے کوئی پاکستانی باہر رہ کرآئے تو اسےمقامی لوگ قبول نہیں کرتے۔۔۔
اچھا میں نے اپنے طوطے کا نام نہیں رکھا تھا۔۔۔ پھر بعد میں اسے ہم لیاقت علی خان کہنے لگے تھے۔۔۔ کیوں۔۔۔ اس لئے کہ اسکی ایک عادت تھی بڑی عجیب سی۔۔۔ جب اسے کچھہ نہیں ملتا تھا تو اپنے ایک پنجے کا مکہ بنا کر زمین پر مارتا تھا اور ساتھہ میں تقریر بھی۔۔۔

لو بتاؤ۔ کہہ رہےہیں آپکی اس یاداشت باقیات کا آجکل کے حالات سے کیا تعلق۔۔۔ بھئی جس وقت ہم یہ سب چیزوں میں مصروف تھے اس پاکستان ایٹمی ملک نہیں تھا۔۔۔ اور اتنا مشہور بھی نہیں تھا۔۔۔ اب تو ماشاءالله ساری دنیا کا نور نظر ہے۔۔۔ ہرملک کی رال ٹپکی پڑرہی ہے اس پر۔۔۔ کراچی میں کرفیو وغیرہ بھی لگتے تھے۔۔۔  میڈیا بھی نہیں تھا۔۔۔ جب ان حالات میں سے گذرکر یہاں تک آگئے تواب بھی نکل ہی جائیں گے مشکلات سے۔۔۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ اچھی طرح نکلیں۔۔۔
اصل میں عوام نے بھی توحد کردی۔۔۔ اتنے سالوں سے کبھی اس سیاستدان پہ بھروسہ کبھی اس مولوی کے پیچھے۔۔۔ الله کو بھلا ہی دیا۔۔۔ تو الله نے بھی انھی کے رحم وکرم پر چھوڑدیا۔۔۔ اب قدرتی آفات کے ذریعے عوام کو ملابھی رہا ہے اور دکھابھی رہا کہ جن جن کے پیچھے ہم بھاگے وہ شیطان کے چیلے نکلے۔۔۔

اب بھی کچھہ نہیں بگڑا۔۔۔ الله نے ایٹمی طاقت بنایا ہے۔۔۔ فوج آج بھی بہترین ہے۔۔۔ سرحدیں اپنی جگہ محفوظ ہیں۔۔۔ رمضان اور چودہ اگست آگے ہیں۔۔۔ عہدقومی پرچم اور قومی ترانے کا ہو۔۔۔ اور خون وہ ہو جو اڑ جائے تو پیچھے نہ ہٹے۔۔۔۔


About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: