Himmat-e-Mardan Madad-e-Khuda

“Their intention is to extinguish Allah.s Light (by blowing) with their mouths: But Allah will complete (the revelation of) His Light, even though the Unbelievers may detest (it)”…..Surah As-Saff/The Ranks, ayah 8…

اوریہ چاہتے ہیں کہ الله کے نورکو اپنی پھونکوں سے بجھادیں لیکن الله اپنےنور کومکمل کرکےہی رہتاہے چاہے کافروں کو کتنا ہی برا کیوں نہ لگے۔۔۔ سورہ الصف آیت آٹھہ۔۔۔

نورخداہے سیاستدانوں کی حرکت پہ خندہ زن۔۔۔ پھونکوں سے پاکستان بجھایا  نہ جائے گا۔۔۔

یقینا یہ آیت اسلام یا قرآن کے بارے میں ہے۔۔۔ لیکن جس خطے کو قرآن والی رات میں نازل کیا گیا ہو۔۔۔ وہ بھی تو خداکا نورہی ہوئی نہ۔۔۔ لیکن ہوا کیسے تھا۔۔۔ پاکستان ہند کے مسلمانوں کی خواہش تھی۔۔۔ اور جب مسلمان مل کر کسی چیز کی خواہش کریں اور اسکےلئے مل کر کام کریں اور مل کراسکے حصول کے لئے قربانیاں دیں تو پھر سوہنا رب اسے اپنا نور بنا کر نازل کرتاہے۔۔۔

زیادہ دور کی بات نہیں صرف تریسٹھہ برس پہلے تک ہندؤؤں اور انگریزوں کی اجتماعی خواہش تھی کہ پاکستان نہ بن سکے۔۔۔ وہ ہار گئے۔۔۔ ہم میں پاکستان بنانےکی خواہش موجود تھی۔۔۔ سو وہ بن گیا۔۔۔۔۔۔۔ عجیب سی بات یہ ہے کہ ہندو اورانگریز آج تک ہم سے اس ناکامی کا بدلہ لے رہے ہیں لیکن آج شایدہم میں پاکستان کو بچانے کی خواہش موجود نہیں رہی۔۔۔ تریسٹھہ برس پہلے تک ہم میں بغیر تعصب کےاور بغیر کسی کلاس کی شناخت کے, ایکدوسرے کا ساتھہ دینے کی اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت تھی۔۔۔ پھر آج یہ حالات کیوں ہیں۔۔۔
اس لئے کہ ہم نےسیاستدانوں اور مولویوں کے پیچھے بھاگنا شروع کردیا۔۔۔ یہ باہر والوں سے نظریات و خیالات خرید خرید کرہمارے ذہنوں میں نفرتیں بھرتے رہے اور ہم ان پرایمان لاتے چلے گئے۔۔۔

قصور ہم عوام کا ہے۔۔۔ کیوں ہم نےانکے جھنڈے تلےجمع ہو کر اپنے آپکو تقسیم کیا۔۔۔ کیوں نظریہ پاکستان کو پیچھے پھینک کر انکے پارٹی ایجنڈوں پر ایمان لائے۔۔۔ کیوں نہیں ہم نے ان سے پوچھا کہ اگر سب پاکستان کے لئے کام کررہےہو تو قومی پرچم کہاں ہےجو ہماری عزت ہماری غیرت ہمارے ہونے کی علامت ہے۔۔۔ کیوں نہیں ہم نے مولویوں سے پوچھا کہ جو دین سورج چاند ستاروں کی باتیں کرتا تھا اسے مسجد اور مدرسے کی چاردیواری میں قید کیوں کردیا۔۔۔ جس رسول نے  نظام دیا تھا کردار بنانا سکھایاتھا۔۔۔ اسکی امت کو بھکاریوں سے کیوں بھر دیا۔۔۔ اور بھکاری صرف ایکدوسرے پربوجھہ ہوا کرتے ہیں۔۔۔

اس کا حل بہت آسان ہے۔۔۔ آج پاکستانی عوام کا مطالبہ روٹی کپڑا اور مکان نہیں کیونکہ وہ محنت سے ملتاہے۔۔۔ مطالبہ اختیار کا نہیں کیونکہ کل اختیار میرے رب کا ہے۔۔۔ مطالبہ ہوناچاہیے پاکستان کے قومی پرچم اور قومی ترانے کا۔۔۔ سیاستدانوں کے مل کر کام کرنے کا۔۔۔ مولویوں کی مسجدوں سے اجارہ داریاں ختم کرنے کا۔۔۔ تاکہ خدا کے آزاد بندے آزادی کے ساتھ جی سکیں۔۔۔

سلام ہو پاکستان پر اور سلامتی نازل ہو اس زمین پر جو میری شناخت ہی نہیں بلکہ میری ذات اور میرے ایمان کا حصہ ہے۔۔۔

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: