Sialkot Incident

“…Verily We have tried them as We tried the People of the Garden, when they resolved to gather the fruits of the (garden) in the morning….. But made no reservation, (“If it be Allah.s Will”)….. Then there came on the (garden) a visitation from thy Lord, (which swept away) all around, while they were asleep….. So the (garden) became, by the morning, like a dark and desolate spot, (whose fruit had been gathered)….. As the morning broke, they called out, one to another,-…..  “Go ye to your tilth (betimes) in the morning, if ye would gather the fruits.”….. So they departed, conversing in secret low tones, (saying)-……  “Let not a single indigent person break in upon you into the (garden) this day.”….. And they opened the morning, strong in an (unjust) resolve….. But when they saw the (garden), they said: “We have surely lost our way:….. “Indeed we are shut out (of the fruits of our labour)!”…… Said one of them, more just (than the rest): “Did I not say to you, ‘Why not glorify ((Allah))?'”….. They said: “Glory to our Lord! Verily we have been doing wrong!”….. Then they turned, one against another, in reproach….. They said: “Alas for us! We have indeed transgressed!….. “It may be that our Lord will give us in exchange a better (garden) than this: for we do turn to Him (in repentance)!”….. Such is the Punishment (in this life); but greater is the Punishment in the Hereafter,- if only they knew!……. Surah Al-Qalam/The Pen, 17 – 33

باشعور اور بے شعور شخص میں کیا فرق ہے۔۔۔

شاید وہی جو ریاض شاہد مرحوم صاحب اور پچھلے تیس پینتیس سالوں کے فلم ڈائریکٹرز میں ہے۔۔۔ سید نورکی چوڑیاں دیکھیں یا کوئی بھی پنجابی فلم۔۔۔ شروع سے آخر تک بے دردانہ وحشیانہ طریقوں سےلوٹ مار اور قتل دکھائے جاتے ہیںیا بے ہودہ رقص یا خواتین کے ساتھہ زیادتیاں اورپھر انکا لازمی انجام طوائف بن جانا۔۔۔۔۔۔۔ کیا اسی کو فن کی خدمت کہتے ہیں۔۔۔ کیاپاکستان اور اسلام کو دنیا میں اسطرح پیش کرنا چاہیے۔۔۔ ان فلموں کے ڈائریکٹرز کو ایوارڈز دئے جاتے ہیں۔۔۔ انکے مرد وعورت اداکارجیسی تیسی اداکاری کرکے پیسے سمیٹ کر ایوارڈز جیت کر گھر بیٹھہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا انکا کام یہاں ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ کبھی ان سب نے یہ سو چا کہ انھوں نے پاکستانی معاشرے کو دیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید ایسے کردار جو حقیقت میں اسی ظالمانہ طریقوں سے لوگوں کی جان لیتے ہیں جیسا ان فلموں میں دکھایا جاتاہے سیالکوٹ کا واقعہ بھی اسی طرح کسی فلم کاسین لگتا ہے۔۔۔ جسے فلموں ہی کی طرح سارے تماشائیوں نے ملکر لطف لیا۔۔۔

تین چار دن پہلے ایک شخص نے اپنی ماں, بہن, بھابھی اور بھانجی  کو پٹرول چھڑک کر آگ لگادی۔۔۔ بہت سے واقعات ایسے ہو چکے ہیں۔۔۔ یہ تو ان علاقوں کی بات ہے جہاں شعور ہے نہیں۔۔۔ پڑھے لکھے لوگوں کو دیکھہ لیں۔۔۔ کتنی مائیں ہیں جو اپنے بیٹوں کو چھوٹی عمر سے یہ جملے کانوں میں ڈالتی ہیں کہ باہر جارہے ہو دیکھہ کے چلنا۔۔۔ کسی کو غلطی سے ٹکرلگ جائے تو سوری کہہ دینا۔۔۔ کسی کی چیزکو بغیر پوچھے ہاتھہ نہ لگانا۔۔۔ باہر کوڑا نہ پھینکنا سڑک گندی ہوگی۔۔۔ کسی سے بد تمیزی سے بات نہ کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کو باہر جاتے وقت نصیحت کرتی ہیں کہ دوسری لڑکیوں کی اسی طرح عزت کرنا جیسے ہماری۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے معاشرے میں مائیں بہنیں جس طرح بیٹوں بھائیوں کو لاڈ میں بگاڑتی ہیں بعد میں اسکا انجام صرف وہ ہی نہیں بلکہ دوسرے بھی بھگتتے ہی۔۔۔۔ ڈی پی او سیالکوٹ, پولیس والے اور عوام یقیناایسے ہی بد نصیب ماؤں کی اولادیں ہیں جو صدقہ جاریہ کے بجائے گناہ جاریہ بن جاتے ہیں۔۔۔

یہی سب کچھہ اگر تعلیم یافتہ لوگ کریں تو قوم کی اجتماعی جہالت کا اندازہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔۔۔ دو ہزار چار  کا واقعہ ہے۔۔۔  باجی کے محلے والوں نےایک چوکیداررکھا ہواتھا دبلا پتلا سا غریب انسان۔۔۔  اسی گلی میں تین چار گھر چھوڑ کر گورنر صاحب کی سالی رہتی تھیں۔۔۔ انکے ہاں چوری ہوئی۔۔۔ انھوں نے ملازمہ کو الزام دیا۔۔۔ وہ پکڑی نہ جاسکی۔۔۔ تو انھوں نے شک ظاہر کیا کہ ہم نے ملازمہ کو چوکیدار سے بات کرتے دیکھا تھا۔۔۔ پولیس اسکو لے گئی۔۔۔ دوسرے دن پتہ چلا کہ اس پر اتنا تشدد کیا گیا کہ اسکے جسم کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور وہ ہسپتال میں ہے۔۔۔ اگلے دن اسکی موت کی خبر آئی۔۔۔ شام کو میں نے ایک عورت کو گورنر صاحب کی سالی صاحبہ کے دروازے پر ایک عورت کو روتے دیکھا۔۔۔ باجی نے بتایا کہ یہ چوکیدار کی بیوی ہےصبح سے بیٹھی رو رہی ہے کہ انصاف کرو۔۔۔ دو دن اور آئی پھر وہ مایوس ہو گئی۔۔۔ میں نے مشورہ دیا کہ وہ آدمی محلے کی حفاظت کیا کرتا تھا اب محلے والوں کا فرض ہے کہ ہر مہینے سو دوسو جمع کرکے کچھہ رقم اسکے بچوں کی تعلیم وغیرہ کے لئے دے دیا کریں۔۔۔ کیونکہ جو کچھہ ہوا اس میں بچوں کا کوئی قصور نہیں تھا۔۔۔ باجی نے کہا اس گلی میں اکثر کے ہاں دو یا تین ائرکنڈیشنرز ہیں۔۔۔ بقرعید پر گاؤں بکریوں کے مقابلے ہوتے ہیں مگر جمعدار کو چالیس روپے مہینہ دینے میں بھی تنگ کرتے ہیں۔۔۔
پھر یہ بھی دیکھا کہ مشنری اسکولز جانے والے امیر ماں باپ کی اولا دیں پرنسپل سے پوچھتی ہیں کہ یہ سو دو سو کا جوڈونیشن ہے اسکا سرٹیفکیٹ ملے گا کہ نہیں۔۔۔
پڑھا لکھا ہو یا غیرپڑھا لکھا۔۔۔ جب گھر اور خاندان میں ہی انصاف نہ کر سکے۔۔۔ اپنے رشتہ داروں میں ہی ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھا سکے۔۔۔ وہ صدر بنے گورنربنے یا پارلیمنٹیرئین۔۔۔ ملک وقوم کے لئے کیا کر سکتاہے۔۔۔۔۔۔ اسی کو شاید جہالت بھی کہتے ہیں اور غلامی بھی۔۔۔

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: