Polluted Minds and Souls

Getting sick and tired of keep telling men especially to observe some street manners; not to spit, not to break line, not to throw garbage or water on the street, reply salaam because it’s a blessing and the best manner…. O God, nobody minds spitting everywhere.  It’s disgusting, just like lower class living in pollution, just like upper class drinking rotten juices (wine bhaee).

I am thinking about writing letters to the owners of restaurants and other businesses (owners of colleges and universities, academies, schools) describing them the importance of cleanliness and discipline in a society.  Suggesting them to employ someone just to keep eye on customers so they don’t break the line, don’t spit anywhere, don’t throw garbage and in the mean time he should clean the tables, chairs, counters and walls with dettol to keep the flies away.  Shouting and admonishing their employees doesn’t help because they don’t have any authority.  They just want to do their job somehow and go home.  Ten or twenty thousand letters would make a difference.  My lonely voice wouldn’t do anything.

مزیدار حلیم کی دکان پر نان کے لئے کافی سارے لڑکے اور مرد لائن میں لگے ہوئے تھے۔۔۔ لائن سیڑھیوں کے پہلے قدم پر لگی تھی۔۔۔ پچھلے دو تین سالوں میں دکان کو بڑا اور ماربلائز کرکے منظم اور صاف کرنے کی کوشش کی گئی اور کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے مگر الله ہدایت دےمیری جاہل قوم کو۔۔۔ سوائے چیزیں برباد کرنےکےاور کوئی شوق نہیں پال رکھا۔۔۔ خیر لائن میں کھڑے ہوئے پندرہ سولہ سال کے لڑکے نے حسب عادت اپنے ہی قدموں کے پاس تھوکا یعنی ایک قدم نیچے۔۔۔اس لڑکے کی بدقسمتی کہ میں گذررہی تھی۔۔۔ میںنے اسے گھورنا شروع کردیا۔۔۔ پہلے تو اس نے ادھرادھر دیکھا پھر مجھہ سے کہنے لگاآگے آجائیں۔۔۔ میں نے تیز آواز میں کہا  تاکہ آخری مذکر تک آواز جائے۔۔۔ کہ آپ کیسے لوگوں کے راستے میں تھوک دیتے ہیں آپ کو تمیز نہیں سکھائی کسی نے کہ تھوکنا غلیظ عا دت ہے۔۔۔  سب چپ سنتے رہے۔۔۔ کیوں کہ شاید سب ہی دن رات یہ غلیظ حرکت کرتے ہوں گے۔۔۔ ورنہ کوئی تو میری طرح اپنے گلی محلوں اور بازاروں میں زبان درازی کرتا۔۔۔

میں سوچ رہی ہوں کہ ایک خط و کتابت کا سلسلہ شروع کیا جائے جس میں مختلف کاروبار کے مالکان کو براہ راست مخاطب کیا جائےاور انھیں صفائی ستھرائی کی اہمیت بتائی جائے اور یہ کہ وہ ایک شخص کو صرف اس لئے ملازمت دیں کہ وہ صرف لوگوں پر نظر رکھےکہ لائن نہ توڑیں, تھوکیں نہیں, کوڑا نہ پھینکیں۔۔۔ اور اس دوران وہ وقتا فوقتا دیٹول سے کاؤنٹر, میزکرسیاں اور دیواریں صاف کرتا رہے۔۔۔ ویسے بھی میرا تجربھ یہ کہتا ہے کہ نیچے والوں سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کے پاس نہ اختیار ہوتا ہے اور نہ لگن۔۔۔ انھیں صرف اپنے نمبر بڑھانے ہوتے ہیں۔۔۔ اپنے کاروبار کے فائدے نقصان سے دلچسپی تو مالک کو ہی ہو گی۔۔۔

دس بیس ہزار خطوط پہنچ جائیں تو فرق پڑے گا یقینا ورنہ میرے اکیلے بولنے سے تو کیا ہوگا۔۔۔
اسی طرح مرغیوں اور گوشت بیچنے والوں سے بات کی جائے۔۔۔ حیرت تو جب ہوتی ہے کہ کپڑا اور برتن بیچنے والوں کی دکانوں پر بھی مکھیاں پلی ہوتی ہیں۔۔۔ اڑاتے ہی نہیں کہ کسی مکھی کو چوٹ نہ لگ جائے۔۔۔ شاید اسی لئے انھیں انڈین ۔۔۔۔ بھی بری نہیں لگتیں۔۔۔ غیر پڑھے لکھے ظاہری اور جسمانی جبکہ معزز ڈگری ہولڈرز ذہنی اور اندرونی غلاظتوں میںمبتلا ہیں جبھی تو پاکستان کایہ حال ہے۔۔۔ سیما غزل صاحبہ تک نے کہہ دیا کہ انڈین گانوں پر تھرکنے میں کوئی برائی نہیں۔۔۔ واہ ۔۔۔ اس دفعہ مشرف صاحب کے ہاتھوں یہ لوگ پاکستان کو پورنستان بنا کر ہی دم لیں گے۔۔۔ حالانکہ میں نے سنا ہےکہ آخری عمر میں انسان کچھہ کچھہ ذہنی آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔
کیا کہا نہیں سمجھہ آئی۔۔۔ اس کامطلب دل پہ لگی ہے۔۔۔ بھئی سیدھی سی بات ہے۔۔۔ نچلا سمجھے جانے والا طبقہ گندگی میں رہ کر گندی غذا کھاتا ہے اور خود کو اونچلا سمجھنے والا طبقہ سڑے ہوئے پھلوں کا رس ذرا صاف ستھرے ماحول میں بیٹھہ کر پی لیتا ہے۔۔۔ فرق کیا ہے۔۔۔ اپنے اپنے کنوؤں میں دونوں ہی غلاظت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔۔۔
تو ضرورت ہے ذہنی آلودگی کو کم کرنے کی۔۔۔ اور اس عادت کو ترک کرنے کی کہ جب کوئی کام نہ کرنا ہو یا برائی پر جمے رہنا ہو تو پوچھیں کہ۔۔۔ قرآن و حدیث میں کہاں لکھا ہے۔۔۔

ہر چیز کو اپنانے یا چھوڑنے کے لئے قرآن وحدیث کا حوالہ ضروری نہیں۔۔۔ اسکا انحصار نفس کی پاکیز گی پر بھی ہوتا ہے۔۔۔

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

2 Responses to Polluted Minds and Souls

  1. umersultan says:

    You actually think that people will change their attitude by reading your letter.

    If it was that simple sister!

    But I think it should be done, because it is better than not doing anything. Probably it will make people at least realize the importance of cleanliness! hopefully inshallah.

    How are you thinking of doing this?

    • Rubik says:

      Thanks for encouraging me….
      1) I will look for their websites and e-mail addresses and leave the subject matter there.
      2) I might use my own blog to address them one at a time.
      3) I will find their mailing addresses and write them in both English/Urdu.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: