State of failures or a Failure state

“Meray aziz hum-watno”… hehehe, main nay socha Kiyana Sahib to aa nahi rahay, main hi shuroo ho jaoon.

Pakistan is not a failure state.  Pakistan is a state of failures.  The reason is the lack of coordination between the people and the government.

Sometimes people think of patriots as a hurdle in the progress of their country.  They are the one who usually condition their personal progress with the country.  If they get appreciations, the system is good otherwise they blame others for their failure.  Unfortunately, the moment they get good opportunities, the first thing they think of is to run abroad and never come back.  Pakistan gave birth to many such remarkable and extra-ordinary people but are they in Pakistan?  Those students who made world record in O’ Levels or as it really means the ordinary level and the one who got positions in software or engineering or medicine or science or any other field.  So for me, they are all very sincere to others but are selfish to their own people and that is why I rank them as aliens, using Pakistani soil and resources to propagate others.  They need to understand that ‘moving fast breaking all the limits’ is not called progress even in the advance countries.  These are the people who, despite of being blessed with all kind of facilities, fail to work for their nation in a direct or indirect way.

Patriots are those who believe in the “get along and work along” policy.  They set their boundaries of halal and haraam and right and wrong and they step forward very carefully.  Before deciding for their own life, they think about a lot of people, the one who have played a big role in their upbringing…. to keep the balance between the two ways of serving their nation.

ہمارے ہاں ملک وقوم کا تصور صرف گھر اور برادری کی حد ہے۔۔۔ کسی بھی صوبے یا شھر کے لوگوں کودیکھہ لیں۔۔۔ عام حالات میںوہ اپنی ذات گھر اور برادری سے زیادہ وفادار ہوتے ہیں۔۔۔ اور ان وفاداریوں کو نبھانے کے چکر میں جو بھی فیصلے کرتے ہیں وہ کچھہ عرصے بعد پورے ملک وقوم کے مسا ئل میں اضافے کاسبب بنتے ہیں۔۔۔

پچھلے چند دنوں میں کافی ساری شادی اور بچوں کی خبریں سنیں۔۔۔ کسی نے ایک ہی وقت میں دو شادیاں کیں۔۔۔ کسی نے سات شادیوں پر اڑتالیس بچے پیدا کرلئے۔۔۔ کسی کو ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کے لئے مزید شادیوں کی اجازت چاہیے۔۔۔ اکثر شادیاں گھر یا خاندان کے بڑوں کے فیصلوں  کا نتیجہ ہوتی ہیں۔۔۔ حالانکہ وہ بڑے کبھی خود بھی جوان رہے ہوتے ہیں اور بہت کچھہ سہہ چکے ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن اپنے تجربات سے کچھہ نہیں سیکھتے اور نہ ہی اپنے رسم ورواج میں کسی تبدیلی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔۔۔ بڑوں کے فیصلوں کے آگے سر جھکانے والوں کو فرماں بردار اور جنت کا حقدار سمجھا جاتا ہے۔۔۔ اورجو ذراانکے خلا ف چلے اسکو نافرمان اور باغی مشہور کیا جاتا ہے۔۔۔ ایسے موقعوں پرمولوی حضرات قرآن وحدیث کے مطابق اس کے جہنمی ہونے کا فتوی صادر کر دیتے ہیں۔۔۔ ویسے بھی دینی لوگوں کا اسلام نماز روزے حج اور زکوہ کے مسائل کے بعد مرد عورت شادی بچے اور طلاق مصائب سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔۔۔ یاتومصائب بیان کرکے خوش ہو تے ہیں یا مسائل۔۔۔

ویسے توخیر میرے دادا نے بھی آٹھہ شادیاں کی تھیں۔۔۔ یا تو انکی بیویاں مر جاتی تھیں یا بچے۔۔۔ بابا کو اسی بات کے طعنے پڑتے تھے کہ کیسا مرد ہے ایک ہی شادی کرکے بیٹھا ہے۔۔۔ اکلوتا ہونے کی یہ بھی ایک پرابلم ہوتی ہے کہ سب کی خواہشات کا بوجھہ اسے اٹھانا پڑتا ہے۔۔۔

خیر۔۔۔ بات یہ ہے کہ اس گھروں گلی محلوں میں بکھرے  ہوئے لوگوں کو ایک قومیت اور انسانیت کا تصور دینا۔۔۔ اور ان دونوں کاآپس میں ربط سمجھانا اصل کرنے کا کام ہے۔۔۔ یہ کرنا تو چاہیے تھا نظام تعلیم سے تعلق رکھنے والوں کو۔۔۔ لیکن وہ ہو گئے فیل۔۔۔ وزیرتعلیم, اساتذہ, کورس سیلیکٹ کرنے والے, سلیبس بنانے والے۔۔۔
اب اس فیل قوم پر کون محنت کرے گا کہ یہ آگے پاس ہو جائے۔۔۔
سیدھی سی بات ہے ملک و قوم کے کام بھی الله کی عبادت کی طرح دو طریقوں سےکئے جاتے ہیں۔۔۔ ایک براہ راست اور دوسرا ان ڈائریکٹ۔۔۔ دوسرا طریقہ عام اور آسان ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کے پاس اتنی سمجھہ اور صلاحیت ہو کہ وہ ہر روپ میں اپنا فرض اداکرے۔۔۔ کیونکہ ظاہر ہے ہر انسان  بیک وقت کئی مختلف کردار مختلف جگہوں پر ادا کر تا ہے۔۔۔ مذہبی اور اخلاقی حدود کونظر میں رکھہ کراپنے ہی کرداروں میں توازن قائم کرنا اس کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔۔۔ جس ملک کے لوگوں کی اکثریت اس میں کامیاب ہو جائے وہ لوگ ایک اچھی اور کامیاب قوم بن جاتے ہیں۔۔۔ ورنہ ایک سرزمین ہو نے کے باوجود خود ہی اپنے آپ کو ملک بدر کرتے اوربھٹکتے پھرتے ہیں۔۔۔
براہ راست طریقہ یہ ہوتاہے کہ اپنی قومی شناخت کوزندہ رکھا جائے۔۔۔ قومی پرچم, قومی ترانے, قومی زبان اور قوم کے ہیروز کا احترام کیا جائے۔۔۔ قومی دنوں کو کسی مقصد کے ساتھہ منایا جائے۔۔۔ ان دنوں کا نماز روزے حج زکوہ کی طرحخاص اوقات ہوتے ہیں مگر ادائیگی نہایت ضروری ہوتی ہے۔۔۔فرائض کی طرح۔۔۔

جہاں کی اکثریت ان دونوں طریقوں میں ناکام ہو جائے وہاں ذمہ داریوں کا بوجھہ ان پر جاپڑتا ہے جنکو ان باتوں کا شعور اور احساس ہو۔۔۔

“Allah Ta’aala hum sub ka Hami-o-Nasir ho”…… laikin us say phelay Mr. Himayat aur Miss Nusrat ko apnay darmiyan dhoondhna paray ga”.

 


About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: