aaam awaam

Poor, Pathetic People of Pakistan… don’t realize their own power… have divided themselves in sects and categories…. exploited by employers, used by maulvis, abused by politicians, looted by school-owners, mis-entertained by celebrities and then ignored by all of them.  They make money and power from people, build their own well and start securing and defending the dwellers of their wells, convince people that they all are sincere with them and then finally leave them alone in hard times.  They all protect each other against people.

Common people should get united and reject the current members and representatives of all the above mentioned fields.  Find some true patriotic individuals who are sincere with them, who can work for their welfare, who don’t treat them like a jerk, who listen to them and value their opinion, who understand the importance of cultural and religious limits, who can stand with them side by side and work for their betterment.

عوام کہتےکس کو ہیں۔۔۔ وہ لوگ جو خود کو عوام کہتے یا سمجھتے ہیں انھوں نے کبھی سوچا ہے کہ وہ ہیں کیا۔۔۔ بلا, مصیبت, طاقت, غلام, جانور۔۔۔

سیاستدان عوام سے ووٹ لے کر عیش کرتے ہیں دور بستیاں بسا کر عوام کو جھک کردیکھتے ہیں۔۔۔ اور ان ووٹوں کے بدلے جھوٹے وعدے, بھوک مفلسی بد حالی۔۔۔ یہاں تک کہ الو کے پٹھےجیسی گالیاں اور الزامات کہ ہماری عوام ہے ہی ایسی بے حس, جاہل,کاہل۔۔۔ دوسرے ملکوں کی مثالیںدیتے ہیں ہم پراعتماد نہیں۔۔۔  حالانکہ ووٹ لیتے وقت اسی عوام سے کہتے ہیں کہ صرف وہی ان کے نجات دلانے والے ہیں۔۔۔ ووٹ ہوتا کیاہے ٹرسٹ بھروسہ اعتماد۔۔۔

فنونی لطیفے یعنی اداکار, گلوکار, پروڈیوسرز, ہدایتکار, مصور, شاعر وغیرہ عوام کے جیب سے اپنے فن کی قیمت نکلواکرلکھہ پتی کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔۔۔ دور بستیاں بسا کر عوام کو جھک کردیکھتے ہیں۔۔۔ جب تک جیب بھری جارہی ہے عوام اچھے۔۔۔ ورنہ الزامات۔۔۔ عوام میں شعورنہیں فن کو نہیں سراہتے بدذوق ہیں۔۔۔  دوسرے ملکوں  کےفنکاروں کودیکھتے ہیں ہمارے فن کی قدر نہیں۔۔۔ اور جو فنونی لطیفے شکایت کرتے ہیں کہ ان کی قدر نہیں کی گئی۔۔۔ انیس وپینسٹھہ اور انیس واکہتر۔۔۔ یہ دو جنگ کے سال تھے۔۔۔ بیالس فلمیں ریلیز ہوئیں انیس وپینسٹھہ میں جس میں سے آدھی سے زیادہ کامیاب۔۔۔ چھہ سات فلمیں انیس واکہترمیں ریلیز ہوئیں سب کامیاب۔۔۔ لوگوں نے جنگوں کے دوران انہیں کامیاب کیا اور کتنی قدر کریں۔۔۔ انھوں نے پلٹ کر کیا کیا۔۔۔ بنگلے گاڑیاں عیش۔۔۔ اکیلے جئے ڈپریشن میں مرگئے۔۔۔ باہر والوں کی نقل۔۔۔ جس پڑھے لکھے فنکار سے پوچھیں کہ آپکے پسندیدہ اداکار, گلوکار, مصنف, شاعر۔۔۔ باہر والوں کا نام لے دیں گے۔۔۔ ان کو تو آپس میں ایکدوسرے کے فن پر اعتماد نہیں۔۔۔ عوام سے چاہتے ہیں انھیں پسند کریں۔۔۔ ایک میڈم نورجہاں تھیں جو سچے پاکستانی کی طرح جی گئیں شاید اسلئے کہ اسکول نہیں پڑھیں انگلش نہیں جانتی تھیں۔۔۔اور اسی لئی جب آجکل کے پڑھے لکھے اپنے فن میں گرنے لگتے ہیں تو میڈم کا ری مکس گا کرالبم ہٹ کرالیتے ہیں۔۔۔ مرکر بھی کتنوں کی آمدنی کاسبب بن جاتی ہیں۔۔۔انھوں نے پاکستانیت سے دل جیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک آجکل کے انگریز اور انڈیا کے پودے۔۔۔ زبان پر شاید ادب تمیز آگیا لیکن دل پاکستانی تہذیب سے خالی۔۔۔۔

کاروباری افراداپنی مصنوعات بیچ کرکروڑ پتی بن جاتے ہیں۔۔۔ دور بستیاں بسا کر عوام کو جھک کردیکھتے ہیں۔۔۔ عوام خریدار اورعوام ہی انکے ملازم۔۔۔ کوئی لیبر قوانین نہیں۔۔۔ الزامات الگ۔۔۔ محنتی نہیں ہوتے۔۔۔ ایماندار نہیں ہوتے۔۔۔ وفادارنہیں ہوتے۔۔۔ دوسرے ملکوں کی چیزیں خریدتے ہیں۔۔۔ اپنے ملک سے محبت نہیں۔۔۔ میری پیدائش سے پہلے کا واقعہ ہے۔۔۔ بابا لیبر یونین میں تھے بڑھ بڑھ  کے تقریریں کرتےمزدوروں کے حق میں بولتے۔۔۔  مالک کے بیٹے نے بد تمیزی کی بابا نے رکھہ کے منہ پہ دیا۔۔۔ نتیجہ۔۔۔ جیل گئے اور دھمکی ملی کہ معافی نہ مانگی تو قتل کے مقدمے میں پھنسا کرپھانسی دلوادیں گے۔۔۔ بابا نے تو کیا معافی مانگنی تھی لہذا مقدمہ بنا۔۔۔۔۔۔ گھر کی خواتین نے منتیں مانی وظیفے کئے۔۔۔ کوئی اور آگے نہ آیا کیونکہ سب ہی پھنستے۔۔۔

اسکول مالکان اور پرنسپلز عوام کو اعلی تعلیم کاجھانسہ دے کرلوٹتے ہیں۔۔۔ لکھہ پتی کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔۔۔ دور بستیاں بسا کر عوام کو جھک کردیکھتے ہیں۔۔۔ پیسہ آنا رکا اور الزامات شروع۔۔۔ لوگوں کو اچھی تعلیم کی قدر نہیں۔۔۔ پیسہ خرچ نہیں کرتے۔۔۔
دینی علماء,  مولوی,  دینی رہنما الله رسول کے نام پرعطیات کے بہانےعوام کے جیب سے لاکھوں کروڑوں روپے نکلواتے ہیں۔۔۔ مگربستیاں دور نہیں بساتے۔۔۔ اسی لئے منٹوں میں عوام کو کسی کے بھی خلاف کھڑا کردیتے ہیں۔۔۔
عوام کاسب سے بڑا جرم اور ظلم یہ ہے کہ ان سیاستدانوں, فنونی لطیفوں, ساہوکاروں اور تعلیم کے رکھوالوں اور دینی لوگوں کی محبت میں, ان سب کی باتوں اور وعدوں پر اعتبار کرکے اپنی جیبیں خالی کردیتے ہیں۔۔۔ اور مزید کمانے کے لئے دن رات ایک کردیتے ہیں کہ ان کو وقت ہی نہیں ملتا کہ پوچھیں ان سب ظالموں نے کیا اندھیر مچا رکھی ہے۔۔۔ ان کے پیچھے اپنے جیسے عام لوگوں کا حق مارتے ہیں۔۔۔ دھوکا دیتے ہیں لوٹتے ہیں۔۔۔
اگر عوام آپس میں ایک ہوں اور ایک ہاتھہ میں جوتا اور دوسرا ہاتھہ ان سب کے گریبانوں پر تو یہ کبھی اندھیر نہ مچائیں۔۔۔ اپنی اپنی کمیونٹیزکے کنوؤں میں بیٹھہ کر اپنے حلقوں کا دفاع کرتے ہیں۔۔۔ پاکستان کے لئے عوام اکیلی جان دے۔۔۔۔

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: