Evil or My Goodness

“Support the goodness, reject the evil”

Alhamdulillah, I am a boring person but I don’t get bored with those reasons that make me a bore person.  Those are the part of my daily routine, my identity, my attitude, my personality, my mission, my duty.  People ask me don’t I get tired of this boring routine.  I say no, I don’t.  This is the only attraction I have in my life, defending Pakistan, Quaid-e-Azam, Allama Iqbal, national flag of Pakistan, national anthem.  At least I am not the part of any destructive activities like others who find each other very interesting and civilized;  spitting, littering around, destroying public property, corrupting people’s mind, harming the environment, hurting animals, causing noise pollution, wall-chalking, contributing in strengthening the enemies’ economy, spreading vulgar thoughts and culture etc.

One reason I prefer my building sweeper over the students of school, colleges and universities, employees of government and private companies, even the madrassah people and general public is that he is very professional.  His name is Nadeem, member of a Christian community, sweeper by profession.  He works six days a week and in case of sickness or other reason he comes on Sunday.  Always talks with respect and to the point.  Always says Assalamu alaikum and when I ask him how are you?  Always replies, “theek hoon madam”.

While others are a hell, talk to them first time and they start making the relation.  Many times I have asked many of them, “am I related to your father or mother?”  I mean, I am not your relative, I am your customer so talk to me professionally.  Call me madam, miss, muhtarma, sahiba, call my name.  I don’t mind it but I hate it making relations for no reason.  And they call themselves educated.  Even TCS, Pakistan Post employees do that (not DHL’s).  Don’t they feel stupid calling every other women aunty or aapa, baji.  Sometimes I feel like giving them a hard slap on their faces especially if they are degree holders or students.

Adopting good manners and goodness, we can be a role model for our children.  At least they won’t curse us.

لوگ کہتے کہ میں بہت بورہوں ایک ہی قسم کی باتیں کرکرکےتھک نہیں جاتی۔۔۔ وہی پاکستان, قائداعظم, علامہ اقبال,  قومی پرچم, قومی ترانہ, ملک وقوم۔۔۔ میں کہتی ہوں جب کوئی برے اور بے ہودہ باتوں سے نہیں تھکتے تو میں اچھے کاموں سے کیسےتھک جاؤں۔۔۔ یہ تو میرے روزانہ کے معمولات میں شامل ہے۔۔۔
عوام ہر وقت انڈین فلموں اور گانوں کی باتیں کرتے ہیں۔۔۔ سیاستدان ایکدوسرے پر کیچڑ اچھا لتے دن گذاردیتے ہیں۔۔۔ ان کے کارکن اپنے لیڈرز کی حمدوثناء میں مصروف رہتے ہیں۔۔۔ لوگ پان تھوکنے سے,گندگی پھیلانے سے, ملک کی برائیاں کرکرکے ایکدوسرے سے بور نہیں ہوتے۔۔۔ حالانکہ وہ خود گواہ ہوتے ہیں کہ ان کی حرکتیں ٹھیک نہیں ہیں۔۔۔ اور یہ بھی نہیں کہتے کہ میں غلط کہہ رہی ہوں۔۔۔
ویسے پتہ ہے کیا۔۔۔ سارے اسکول کالج یونیورسٹیزکے پڑھے ہوؤں, دکانداروں, حتی کہ دینی مسٹنڈوں سے بھی زیادہ میں کس کا احترام کرتی ہوں۔۔۔ ندیم کا۔۔۔ عیسائی ہے اور پیشے کے لحاظ سے جمعدار۔۔۔ با لکل بھی پڑھا لکھا نہیں ہے۔۔۔ لیکن کھبی چھٹی نہیں کرتا سوائےاتوار کے۔۔۔ اوراگرکسی دن چھٹی کرے کسی وجہ سے تو اتوار کو آتا ہے۔۔۔ نظریں نیچی رکھہ کرکام کرتاہے۔۔۔ نہ جھانک نہ تانک۔۔۔ بلاوجہ بات نہیں کرتا۔۔۔ آتے جاتے دیکھے توسلام ضرور کرتاہے۔۔۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ بلاوجہ رشتے نہیں بناتا۔۔۔ جب میں پوچھوں آپ خیریت سے ہیں تو ہمیشہ مسکرا کر جواب دیتا ہے جی میڈم۔۔۔

ورنہ باقیوں کاحال۔۔۔ پڑھے لکھے جاہل۔۔۔ کسی ادارے میں چلے جائیں۔۔۔ چاہے حکومت کا ہو یا پرائیوٹ۔۔۔ کسی بھی پیشے سے ہو۔۔۔ مردوں کو تو پھر بھی سر یا جناب کہہ دیں گے۔۔۔ لیکن خواتین کو۔۔۔ یہاں تک کہ ٹی سی ایس کے ملازم بھی۔۔۔ کتنی دفعہ کتنوں کو ٹوکا بھی کہ پہلے بتاؤ میرا تمھاری ماں کی طرف سے رشتہ ہے یاباپ کی طرف سے۔۔۔ وہی ڈھیٹ قسم کے جوابات سننے کو ملتے ہیں۔۔۔ بھئی اپنے کسٹمرز کوپروفیشنلی بات کرلو۔۔۔ جیسے باہر ممالک میں کرتے ہیں۔۔۔ تیس تیس سال کے ہوجائیں گے مگر ننھے منے ہی بنے رہیں گے۔۔۔ دل چاہتا ہے ایسے ننھے کاکے بننے والے خواتین وحضرات کے رکھہ کے منہ پرماروں۔۔۔
پچھلے دنوں بیٹی کو پڑھانے کےلئے جو ٹیوٹر آئے اتفاق سے انکے آنے کاوقت وہ تھا جب ہماری بلڈنگ کاچوکیدار سو رہا ہوتاہے۔۔۔ انھوں نےیہ نوٹس بھی کیا اور کہہ بھی دیا۔۔۔ بیٹی نے مجھے بتایا کہ یہ کتنا سوتاہے اسکو پتہ ہے اسکی جاب کیا ہے۔۔۔ میں نے کہا کہ اسے چوبیس گھنٹےبلڈنگ میں رہنا ہوتاہے کب تک جاگےگا۔۔۔ کتنے کام روکے گا۔۔۔ لوگ رات ایک بجے تک آتے جاتے ہیں۔۔۔ صبح چھہ بجے سے اسکول کی وینز کے ہارن, بچوں کا شور, پانی کی موٹرچلانا, گاڑیوں کی صفائی۔۔۔ تنخواہ چارپانچ ہزار۔۔۔ بیس ہزار تنخواہ بھی ہوتب بھی سوئے گا تو, کھائےگا پئے گا۔۔۔

تین چار دن پہلے بازارگئی۔۔۔ ایک لیسز کی دکان پررکی۔۔۔ دکاندارایک چوبیس پچیس سالہ لڑکا تھا۔۔۔ کان سے ریڈیو لگائے انڈین گانے سن رہا تھا۔۔۔ میں نے پوچھا آپ پاکستانی گانے نہیں سنتے۔۔۔ کہنے لگا جی اکیلے میں سنتا ہوں۔۔۔ میں نے کہا یہ بڑی بد نصیبی ہےاسلام اور پاکستان کی کہ دونوں کے کام اکیلے میں ہوتے ہیںیا دل میں۔۔۔ مل کر,  اجتماعی طور پر, کھلےعام کرنےکے لئے بدمعا شیاں, انڈیا کو مالی فائدہ پہنچانا, انکی بد تہذیبی کی زبان فحاشی کو سپورٹ دینا۔۔۔ وہ میری شکل دیکھنےلگا۔۔۔ کیونکہ ہمارے ہاں گھر گلی محلوں خاندان میں بات کرنے اور آواز اٹھانے کارواج نہیں ہے۔۔۔ وجہ وہی پرانی۔۔۔ سبکے ایکدوسرے سے جڑے ہوئے مفادات۔۔۔ کسی خاص جگہ, خاص بیٹھک میں خاص موقع پر شوق پورا کیا تنقید کا اور پھر واپس آکر گھل مل گئے۔۔۔ اور سمجھنے لگے فرض پورا ہوگیا۔۔۔

مکہ کے تمام لوگ تو رسول کی اتنی عزت کرتے تھےکہ نبوت سے قبل بھی رسول سے فیصلے کرواتے تھے۔۔۔ رسول کے پورے خاندان کو کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے عزت ملی ہوئی تھی۔۔۔ لیکن ان کے یعنی مکہ والوں کے تہذیب کی قلعی اس وقت کھل گئی جب رسول کی طرف انھوں نے روک ٹوک دیکھی خاص کر بے ہودہ حرکتوں پر۔۔۔ زنا, شراب, شرک, سود, بے حیائی وغیرہ۔۔۔ رسول نے گروپ یا پاڑٹی بنا کر منبر پرتقریریں نہیں کیں۔۔۔ گھر خاندان گلی محلوں میں آواز اٹھائی۔۔۔ صرف تیئیس سال میں انقلاب لا دیا۔۔۔ بدترین ماحول کو بہترین بنادیا۔۔۔ بد تہذیبوں کو تہذیب کابانی بنا دیا۔۔۔
اور یہ تو آزمائی ہوئی بات ہے کہ جس عمل کو اخلاقی یعنی مورل سپورٹ مل جائے وہ بڑی تیزی سے پھیلتی ہے۔۔۔ عمل اور فعل میں شاید یہی فرق ہوتا ہے نا کہ فعل غیرارادی جبکہ عمل سوچ سمجھہ کر کیاجاتاہے۔۔۔ جیسےپلکوں کا جھپکنا فعل ہے لیکن آنکھہ مارنا عمل ہے۔۔۔ ہمارے ہاں کے تہذیب یافتہ اور باشعور پڑھے لکھے لوگوں نے جس جوش اور جذبے کے ساتھہ خاص کمیونٹیز کو سپورٹ دی ہے۔۔۔ بلا وجہ تو پراسٹیٹیوشن کو فروغ نہیں ملا۔۔۔ طوائفوں کو اس گندگی سے نکال کر عزت دینے کے بجائے اس گند کا دفاع شروع کردیا۔۔۔ اتنا کہ لڑکیوں اور خواتین کو یہ یقین ہوگیا کہ غربت اور مجبوری میں کوئی نہیں پوچھے گا البتہ زنا شراب اور بے حیائی کے درمیان سارے تہذیب کے ٹھیکیداراس کے حق میں آواز بلند کریں گے۔۔۔
کاش خود کو پڑھا لکھا سمجھدار تہذیب یافتہ سمجھنے والے کسی مثبت فیلڈ یا شعبہ میں چلے جاتے یا کوئی اخلاقی سپورٹ ہی دےدی ہوتی تو پاکستان میں وہ بھی اتنی ہی تیزی سے پھیلتی جیسے شراب زنا بے حیائی۔۔۔۔

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: