Qissa Alif Laila

سمجھہ سمجھہ کے بھی جو نہ سمجھے۔۔۔ میری سمجھہ میں وہ نا سمجھہ ہے۔۔۔۔۔۔ اور وہ میں ہوں۔۔۔

پرانے زمانے میں شام یارات کے وقت قصے سننے سنانے کا رواج ہوا کرتا تھا۔۔۔ پاکستان میں یہ رواج آج تک قائم ہے۔۔۔ حج جیسے رکن کے ہوتے ہوئے لاکھوں لوگوں کا رائیونڈ میں اجتماع۔۔۔ کیا حج تزکیھ نفس, استغفار کے لئے کافی نہیں۔۔۔ ساری دنیا کے مسلمان وہاں موجود ہوتے ہیں۔۔۔
حج مسلمانوں کی بین الاقوامی سو شلائزیشن ہے۔۔۔ چھو ٹے لیول پر اجتماعیت کے لئےپانچ وقت باجماعت نماز, جمعہ کی نماز, نماز عیدین کافی ہیں۔۔۔ مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہی ملک میں تین دن کے لئے سب سے کاٹ کر آخر کونسا دین سکھایا جاتاہے۔۔۔ جو باتیں انسان خود پڑھ سکتا ہواسے قصہ الف لیلی کی طرح مزے لے لے کے سنانا۔۔۔ اور یہ سمجھنا کہ لوگ سچے پکے مسلمان بن گئے۔۔۔

رائیونڈ میں تین چار دن میں کونسا تیر مار لیتے ہیں۔۔۔ وہاں رہ کر کھایاپیا۔۔۔ اچھی اچھی باتیں سنیں اور واپس آکر دنیا میں مگن۔۔۔ آج تک تو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ رائیونڈ سے واپس آکر میں نے پان کھانا چھوڑ دیا۔۔۔ جگہ جگہ پان تھوکنے کی غلیظ و قبیح وبے ہودہ عادت سے توبہ کرلی ہے۔۔۔ آج کے بعد میرےمحلے میں کوڑانظر نہیں آئے گا۔۔۔ عہد کیا ہےکہ ٹریفک کے قوانین نہیں توڑوں گا۔۔۔ اکیلا بھی ہوں تو قطار کے اصول نہیں توڑوں گا۔۔۔ اگر میرا کاروبار ہے تو جھوٹ بول کر سودا نہیں بیچوں گا۔۔۔ یا یہ کہ میں نے عربی زبان کے یہ اصول سیکھے۔۔۔ قرآن کی فلاں سورتیں یاد ہوگئیں۔۔۔ اب میں اس قابل ہوں کہ خوداپنے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا سکتا ہوں۔۔۔ یا کوئی سوچ لے کےآیا ہو کہ اسلامی ویلفئیر یا عوامی فلاح وبہبود کا نظام کیسا ہونا چاہیے۔۔۔ اور گھر واپس آکر بیوی بچوں کو اس بارے میں بتایا ہو۔۔۔وغیرہ وغیرہ
باقی کردار سازی تو ایک طرف علم بھی سننے سنانے کی حد تک ہوتا ہے۔۔۔ پڑھنا لکھنا آتا ہو تو ہر طرح کی معلومات ہر جگہ موجود ہیں۔۔۔ اگر علم حاصل کرنے سے دلچسپی ہو تو اب یہ اتنا مشکل نہیں۔۔۔ اور رائیونڈ جیسی ڈرامہ بازیوں کی ضرورت بھی نہ پڑے۔۔۔ قرآن کے وسیع علم کو فضائل اعمال اور چند کتابوں تک محدود کردینا خود قرآن کے ساتھہ کتنا ظلم ہے۔۔۔ گھر کی خواتین اور بچوں کوتین چار دن دوسروں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دینا انکے ساتھہ ناانصافی ہے۔۔۔ تین چار دن کاروبارپٹ کردینا جبکہ زیادہ تررائیونڈ کے زائرین روزانہ کے کمانے والے ہوتے ہیں۔۔۔ پہلے ہی ان کا گذارا مشکل سے ہو رہا ہوتا ہے انکے خاندانوں کے ساتھہ ظلم ہے۔۔۔ اور آگے کونسی ملک کی معاشی صورتحال اچھی ہے۔۔۔

جو زائرین رائیونڈ کی جانب سفر کرتے ہیں ان کے دوران سفر مشغولیات انکی  معاشی استحکام اور پیشے کے حساب سے ہوتے ہیں۔۔۔
کاش مسٹر طارق جمیل اور جنید جمشید صاحب زائرین کے لئے شرائط رکھیں اور انھیں کچھہ کام یعنی اسکلز کی طرف راغب کریں ورنہ ہلے گلے, نعرہ بازی اور مسکراہٹوں کےتبادلے کے لئے تو کعبہ میں بھی لوگ جمع ہو تے تھے ۔۔۔ زمانہ جاہلیت میں۔۔۔

علم و عمل میں ساری بات دلچسپی کی ہو تی ہے۔۔۔ علم سے دلچسپی تو اسطرح ختم کی گئی کہ ذہنوں کو محتاج بنایا گیاکہ اسکول کالجز کے بغیرتعلیم حاصل کی ہی نہیں جا سکتی۔۔۔ پھر تعلیمی نظام میں اوپر سے نیچے تک جاہل لوگ آگئے۔۔۔ ایسے استاد یا استانی کو کیا کہیں گے جس کو شاید پڑھانا اچھا آتا ہو۔۔۔ علم بھی اسکے پاس بہت ہو۔۔۔ لیکن ہڑتال کی کال وہ جب ہی دے جب تنخواہ رکے۔۔۔ تعلیمی اداروں کی حالت اور پجوں کے اخلاقیات پر ان کا کوئی دھیان نہ ہو۔۔۔ اور ماشاءالله ہمارے ہاں کے والدین کونسا مطالبہ کرتے ہیں اسکا۔۔۔ اور اگر یہ کہیں کہ پہلے کے استاد اچھے ہوتے تھے تو انکے زیر سایہ کتنے بچے اچھی سوچ کے ساتھہ بڑے ہوئے۔۔۔ خود ان اچھے استادوں کی اولادیں کیسی نکلیں۔۔۔ اگر پہلے تعلیمی نظام اچھوں کے ہاتھہ میں تھا تو یہ بربادی اچانک کہیں سے آئی۔۔۔ آج جو بڑے ہیں وہ کس کے زیر سایہ پلے۔۔۔ کون سے معاشرے میں بڑے ہوئے۔۔۔
ہاں انفرادی طور پرلوگ اچھے رہے ہوں گے۔۔۔ لیکن صوفیوں کی طرح کونے میں گھس کر الله  الله کرنا یا مجمع جمع کرکے پرانے قصے سناناتو اسلام کا مقصد نہیں تھا ورنہ رسول تو غار حرا میں جاکر بیٹھہ گئے تھے۔۔۔۔ واپس بھیجے گئے نظام تبدیل کرنے کے لئے۔۔۔ روٹی, کپڑے اور مکان کے وعدے پر نہیں۔۔۔ نہ ہی اس اختیار کے ساتھہ کہ ہر ایرا غیرا حکومت میں پہنچ سکتاہے۔۔۔ کسقدر گھٹیا سوچیں ہے یہ کسی انسان کو دینے کے لئےاور کسی قوم کی ذہنی پستی کیا ہو گی کہ وہ اس پر لبیک بھی کہے۔۔۔ اوراس قوم کے مصنف شاعر دانشور فنونی لطیفے ان سوچوں کو کوٹ کوٹ کر ذہنوں میں بٹھائیں کہ یہی تمھاری زندگی کا مقصدہے۔۔۔

اس قسم کی سوچوں کو  پھیلانے کے لئےسیاستدانوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔  وہ تو خیرہیں ہی مجسم لعنت و پھٹکار۔۔۔ جن سے جان ومال کی قربانیاں دے کر آزاد ہوئے۔۔۔ قوم کو واپس انھی پر انحصار کرنا سکھاتے ہیں۔۔۔ قوم کون سی  کم ہے۔۔۔ ہر گھر میں ماں باپ اپنے بچوں کو یہی بصیرت دیتے ہیں کہ زندگی علم اور محنت کامقصد روٹی کپڑا مکان اور اختیارات کا حصول۔۔۔۔

چند دن پہلے ایک خاتون سے ملاقات ہوئی۔۔۔ ان کی ایک بیٹی میٹرک میں دو مرتبہ فیل ہو ئی تو اب انھوں نے سوچا ہے کہ اسے مدرسے میں ڈالیں گی۔۔۔ مدرسے فیلئیرز یعنی ناکام و مراد لوگوں کی جائے پناہ بن جاتے ہیں شاید اسی لئے عطیات وصد قات سے آگے سوچ بڑھتی نہیں ان کی۔۔۔

آج چھہ سال ہو گئے۔۔۔ عاشقان رسول کے گرو پ میں سے ایک نے آج تک میری وہ رقم نہ لوٹائی جس پر خود انھوں نے میرا حق تسلیم کیا۔۔۔ بیوی انکی مدرسہ کھول کے دھڑادھڑ حفاظ تیار کر رہی تھیں۔۔۔ بقول ان کے وہ میلاد کے منتظم اعلی تھے۔۔۔ یقینا  وہ سمجھتے ہوں گے کہ میلاد ان کے لوٹ مار کو بخشواسکتا ہے۔۔۔ حالانکہ میں نے سنا ہےشہید پر بھی کسی کا لینا دیناہوگ تو جنت کے باہر ہوگا۔۔۔ یہ تو تھے سنی عاشقان رسول۔۔۔
اور عاشقان حسین وعلی نے کیا کیا۔۔۔ زینب کے نام پہ دھوکہ دیا۔۔۔ اب یا تو جھوٹی جھوٹی کہانیاں سنا کر مظلوم بن کررقم واپس لی جائےیاپھر زینب وسکینہ کی طرح صبر کیا جائے۔۔۔ کیونکہ ان کا بھی محرم آگیا ہے۔۔۔ حسین کا ماتم کر کے اپنے یزیدی اعمال بخشوا لیں گے۔۔۔
خلاصہ یہ کہ مدرسہ, میلاد, مجالس, ماتم, اجتماع, درس۔۔۔ دینی لوگ سب کچھہ کر لیں گےمگر عدل وانصاف, حقوق وفرائض, ذمہ داریاں کیا ہوتاہے یہ نہیں سکھائیں گے۔۔۔
اور خوش فہمیاں کہ سنیوں کو رسول اور ایسےشیعوں کو علی اور حسین  بخشوائیں گے۔۔۔


About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

2 Responses to Qissa Alif Laila

  1. ahkath says:

    My dear sister, I am afraid that in some of your statements you’ve gone out of control and stated things totally against the reality. I would only say that you must go in deep and research about these people, who go to Raiwind and/or for their self-correctness (Islaah-o-Tarbiyat, and not for Tableegh-e-Islam) and then come up with the factual.

    • Rubik says:

      Respected Brother AHK…jis mulk main lakhon log her saal Hajj bhi karain aur itnay hi Raiwind kay Islaah-o-Tarbiyati program join karain, Tanzeem-e-Islami and Jamat-e-Islami kay anuunal conventions bhi attend karain….. wo mulk Pakistan ki tarah badqismat nahi hota kay din ba din badhali ki taraf jaye. Lakhon logon ko hur saal jamaa kerna talent zaroor hay magar ye sub zero hay agar sahih tareeqay kay mutabiq na ho kiyon kay is ka result ulta nikalta hay….jaisa kay Pakistan main ho raha hay. Roads and homes to chorain yahan to mosques ki badhali dekhnay kay qabil hay, religious khawateen is qabil nahi kay peer ya aalim ka ijazat kay baghair apnay hi bachay ko Qur’an perha sakin.
      JIS QUR’AN NAY AZADI DILAI USI KO QAID KER DIAY?????

      I know some people who visit Raiwind every year. There might be some exceptions, some may return with the change in actions but usually this change is limited to observe the five pillars of Islam.
      1) I mean for me it’s a kind of waste of time, money and energy to travel just to learn and be convinced to follow five pillars of Islam while that information is found everywhere. Even non-Muslims have played their role in convincing us about our form of worships by their scientific research. Since science is considered kufr in those religious circles but very proudly these maulvis and so-called maulanas refer to those non-Muslims and their scientific work to convince their own followers. So sometimes they have to depend upon kafirs and their kufr to persuade Muslims. Is that called strategy or hypocrisy?

      2) Parents’ training, Friday sermons, Hajj khutbas and regualr schooling (in a madrassah or school)….isn’t that enough for Islah-o-tarbiyat? What goodness do they come back with, few thoughts that oh yeah, every year I travel far, spend my money and time to be convinced that I have to pray five times, even Ishraaq, awwabain, tahajjud? What about obligations? Daughter’s traning and eduction? Scientific knowledge? building Islmaic welfare system? Who’s gonna do that?
      I’m sorry brother but I have never seen those pilgrims of Raiwind discussing these issues. They are not even allowed to hold Qur’an and read the translation without scholar’s permission. While non-Muslims (may be because they are well-trained by their non-Muslim parents and are good at civility🙂 ) just pick up Qur’an, read translation and they become a better Muslim. Look at Humza Yusuf and Imam Zaid Shakir, how they worked hard to include Islam in their regular schooling…in a non-Muslim country.
      Why don’t these pilgrims of Raiwind come back with a thought of becoming a good citizen?
      About women, they strictly believe that they have to stay home or be tented from top to bottom otherwise they can become dangerous and can shake the building of Iman of pious men in our society. Yeah, and their covered women, what do they do sitting home, pretend begum sahiba, send their children to school and then for hifz or Qur’anic knowledge and on facebook they play useless games.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: