Common Muslims

“There shall be no compulsion in religion: the right way is now distinct from the wrong way.  Anyone who denounces the devil and believes in God has grasped the strongest bond; one that never breaks, God is All-Hearer, The Omniscient”…Surah Al-Baqarah/The Cow 256

زمانہ, نسل, قوم, اورعلاقوں کو ہٹاکر خاتم الرسل اور خاتم النبیین محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے پہلے  کے زمانے تک کی انسانی تاریخ پڑھیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ ہر دورمیں فساد ظلم اور خونریزی کی وجوہات کیا تھیں۔۔۔ ہر دورمیں انسان تین بنیادی کرداروں میں تقسیم نظرآئیں گے۔۔۔ حکمران و امراء اور ان کا دفاع کرنے والےجو کہ ہمیشہ ظالم رہے, مختلف طبقات میں بٹی ہوئی عوام جو کہ ہمیشہ مظلوم کہلائی اور اس عوام کو ظلم سے نجات دلانے والے نجات دہندہ یعنی رسول وانبیاء اور انکے حواری یا اور کوئی بھلے لوگ۔۔۔ آسمانی کتابوں کے نزول کی وجہ بھی عوام کی بھلائی تھی کیونکہ وہی مظلومیت پر رویا گایا کرتے تھےیا یہ کہ کوئی نظام ہوتا تو ہم پیروی کرتے فلاح پاتے ابھی تو ظالموں کی وجہ سے مجبور ہیں۔۔۔ ورنہ تمام پیغمبر تونبوت سے پہلے بھی نیک فطرت اورنیک سیرت ہوتے تھےجبھی تو انکواتنی اہم ذمہ داری سونپی جاتی تھی۔۔۔ رہے ظالم حکمران وامراء اور انکے ساتھی کی اقلیت تو وہ ہدایت پا جائیںتو ٹھیک ورنہ انھوں نے جھنم کا ہی راستہ اپنایا ہوا تھا۔۔۔ بڑے سے بڑے معجزے بھی انھیں قائل نہ کرسکے۔۔۔۔

جسطرح تمام پیغمبروں کا پیغام ایک ہی تھا یعنی ایک رب کی غلامی ۔۔۔ ان کا طریقہ ایک ہی تھا یعنی عدل, مساوات, رحم۔۔۔ مقصد ایک ہی تھا امن, عدل, خوشحالی۔۔۔۔۔۔ اسی طرح الله اور رسول کے مخالفین کا پیغام ایک ہی تھا یعنی طاقتور انسان کی غلامی۔۔۔ طریقہ ایک ہی تھا یعنی ظلم, جبراور خود غرضی۔۔۔ مقصد ایک ہی تھا الله سے بغاوت اور شیطان کی پیروی۔۔۔ انکےدرمیان میں رہ گئے عام عوام جن کی دلچسپیاں اورخواہشات نہیں بلکہ اعمال بتاتےہیں کہ وہ ان دونوں میں سے کس قسم کانظام چاہتے ہیں۔۔۔ لہذا رسول الله کی حدیث کا مفہوم ہے کہ جیسے تمھارے اعمال ہونگے تم پر ویسے ہی حکمران ہونگے۔۔۔

“If you reject ((Allah)), Truly Allah hath no need of you; but He liketh not ingratitude from His servants: if ye are grateful, He is pleased with you. No bearer of burdens can bear the burden of another. In the end, to your Lord is your Return, when He will tell you the truth of all that ye did (in this life). for He knoweth well all that is in (men’s) hearts”….Surah Az-Zumr/The Troops, 7…

عام انسانوں کی اکثریت نےہمیشہ بادشاہوں, حکمرانوں, سیاستدانوں, جاگیرداروں, سرمایہ کاروں کا ساتھہ دیا یاپھر اپنے اپنے زمانے کے مولویوں کے دامن میں پناہ ڈھونڈی۔۔۔ حالانکہ ہرقوم نےاپنےحکمرانوں پر ظلم وزیادتی, معاشی و سماجی استحصال اورآمرانہ طرز حکومت کے الزامات لگائے۔۔۔ اپنے لئے بھلائی, عدل و انصاف, خوشحالی اور امن کی دعائیں مانگیں۔۔۔ اور جب بھی خدا نے ان کی پکار اور آہ وزاری کے صلے میں ایسے نظام کو قائم کرنے کے لئے اسی قوم کے بہترین لوگوں کو چنا تاکہ لوگوں کی یہ شکایات دور ہو جائیں تو پھر وہی عوام اپنے نبیوں اور رسولوں کے خلاف کھڑی ہو جا تی تھی۔۔۔ ہرقوم کی اکثریت کا اعتراض یہ ہوتا تھا کہ  وہ انکے معاشرے  میں رچی بسی قدیم رسم و رواج اور خاندانی, قبائلی, نسلی  یا مذہبی روایات کو ختم نہیں کرنا چاہتے۔۔۔ انکو یہ نکتہ کبھی سمجھہ نہیں آیاکہ یہ بلاوجہ کے رسم و رواج اور خاندانی, قبائلی, نسلی  یا مذہبی روایات ہی تو وہ ہلہ گلہ ہیں جس کو بنیاد بنا کر یہ بادشاہ, خلیفہ, حکمران, سیاستدان, , جاگیردار, سرمایہ کار اور کسی بھی قوم کے دینی اجارہ دار ظلم وزیادتی, معاشی و سماجی استحصال کا بازار گرم رکھتے ہیں کیوں کہ انھیں سب چیزوں کی وجہ سے تو ان کی حکمرانیاں, اجارہ داریاں اور عیاشیاں قائم ہوتیں ہیں۔۔۔ اور ایک بات جس کا انھیں سو فیصد یقین ہوتا ہےوہ یہ کہ عوام کبھی بھی رسم و رواج اور  خاندانی, قبائلی, نسلی  یا مذہبی روایات  کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کریں گے۔۔۔ اپنے اوپر ظلم وزیادتی برداشت کرلیں گے اور انکی عیاشیوں کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھائیں گے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ آباؤ اجداد کے رواج, نسل, رنگ, زبان, مذہبی عقائد کو بنیاد بنا کر عام انسانوں کو وہ بڑی آسانی سے پیغمبروں, رسولوں یا کسی بھی ایسےبھلے شخص کے خلاف ورغلا لیتے تھے۔۔۔ لوگ ان تمام چیزوں کی محبت میں اتنے بے عقل ہو جاتے تھے کہ یہ بھی نہیں سوچتے تھے کہ جس شخص کے پیغام کو وہ رد کررہے ہیں وہ انھیں میں سے ہے اور وہ خود اسکے بہترین کردار کے گواہ ہیں۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ شخص بے غرض اور پر خلوص ہے اس کا ساتھہ نہیں دیتے تھے۔۔۔ کچھہ کشمکش میں ایک جانب ہو کر تماشہ دیکھتے کہ دیکھیں یہ شخص سچا ہو نے کے باوجود رائج الوقت نظام کے خلاف کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔۔۔اکثریت کا رد عمل دیکھتے۔۔۔ بہت ہی کم لوگ ہوتے جو نظام بدلنے والے کا ساتھہ دیتے۔۔۔

انسانی تاریخ میں عوامی اکثریت کا یہ رویہ ہی وہ اصل وجہ ہے جسکی وجہ سےبہت سےرسول اور انبیاء دنیا میں امن اور عدل کا نظام قائم نہ کرسکے۔۔۔ موسی علیہ السلام جیسے عظیم پیغمبر کو تو شریعت رکھنے اورعوامی مطالبہ پرایک کے بعد معجزات دکھانے کے باوجودان کی قوم دغا دے گئی۔۔۔ کسی نبیوں کو قتل کیا گیا کسی کو سولی دے دی گئی تقریبا سب نے ہی اپنے قوم کے بہترین کردار والے لوگوں کو اذیتیں دیں انھیں ناکام کرنے کی آخری حد تک کوششیں کرڈالیں۔۔۔ بہت سی قوموںپرانکے پیغمبر اور چند ایمان والوں کو نکال کرعذاب بھی نازل کئے گئے۔۔۔ لیکن انکے بعد آنے والوں نے کوئی سبق نہ سیکھا۔۔۔
عام لوگ یہ سمجھے بغیر کہ انسانی تاریخ میں ان جیسی عوام سے کہاں غلطیاں ہوئیں تھیں  اپنے دور کے نظام کو بدلنے کے بجائے پچھلے زمانوں کے ظالم اور نجات دہندہ کے درمیان جنگ کے قصوں کے مزے لیتے رہے۔۔۔ عیسی علیہ السلام اور محمد صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کےدرمیان بھی چھہ سو سال کا وقفہ تھا۔۔۔ اور شاید جب تک دنیا بھر کے لوگ مایوس ہو چکے تھے کہ دنیا کے کسی حصے میں بھی امن, عدل اور خوشحالی عام انسان کا مقدر بن سکتی ہے۔۔۔ وہ انسان جن پر فرشتے اور کتابیں نازل ہوں وہ بھی اپنے تمام تر معجزوں کے باوجودانکے نجات دہندہ نہیں بن سکتے۔۔۔ ظلم کا ہاتھہ نہیں روک سکتے۔۔۔ رسول الله کے دور میں عوام الناس جتنی مظلوم تھی اس سے کہیں زیادہ مایوس اور بزدل تھی۔۔۔ انفرادی طور پر نیک سیرت اور صالحین لوگ ہر دور میں موجود رہے لیکن وہ ظلم کے خلاف ایک قوت نہیں بن پاتے تھے۔۔۔ ایسے حالات میں انکے اعلان نبوت کا کیا حشر ہونا تھا اور معجزوں کا کیا اثر ہونا تھا۔۔۔ لیکن اگر ان حالات میں بھی کوئی تیرہ سال کے تعارفی وتربیتی پروگرام کے بعد دس سال کے عرصے میں امن, عدل اور خوشحالی کا نظام قائم کرکے دکھادے تو خاتم المرسلین وانبیین ہونا اسکا حق بنتا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ شخص مسئلہ تو حل کرچکاتھا۔۔۔ انفرادی طور پر نیک سیرت اور صالحین لوگ کس طرح ظلم کے خلاف ایک قوت بن سکتے ہیں۔۔۔ عام انسان کو یہ تصوراوراعتماد دینا کہ چاہیں تو نظام کو کس طرح بدل سکتے ہیں۔۔۔
مسئلہ یہ نہیں کہ اگر اسلام اتنا ہی پاکیزہ اورطاقتوراور مکمل مذہب تھا تو آج مسلمان اس ذلت کے حال تک کیسے پہنچے۔۔۔ دنیا میں کوئی نظام اگر قائم تھا یا ہے۔۔۔ اچھا یابرا۔۔۔ تو اس لئے کہ عوام کی اکثریت اس کے حق میںتھی یا ہے۔۔۔ آخری عہد رسالت اس بات کی گواہی ہے کہ عوام مجبور, بے بس اور غریب نہیں ہوتے۔۔۔ رسول کے وصال کے بعد جیسے جیسے عوامی مزاج تبدیل ہوتا گیا معاشرے میں بے چینی اور سازشیں بڑھتی گئیں یہاں تک کہ صرف اکیاون سال میں نہ صرف خلافت راشدہ کا خاتمہ ہوا بلکہ آدھی دنیا پر پھیلی ہوئی اسلامی حکومت کے عوام کربلا جیسے واقعے سے بھی بے خبر رہے۔۔۔  ظلم سے بچانے والوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھا دئے گئے۔۔۔ کس کو فرصت تھی کون تحقیقات کا اور انصاف کا مطالبہ کرتا۔۔۔ اصل مسئلہ تھاعام مسلمانوں کا مقصد حیات۔۔۔ روٹی, کپڑا, مکان, اختیارات کا حصول, اعزازات کی طلب۔۔۔  یہ وژن ہوگیا تھا اور یہی تباہی کے لئے کافی تھا۔۔۔
عہد رسالت کے بعد کے تیرہ سو سالوں میں اور خاص طور پر سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جب مسلمان اپنے سیاسی اور دینی رہنماؤں سے مایوس ہو چکے تھے۔۔۔ مسلمانوں کے علاقے اکثریت ہونے کے باوجود غیر قوتوں کی ملکیت بن گئے۔۔۔ آزادی کے لئے لڑی گئی جنگیں بھی کوئی حل نہ دے سکیں۔۔۔ ایسے میں ہندوستان میں سر سید احمد خان کا مسلمانوں کوایک قوم ہونے کا احساس دلانا۔۔۔ پھر علامہ اقبال کا دو قومی نظریے کی بنیاد پرمسلمان ریاست کے قیام کا تصور پیش کرنااور اس کے لئے صحیح قائد کاانتخاب کرنا۔۔۔ عام مسلمانوں کا اس پر لبیک کہنا۔۔۔ پیغمبر کے جسمانی طور پر موجودہوئے بغیردنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست عام مسلمانوں کے حقوق کے نام پربھی حاصل کی جاسکتی ہےاسطرح کہ اس کا نظام امن, عدل اور خوشحالی پر مبنی ہو۔۔۔  مسئلہ حل کر دیا اقبال نے۔۔۔ مایوس کن حالات میں مسلمانوں کو ایک سوچ دی۔۔۔ ایسی سوچ جو قابل عمل تھی۔۔۔

جسطرح مسلمانوں کی تباہی میں اسلام, قرآن اور رسول کی کوئی غلطی نہیں۔۔۔ اسی طرح پاکستانیوں کی ناکامی کا سبب پاکستان, نظریہ پاکستان, اقبال اور قائداعظم نہیں۔۔۔۔۔۔ دونوں کی ذلت کی وجہ بد نیتی, بد اعمالیاں, غیر دلچسپی یا غفلت ہیں۔۔۔

“Wherever you are, death will find you out, even if you are in towers built up strong and high… If some good befalls them, they say, “This is from Allah” but if evil, they say, “This is from thee” (O Prophet). Say: “All things are from Allah.” But what hath come to these people, that they fail to understand a single fact?…. Whatever good, (O man!) happens to you, is from Allah. but whatever evil happens to you, is from your (own) soul…and We have sent you (O Muhammad) as an apostle to (instruct) mankind. And enough is Allah for a witness”….Suran An-Nisa/The Women, 78/79

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: