Parenting

“The Day that the sky will be like molten brass, and the mountains will be like wool, and no friend will ask after a friend, though they will be put in sight of each other.  The sinner’s desire will be:  Would that he could redeem himself from the Penalty of that Day by (sacrificing) his children, his wife and his brother, his kindred who sheltered him, and all, all that is on earth,- so it could deliver him:….Surah Al-Ma’arij/The Ascending Stairways, 8-14

“That Day shall a man flee from his own brother, and from his mother and his father, and from his wife and his children.  Each one of them, that Day, will have enough concern (of their own) to make him indifferent to the others”….Surah Abasa/He Frowned, 34-37

سورہ المعارج اور سورہ عبس کی ان آیات کے مطابق روز جزا بھا گے گا اپنے گھر والوں سے, رشتہ داروں سے, دوستوں سے۔۔۔ اور چاہے گا کہ ان سب کو فدیہ میں دے کر اپنی جان بچالے۔۔۔ جبکہ یہاں بنا سوچے سمجھے ایکدوسرے کا ساتھہ دیا جاتا ہے۔۔۔ زرداری, نواز شریف اور دوسروں پر کرپشن کا الزام لگانا بہت آسان ہے۔۔۔ لیکن اپنے گھر, خاندان , رشتہ داروں اور دوستوں کو یا جن سے روزانہ ملنا جلنا ہوتا ہے کرپشن پر ٹوکنا بہت مشکل۔۔۔ حالانکہ ابتداادھر سے ہی ہونی چاہئے۔۔۔

جسطرح ایک کتیا, بلی, بکری, گدھی, گھوڑی, بھالونی, شیرنی وغیرہ بچے دیتی ہیں انھیں دودھ پلاتی ہیں اور ذرا وہ چلنے پھرنے ہلانے جلانے کے قابل ہوئے انھیں زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں اور پھر وہ بچے کسی دوسرے طاقتور جانور کے ہتھےچڑھ جائیں یا کسی اور کے ظلم کانشانہ بن جائیں یا کسی نہ کسی طرح اپنی ز ندگی کا لکھا ہوا وقت پورا کرجائیں تو یہ سب انکا نصیب۔۔۔البتہ اگریہ جانور کسی انسان کے قابو آجائیں اور اپنے مالکوں کی مرضی کے مطابق انکا دل خوش کردیں وہ جو سکھائیں سیکھہ لیں جو کہیں وہ کریں تو انکی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔۔۔ وہ مالک کھانا بھی دیتا ہے صاف بھی رکھتا ہے لوگوں میں تعریف بھی کرتا ہے خطرات سے بھی بچاتاہے۔۔۔

کچھہ ایسا ہی حساب کتاب انسان کا بھی ہے اپنے رب کے ساتھہ۔۔۔ الله کو مالک مان کر اس کو راضی کرلے جو وہ کہے وہ کرے تو اس نے وعدہ کیا ہے کہ رزق بھی دیگا, عزت بھی اور دشمنوں سے حفاظت کریگا۔۔۔ اور جو اپنی مرضی سے رہنا چاہے تو اپنی ذمہ داری پررہے۔۔۔

لیکن انسان اور جانور میں ایک فرق قائم کیا جاسکتا ہے اور جسے تہذیب یافتہ قوموں کی اکثریت نے کبھی کیا تھا اور انفرادی طور پر اب بھی کچھہ جگہ موجود ہے اور وہ ہے اپنی اولاد کی قدم بہ قدم رہنمائی, لمحہ بہ لمحہ تربیت۔۔۔۔۔۔  شوہر اور بیوی کی یہ منصوبہ بندی کہ اس پیدا ہوئے بچے کو الله کابندہ سمجھہ کے, ملک وقوم کی امانت سمجھہ کے پالنا ہے۔۔۔ دوسروں پر بوجھہ بنے بغیر۔۔۔ اور شوہر اور بیوی میں سے کوئی ایک بھی لاپرواہ ہو تو دوسرے پر ذمہ داری کا بوجھہ بڑھ جاتا ہے لیکن پھر بھی اس نے یہ ذمہ داری نبھانی ہے۔۔۔ اپنے اور معاشرے کے بہترین مفاد میں۔۔۔ کیونکہ دونوں یاکوئی ایک یہ ذمہ داری نہیں نبھاتے تو اسکا بوجھہ گھر سے باہر معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔۔۔ یا تو اولاد برے لوگوں میں پھنس کر برائی میں اضافے کاسبب بنتی ہے یا رحمدل اور مخیر حضرات کے احسانات تلے بڑی ہو جاتی ہے۔۔۔ دونوں صورتوں میں وہ مکمل شخصیت نہیں بن پاتی جو معاشرے میں کوئی اہم کردار ادا کرسکے۔۔۔

بے جان برش اٹھا کر بے جان کاغذ پر تصویریں بنادینا, بے جان مٹی کو اپنی مرضی سے کوئی شکل دے دینا یا بے جان چیزوں سے کوئی شاہکار تخلیق کردینا شاید آسان ہوتا ہے بلکہ جانور کو ٹریننگ دینا بھی آسان ہوتا ہے ۔۔۔ بہ نسبت ایک جاندار معصوم بچے کی تربیت کرنے کے۔۔۔ انسان کے بچے کو چند محدود الفاظ سکھا کر یا کچھہ کرتب سکھا کر جان نہیں چھڑا سکتے۔۔۔

انسان کی تربیت اسطرح کرنا کہ اسے اپنا انسان ہونا بھی یاد رہے, دوسری مخلوقات کا اوراپنا فرق بھی یاد رہے اور یہ کہ اسے ان سب کے ساتھہ ملکر متوازن زندگی کسطرح گذارنی ہے۔۔۔ اصل مصوری اورفن تو یہ ہے۔۔۔ اور یہ کمال محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم نے کرکے دکھادیا تھا۔۔۔ اب یہ مسلمانوں کی بد نصیبی کہ یہ توازن برقرار نہ رکھہ سکے۔۔۔ اور حاصل کئے ہوئےملک, دولت, عزت سب گنوادیا۔۔۔

انفرادی طور پر بہت سے والدین نے اچھی اولادیں معاشرے کو دیں مگر وہ کو ئی تبدیلی نہ لاسکیں۔۔۔ شاید اسلئے کہ انکی اچھائی کی حدود یہ تھیں کہ ان کے آس پاس کے لوگوں نے انھیں پسند کیا تعریف کی حوصلہ افزائی کی اور بس۔۔۔ زیادہ یہ ہوا کہ جو بنے بنائے بگڑے ہوئے سسٹم میں سے نکل کے دکھانے کا کرتب دکھادے وہ کامیاب۔۔۔۔۔

قومی یکجہتی کا تصور, قوم کے مخلص لوگوں کے احسانات کا احساس اور انکا احسان چکانا,  دنیا میں کہیں بھی رہتے ہوئےملت کے ساتھہ رابطہ استوار رکھنا, اور سب سے بڑھ کر اپنی کامیابی میں جو دوسروں کا حق ہو وہ ادا کرنا۔۔۔ یہ شاید بہت کم ہوا۔۔۔۔۔۔ اور انفرادی ترقی اور کامیابی صرف وقتی ہوتی ہے اتنی کہ جب تک کوئی اور کسی اور تماشہ کے ساتھہ سامنے نہ آجائے۔

 

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: