Assembling National Ties

How can we as a Muslim and a Pakistani can disassociate ourselves from all the problems and challenges?  Men and women, both are subjected to take interest in knowing them, discussing them and solving them.  Keep thinking, keep experiencing, keep learning, what else are we ought to do?  The world is an audience right now, we are honoured with tons of trials so show them how we solve our problems.  Let the world witness our performance.  Running away is not a permanent solution, it’s just like changing the place and kind of trials by choice.  That’s it.  If Harun Yahya can call out for Turkish Union, why not us for united Pakistan and then the other Muslim countries also follow the trail.  It would be better to get rid of old, failed foreign philosophies and theories and discourage the people who propagate them.  They have played enough with our intellect and wisdom.  These people in our society are a big challenge for us to deal with, as big as to deal the Islamic extremists and religious ignorant.  We need to stick to our own ideologies and work on their revival.

مسلمانوں کو دنیا کا امام بنایا گیا ہے۔۔۔ لہذا لاتعلقی کا تو سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔۔۔ مسلمان مرد ہو یا عورت۔۔۔ دنیا کا ہر مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے لہذا ٹانگ تو اڑے گی, سوال بھی ہونگے, جواب بھی تلاش کئے جائیں گے, دنیا کو لاوارث کیسے چھوڑدیں بھئی… اس ذمہ داری کا اعزازملا ہے۔۔۔ ایسے ہی بیٹھہ جائیں چپ کرکے۔۔۔ علامہ اقبال نے کہا۔۔۔ جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں, ادھر ڈوبے ادھر نکلےادھرڈوبےادھر نکلے۔۔۔ تو اہل ایماں بمقابلہ شیطانی قوتیں… وقت فرصت کا ۔۔۔ چین سے بیٹھنے کا تو سوال ہی نہیں۔۔۔

سب سے پہلا کام تو ہونا چاہئے سوچ بدلنے کا۔۔۔ کسی کی سوچ بدلنے سے پہلے اپنی سوچ بنانی پڑتی ہے۔۔۔ خود کو مطمئن کرنا پڑتا ہے کہ آخر زندگی کس لئے ہے کیا کرنا ہے۔۔۔ منہ سے نکلی بات ہوا پر سفر کرتی رہتی ہے۔۔۔ چاہے اچھی ہو چاہے بری۔۔۔ سو بھی سنیں تو کوئی تو یاد رکھے گا یا آگے بڑھائے گا۔۔۔ اگراچھی بات منہ سے نہیں نکالیں گے تو برے لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔۔۔ دنیا ہنگاموں کی جگہ ہے۔۔۔ بری آوازیں منہ سے نکلیں گی اور ماحول پر اثر انداز ہوں گی۔۔۔

پڑھے لکھے شخص کے لئے کوئی مشکل نہیں کہ خود قرآن کاترجمہ پڑھے۔۔۔ سارے ترجمے تھوڑےالفاظ کے چناؤ کے علاوہ ایک جیسے ہیں۔۔۔ صرف تفاسیر میں فرق ہے۔۔۔ ویسے بھی عام احکامات کے لئے تفاسیر کی ضرورت نہیں پڑتی۔۔۔

باقی علم حاصل کرنا بھی مشکل نہیں۔۔۔ خواتین کے پاس تو خاص کر وقت ہی وقت ہوتا ہے۔۔۔ اگر کراچی سے کسی طرح  ہندو تہذیب کے رکھوالوں یعنی ایم کیوایم کا نام ونشان مٹ جائے تو نہ صرف خواتین انکی جہا لت کے اثر سے نکل کرکوئی مثبت کام کرسکتی ہیں بلکہ اقبال اور قائد اعظم اور نظریہ پاکستان کے تقدس کو بچایا جاسکتاہے۔۔۔

اگلا مہینہ ربیع الاول کا ہے۔۔۔ میلاد کی بد نظم محفلیں, نعتیں, سبز رنگ کی ٹیوب لائٹس, کلمہ لکھے جھنڈے,  رسول صلی الله علیہ وسلم کے نعلین کی تصاویر۔۔۔ یہ سب علامتیں ہیں رسول صلی الله علیہ وسلم کے پیدائش کی خوشی منانے کی۔۔۔ مٹھائی والے امیر ہوجاتے ہیں, میلاد خواں رسول صلی الله علیہ وسلم سے محبت کی قیمت دنیا میں ہی وصول کر لیتے ہیں۔۔۔ نعت خوانوں کے بنک بیلنس بڑھتے ہیں۔۔۔

اس ہلے گلے میں کہیں یہ عزم نہیں ہوتا کہ انسان کے بچے بن کے دکھا ئیں گے, کسی غریب کمیونٹی میں جاکر کوئی کام کریں گے, شہر کی صفائی کروائیں گے, اپنے منہ سے تھوک پھینک پھینک کرالله کی پاک زمین پر غلاظت نہیں پھیلائیں گے, رسول صلی الله علیہ وسلم کی زبان کو خود سیکھہ کردکھائیں گے, ان کے جیسی سیرت بنانے کی کوشش کریں گے, لوگوں کو محنت خلوص نیت اور مساوات کا سبق دینگے, خواتین کی عزت کریں گے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ سارا زورداڑھی پگڑی اور نعتوں پر ہوتا ہے

کل رات کسی سے بات کرتے ہوئے یہ نکتہ آگیا کہ کوئی  ایسا آئے کہ سب ٹھیک کردے جیسے امام خمینی۔۔۔

پہلی بات تو یہ کہ ایسا کوئی کیوں آئے اور کس کے لئے آئے۔۔۔ آپ جسکی خواہش کررہے ہیں ویسے ہی بن جائیں۔۔۔ دوسری بات کہ اگر کوئی ایسا آہی گیا توکیا فرماںبرداری کے لئے تیار ہیں۔۔۔  اور سب سے بڑھ کر بات یہ کہ ڈنڈے کی ضرورت جانوروں کو ہوتی ہے یا غلاموں کو۔۔۔ پڑھے لکھے انسان, چاہے مرد ہو یا عورت, ڈنڈا مارنے والے کی نہیں بلکہ سیلف کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔

کوئی کہتاہے عربی لباس اسلامی لباس ہے۔۔۔ تو وہ تو ابوجہل, ابولہب, عبدالله ابن ابی حتی کہ ستر اسی سال پہلے تک بھی یہودی یہ لباس پہنتے تھے۔۔۔ کیونکہ صحرا کی آب و ہوا اور ماحول کے لحاظ سے مناسب تھا یہ لباس۔۔۔ اسلامی لباس تو وہ ہوتا ہے جو حیا کے تقاضوں کو پورا کرے۔۔۔  ڈاڑھی اور پگڑی سکھہ بھی پہنتے ہیں۔۔۔ بہت سے ہندو اور سکھہ گھرانوں میں خواتین کے سر ڈھکنے کی روایات ہیں۔۔۔ داڑھی اور ٹوپی یہودیوں کی دینی علماء بھی پہنتے ہیں۔۔۔ خلفاء راشدین کے زمانے میں بھی دوسرے علاقے فتح کرنے کے بعد انکے لباس اور ظاہری حلیے تبدیل نہیں کئے جاتے تھے بلکہ عدل اور مساوات کے قوانین نافذ کئے جاتے تھے۔۔۔ پھر تبلیغی جماعت کی ایک خاتون نے یہ بھی فتوی دیا کہ الٹا ہاتھہ کھانے کے لئے استعمال ہی نہ کریں صرف سیدھے ہاتھہ سے کھائیں۔۔۔ کسی نے کہا کہ الٹے ہاتھہ پہ تسبیح نہ گنیں کیونکہ یہ گندا ہاتھہ ہے۔۔۔

اگر کبھی کسی نے ذرا دلچسپی لے کران کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے صحیح باتیں پھیلانے کی کوشش کی ہوتی تو شاید کچھہ بہتری آگئی ہوتی۔۔۔ لیکن ہمارے ہاں لوگوں کے پاس تعلیم آئی اور وہ لاتعلق ہوئے معاشرے سے۔۔۔ آس پاس کچھہ ہوجائے۔۔۔ بعد میں جب سر سے پانی گذر جاتا ہے تو اور خود کو آس پاس کی ابتری سے نقصان پہنچتا ہے روتے پیٹتے ہیں۔۔۔

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: