Unified Education in Pakistan

Unified educational system is in favour of common Pakistanis and is necessary for Pakistan’s peace and progress.  Those who are sincere to Pakistan must keep it a priority even if it take years in implementation.  It is going to be the most difficult task to gather the representatives of public schools, private schools, madrasahs, schools run by political figures, Agha Khan system, O’ Levels and home-schooling for the purpose to help in designing a unified syllabus from first to matriculation.

یکساں تعلیم کا کوئی بھی آئیڈیا فضول ہے اگر وہ عام لوگوں کو ملک کے سیاسی عمل میں حصہ لینے کا اوراقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا موقع فراہم نہ کرے۔۔۔۔۔۔  لہذا پاکستان میں امن, ترقی, خوشحالی اور مضبوط  دفاعی طاقت کے لئے یکساں تعلیم کے ساتھہ ساتھہ  قوانین میں تبدیلی یا نئے قوانین ضروری ہیں۔۔۔

مثلا سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لئے انٹرمیڈیٹ کے ساتھہ سیاسیات, بین الاقوامی تعلقات, معاشیات کا علم لازمی ہو۔۔۔ امیدوار لازمی طور پر حکومت پاکستان سے سند یافتہ ہو۔۔۔ لازمی طور پر پاکستانی قومیت رکھتا ہو۔۔۔ اپنے علاقے میں اسکا کردار کیا ہے۔۔۔ ذریعہ آمدنی, ذاتی اثاثے کیا ہیں۔۔۔

ایک یکساں یا قومی تعلیمی نظام کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ مضامین اور موضوعات سب کے لئے لازمی ہوں۔۔۔ بلکہ ایسا نظام تعلیم جس میں مختلف عقائد, مختلف نظریات اور مختلف زبان بولنے والوں کے لئے چوائس موجود ہو۔۔۔ اوریہ کسی کے لئے بھی علم وہنر سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کرسکے۔۔۔ لیکن ہوں مرکزی حکومت کے کنٹرول میں۔۔۔
دنیا کا کوئی ملک اورکوئی نظام اس سے زیادہ یونیفائیڈ تعلیمی نظام نہیں دے سکتا۔۔۔

 اگر کسی جگہ کے لوگ ایک زبان بولتے ہوں, انکے عقائد ایک ہوں اور نظریات میں بھی فرق نہ ہو۔۔۔ اسکے باوجود بھی وہ اس سے زیادہ یکساں تعلیم کا تصور نہیں دے سکتے۔۔۔ کیونکہ بہرحال اگرانھوں دنیا کی باقی قوموں کے ساتھہ معاشی اور سیاسی روابط رکھنے ہیں توپھران کے نظام اور نظریات کو کسی حد تک اپنے تعلیمی نظام کا حصہ بنانا پڑے گا۔۔۔

اور یہ کوئی نیا آئیڈیا نہیں۔۔۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں موجود ہے ۔۔۔ اور غیر اسلامی بھی نہیں۔۔۔ 


کیا پاکستان میں مدرسے, سرکاری اسکول,  پرائیویٹ اسکول, آغا خان سسٹم, اولیولز, خیراتی اسکول, یتیم خانے, سیاسی شخصیات کے اسکول اور ہوم اسکولنگ مرکزی حکومت کے تحت کام نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسکتے ہیں اگر بنیادی تعلیم کے علاوہ پرائیویٹ اسکولز کے مشکل, مہنگےاور درآمد شدہ سلیبس کو اور مدرسے کے کورسزکو ایڈوانس مضامین کی فہرست میں ڈال دیا جائے۔۔۔ اس طرح بنیادی تعلیم تو سب کے لئے ایک جیسی ہو گی لیکن ایلیٹ, غیر ملکی, مذہبی, صوبائی یا اور دوسری زبانیں بولنے والوں کے لئے اختیاری مضامین کی شکل میں چوائس موجود ہوگی۔۔۔ اہم بات یہ ہوگی کہ سند حکومت پاکستان کی ہو۔۔۔ اس کے لئے جگہیں بدلنے کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔ اپنی اپنی جگہوں پر تعلیم حاصل کریں اور امتحانات دیں۔۔۔  اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ تعلیمی اداروں کو نیشنلائز کردیا جائے۔۔۔ پرائیویٹ اسکول کالجز, مدرسے۔۔۔ سب اپنی جگہ پر بنیادی تعلیم کا سرکاری ریکوائرمنٹ پوری کریں۔۔۔ پھر طلبہ چاہیں جو مضامین ایڈوانس لیول پرپڑھیں۔۔۔ 

اسکے فوائد کیا ہونگے۔۔۔

سارا کا سارا تعلیمی نظام ایک مرکز کے تحت کام کرے گا۔۔۔ جس سے مرکزی حکومت کو اہمیت حاصل ہو گی, وہ مضبوط بھی ہوگی ۔۔

علمی بنیادوں پرلوگوں کی تقسیم اور تفاخر بہت حد تک کم ہو جائے گی۔۔۔ کیونکہ تمام کے تمام مضامین پر تعلیمی اسناد پہ ٹھپہ یاسیل مرکزی حکومت کی ہو گی۔۔۔

پاکستان میں سب سے بڑا تعلیمی فرق مدرسہ اور اسکولز کی تعلیم میں ہے۔۔۔ ایک کو شرعی تعلیم کہہ کر محدود کردیا۔۔۔ دوسرے کو جدید تعلیم کہہ کر کفر یا غیر شرعی یا دنیاوی قرار دے دیا۔۔۔ پاکستان کے ماحول میں دینی اور ماڈریٹ کا فرق بھی کچھہ کم ہوگا۔۔۔ اوردینی لوگوں کی آئے دن کے نفاذ شریعت کی دھمکیوں کا زور بھی کم ہوگا۔۔۔ اور دونوں قسم کے لوگ ایک ہی مرکز تلےآجائیں گے۔۔۔

صوبوں کے درمیان تعلیمی فرق بھی کم رہ جائے گا۔۔۔ ایک صوبے کے رہنے والے کو دوسرے صوبے میں جاکر تعلیمی سلسلہ بدل جانے کی شکایت نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیراتی اسکولوں اور فلاحی اداروں کے بچوں کا کم از کم علمی بنیادوں پر احساس محرومی ختم ہوجائے گا۔۔۔ انکے پاس بھی کیونکہ  سرکاری سند ہوگی۔۔۔

پھر یہ کہ پرائیویٹ یا ہوم اسکولنگ والے بچوں کے لئے جو سائنس نہ لینے کی پابندی ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ سائنس تو میٹرک تک لازمی ہی ہوگی۔۔۔ 

یہ سب کرنا آسان نہیں۔۔۔

چوں کہ ہمارا حکمران طبقہ جاہل اور ذہنی طور پر غلامانہ سوچ رکھتا ہے  وہ امریکہ اور مغربی دنیا کےاشارے کے بغیر کچھہ نہیں کرتا۔۔۔ اس لئے عوام کو ہی شور مچانا پڑے گا۔۔۔ اپنے اپنے علاقے کے سیاستدانوں اور حکومت پر دباؤ ڈالنا پڑے گا۔۔۔ اور وہ بھی کافی عرصے تک۔۔۔ 

دوسرا بڑا مسئلہ دینی فرقے ہیں۔۔۔  انکا کسی بھی معاملے کو سمجھداری سے نمٹانا نہ ممکن سا لگتا ہے۔۔۔ لیکن بہرحال معجزات بھی تو ہو سکتے ہیں۔۔۔  

تیسرا مسئلہ او لیولز اور آغا خان بورڈ۔۔۔ پرائیوٹ اسکولز اور برٹش تو او لیولز کے نام پر کڑوڑوں روپے احمق پاکستانیوں سے کمارہے ہیں۔۔۔ بھلا وہ اس لوٹ مار کو کیسے بند ہونے دینگے۔۔۔ دو سال بعد کا کورس دوسال پہلے پڑھا دیا تواس سے معیار بلند تو نہیں ہو جاتا۔۔۔

چوتھا مسئلہ ہے ہمارا طریقہ تعلیم جو خاص طور پر ابتدائی درجات میں اور ویسے بھی کتابوں اور کاپیوں کے گرد گھومتا ہے۔۔۔ اکثر تین یا چار سال کےبچوں کو بھی کتابوں اور کاپیوں سے لکھنے پڑھنے پر لگادیا جاتا ہے۔۔۔ یکساں تعلیم کا سن کر سب کا ذہن جائے گا ایک جیسی کتابوں کی طرف۔۔۔ حالانکہ یکساں تعلیم کا مقصد یکساں نتیجہ حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ یکساں طریقہ تعلیم۔۔۔

پانچواں مسئلہ ہے خیراتی اسکولوں سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا۔۔۔ یہ تو چلتے ہی عطیات زکات پر ہیں۔۔۔ کوئی معیارقائم ہوگیا تو چندہ کون دے گا۔۔۔
چھٹا مسئلہ وہ اسکول جو سیاسی شخصیات نے کھولے ہیں یا انکے پرنسپلز بنکے بیٹھے ہیں۔۔۔ وہ برداشت کر لیں گے کہ انکا اور انکی مخالف پاڑٹی کے اسکول کا معیار ایک جیسا ہو۔۔۔

ساتواں مسئلہ یہ کہ حکومت کی طرف سے بنیادی تعلیم کا سلیبس ترتیب کون دے گا۔۔۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں بپبلیکیشنز ہیں اور ساری ہی کہیں نہ کہیں استعمال ہورہی ہیں۔۔۔ اسی طرح مدرسے کے کورسز ہیں, سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں ہیں۔۔۔ کوئی کسی کتاب کو ابتدائی درجہ کے لئے موزوں سمجھتا ہے تو دوسرا اسے ایڈوانس لیول رکھتا ہے۔۔۔ کیا مدرسے, سرکاری اسکول, پرائیویٹ اسکول, آغا خان سسٹم, اولیولز, خیراتی اسکول, یتیم خانے, سیاسی شخصیات کے اسکول کےنمائندے اور ہوم اسکولنگ کی طرف سے والدین اس میں ایک سطح پہ آکر حصہ لیں گے۔۔۔

آٹھواں مسئلہ بنیادی تعلیم کی تعریف اور اسکا معیارکیا ہونا چاہئے۔۔۔ یہ کون بتائے گا۔۔۔

What could/should be the definition of unified education in Pakistan?  Is unified education the synonym of fundamental education?

PHONICS:

I totally disagree with introducing phonics to our educational system at any level except for if there is a dire need of it.  Such as for especial children.

Pakistan’s modern education system is founded upon foreign-based ideas, methods, contents and curriculums.  Phonics is one of the method that was introduced with the purpose of quality education.  On one side, we have a government that consists of illiterate ministers and parliamentarians like Jamshed Dasti who are possessed with ignorance.  On the other side, we have educated people who are obsessed with imported items.  Both groups are dangerous for our identity as they both lack confidence, wisdom and spirit of freedom.  In short, they are slave-minds.

Western countries are developed and advanced countries.  One reason of their progress is that they don’t import but introduce ideas.  Now, instead of learning from them, we try to copy them as it is.  We waste our energy and time in convincing people that this imitation will get us some respect in the Western world.  What a rubbish!

These countries introduced phonics as a technique to enhance reading ability through sound of letters.  It is sound of a letter at the beginning or at the ending of a word, sound of vowels and sound of a compound.  English is their mother tongue.  This is the language they communicate in 365 days a year.  Before introducing any idea to their system, they study their people and the nature of requirement, they design it in a form of step-by-step guideline, they compose it in a timely manner, they train faculties, they prepare parents’ mind to accept it, their purpose of introduction is not to rip off money, it is to bring improvement.  Phonics may be good for them because they are not in hurry.  They don’t teach in large groups.  They don’t have to pressurize their children for quick learning so that they can get first position.  They don’t want to run away from their country after higher education.

Still I don’t get it that how do they figure out that at what age or level, their student should know the sound of letter ‘c’ as /s/ or /k/ — or ‘g’ as /g/ or /j/– then the difference between c and k and g and j –or the sound of ‘ph’ as /f/– or the sound of letter ‘u’ in but, put, use, blue — or merging the sounds of two vowels like in ‘road’, ‘lead’, belief — or when to use ‘the’ as ‘tha’ or ‘thee’ — or when do letters become silent?….at what age or level, students won’t need to use phonics?….. is phonics really meant for all students in general or only for special children?

In alcoholic societies, children are born with slow mental progress, brain disorders, mental retardation, low tolerance, difficulty in reading and relating connections and reasons.  So phonics is a useful technique for them in general.

Pakistanis are very talented people.  Lacking healthy environment and health facilities, our children are still born normal.  It is parents and the overall system that suck their abilities to progress.

Phonics is not good for our children.  It is damaging their brain, slowing down their learning abilities, burdening them with confusing sounds of a foreign language.  Our Montessori teachers are intermediate or B.A, B.Sc or B.Com.  They are not trained to deal with children, how to teach, how to behave, how to handle them.  Even the ones certified from Early Childhood Training Centers don’t know how to plan for phonics.  Even their sounds of letter differ in length and pronunciation.  For example, 95% of them mix up the short vowel sounds of ‘a’ and ‘e’, ‘v’ and ‘w’…. pronouncing very to vaary, was to vas, bed to baad, red to raad.  Also, it is a non-sense to teach normal children the normal things sounding like animals, aa, baa, caa, daa, skipping e, faa, haa, skipping i, at ‘G’ they are confused if alone it sounds like ‘g’ or ‘j’.  A child who is not even familiar with the sequence of letter, how can he learn their sounds skipping vowels and with exceptions?

If this is all we are doing to teach English as a language, both in speaking or reading, then we should focus on improving children’s listening skills, through stories, discussions, discipline and instructions.

 

 

 

 

 

MATRICULATION:

Matriculation is the tenth year of regular schooling system.  Generally, matriculation is defined as a process that prepares students for college level.  In America, it is part of the high-school which ends at Twelfth Grade.  Prior to partition, in South Asian region, it was regarded as a sign of honour and wisdom.  Even after the establishment of Pakistan, “matric paas students” were preferred for jobs and matrimonial proposals.

One aspect of our overall failure is that our governments never planned for improving educational system according to the growth in population and in comparison to the new world challenges.

The situation we are facing right now is that on one hand we have masters and bachelors complaining about suitable job opportunities while lacking professionalism.  On the other hand, we have a huge number of matriculated youth being hired at low salaries obviously not fulfilling any professional requirements.  Another horrible reality that we face in our system is that we never think of solving problems according to the mental and social level of our own people.  Most of our celebrities from different fields of Fine Arts, when don’t find anything else to do or let’s say when they think of serving nation, they start opening school or join some famous chains at high position.  Durdana Butt, Rahat Kazmi, Huma Akbar, Afshan Ahmed, Khushbakht Shuja’at, Jawad Ahmed, Shezad Roy and many more.  Have they ever tried to sit together and discussed how they can bring a change in the existing system, how they can get together to build a unified educational system that has something to do with Pakistan and with the people of Pakistan???

In Ninth and Tenth Grades, subjects are divided into three or four main groups which doesn’t make a sense.  At least not now.  Students have to choose to study either from Science Group, Arts or Humanitarian Group, Commerce Group or may be computer.  After two years of study, the Science group students have no idea about even the basic concepts of Economy, Psychology, Sociology, Education, Political Science, Sociology etc.  The Arts/Humanitarian group remain ignorant about simple Math, the basics of Zoology, Botany, Biology, Physics, Chemistry etc.  In Science group they don’t focus on writing skills and speech power.  Now what if a Science student has to deliver a speech about plantation to grow economy or write an essay on wild life in Sindh or prepare a Science syllabus for Elementary classes.  The career choices for Arts group students are to become a writer, singer, musician, performer, painter etc.  What if they have to write a true story of a zookeeper hero falls into love with a marine-biologist or a drama about a singer studying plants part-time.  All of them have zero knowledge about environment.

I just remembered this drama of Indus TV (I forgot the name) that was about a hospital, doctors, nurses and patients.  I really thought that it was a parody of some American medical shows because the whole serial was totally non-scientific.  The serial didn’t teach a single medical term to the viewers, neither it brought any awareness about health and hygiene.  They didn’t even discussed the problems of doctors and patients in our society.  Each episode was focused on the make up and style of female actresses (doctors/nurses), love affair between the staff, emotional scenes of patients coming depressing background.

Back to the point, this two-years of matriculation becomes useless if they decide not to (as most of the students do) join any college or institution for further studies.  The matriculated students are not given jobs on the basis of subject grouping.  The idea is to eliminate grouping subjects in Ninth and Tenth Grade and to introduce an intensive occupational studies course of one or two year instead to equip our students with the fundamentals of main subjects in each existing group.  Girls are usually hired as assistant teacher, teacher, receptionist, office-helper, factory worker etc.  Boys get jobs as sales person, clerk, cashier, messenger, dyer, courier etc. Many other countries are doing it.  My two-years of occupational studies course was composed to accounting, business maths, writing skills, keyboarding, typing, business law, psychology, personal management, fundamentals of computer, literature, business management etc.  Why can’t we introduce such kind of grouping here?

ہمارے ملک میں تعلیم کی منصوبہ بندی کی جتنی  کمی ہے اس سے کہیں زیادہ زندگی کی منصوبہ بندی کی کمی ہے۔۔۔ تعلیم کا معیار جتنا کم ہے تربیت کا معیار اس سے بھی کم۔۔۔ جتنا تعلیمی نظام بگڑاہواہے اس سے زیادہ سماجی اورسیاسی نظام بگڑا ہوا ہے۔۔۔ حالانکہ تعلیم سے پہلے ان سب چیزوں کاہونا ضروری ہے۔۔۔ یعنی زندگی کی منصوبہ بندی,  تربیت کا معیار اور مضبوط سماجی اورسیاسی نظام۔۔۔۔۔۔

ہمارے ہاں عام تعلیم کی حد میٹرک یعنی دسویں جماعت ہے۔۔۔ اسکی ایک وجہ لوگوں کے معاشی حالات انھیں لڑکوں کو آگے پڑھانے کی اجازت نہیں دیتےاور وہ کسی کام سیکھنے پر بٹھا دئے جاتے ہیں۔۔۔ لڑکیوں کی شادی ہوجاتی ہے یا منگنی۔۔۔ پھر وہ جب موقع ملے پرائیوٹ ہی پڑھتی ہیں۔۔۔ اکثر پرائیوٹ اسکول میں میٹرک یا انٹر پاس لڑکیوں کوٹیچرز رکھا جاتا ہے جو کم تنخواہ پر کام کرنے پر راضی ہو جاتی ہیں۔۔۔ دوسری وجہ تعلیم کی اہمیت کو نہ پہچاننا۔۔۔ اکثریت اسے اسکول کالجز کی کاروائی سمجھتی ہے, جس میں امتحان پاس کرنا ایک بڑا مرحلہ ہوتاہے۔۔۔ اور جو اہمیت بتائی جاتی ہے اسکے مطابق ملازمتوں کا نہ ملنا۔۔۔ کم عمر میں کم تعلیم اوربے تربیتی کے ساتھہ آگے بڑھنے کاراستہ کرپشن ہوتاہے۔۔۔

میٹرک پاس بچوں میں ان صلاحیتوں کی ازحد کمی ہوتی ہے جو ایک لڑکا یا لڑکی میں دس بارہ سال کی اسکولنگ اور گھریلو تربیت کے نتیجے میں ہونی چاہئیں۔۔۔ سوچ, رکھہ رکھاؤ, انفرادیت, معلومات عامہ, آگے بڑھنے کا جذبہ, بہتری کی خواہش, مسائل کو سمجھنا انکا حل تلاش کرنا, منصوبہ بندی کرنا, خودانحصاری۔۔۔۔۔۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نویں جماعت سے جومضامین کی گروپنگ کی جاتی ہے اور اس میں موجود مواد کا انتخاب  اکثر بے فائدہ ہوتا ہے۔۔۔ مثال کے طور پر سائنس گروپ کے بچے ایجوکیشن, سیاسیات, معاشیات کے تصور سے بھی ناآشنا ہوتے ہیں۔۔۔ حالانکہ ایک سائنس کے طالب علم کو کمانا تو ہوتا ہی ہے, اس کا تعلق ملکی سیاست اور تعلیمی نظام سے بھی ہو تا ہے, لوگوں کی نفسیات سے بھی ہوتا ہے۔۔۔ خاص طورپر ان بچوں کے لئے جنھوں نےمیٹرک کے بعد تعلیم کو خیرآباد کہہ دیناہو۔۔۔ لازمی ہے کہ وہ ضروری مضامین کے بنیادی تصور اور انکی حقیقی زندگی میں کارآمد ہونے سے واقف ہوں۔۔۔

آٹھویں جاعت کابچہ عموما تیرہ سال کاہوتا ہے۔۔۔ اگر نویں اور دسویں یعنی دو سال مضامین کی گروپنگ کے بجائےایک ایسا تعلیمی کورس مرتب کردیا جائے جس میں موجود مواد انکے کام کاہو تو تعلیمی نظام اورسماجی نظام دونوں میں بہتری آسکتی ہے۔۔۔

فوری طور پر حکومتی سطح پر تو تبدیلی ناممکن ہے۔۔۔ لیکن دن بہ دن بڑھتی ہوئی آزمائشوں کا آسانی سے مقابلہ کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی نئی راہ تو نکالنی پڑے گی۔۔۔ لوگوں کے ذہنوں کو بہتر تبدیلی کے لئے آمادہ کرنا شاید دنیاکاسب سے مشکل کام ہوتاہے۔۔۔ باہر ممالک کی طرح اگر ایک سال یا دو سال کا  آکیوپیشنل اسٹڈیز کا انٹینسو کورس جس میں کتابوں سے زیادہ تحقیق, بحث اور لکھنا شامل ہو متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔۔۔ جس سائنس, آرٹس, کامرس, کمپیوٹر کے بجائے پرفیشنل اسکلز کو ابھارنے پر مرکوز کیا جائے۔۔۔ کیونکہ ابھی تو حال یہ ہے کہ ہمارے ببیچلرز اور ماسٹرز کوبھی ملازمت کی درخواستیں نہیں  لکھنی آتیں۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

EDUCATIONISTS:

We all have endorsed the fact that our schools and colleges are worthless places for providing with any useful training or education of at least international level.  If they do then what do we complain about.  If they don’t then we must think of ways changing it.  In order to change it, we must discuss what kind of change do we want and why.

Since we all know our teachers, most of them have no passion for their profession, others are either over-burned with piles of responsibilities or are obstructed due to limited resources.

The private institutions (from Montessori to college level) can make a difference by using technology at their premises.  Few years ago, I gave this idea to a school owner that the principals of different schools in a certain area can arrange a workshop once a month for teachers’ training.  They can gather at some place and exchange their expertise.  They can exchange good ideas, curriculum and other activities.  They can also watch educational videos to learn effective teaching skills.  Plus they can plan community visits and inter-school competitions.

Principals can sit together and think of ways to reduce the cost of education and make it affordable for parents.  For teachers’ convenience, they must provide them with some kind of help in their daily routine.  They must be given enough time to get organized, to check students’ work and a precise syllabus according to students’ level.

Preschools, schools and colleges can use videos, CDs and DVDs to occupy children with educational learning.  Children can be kept involved with Adam’s World, Sound Vision and Astrolab productions, Seasame Street, Barney, Between the Loins (children’s show about vowels) and other good shows on daily basis.  They can learn new vocabulary, songs, games and manners by watching these videos.  Just half-hour video everyday can play a big role in keeping them busy with something interesting for their age.  That half-hour or one hour will be a spare time for teachers to relax a little and finish their checking.

Even public schools, colleges and universities can take advantage of the technology (I don’t want to call it a new technology since it belongs to the last century).

If the public and private institutions are not interested in it, still a great idea for charity schools and other places where unwanted or homeless children are accommodated for any reason.  Such as Edhi’s children section, orphanages, etc.

Many of our high profiles like Ms. Afshan Ahmed, Madam Khushbakht Shuja’at, Mr. Rahat Kazmi, Madam Durdana Butt, Mr. Shezad Roy, Mr. Jawad Ahmed and many others who claim that they are very sensitive towards the issues of our society, must sit together and plan something.  All these ‘sensitive’ educationists can influence the parents with whatever they come up with (something like negotiations or conclusions).

Cost-Reduction in Education:  It’s possible.

1) Little children can learn to write and to draw things on slates (old fashioned) instead of wasting money on copies/notebooks and drawing copies.

2) Instead of buying books in Montessori, they can learn alphabets, numbers and words on board or charts.

3) Instead of buying supplies, school can charge a little amount from each parents and purchase the necessary items in bulk on discount,  keep them in classes and train children to share them, use them and organize them.

4)  Painting school walls with cartoons and animals looks horrible and messy, it doesn’t help them in learning.  Instead, take them to the nearby park, zoo, keep a pet or give them some other activities to show them the real colours of life.  They need to be trained to face the reality, not to be lost in myths and mysteries or unnecessary imaginations.

5) Avoid phonics, it makes normal children read like foolish.  Just teach them the letters like a normal insaan ka bacha is supposed to learn.  Children are human beings too, they should not learn to read by making strange animal sounds.  After all, our teachers don’t know how and when to teach phonics.

 

 

 

 

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: