Youthism

Ibn Sina or Avicenna, in 11th century wrote that children after the age of 14 should be given choices in subjects of their interests to decide for their career.

This means that children at the age of  14 are ready to learn about what they can do in next six or eight years or after completing their education.

Following the guideline prescribed by Abi Sina, we can do it easily by dividing the educational process into three levels.  https://rubikh.wordpress.com/2011/10/09/b-a-education-%D8%A8%DB%8C-%D8%A7%DB%92-%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D9%88%DA%A9%DB%8C%D8%B4%D9%86/

In Pakistan, I remember only one school in Faisalabad which claimed to give career choices from Sixth Grade but that was in 1999 and it was a private school.

—————————————————————————————————

“It is not the favour they do to us.  This is their responsibility to provide us with knowledge and facilities – They have spent their lives, it is now our time to enjoy”, commonly uttered by most youngsters about their parents and elders.

First, think about it, where did parents consumed their lives since their children were born?  Who did they spent money and time for since the birth of their children?

And just why should parent do that?  Don’t they have their own life, their own dreams, their own interests and hobbies to spend time and money upon?  Why should parents waste their resources on their children – just because they are responsible to bring them into this world and that is why they have to love them or they want something in return?

Even if children think about returning, not attention, not love, not respect, not care but only the money equal to the amount their parents have spent upon them – would they be able to?  At least that will help their parents to live an independent life in their old age.

 ہمارے ان نوجوانوں کو جنھیں حالات کی وجہ سے پڑھنے لکھنے کے مواقع نہیں ملتے الگ کردیں۔۔۔ اور باقی نوجوان طالبعلموں کی زندگی پرنظر ڈالیں۔۔۔

ایک آسانی جو ہمارے طالبعلموں کو ضرور ملتی ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ انکی اکثریت کے والدین یا سرپرست انکے تعلیمی اخراجات بھی پورے کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اس میں رکاوٹ نہ آئے۔۔۔ کم ہی کسی کو اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کےلئے کمانا پڑتا ہے۔۔۔ یہ سلسلہ کم از کم چودھویں جماعت تک جاری رہتا ہے۔۔۔ اور بچوں سے والدین یا سرپرست صرف یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ علم حاصل کریں۔۔۔ اس مقصد کے لئے خود کو منظم کرنا نوجوانوں کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے, انکے بڑوں کی نہیں۔۔۔  ساتھہ ہی اس بات کا احساس بھی کہ والدین کے فراہم کئے گئے ذرائع ضائع نہ ہوں۔۔۔۔ جو طالبعلم خود کو منظم نہیں کرپاتے وہ اصل میں اپنا وقت نہیں بلکہ اپنے والدین کی محنت ضائع کرتے ہیں اور نوجوانوں کو اسکا حق نہیں۔۔۔ اکثر بچے اس بات کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ تو والدین یا بڑوں کا فرض ہوتا ہے۔۔۔

ذرااندازہ لگائیں کہ بارہ یاچودہ سالوں میں تعلیم پر کتنا خرچہ آتا ہے۔۔۔ اتنا خرچہ کوئی انسان کسی دوسرے پر کیوں کر سکتا ہے۔۔۔۔ یا تواسے اس شخص سے بہت محبت ہو گی کہ اتنے سالوں تک اپنی کمائی اس پر خرچ کرے یا پھر کوئی فائدہ مطلوب ہوگا۔۔۔  پہلی صورت کا تو کوئی بدل نہیں ہوسکتا کیونکہ کوئی اولاد اتنے عرصے اپنے والدین کو اتنی توجہ نہیں دے سکتی۔۔۔ لیکن دوسری صورت میں تو یہ تعلیم قرض ہو گئی۔۔۔ تو اس صورت میں نوجوانوں کا کیا فرض بنتا ہے۔۔۔ اور کچھہ نہیں تو اتنا تو کرسکتے ہیں کہ اپنی زندگی شروع کرنے سے پہلے یا اس وقت تک زندگی شروع ہی نہ کریں جب تک کم از کم بارہ یاچودہ سالوں کی تعلیم کا خرچہ والدین کو واپس نہ لوٹادیں تاکہ وہ اپنا بڑھاپا آرام سے گذارلیں۔۔۔ پھر اپنا جو دل چاہیں کریں۔۔۔

تعلیم یافتہ لوگوں پر دوسرا قرض ان کے ملک اور معاشرے کا ہوتا ہے۔۔۔ سوچنے کی بات ہے کہ ملک کے صدر, وزیراعظم, وزیروں اور فلاحی کام کرنے والوں کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی کمائی سے حاصل کئے ہوئے ٹیکس کی آمدنی کا کچھہ حصہ بچوں کو علم دینے کے لئے نظام بنانے پر خرچ کرے۔۔۔   ماں باپ پیدا کرتے ہیں, ماں باپ ہی علم دیں اپنے اپنے طور پر۔۔۔ جیسے اسکولنگ سسٹم سے پہلے ہوا کرتا تھا۔۔۔ لوگ اپنے اپنے طورعلم حاصل کرنے کے لئے سفر کرتے, تکلیفیں اٹھاتےتھے۔۔۔۔۔۔ اس ٹیکس میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کا پیسہ شامل ہوتا ہے۔۔۔ اسلئے یہ قرض اصل میں حکومت کا نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کا ہوتا ہے۔۔۔ لہذا  کوئی بھی تعلیم حاصل کر کے احسان نہیں کرتا کہ اس کا جو دل چاہے کرتا پھرے یا جہاں منہ اٹھے چلا جائے۔۔۔ بلکہ وہ ذمہ دار ہوجاتا ہے کہ اس بات کا کہ والدین, ملک اور معاشرے کو اس احسان کے بدلے کچھہ تو دے۔۔۔ پیسہ, اچھی سوچ, اچھا عمل, کچھہ وقت۔۔۔ 

مختصرا یہ کہ اگر کوئی ڈگری حاصل کرکے اس قابل ہوگیا ہے کہ اپنے لئےکچھہ کرسکے تووہ کامیاب ہوا۔۔۔ اب وہ یہ شکایت تو نہیں کرسکتا کہ وہ ناکارہ ہے۔۔۔  اسکے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کامیابی میں جن لوگوں نے حصہ لیا انکو کیا ملا بدلے میں۔۔۔ 

نوجوان نسل میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اگر ان کو بالفرض اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے بھی پڑ جائیں یا اپنی زندگی کی ذمہ داریاں وقت سے پہلے اٹھانا بھی پڑ  جائیں تو وہ اس پر فخر کرنے کے بجائے دوسروں پر احسان سمجھتے ہیں۔۔۔

یا یہ کہ کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے اپنے لئے خود کچھہ کرکے۔۔۔ عموما اس سوچ کا نتیجہ ملک چھوڑ جانے یا معاشرے سے الگ اپنی من پسند زندگی گذارنے کی صورت میں نکلتا ہے۔۔۔ اکثر ملک چھوڑ جانے والے یہ احسان بھی جتاتے ہیں کہ ملک میں کچھہ نہیں اور یہ نظام انکے زرمبادلہ پہ چل رہا ہے۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ زرمبادلہ ملکی آمدنی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ احسان نہیں بلکہ کفارہ یا تلافی ہوتی ہے معاشرے کے ان احسانات کے بدلے جن کی وجہ سے کوئی کچھہ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔۔۔۔

—————————————————————————————————

ابی سینا کے مطابق چودہ سال کا بچہ اس قابل ہوتا ہے کہ اسے مستقبل کی منصوبہ بندی کے بارے میں تعلیم اور رہنمائی دی جاسکے۔۔۔  یہ بات آٹھہ نو سو سال پہلے کہی گئی۔۔۔ کیا آج ہم اپنے بچوں کو ابی سینا کے تجویز کردہ طریقہ تعلیم کے مطابق علم دے رہے ہیں۔۔۔ کیا ہما رے نوجوان بیس سال کی عمر میں گھر, علاقے, کسی ادارے یا ملک کا کام کرنے یا باگ دوڑ سنبھالنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔۔۔ یا اس قابل ہوتے ہیں کہ غلط چیزوں کو صحیح کرسکیں۔۔۔ صحیح چیزوں کو نئےانداز سے پیش کر سکیں۔۔۔


About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: