نظام عدل The System of Justice

“Sabr” in Arabic literally means determination, perseverance, endurance and stamina which shows the firmness of one’s character and a graceful stand.  Not as it is taken in general meanings in Pakistan, ‘patience’ which shows apathy, idleness and tolerance.
“zid” is a word that refers to two powers resisting each other with equal force.  In Islam, there are two such power, Justice and Evil, which take turns as their strength imbalances.  That imbalance usually occurs when the majority of people support either of the forces.

جس معاشرے میں کوئی اجتماعی نظام نہ ہواور افراتفری لوٹ مار کا عالم ہو۔۔۔ جہاں سب ایک دوسرے کو بھاگتا دیکھہ کرخود بھی بلا سوچے سمجھے دوڑ میں شریک ہوجائیں۔۔۔ اور پھر ساتھہ ساتھہ حیران بھی ہوں کہ یہ کیا ہو رہا ہے ہمارے ساتھہ۔۔۔۔۔۔ وہاں انسان کو خود اپنی زندگی کا ایک نظام بنا لینا چاہیے, خود اپنی بہتر زندگی کے لئے اصول وضع کرلینے چاہئیں اور خود اپنے مقصد حیات کا تعین کرلینا چاہیے۔۔۔ ورنہ زندگی دوسروں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔۔۔

اس قسم کی زندگی گذارنا مشکل ضرور ہوتا ہے۔۔۔ دوسروں کی مخالفت, تضحیک, اور تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔۔۔ لیکن اسکا فائدہ ہوتا ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ آس پاس کے لوگ تھوڑے عرصےبعد اس انسان کی کچھہ خوبیوں کے نہ صرف گواہ بن جاتے ہیں بلکہ اس پر کسی حد تک اوروں کے مقابلے میں بھروسہ بھی کرنے لگتے ہیں۔۔۔

اسی کو عربی زبان میں صبر کہتے ہیں۔۔۔ یعنی اپنے ارادے پر,اپنے مقصد پر جم جانا۔۔۔۔ ان لغوی معنوں کے لحاظ سے صبر کرنے کے لئے انسان کا غریب, مسکین, قیدی یا مظلوم ہونا ضروری نہیں۔۔۔ صرف مزاحمت اور  کوئی مقصد حاصل کرنے کے لئے ناموافق حالات کا ہونا شرط ہے۔۔۔

یہی صبر جب کسی مجبوری یا جبر کے بجائے اپنی مرضی, اپنی قوت ارادی اور اپنی خوشی سے کیا جائے تو یہ آجکل کی عام فہم جمہوریت کی تعریف کے مطابق شخصی آزادی بھی کہلاتی ہے اور حق خود ارادیت بھی۔۔۔

ہمارے پیارے رسول صلی الله علیہ والہ وسلم اسی صبر کا عملی نمونہ تھے۔۔۔ اعلان نبوت سے پہلے انکی منفرد شخصیت اوراعلان نبوت کے بعد انھوں جو بھی حالات سہے اس میں انکی اپنی مرضی شامل تھی۔۔۔ یہی تربیت وہ مکہ میں تیرہ سال تک اپنے صحابہ کو دیتے رہے۔۔۔ 

اسی لئے آپ صلی الله علیہ والہ وسلم کے زیر تربیت رہنے والے ہر صحابی اپنی ذات میں ایک نظام تھے۔۔۔ علم, شجاعت, حکمت یعنی صحیح فیصلہ کرنے کی سمجھہ, جنگی صلاحیت, حکومت کرنے کی اہلیت۔۔۔۔ 

ایک سوال یہ ہے کہ اگر خلفائے راشدین اور صحابہ اگر اتنے ہی عظیم رہنما اورسربراہ مملکت تھے تو اسلامی خلافت رسول صلی الله علیہ والہ وسلم کے دس سال ملاتے ہوئے صرف چالیس سال میں کیوں ختم ہوگئی۔۔۔ اور بعد میں چودہ سو سال آدھی سے زیادہ دنیا پر حکومتیں قائم کرنے باوجود مسلمان غیر مسلم دنیا کو وہ اسلامی نظام کیوں نہ دے پائے جو اسلام کا مقصد حیات یعنی الله کی زمین پراسکا نظام عدل قائم کرنا ہے۔۔۔

 

اسکا پہلا, سادہ اورآسان جواب تو یہ ہے کہ الله سبحانہ وتعالی کے کاموں کی حکمتیں وہ خود ہی جانے۔۔۔ انسان صرف اپنی عقل لڑا سکتا ہے۔۔۔

تو پہلی چیز تو یہ سمجھہ آتی ہے جییسے کہ سورہ المک میں الله نے فرمایا کہ الله نے زندگی اور موت کو تخلیق کیا کہ کون بہترین عمل کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر سورہ الذاریت میں فرمایا کہ میں نے تخلیق کیا جنوں اور انسانوں کوصرف اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔۔۔۔۔۔۔ اور سورہ الجاثیہ میں فرمایا کہ کیا آپ نے نہیں دیکھا اسکو جس نے اپنی خواہشات کو اپنا خدا بنا لیا, تو الله نے مہر لگادی اسکی سماعت اور سمجھہ پہ اور اسکی آنکھوں پرغلاف چڑھا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یعنی الله نے ہمیں صرف اپنی عبادت کے لئے تخلیق کیا۔۔۔۔۔۔ عبادت کا مطلب کیا ہے۔۔۔ یہ لفظ ع ب د, عبد سے نکلا ہے جسکا مطلب ہے غلام۔۔۔ یعنی جو حکم دیا گیا ہے اسے ہر حال میں پورا کرنا۔۔۔ جیسے فرشتے, زمین آسمان, چاند, سورج, ہوا, پانی, مٹی, ستارے, سیارے, درخت, پھول, جانور, پرندے, غرض کائنات کی ہرچیز کو جس خاصیت اور جس مقصد کے ساتھہ تخلیق کیا وہ ازل سے اسی مقصد کو پورا کئے جارہی ہے۔۔۔ 

دنیا میں دو مخلوق ایسی بھی ہیں جنکو مقصد حیات بھی بتایا اور اس کو پورا کرنے یا نہ  کرنے کا اختیار بھی دیا۔۔۔ اور وہ ہیں جن اور انسان۔۔۔ کہ اپنی مرضی اور خوشی سے الله کی پسند یا ناپسند اوراسکی مرضی اور خوشی کا خیال رکھنا۔۔۔۔۔۔۔ جہاں اختیار دیا جاتا ہے وہاں مہلت بھی دی جاتی ہے, حساب کتاب پوچھہ گچھہ بھی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ لہذا دونوں کے احتساب کے لئے ایک دن مقرر کردیا۔۔۔ اور احتساب کے بعد لازما سزا یا جزا کا فیصلہ بھی کیا جاتاہے ورنہ احتساب کا مقصد کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔

الله تعالی کی طرف سے دیاگیا یہ اختیار ہی اصل میں اسلامی جمہوریت ہے۔۔۔ سورہ البقرہ میں الله تعالی فرماتے ہیں… دین میں کوئی زبردستی نہیں, بے شک ہدایت کو ممیز کردیا گیا گمراہی سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  جس کو دین اسلام میں داخل ہونا ہے وہ اپنی مرضی سے ہو۔۔۔ جس کو الله کے حکم کےمطابق کوئی فرض ادا کرنا ہے تواپنی خوشی سے کرے۔۔۔۔۔۔ کیونکہ لکھی لکھائی تقدیر یا اندازہ کے مطابق تو باقی ساری کائنات الله کی عبادت کررہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت آدم علیہ السلام اورانکے بعد بھی جب جب انسانوں اور جنوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔۔۔ الله نے انھیں میں سے اپنے فرمانبردار بندوں پرذمہ داری ڈالی کہ وہ انکی اصلاح کے لئے کھڑے ہوجائیں۔۔۔ تو بنیادی طور پر پیغمبروں کامقصد اصلاح اور گمراہ لوگوں کو حکمت اور صبر کے ساتھہ واپس صحیح راستے کی طرف راغب کرنا تھا۔۔۔ یہی عدل کا بنیادی تصور ہے کہ جس کو جس مقصد کے لئے تخلیق کیا گیا ہے اسے واپس اپنے مقصد پر لانا, کسی سے اسکا چھینا ہوا حق واپس دلوانا۔۔۔۔۔۔۔۔ عدل کی ضد ہےظلم۔۔۔ تو چیزوں کو بے جگہ کرنا, عقیدوں اور اعمال کا غلط استعمال یا کسی سے اسکا حق چھیننا ظلم ہوا۔۔۔ اور ان کو صحیح جگہ پر رکھنا, درست کرلینا عدل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو پھر بھی نہ مانے تو سزا دینےاور مٹا دینے کا اختیار الله کے پاس ہے۔۔۔

یہ لفظ ضد جسے اردو میں عموما الٹ کہا جاتا ہے, اصل میں ایک عنصر کا دوسرے عنصر کےخلاف برابر کی قوت کے ساتھہ مزاحمت یا کسی ایک قوت کا دوسری قوت کے خلاف ایک جیسی شدت سے موجود ہونا ہے۔۔۔۔  اب کیونکہ انسانوں اور جنوں کو قیامت تک رہنا ہے لہذا عدل اورظلم, اچھائی اور برائی, نیکی اور بدی کا تصوربھی قیامت تک موجود رہے گا۔۔۔ کبھی عدل پر یقین رکھنے والے لوگ ظلم کرنے والوں پر غالب ہوں گے اور کبھی معاملہ اسکے برعکس ہوگا۔۔۔

رسول اکرم محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم سے پہلے جتنے رسول اور نبی گذرے وہ اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے۔۔۔ انکی قوم کی اکثریت نے اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے ہدایت کو ٹھکرادیا اور نتیجے کے طور پر وہ رسول کوئی باقاعدہ حکومت قائم نہ کرسکے۔۔۔۔۔ رسولوں میں صرف چند ہیں جنھیں اخلاقی تعلیمات کے ساتھہ ساتھہ قوانین بھی دئے گئے۔۔۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت اور حضرت یوسف علیہ السلام کی حکومتیں ایک خاص خطے اور وقت کے لئے تھیں۔۔۔۔۔۔ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو فرعون کے قبضے سے نکال لائے لیکن ذہنی غلامی سے نجات نہ دلاسکے۔۔۔ یہ ان پیغمبروں کی ناکامی نہیں بلکہ انکےعوام کی اکثریت کی ناسمجھی اور غافل ہونا تھا۔۔۔

نبی اور رسول میں فرق کیا ہے۔۔۔ نبی کا لفظ نکلا ہے نبا سے جس کا مطلب ہے خبر دینے والا۔۔۔ یعنی ماضی  اور مستقبل کے واقعات کی خبر دینے والا, اور لوگوں کو اخلاقیات کے ذریعے اصلاح کرنے والا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول کا لفظ نکلا ہے رسالہ یعنی کسی کو کسی کا پیغام پہنچانا سے۔۔۔ مطلب کہ رسول وہ لوگ ہوئے  جنھیں الله نے ذریعہ بنایا اپنا پیغام پہنچانے کا۔۔۔۔ ان کتابوں کے مخاطب رسول نہیں یعنی منتخب نمائندے نہیں بلکہ جمہور یعنی عوام الناس تھی۔۔۔  جس کے پاس ماننے یا نہ ماننے کا اختیار موجود تھا۔۔۔

محمد مصطفے صلی الله علیہ والہ وسلم واحد نبی اور رسول ہیں جنھوں نے اپنے صحابہ کے ساتھہ مل کر دنیا کی پہلی باقاعدہ طورپر ایک ایسی حکومت قائم کرکے دکھا دی جسکا منشور بین الاقوامی تھا یعنی کہ عدل وانصاف, اور وہ سبکے لئے قابل قبول تھی۔۔۔ طریقہ اس حکومت کا تھا اتحاد اور صلاح مشورہ۔۔۔ فرائض کی ادائیگی اور اخلاقی تعلیمات اسکی روح تھیں۔۔۔

یہ خلافت نظام عدل جس محنت اور جذبہ کے ساتھہ صرف تیئیس سال کے قلیل عرصے میں وجود میں آئی اسکی سب سے بڑی وجہ محمد مصطفے صلی الله علیہ والہ وسلم کے کردار اوراخلاقی صفات کی عظمت تھا۔۔۔ سورہ الاحزاب میں الله تعالی فرماتے ہیں کہ اور بے شک تمھارے لئے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ موجود ہے۔۔۔ اور سورہ القلم میں فرمایا کہ بے شک آپ اخلاق کے بڑے مرتبے پر فائز ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھہ آپ صلی الله علیہ والہ وسلم کے ہاتھوں ہونے والی صحابہ کرام کی تربیت۔۔۔ 

اکابرین صحابہ کے کردار اور نیتوں پر شک کرنا, رسول کے عقل وفہم پر شک کرنے کے برابر ہے۔۔۔ اور نہ ہی رسول صلی الله علیہ والہ وسلم اتنے بزدل تھے کہ صرف اخلاقی مروت یا بے چارگی کی وجہ سے صحابہ کو ساتھہ رکھنے اور ذمہ داریاں دینے پر مجبور تھے کہ کسی نہ کسی طرح اسلامی حکومت قائم کرکے دکھانی ہے۔۔۔اگر وہ عبدالله ابن ابی کو دور رکھہ سکتے تھے ۔۔۔ اگر غزوہ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ جانے والوں کا حال رسول پر کھولا جاسکتا تھا تو پھر حضرت ابو بکر صدیق, حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان  رضی الله عنہم کا حال ظاہر کردینا بھی الله  کے لئے مشکل نہ تھا۔۔۔۔

اورحقیقت یہ ہے کہ  رسول صلی الله علیہ والہ وسلم کا انتقال, انتقال پرملال نہیں تھا نہ کسی سازش کا نتیجہ تھا۔۔۔ بلکہ وہ شروع سے آخر تک الله کی پناہ میں تھے۔۔۔ ان کا وصال ایک کامیاب رسول, ایک کامیاب نبی, ایک کامیاب حکمران, اورایک کامیاب انسان کی حیثیت سے  ہوا۔۔۔ یہی انکے خاتم النبین ہونے کاثبوت ہے۔۔۔

تو یہ خلافت عدل جس شدت اورصفات کے ساتھہ قائم ہوئی اسے آگے لے کر چلنے کے لئے اسی قوت اور تحریک کا ہونا ضروری تھا۔۔۔ جو رسول صلی الله علیہ والہ وسلم کے وصال کے بعد کم ہوگئی۔۔۔ جبکہ اسکے مقابلہ پر موجود ظلم کی قوتوں کو زور پکڑنے کے مواقع ملتے چلے گئے۔۔۔ اور حضرت علی رضی الله عنہ کے دور خلافت تک پہنچتے پہنچتے یہ اپنے عروج پرپہنچ گئیں۔۔۔۔۔۔۔ منافقوں اور دشمنوں کے ہاتھوں تین خلفاء راشدین اور امام حسن رضی الله عنہ کی شہادت نےعام مسلمانوں کے دلوں سے رفتہ رفتہ ایک مرکزی حکومت کے طاقتور ہونے کا احساس کم کردیا۔۔۔ شاید اسی لئے عام مسلمانوں نے امام حسین رضی الله عنہ کا ساتھہ نہ دیا اور اہل بیت کو کربلا جیسے عظیم سانحے سے سے گذرناپڑا۔۔۔ اور یہ خلافت راشدہ خاتمے کی نشانی تھی۔۔۔ امام حسین رضی الله عنہ  نظام ظلم کے خلاف وہ آخری مزاحمت تھے جسے عام مسلمانوں نے کھو کر اور اسکا ساتھہ نہ دے کر اپنی بربادی کی ابتداء کی۔۔۔ اور آج تک افراتفری کا شکار ہیں۔۔۔

بیت الله کو مرکز مان کر ساری دنیا کے مسلمان حج کا رکن تو ادا کر تے ہیں, لیکن عرفات کے میدان میں عرفہ کے موقع پر جو کہ  اصل حج ہے,  جب سارے مسلمان جمع ہوتے ہیں ۔۔۔  تو انھیں وہ آواز سنائی نہیں دیتی, وہ شخص نظر نہیں آتا جس نے کہا تھا کہ۔۔۔ اے لوگو کیا میں نے تمھیں الله کا پیغام پہنچادیا ہے, پہنچادیا ہے, پہنچادیا ہے۔۔۔ تو اب تم ان کو پہنچاؤ جو یہاں موجود نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کعبہ کی چوکھٹ سے لپٹ کررو رو کراپنے مطالبات تو پیش کردیتے ہیں۔۔۔ لیکن سورہ النحل میں الله کا مطالبہ سنائی نہیں دیتا۔۔۔۔۔ اور الله حکم دیتا ہے عدل ک, ا اور احسان کا, اور قرابت داروں کو دینے کا, اور منع کرتا ہے بےحیائی کے کاموں سے, منکرات اور ہٹ دھرمی سے,  وہ نصیحت کرتا ہے شاید کہ تم غور کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو سوال کا جواب کیا ملا۔۔۔  دنیا میں دو قوتیں ہیں, جوایک نظام کی صورت میں موجود ہیں, عدل اور ظلم۔۔۔ نظام کامطلب ہے کہ یہ اجتماعی طو پر اثر انداز ہوتی ہیں۔۔۔ انفرادی طور پر نہیں۔۔۔۔ عوام الناس کی اکثریت کا کسی بھی قوت کے ساتھہ کھڑے ہو جانا زمین پراس قوت کی حکمرانی کا سبب بنتا ہے۔۔۔۔۔۔ عدل کا نظام اپنے ساتھہ امن اور  خوشحالی لاتا ہے۔۔۔ جبکہ ظلم کا نظام خوف اور بد حالی لاتاہے۔۔۔  

نظام عدل کا مرکز الله تبارک وتعالی کی ذات ہے۔۔۔ سورہ الانفطار میں ارشاد ہے۔۔۔ اے انسان تجھے کس چیز نے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے, جس نے تجھے پیدا کیا, پھرتجھے درست اور سیدھا کیا, پھر تجھے متناسب کیا عدل کے ساتھہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الاعلی میں فرمایا۔۔۔ تسبیح کر اپنے اعلی رب کی, جس نے ٹھیک تخلیق کیا پھر ٹھیک تناسب قائم کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو عدل انسان کے ظاہر میں بھی موجود ہے اور باطن میں بھی۔۔۔ اسی لئے نظام عد ل کا نفاذ انسان کے ہاتھہ میں دیا۔۔۔۔۔ سورہ الحدید میں الله نے فرمایا۔۔۔ بیشک بھیجا ہم نےرسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھہ اور ہم نے انکے ساتھہ کتاب اور میزان عدل نازل فرمائی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سوال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ شاید دنیا کو یہ دکھا نا مقصود تھا کہ کسی بھی قوم کے تعداد میں زیادہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔ جب تک کہ انکے اندر مرکزیت اور اجتماعیت کا تصور اور اسکے لئے کام کرنے کی اہلیت نہیں۔۔۔ وہ ایک قوت بن کر کبھی کھڑی نہیں ہوسکتی۔۔۔ ایک اور جواب یہ بھی سامنے آتا ہے کہ دنیا دیکھہ لے کہ نظام کسی خاص انسان یا خاندان کی وجہ سے آگے نہیں بڑھتا بلکہ اس میں موجود انسانوں کے اخلاق اور کردارکی وجہ سے آگے بڑھتا۔۔۔ لہذا اگر دنیا کو عدل چاہیے تو معاشرے میں اچھی صفات کے لوگوں کوظلم کے خلاف ایک برابر کی قوت بن کر آگے آنا ہوگا۔۔۔اسکے لئے تعلیم, دولت, مرتبہ, شہرت, اثرو رسوخ کی کوئی اہمیت نہیں۔۔۔  یہ سلسلہ قیامت تک کے لئے ہے۔۔۔والله اعلم بالصواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: