عملوالصلحت Good Deeds

Just imagine why Allama Iqbal and Quaid-e-Azam focused on establishing a separate system instead of compromising with Hindus and British Govt and introducing Islam as a complete system.  Unlike mullahs and religious scholars, they didn’t emphasize on doing good deeds, charity or donations.  That is because they knew that this is the part of a human nature to help others.  Even the most evil person is satisfied when he/she helps someone.  So good deeds are a part of a human nature.  Islam just put them in order according to their nature of priority so they deliver to resolve problems on a long-term basis.

جہاں اگرچہ دگرگوں ہے, قم باذن الله۔۔۔ وہی زمین وہی گردوں ہے, قم باذن الله

قم باذن الله یعنی کھڑا ہوجا الله کے حکم سے۔۔۔۔ یہ الفا ظ تھے حضرت عیسی علیہ السلام کے جس سے وہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔۔ وہ برص کے مریضوں کو ہاتھہ لگاتے تو شفا ہو جاتی۔۔۔ انکا ایک واقعہ بھی بہت مشہور ہے کہ جب ایک طوائف کو رجم کرنے کی سزا سنائی گئی تو انھوں نے فرمایا۔۔۔ پہلا پتھر وہ مارے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی اخلاقی تعلیمات اس انتہا پر تھیں کہ فرمایا کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی پیش کردو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اتنے عظیم انسان کے ساتھہ ان کی عوام نے کیا سلوک کیا کہ جب بادشاہ وقت نے حضرت عیسی علیہ السلام کو سزا سنائی تو کوئی بادشاہ کے خلاف کھڑا نہ ہوا۔۔۔ یہ صلہ دیا انھوں نے اس پاک شخصیت کا جس کو کبھی شیطان نے نہیں چھوااور جسکا معجزہ وہ دیکھہ چکے تھے کہ پیدا ہوتے ہی اس نے اپنے نبی ہونے اورماں کے پاکیزہ کردار کی گواہی دی۔۔۔۔

نیکی, بھلائی اور فلاح کے کام اخلاقیات کی تعریف میں آتے ہیں اور اسی لئے کسی بھی معاشرے کی روح ہوتے ہیں جو اسے زندہ اورمتحرک رکھتی ہے۔۔۔ اسلام نظریہ کے مطابق یہ حقوق العباد کا حصہ ہیں۔۔۔ اور الله عزوجل کی عبادت یعنی حقوق الله کا ایک جزو ہیں۔۔۔

اسلام میں, عملوالصلحت, یعنی اچھے اعمال کی بڑی اہمیت ہے۔۔۔ اور سورہ العصرمیں بیان کی گئی ان چارنجات کی شرائط میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے انسان  آخرت کے خسارے سے بچ سکتا ہے۔۔۔   بلکہ قرآن میں بار بار اچھے اعمال کی نصیحت کی گئی ہے۔۔۔ اچھے عمل کرنے کرے والے لوگ ہر مذہب, ہر  قوم اور زمانہ میں پائے گئے ہیں اور پائے جاتے ہیں۔۔۔ کیو نکہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔۔۔ کسی کی مدد کر کے, کسی کا پیٹ بھر کے, کسی کو خوشی دے کر دل کو سکون ملتا ہے۔۔۔ برے سے برا انسان بھی کہیں نہ کہیں کسی کو فائدہ پہنچا دیتا ہے۔۔۔ اکثر لوگ اپنے گناہوں کے کفارے کے طور پر بھی نیک کام کرتے ہیں۔۔۔ نبی کریم محمد مصطفے صلی الله علیہ والہ وسلم کے اعلان نبوت سے پہلے گو کہ ساری دنیا جہا لت اور گمراہی میں مبتلا تھی لیکن نیکی کا تصور موجود تھا۔۔۔ مکہ کے مشرکین بھی غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔۔۔ کعبہ کی زیارت کرنے والوں کو پانی پلاتے تھے۔۔۔ ایسے کام برے سے برے معاشرے میں بھی ہو رہے ہوں تو ایک تسلی اور امید بنے رہتے ہیں۔۔۔ لہذا نیکی کے اس فطری عمل کو رکنا بھی نہیں چاہیے۔۔۔

نیک کام کرنا اتناآسان بھی نہیں ہوتا۔۔۔ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے وسائل جمع کرنا اور صاحب حیثیت لوگوں کو اس کی طرف راغب کرنا, وسائل کی تقسیم اور فراہمی میں تسلسل… اور ان سارے کاموں کو بلا معاوضہ رضاکارانہ طور پرانجام دینے کے لئے وقت نکالنا۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھہ چٹکی بجاتے نہیں ہوجاتا۔۔۔۔ جو لوگ اچھے اعمال کر رہے ہوتے ہیں ان ہی کا دل جانتا ہے کہ وہ کن مشقتوں سے گذرتے ہیں۔۔۔

لوگ اچھے کام اپنی مالی حیثیت, جسمانی طاقت, سمجھہ اور صلاحیت کے مطابق کرتے ہیں۔۔۔ اس لئے ان کا یا  ان کے کاموں کا آپس میں مقابلہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ بہت سے لوگ انفرادی طور پر پریشان حال ناداروں کی مدد کرتے ہیں۔۔۔ کچھہ ان پڑھ لوگوں کی تعلیم ک انتظام کرتے ہیں۔۔۔ کچھہ بیماروں اور معذورں کا سہارا بنتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اسی طرح کچھہ لوگ جماعت, تنظیم یا اداروں کی صورت میں تھوڑے بڑے پیمانے پر فلاح و بہبود کے کام کرتے ہیں۔۔۔ عبدالستار ایدھی فاؤنڈیشن, انصار برنی ٹرسٹ, شوکت خانم میموریل ہسپتال, عورت فاؤنڈیشن, کاشانہ اطفال, دارلامان, زندگی ٹرسٹ, سہارا ٹرسٹ, محمودہ سلطانہ ٹرسٹ, ولیج اسکولز,  صراط الجنھ اور پاکستان کے دینی مدارس اوربہت سے ایسے ہی ادارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے اپنے دائرے میں یہ سب ہی نیکی اور بھلائی میں مصرف ہیں۔۔۔۔


 کیا نیکیاں معاشرے میں کوئی اجتماعی تبدیلی لاتی ہیں۔۔۔ 

امریکہ اور مغربی دنیا کو ہمارے ہاں زنا, بے حیائی, شراب, جوئے کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔۔۔ تو دوسری طرف ہم انسانیت کے لئے بھی انھیں کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔۔۔ بھارت میں مدر ٹریسا نے عملی طورپر جتنے اچھے کام کئے, گاندھی اور نہرو نے بھی نہیں کئے ہوںگے۔۔۔ پاکستان میں عبدالستار ایدھی کے نیک کاموں کی فہرست بنانے بیٹھہ جائیں تو سال بیت جائے۔۔۔ الله کے اولیاء اور ہزاروں سوشل ورکرز اور فلاح وبہبود کے اداروں سے بھری ہوئی سر زمین پاکستان میں ہر دن بے گھر, غیر تعلیم یافتہ, بیمار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔۔۔   مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک دنیا کی حالت پر نظر ڈالیں۔۔۔  کیا نیکیوں کے نتیجے اسی طرح نکلتے ہیں اور اچھے اعمال کرنے والوں کے معاشروں کا یہی حال ہوتاہے۔۔۔

اس سے یہ مطلب نہیں نکالنا چاہیے کہ شاید نیک کام کرنے والوں کی نیت ٹھیک نہیں۔۔۔ دنیا کے برے حالات میں نہ تو نیک کام کرنے والوں کی نیت کا قصور, نہ ہی وہ اسکے ذمہ دار ہیں۔۔۔ بلکہ یقینا وہ ہربرے حالات میں امید کی کرن ہوتے ہیں جو مظلوموں اور ناداروں کو حوصلہ دیتی ہے۔۔۔ انھیں جینے کے لئے جسمانی طاقت فراہم کرتی ہے۔۔۔

لیکن بہرحال یہ ایک حقیقت ہے۔۔۔ کہ پاکستان خصوصا دنیا کا سب سے زیادہ عطیات دینے والاملک ہے۔۔۔  اوربدحالی کا یہ حال کہ روزانہ لوگ خود کشیاں کرہے ہیں۔۔۔ خوف, بھوک, جہالت۔۔۔ جبکہ صدقات تو بلاؤں کو ٹالتے ہیں۔۔۔ 

سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیوں ہے۔۔۔

دنیا میں ایک لاکھہ چوبیس ہزار پیغمبر آئے اخلاقی تعلیمات کے ساتھہ۔۔۔ ان میں سب انبیاء لیکن کچھہ رسول بھی تھے۔۔۔ کتنے ہی نبییوں کو قتل کیا گیا, سولی چڑھایا گیا, آرے سے چیرا گیا۔۔۔ جبکہ ہر پیغمبر اپنی قوم کا نیک ترین اور مخلص ترین انسان تھے جسکی گواہی خود انکے اپنے لوگ دیتے تھے۔۔۔ کیا ان نبیوں کا خلوص اور بھلائی انکی قوم کی سوچ تبدیل کرسکا۔۔۔ انھیں انکے ظالم حکمرانوں کے ظلم سے نجات دلا سکا۔۔۔ حضرت موسی علیہ السلام نبی بھی تھے اور رسول بھی کیوں کہ خدائی قوانین ساتھہ لے کر اترے تھے۔۔۔ انھوں تو بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات بھی دلادی۔۔۔ لیکن انکی عوام کی سوچ آزادی نہیں, بلکہ ننانوے فیصد آبادیوں کی طرح روٹی کپڑا اورمکان تک محدود تھی۔۔۔ انجام یہ کہ الله نے انھیں بھٹکا دیا۔۔۔

رسول صلی الله علیہ وسلم نےخلافت مدینہ کے بعد غزوات کئے, جن میں مسلمان شہید اوربچے یتیم ہوئے۔۔۔ کیا آپ نے کوئی فلاح وبہبود کا کوئی ادارہ بنایا انکے لئے۔۔۔ بعد میں چاروں خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی اس کی کوئی مثا ل نہیں ملتی۔۔۔ اس پورے عرصے میں مالی امداد اوراخراجات کا مرکز بیت المال ہوتا تھا۔۔۔ اور حکومت جو کہ ایک مرکزی نظام ہوتی ہے, بیت المال اس نظام کا حصہ ہوتا تھا۔۔۔

عبدالستارایدھی فاؤنڈیشن, انصار برنی ٹرسٹ, شوکت خانم میموریل ہسپتال, عورت فاؤنڈیشن, کاشانہ اطفال, دارلامان, زندگی ٹرسٹ, سہارا ٹرسٹ, محمودہ سلطانہ ٹرسٹ, ولیج اسکولز,  صراط الجنہ اور پاکستان کے دینی مدارس اوربہت سے ایسے ہی ادارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  خیراتی ادارے جس نام سے بھی موجود ہوں یا جتنی عظیم شخصیت نے کھولے ہوں۔۔۔ وہ معاشرے کے بدحال افراد کو برے حال سے وقتی طور پر بچا تو سکتے ہیں لیکن کبھی شخصیات پیدا نہیں کرسکتے۔۔۔ کیونکہ ذہنی طور پر یہ افراد ایک دباؤ کا شکار ہوتے ہیں کہ ہم دوسروں کے وسائل پرپلے بڑھے ہیں۔۔۔ ان میں وہ اعتماد نہیں ہوتا جو ایک خاندان میں آزادنہ طور پرپلے لوگوں کی شخصیت کا حصہ ہوتا ہے۔۔۔

جب کسی ملک کے فلاح وبہبود اور امدادی کام مرکز سے ہٹ کر نیکی کے نام پہ عوام کے ہاتھہ میں آجائیں تو عوامی دولت اورعوام  کی توجہ, دونوں کئی حصوں میں  تقسیم ہو جاتی ہیں۔۔۔ عوام کی توجہ اور دولت وہ طاقت ہیں جو تقسیم ہوجائیں توحکومتی عہدیداروں کو قومی خزانہ لوٹنے کے بہترین مواقع مل جاتے ہیں۔۔۔  حکمران مطمئن رہتے ہیں کہ چلوعوام آپس ہی میں کچھہ کرکرا کے مسائل کا حل نکال لیں گے۔۔۔۔۔۔۔ غریب, محروم, ضرورت مند لوگوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک آسان راستہ ہاتھہ آجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ  خود کو بے بس اور مجبور سمجھتے ہوئے حکومت سے الجھنے یا  ٹکرانے کے بجائے فلاحی اداروں کے در پر جا پڑتے ہیں۔۔۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے کے لوگ جو کمانے کے قابل ہیں ان پر بوجھ بڑھہ جاتا ہے۔۔۔ ایک طرف وہ فرض کے نام پر ٹیکس د یتے ہیں تودوسری جانب نیکی کے نام پر سینکڑوں کو پالتے ہیں۔۔۔

نیکی اور بھلائی کے کام, فلاحی منصوبے, صدقہ وخیرات۔۔۔ یہ سب آخرت میں پھل دیتے ہیں یا پھر دنیا میں انفرادی فائدے۔۔۔ یہ توقع کرنا کہ مفت نیکیاں کرتے رہو ای دن لوگ اچھے ہو جائیں گے, لوگوں کا مفت پیٹ بھرتے رہو ایک دن بھوک مٹ جائے گی, مفت علاج کرتے رہو بیماریاں ختم ہوجائیں گی, مفت تعلیم دیتے رہو جہالت ختم ہوجائے گی۔۔۔ آج تک نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔۔۔  نیکی اور بھلائی کو نظام بننے کے لئے قانون اوراس کو نافذ کرنے والے قوت بازو کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ جبکہ ہم نےعملوالصالحات یعنی نجات کی آخری شرط کو اسلام کا مکمل نظام سمجھہ لیا ہے۔۔۔

اگراب بھی بات سمجھہ نہیں آئی تو سوچیں کہ ۔۔۔ فلاحی اور خیراتی اداروں کی تعداد میں اضافہ, انکے عطیات اور چندہ کی رقم میں اضافہ, ان کے در پر آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا معاشرے کے بہتر ہونے کی علامت ہے یا بدتر۔۔۔ کیا یہ اطمینان کا مقام ہے یا فکر کا۔۔۔ کیا اس طرز نیکی کی زیادتی سے مستقبل میں قوم کے معمار پیدا کئے جاسکتے ہیں یا حسب عادت ایک مسیحا کاانتظار کرنے والے ۔۔۔۔۔۔ 

کیوں آخر محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم ہی صرف تیئیس سال کےعرصے میں وہ  نظام قائم کرسکے جس  میں لوگ بھوکے مفلس تو تھے, بھکاری نہیں تھے۔۔۔ ایک بہتر زندگی زنگی کے خواہشمند تو تھے لیکن دوسروں کی جان, مال اورعزت کی قیمت پر نہیں۔۔۔ جہاں حضرت بلال کو اسلام لانے کے بعد بھی وہی تکلیفیں سہنی پڑیں اور فاقے برداشت کرنے پڑے جو امیہ کی غلامی میں تھے لیکن اب وہ آزاد تھے اور  اپنی مرضی سب کچھہ برداشت کرتے تھے, ذلت سے نہیں۔

سلام ہوعرب کے ان غلاموں اور ان پڑھ  لوگوں پرجنھوں نے چودہ سو سال پہلے اسلام کے مرکزیت کے تصور یعنی ۔۔۔ لاالہ الا الله ۔۔۔ کو سجھا اور آپس میں تفرقہ پیدا کرنے والی ہر دیوارگرادی۔۔۔

یہ نظام روٹی, کپڑا, مکان, ذاتی پسند, ذاتی زندگی اور مقابلے کےفلسفے سے شروع نہیں ہوا تھا۔۔۔  بلکہ ایک اجتمایت, مرکزیت اور کسب حلال کے تصور سے شروع ہوا۔۔۔ جہاں چندہ عوام کی ضروریات زندگی نہیں بلکہ قوم کے دفاع کے لئے مانگا جاتا تھا۔۔۔

 یہ دولتمند لوگوں کے لئے, محنت سے کمانے والوں کے لئے نہ صرف فکر کا مقام ہے بلکہ انکے خوشحالی مستقبل کا سوال بھی۔۔۔۔ اگر ہم نے فلاح وبہبود کے اس تصور کو نہ سمجھا اور ان اصولوں کو نہ اپنایا جو اسلام نے سکھائے ہیں۔۔۔ تو آنے والا دور بھوک مفلسی اور جہالت میں اضافہ ہی لےکر آئے گا۔۔۔

 صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی کچھہ احادیث کے مطابق ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ مسلمان زکات دینے کے لئے مستحقین کو ڈھونڈیں گے اور کوئ زکات لینے والا نہ ملے گا۔۔۔ یہ دنیا کی خوشحالی کا دور ہوگا۔۔۔۔ 


About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: