دنیا بڑی بانوری پتھر پوجنے جائے

گھر کی چکی کو ئی نہ پوجے جس کا پیسا کھائے۔۔۔

شاعر نے غلط نہیں کہا۔۔۔ خدا کی مخلوق میں جو کچھہ دیتا ہوا, فائدہ پہنچاتا ہوا نظر نہ آئے, اس کو خدا بنا کر پوجنے کا کیا فائدہ۔۔۔ اگر پتھر ہی پوجنا ہوتو چکی کیا بری ہے کہ گیہوں پیستی نظر بھی آئے اور سنائی بھی دے, نہ کہ خواہ مخواہ اپنے ہاتھہ سے بت تراش کر کونے میں بٹھا دیں کہ اپنے سر سے مکھی بھی نہ اڑاسکے۔۔۔ اور اگر انسانوں ہی میں سے کسی کی عبادت کرنی ضروری ہو تو پھروہ کماتا ہوا, کھلاتا ہوا کوئی شخص ہونا چاہئے۔۔۔ نہ کہ وہ جس کو خود نذرانہ دے کر اسکا پیٹ بھرنا پڑے۔۔۔

جیسے دنیا کے بہت سے معاشروں میں مردوں کو یہ مقام خداوندی حاصل ہے۔۔۔ کبھوباپو کی صورت ماسفید و سیاہ اور درمیان کے سارے شیڈز کے مالک۔۔۔ کبھی شوہرکی شکل میں مجازی خدا بن کر ہر فیصلے کا اختیار  ۔۔۔۔  اور اگر بھائی یا بیٹا کما نے لگے تو وہ بھی اسی لائن میں شامل۔۔۔

قرآن کریم میں بھی مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت اسی لئے دی گئی کہ وہ  ان پراپنا مال خرچ کرتے ہیں۔۔۔ بات ہے بھی سمجھہ میں آنے والی۔۔۔ کہ دینے والا کام اپنی مرضی کا ہی چاہے گا۔۔۔ لینے والا چاہےملازم ہو, چاہے گھر کا نوکر, چاہے قرضدار یا بھکاری۔۔۔ یاتو مرضی کا کام کرے یاپھر پیسے واپس۔۔۔ کیوں کہ دنیا کا نظام کوئی بھی ہو, لین دین پر ہی چلتا ہے۔۔۔

خیر اسکا مطلب یہ نہیں کہ دینے اور لینے والے کا تعلق واقعی میں خدا اور بندے کا ہو۔۔۔ ہاں ایکدوسرے کے حقوق اور ضروریات کا خیال رکھنا لازمی ہے۔۔۔ وہ حقوق جو خدا نے اپنے بندوں کودیے ہیں۔۔۔ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بدلے خدا کی طرف سے دئے گئے حقوق کا سودا کرنا درست نہیں۔۔۔      

یہی سب باتیں خواتین کے لئے بھی ہیں۔۔۔

لیکن پتہ نہیں کیوں۔۔۔ ہمارے معاشرے میں رواج یہ ہے کہ مرد ہو یا عورت, جس کا زور چل جائے۔۔۔ وہی خاندان میں وڈیرے, جاگیردار, سردار کا کردار ادا کرنا شروع کردیتا ہے۔۔۔ بجائے کہ اپنے اریب قریب کے لوگوں کو اس قابل بنائیں کہ تھوڑے عرصے بعد وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر آزاد زندگی گذار سکیں۔۔۔ نہایت ہی طریقے سے سارے فیصلے خود کرتے ہیں۔۔۔ پھر اپنے طریقوں سے انھیں نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ آخر میں تھک کر سب چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔

صدیاں گذر گئیں, سالوں بیت گئے۔۔۔آج تک ہمارے گھرانے اسی طرح چل رہے ہیں۔۔۔ جو روایات ہمارے معاشرے کو آج تک تباہ و برباد کرتی آئیں ہیں۔۔۔ ان پر روتے بھی ہیں اور انھیں کی حفاظت کرتے ہیں۔۔۔ دینی ہوں, سماجی ہوں یا خاندانی۔۔۔ ان روایات کے بوجھہ نے پوری قوم کو تباہ کردیا۔۔۔ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کو تیار نہیں۔۔۔ کوئی خاندان, کوئی فرد۔۔۔ ایسا جوخود ان کو توڑے اپنی زندگی بہتر کرنے کے لئے۔۔۔ دوسروں پر, معاشرے پر تنقید کرتے ہیں۔۔۔ جب اپنا موقع آتا ہے تو خود اسی کیچڑ میں کود پڑ تے ہیں۔۔۔

ہم اور ہمارے مقابلے پر ساری دنیا۔۔۔ دونوں اس بات پر تو قائل ہوگئے کہ اسلام کو بدنام کرنے اور اس کا اصل چہرہ بگاڑنے کے ذمہ دار مولوی اور طالبان ہیں۔۔۔ لیکن آج تک یہ اندازہ نہ لگا سکے کہ پاکستانی معاشرے کو جہنم بنانے کا ذمہ دار کون ہے۔۔۔ پاکستانی چینلز پر دکھا ئے جانے والے ڈرامے اس کا آسان سا جواب ہیں۔۔۔ اور ڈرامے دیکھہ کر اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ ڈرامے نہیں حقیقت ہیں۔۔۔

کمزور کردار کے, غیرت اور خودداری سے خالی, مختلف رشتوں کی شکل میں موجود خواتین کے درمیان ادھر سے ادھر لڑکنے والے اور جان بوجھہ کر بیوقوف بنے رہنے والے عقلمند مرد۔۔۔ 

باقی رہیں خواتین۔۔۔ تو یا تو وہ مظلوم ہیں یا ظالم۔۔۔ نارمل نہیں۔۔۔ جس رشتے کی عورت کا جس پر بس چل جائے۔۔۔ حسد, لالچ, بغض, نفرتوں اور سازشوں سے بھری ہوئی شیطان صفت عورتیں۔۔۔ جنھیں ان کے گرد موجود تمام مرد بھی دفاع کرتے ہیں۔۔۔ اس لئے کہ جانتے ہیں کہ ایسی عورتیں کسی نہ کسی طرح گھروں کو قائم رکھتی ہیں۔۔۔

ایک دوسرے کو جنون کی حد تک نیچا دکھانے والے پاکستانی معاشرے کے مردوں اور عورتوں کو کبھی یہ بات سمجھہ نہیں آتی کہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور خود مختار اور با عزت زندگی گذارنے کے لئے سب سے زیادہ ضرورت خدا پر ایمان اور اتنی دولت کی ہوتی ہے کہ اپنی ضروریات خود پوری کرسکیں۔۔۔ ورنہ کم از کم عورتوں کو تو بڑے چکرچلانے پڑتے ہیں۔۔۔ بے چاریاں شوہروں, بھائیوں, بیٹوں کو رزق اورعزت وذلت کا مالک سمجھہ کر پکڑ کر رکھتی ہیں۔۔۔ شرک کہیں, کفر کہیں, محبت کہیں, سمجھداری یا دنیا داری۔۔۔  انھیں چکروں میں زندگی گذارتے گذارتے قبر کے گڑھے میں جا گرتے ہیں۔۔۔ 

 زندگی گذارنے کا یہ طریقہ ان مردوں اور عورتوں کا اسلام, روایات, ثقافت اور ایمان ہے۔۔۔

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: