Matrimonial-cycle in Pakistan

What was the world’s first human relation, husband and wife or mother and father?

Adam and Eve (may peace and blessings be upon both of them) started the human race as husband and wife.  The matrimonial laws they followed for their children were different from their own.  They never experienced a childhood, no parents for guidance, no friends for fun, no laws to obey.  They were being created.  They reproduced the way they had never seen or heard of.  And so the tribes and nations came into existence.

Adam and Eve (peace be upon both of them) knew the best the difference between Earth and Paradise.  They had come from the world of true luxuries.  They had a valid reason to believe that the world is just a temporary place to reside.  It is a place to do what you are being asked to do and leave.  So they did not introduce to their children the idea of a ‘matrimonial-cycle’ – get born –> get married –> give birth –> raise children –> marry them –> force them to give birth in abundance –> advise them to continue the cycle as a religious obligation –> die.

Paradise and Hell are the property we get or lose at the cost of how we live in this world – we only choose which one, God chooses the ways.

Humans are not considered the key resource just because they are human.  It is because of the powers they are granted with to control the other creatures and the  role they play in the development of their surroundings.  They have rights upon each other and the duties to be fulfilled.  Thus, laws in different eras were either ordained by God or were constituted by people to keep the balance between rights and obligations.  That is how much have I taken from, can expect from and owe to others.  Things go on peacefully and respectfully until we succeed in keeping this balance.  Same is the case with human activities – jobs, social gatherings, rituals and traditions.

دنیا کا پہلا انسانی رشتہ کون سا تھا بھلا۔۔۔ میاں بیوی یا ماں باپ۔۔۔

حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیھا السلام۔۔۔ یہ بھی جنسی مساوات کی نشانی ہےکہ مرد اورعورت دونوں کے لئے لفظ ۔۔ حضرت۔۔ استعمال کیا جاتا ہے اور سلامتی بھی ایک ہی الفاظ سے بھیجی جاتی ہے۔۔۔ عجیب انسان تھے۔۔۔ خوش نصیب بھی۔۔۔ نہ بچپن دیکھا, نہ ماں باپ۔۔۔ نہ دوست نہ رشتہ دار۔۔۔ نہ قانون۔۔۔ نہ کوئی حضرت حوا علیھا السلام کو یہ طعنہ دینے والا کہ پسلی سے پیدا ہوئی اس لئے ٹیڑھی ہیں۔۔۔ بس ایک نارمل لڑکا اور ایک نارمل لڑکی۔۔۔  اسی لئے دنیا میں سکون تھا اس وقت۔۔۔

انسان کی اہمیت صرف انسان ہونے کی وجہ سے نہیں۔۔۔ بلکہ اسکے مختلف رشتوں میں بندھے ہونے کی وجہ سے ہے۔۔۔ بہت سے اخلاقی اور سماجی قانون بھی ان رشتوں میں حقوق کا توازن برقراررکھنے اور امن, احترام اور سکون قائم رکھنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔۔۔ ہر انسان ایک ہی وقت میں مختلف کردار کرتا ہے اور ہر معاشرے نے ہر کردار کی حدود متعین کی ہیں۔۔۔ یہی بات انسانی معاشروں سے متعلق رسومات اور روایات کے لئے بھی ہے۔۔۔ حتی کہ پیشے اور ملازمت  کے لئے بھی۔۔۔ کوئی رشتہ اپنے حق, عزت, احترام اور محبت میں حد سے بڑھ جائے۔۔۔  یا رسومات اور روایات کا حدود سے بڑھہ کر اظہار کیا جائے۔۔۔ وہیں سے نا انصافی, ظلم اور بے سکونی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔۔۔ 

لیکن ہم شاید اتنے سمجھہ دار نہیں ہوئے کہ حدود وقیود کے مقاصد سمجھہ سکیں۔۔۔ اسی لئے ہر کردار میں ایک دوسرے پر چیل کوؤں کی طرح جھپٹتے رہتے ہیں۔۔۔ قانون جنگل کا, اخلاق جانوروں کا۔۔۔

Why are people in our society so dependent upon each other for their happiness and pleasure?  Why is people’s happiness linked to materialistic approach?  Why do people threat to ruin other’s life in order to fulfill their own desires?


ہمارے معاشرے کے لوگ اپنی خوشیوں کے لئےدوسروں کے محتاج کیوں ہیں۔۔۔ اتنے محتاج کہ چھیننا جھپٹنا شروع کردیتے ہیں۔۔۔ ان کی ساری خوشیاں دوسروں سے ملنے والی مادی چیزوں سے منسوب کیوں ہوتی  ہیں۔۔۔ اور اس کے لئے شادی سے بہترین موقع کون سا ہوسکتا ہے۔۔۔   

Is marriage supposed to be an event for ‘bride and groom’ or for others to disable them and carry on with their own wishes?

Why do elders decide for ‘mehr and jahez/dowry’, wedding menu, the guests to be invited, the venue – why don’t ‘bride and groom’ decide it all for themselves?  If they can’t then how can they be trusted to lead a ‘life happily ever after’?

 پاکستان میں شادی کو زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھا جاتاہے۔۔۔ آج بھی۔۔۔ اسوقت تک, جب تک شادی نہیں ہوجاتی۔۔۔ لالچ, حسد, بغض, سازش, دکھاوا۔۔۔ سب کی فطرتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔۔۔

Why do we even have a concept of exchanging children – my daughter is going to get to live somewhere else or we are bringing someone’s daughter as an additional member so she should try to adjust with us?  Why don’t both sides encourage their children to make decisions and find ways to understand each other?  Why they want to control girl and boy after their marriage?

Why do elders even think of proposing a girl or a boy if they don’t trust them to be a good life partner?  Or may be it is not their purpose.

سمجھہ نہیں آتا کہ ہمارے معاشرے میں یہ تصور کیوں ہے کہ ہماری بیٹی کسی کے گھر جارہی ہے اور ہمارے گھر ایک بہو آرہی ہے۔۔۔ بیٹوں اور بیٹیوں کے والدین یہ کیوں نہیں سوچتے کہ دو انسان اپنی زندگی شروع کرنے جارہے ہیں۔۔۔ کیوں نہ انکی مدد کریں۔۔۔ ان کو خود نئے تجربات کرنے دیں, ایک بہتر زندگی کے لئے۔۔۔ کیوں انھیں اپنی تربیت پر بھروسہ نہیں ہوتا۔۔۔

ازدواجی رشتے میں بگاڑ سب سے زیادہ لڑکی اور لڑکے کی مائیں, بہنیں پیدا کرتی ہیں۔۔۔ شادی کے دوسرے دن سے ہی لڑکی کی ماں کو اپنی بیٹی اور لڑکے کی ماں کو اپنا بیٹا عزیز ہو جاتاہے۔۔۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر ماؤں میں اپنی اولادوں سے اتنی ہی محبت ہوتی ہے تو وہ ان کی شادیاں ہی کیوں کرتی ہیں۔۔۔ ساری زندگی بھر بٹھا کر رکھیں۔۔۔

بیٹیوں کی مائیں اپنی بیٹیوں کا ایسی جگہ رشتہ ہی کیوں کرتی ہیں کہ جہاں کے لوگوں اور ماحول سے پہلے ہی دن سے بیٹی کو ڈرانا شروع کردیتی ہیں۔۔۔ کیوں کسی کا بیٹا, کسی کا بھائی چھڑانے کے طریقے سکھاتی ہیں اپنی بیٹی کو۔۔۔ اپنا حق دوسروں کو ان کے حق سے محروم کرکے نہیں لیا جاتا۔۔۔ 

اور بیٹوں کی مائیں اپنے بیٹوں کا ایسی جگہ رشتہ ہی کیوں کرتی ہیں کہ جہاں کے لوگوں اور ماحول پر بعد میں تنقید کرنی ہو۔۔۔ اگر بہو افورڈ نہیں کرسکتیں تو بیٹوں کی شادیاں کیوں کرتی ہیں۔۔۔ پہلے اپنے بیٹوں کو اخلاقی, ذہنی اور معاشی طور پر اس قابل بنادیں کہ وہ ماں, بہنوں, بیوی اور بچوں کے اخراجات اٹھا سکیں۔۔۔

دوسری بات جو بیٹوں کی ماؤں کویاد رکھنی چاہیے کہ بیٹے کو شادی کے بعد بھی بیٹا ہی رہنے دیا کریں۔۔۔ بہو کے مقابلے پر اسکی بیوی بننے کی کوشش نہ کیا کریں۔۔۔ بیٹا بیٹا ہوتا ہے, شوہر کی طرح ماں کا خیال نہیں رکھہ سکتا۔۔۔ بیٹوں کو جائیداد یا اے ٹی ایم مشین سمجھہ کرشیئر کرنے کا حوصلہ نہ ہو تو انکی شادیاں نہ کریں۔۔۔  

جس لڑکے اور لڑکی کی شادی ہوتی ہے ان کی پسند اور ناپسند دور دور تک کسی معاملے میں شامل نہیں ہوتی۔۔۔ کس سے ہونی ہے شادی, کیا لینا دینا ہے, کیا پہننا ہے, کیا کھانا کھلانا ہے, کن مہمانوں کو آنا ہے, کس کو نہیں بلانا, سسرال جاکر کیا کرنا ہے, میکے کب جانا ہے, خرچہ بیوی نے چلاناہے یا ساس نے,  بچے کب پیدا کرنے ہیں, کتنے پیدا کرنے ہیں, کیسے پلنے ہیں۔۔۔ 

ایک مکمل معذور اور اندھی شادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب اپنی شادی میں گونگے, بہرے۔۔۔ چاہتے ہیں دوسروں کی شادی کا ہر فیصلہ ان کی مرضی سے ہو۔۔۔ شاید اپنی اپنی شادیاں اپنی مرضی سے نہ ہونے کی بھڑاس نکالتے ہیں۔۔۔ محبت اور خونی رشتوں کی آڑ میں۔۔۔ میاں بیوی کے رشتے کو دوسرے چلاتے ہیں۔۔۔ یہ رشتہ یا تو آس پاس کے رشتہ داروں کی خواہشات کی نذر ہو جاتا ہے یا پھر سازشی حالات کی۔۔۔ جو میاں بیوی شروع دن سے ہی دوسروں کے فیصلوں کے محتاج ہوں وہ بھلا خوش ہونا کیاجانیں۔۔۔ اور اگر کوئی اپنی مرضی سے خدا نہ کرے شادی کر بھی لے تو سب جس بری طرح ان دونوں کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں, الله کی پناہ۔۔۔ شیطان بھی شرمندہ ہوجائے۔۔۔

Parents who think that love marriage is a sin and would bring them disgrace among relatives and society usually disregard the words of Prophet Muhammad (pbuh), “Don’t marry a girl without her consultation.”  Sahih Bukhari and Muslim.

Love marriages in Pakistan can be titled as ‘fear-marriages’ as they have to fear each and every person around them.  Their own blood relations spy on them, read their SMS and e-mails, check their belongings and pockets.  That’s very cheap of them they should know.   Qur’an says, “spy not on others…”.  This society has no respect for others’ privacy.

 

رومانس, منگنی, شادی… ان میں خوشی سے زیادہ خوف ہوتا ہے۔۔۔ کوئی دیکھہ نہ لے, کوئی سن نہ لے,  چھپ کر روٹھتے ہیں, چھپ کر مناتےہیں۔۔۔ جب چاہے کوئی  بھی گھر والوں میں سے اٹھ کر خط پڑھ لے, ای میلز, موبائلز چیک کرلے۔۔۔ جن خونی رشتوں کو حقوق کا محافظ بنایا گیا ہو, انھیں سے اپنے حق کے لئے لڑتے ہیں۔۔۔  

اور آخر ساری شادیوں کا ایک جیسے طریقے سے ہونا کیوں ضروری ہے۔۔۔ اتنا جہیز, ایسا ہال, یہ یہ کھانا, اتنے مہمان۔۔۔ جہیز میں بیڈروم سیٹ, ٹی وی, فرج, پچاس جوڑے, چار سونے کے سیٹ, موٹر سائیکل, گاڑی۔۔۔ ان سب چیزوں سے کس کی عزت بڑھتی ہے۔۔۔ میکے کی یا سسرال کی۔۔۔۔ یہ سارے معاملات لڑکی اور لڑکے پر کیوں نہیں چھوڑ دیے جاتے۔۔۔

Why don’t boys take a stand against dowry/jahez?  They should restrict their parents from asking anything in the name of Jahez.  Boys need television, refrigerator, furniture, bedroom set, diner set, they should buy themselves.

لڑکے خود جہیز لئے جانے کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے۔۔۔ خود کیوں نہیں فیصلہ کرتے کہ ماں, بہنوں اور بیوی کو کس حد تک انکے حقوق کے دائرے میں رکھنا ہے۔۔۔ 


خود اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حیا, بے حیائی, خاندان کی عزت, رشتہ داروں میں ذلت, دنیا کے خوف سے کیا تعلق۔۔۔ یہ توفخر کرنے کی بات ہے کہ ہماری اولاد نکمی اور محتاج نہیں۔۔۔ بلکہ اپنی زندگی کے اچھے برے فیصلے خود کرنے کی نہ صرف صلاحیت رکھتی ہے بلکہ انکے اچھے برے نتائج سے نمٹنے کی اہل بھی ہے۔۔۔ اگر اولاد اس قابل نہیں کہ معاملات سمجھہ کر خود فیصلہ کرسکے اور دوسروں کی عقل سے سوچے تو ایسی اولاد تو خود ماں باپ کے بے صلاحیت اور ناکام ہونے کا ثبوت ہوتی ہے۔۔۔ 

اور شادی کے بعد کیا ہوتا ہے۔۔۔ کچھہ بلکہ کافی گھرانوں میں تو شادی کے بعد لڑکی کو سسرال کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔ جہاں شوہر سمیت ہر شخص اس لڑکی کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔۔۔ جب تک معاملات کسی انتہا پر نہ پہنچ جائیں, لڑکی کے گھر والے مداخلت نہیں کرتے۔۔۔ بہت سے گھرانوں میں اتنی مداخلت کرتے ہیں کہ اپنی ہی بیٹی کا گھر تباہ کر دیتے ہیں۔۔۔ 

نئے شادی شدہ جوڑے کو سب اپنے اپنے طریقوں سے چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ پھر بچے ہو جاتے ہیں۔۔۔ ان کی تعلیم, شادیاں۔۔۔ اور اتنے سالوں میں میاں بیوی کوعادت ہوجاتی ہے بہن بھائیوں کی طرح رہنے کی۔۔۔ پھر اپنی قسمت کو پیٹتے, اولاد کی بے حسی کا رونا روتے دنیا سے چلے جاتے ہیں۔۔۔ 

آخر یہ چکر ہر گھر میں دہرایا ہی کیوں جاتا ہے۔۔۔ کیوں کوئی مختلف ازدوجی زندگی کی داغ بیل نہیں ڈالی جاتی۔۔۔ کیوں ایک بہتر شادی شدہ زندگی کی تاریخ رقم نہیں کی جاتی۔۔۔  کس نے مجبور کیا ہے کہ الٹی سیدھی رسم و روایات کے ذریعے دنیا پر رعب ڈالیں۔۔۔ کیوں ضروری ہے کہ ساری کمائی بچوں   پرخرچ کریں اور بڑھاپے میں خود کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔۔۔ کیوں اپنے بڑھاپے کا خود انتظام نہیں کرتے۔۔۔ یہ کس قسم کی محبتیں ہیں کہ پہلے ایک دوسرے پر لٹاتے ہیں, پھر جتاتے ہیں, پھر حساب کتاب مانگتے ہیں, پھر دنیا بھر میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔۔۔ 

اور اس پرمعصومیت کا یہ عالم کہ حیران ہوتے ہیں کہ ہمارے ہاں ریپ کیوں ہورہےہیں۔۔۔ خاندانی مرد اپنے ہی محترم خواتین کے ساتھہ زیادتیاں کیوں کرتے ہیں۔۔۔ 

How many people in Pakistan are aware of the true purpose of marriage and the meaning of family life?  How many do participate in keeping marriages as happy as they can?  How many be happy seeing others living happily ever after?

This slideshow requires JavaScript.


About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: