Women’s freedom, rights and issues…

Women’s freedom, women’s right, women’s issues, women’s life, what’s with women?  Can’t they do anything by themselves?

Do they know what is freedom?

Do they know when they say women’s rights, what are they asking for?

Do they know who is key initiator of women’s issues?

Do they know the purpose of their lives?

Freedom demands responsibility and honour.  Rights doesn’t mean you are always right.  Issues are not solved by creating issues or crying over them.

The rights abused inside houses cannot be achieved on streets, through the dividers of Pakistani nation.


خواتین کو آزادی یا حقوق مردوں کے سدھرنےسے ملیں گے۔۔۔ انکے لئے ناچنے گانے سے نہیں۔۔۔ ایم کیو ایم قانون پاس کروانے کے لالچ کس کو دی رہی ہے۔۔۔ قانون پر یہاں عمل کون کرتا ہے۔۔۔ ایم کیو ایم کےمردوں کو تو دیکھیں۔۔۔ الطاف تقریر بھی سرعام ناچ گا کرکرتا ہے۔۔۔ مصطفےکمال سرعام گالیاں دیتاہے جس کو دل چاہے۔۔۔ باقی ایم کیو ایم والے سرعام پان تھوکتے پھرتے ہیں۔۔۔ یہ غلیظ مرد کسی کو کیا آزادی دیں گے۔۔۔ 

پاکستان کی خواتین کا بھی کیا معیار ہے۔۔۔ آزادی کے لئے غلاموں کا سہارا لیتی ہیں۔۔۔ پاکستان کے سرکاری خرچ پر لندن میں بیٹھہ کر خوب تماشہ لوٹا الطاف بھائی نے سرعام ماؤں بہنوں کو نچا کر۔۔۔ ایم کیو ایم کے جلسے میں آتش بازی, ہلا گلا۔۔۔ آزادی ناچنے گانے کی۔۔۔ اس آزادی کے لئے تو پوری دنیا کھلی پڑی ہے۔۔۔ بے حساب فائدے بھی ملتے ہیں۔۔۔ فری میں تھکایا خود کو۔۔۔


ہاں تو ناظرین کرام, کس کا کتنا خون کھول رہا ہے امریکہ کی بلوچستان قرارداد پر۔۔۔ اپنی اپنی غیرت  کا ٹمپریچر نوٹ کرلیں کہیں ٹھنڈی تو نہیں پڑگئی۔۔۔ 

اچھا طنز ومزاح, لعنت ملامت اور اصلاح کی باتیں بعد میں۔۔۔۔۔۔ پہلے نارمل باتیں۔۔۔

پہلے ذرا یہ بتائیں کہ میں نے قارئین کے بجائے ناظرین کیوں لکھا۔۔۔ بھئی قارئین  کہتے ہیں پڑھنے والے کو اور ناظرین دیکھنے والے کو۔۔۔ تو میں نے آج تک لوگوں کو تحریروں پر نگاہ ڈالتے یا دوڑاتے تو دیکھا ہے لیکن پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔ پڑھنا ہوتاہے آواز کے ساتھہ۔۔۔ جیسے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے غار حرا میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے فرمایا کہ۔۔ اقراء مطلب کہ پڑھو۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ ما انا بقار مطلب کہ میں نہیں پڑھ سکتا۔۔۔۔۔۔ اگر پڑھنے کا مطلب دیکھنا نگاہ ڈالنا ہوتا تو مسئلہ ہی کوئی نہیں تھا۔۔۔ نہ ہی اس کا مطلب ہے کسی چیزکو یاد کر کے دہرانا۔۔۔ ورنہ وحی کے ذریعے دل و دماغ میں اتار کر بول دینا کافی تھا۔۔۔ جیسے ہم کرتےہیں کہ قرآن یاد کیا, حفظ کیا اور سنا دیا۔۔۔ اور اسی لئے جب بچے کہتے ہیں کہ پڑھ لیا تو پوچھا جاتا ہے بتاؤ کیا پڑھا۔۔۔ تو پڑھنے کا تعلق آواز سے ہے۔۔۔

اقبال نے کہا۔۔۔

تیرے وجود پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ کشا ہیں نہ رازی نہ صاحب کشاف۔۔۔

ویسے یہ بھی قرآن کا معجزہ ہے۔۔۔ عربی زبان کا بھی۔۔۔ اور کیا۔۔۔۔۔ کیسا۔۔۔۔

اور جو میں کہتی ہوں کہ انسان ہو یا جانور۔۔۔ جو سنتا ہے وہ بولتا ہے۔۔۔ تو وہ کوئی نہیں سنتا۔۔۔۔۔۔ دیکھہ لیں انجام۔۔۔ کس طرح پاکستان میں روز اردو کا جنازہ نکلتا ہے۔۔۔ روزانہ ایک لفظ دفنایا جاتا ہے۔۔۔۔ کھیال, خیال۔۔۔ آکھری, آخری۔۔۔ پیگام, پیغام۔۔۔ مکصد, مقصد۔۔۔ کیامت, قیامت۔۔۔ کیمہ, قیمہ۔۔۔ کھاب, خواب۔۔۔کائداعظم, قائداعظم۔۔۔ اکبال, اقبال۔۔۔ کھریت, خیریت۔۔۔ کھشی, خوشی۔۔۔ گلت, غلط۔۔۔۔ مکدر, مقدر۔۔۔ کھلاسہ, خلاصہ۔۔۔ کھریدار, خریدار۔۔۔ کبول, قبول۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش لوگوں کو سمجھہ آجائے کہ عزت اور علم, الفاظ کو بگاڑنے سے نہیں ملتے۔۔۔ الفاظ کو بگاڑنا جہالت کی نشانی ہے۔۔۔

اور ایک تماشہ یہ بھی لگتا ہے کہ دنیا کی تھیرپی کرنے والوں کی اولادیں بھی اسی تلفظ کے ساتھہ بات کرتی ہیں اور وہ بھی ٹی وی پر۔۔۔ ہاں ہاں, ڈرتی نہیں ہوں, پروفیس معیز کی بات کررہی ہوں۔۔۔ لیکن کیا کریں, جدید تہذیب کے اصولوں کے مطابق مشہور لوگوں  کے پہننے اوڑھنے, بات کرنے کے طریقوں پرتنقید نہیں کی جا سکتی۔۔۔ اخلاقیات کے خلاف ہے۔۔۔

سنا ہے کسی زبان کوسیکھنا ہو تو اسکی شاعری سیکھہ لیں۔۔۔ شاعری کیا ہے۔۔۔ الفاظ کو مختصر جملوں کی شکل میں اس طرح ترتیب دینا کہ ہر جملہ کا آخری لفظ ہم آواز بھی ہو لیکن کوئی جملہ اکیلا کوئی معنی نہ دے۔۔۔ اس طرح کا جملہ مصرعہ کہلاتا ہے۔۔۔ اور مصرعہ سے مصرعہ ملکر شعر بنتا ہے۔۔۔ چارمصرعے جمع ہو جائیں تو رباعی کہلا تی ہے۔۔۔ پانچ مصرعے  ملکر مخمس بناتے ہیں۔۔۔ اور چھہ ملکرمسد س۔۔۔۔۔۔ پس شاعری کے لئے آخر میں ہم آواز ہونا ضروری ہے۔۔۔ یہ نثر یعنی باتوں کی طرح آزاد نہیں۔۔۔ شاعری میں اظہار خیال کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ الفاظ ضائع نہیں ہوتے۔۔۔اور یہ طرز گفتگو قرآنی بھی ہے۔۔۔

شاعری صرف شاعر کے خیالات یا احساسات کا نام نہیں۔۔۔ کیونکہ ہر کسی میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ چند الفاظ کو منظم کرکے جو کچھہ کہنا ہے جلدی سے کہہ کر چھٹی کرے۔۔۔ اس لئے لوگ شاعروں کے کلام سے استفادہ  کرتے ہیں۔۔۔ لیکن ذرا دھیان سے, عبید الله علیم نے کہا تھا۔۔۔ 

کھلتا کسی پہ کیوں میرے دل کا یہ معاملہ

شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

عام لوگ شاعروں کو پاگل سمجھتے ہیں۔۔۔ لیکن علامہ اقبال نے شاعروں کو بڑا اعزاز بخشا۔۔۔ انھیں قوم کی آنکھہ بنا دیا۔۔۔

قوم گویا جسم ہے, افراد ہیں اعضائے قوم

منزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست وپائے قوم

محفل نظم حکومت, چہرہ زیبائے قوم

شاعر رنگیں نوا ہے دیدہ بینائے قوم

مبتلائےدرد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھہ

کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھہ

مزید فرماتے ہیں۔۔


شعر وشاعری کا شوق سبکو ہوتا ہے۔۔۔ اس بات کایقین تب آیا جب ایک دن بابا کو دھیمے دھیمے سہگل کا گانا گاتے سنا۔۔۔ حا لانکہ انھوں نے زندگی میں ٹک کے دو منٹ کبھی کوئی فلم نہیں دیکھی۔۔۔ بلکہ دیکھی ہی نہیں اور نہ گانے سنے۔۔۔ بس چار پانچ شعر آتے ہیں۔۔۔۔ 

تنگدستی اگرچہ ہو غالب

تندرستی ہزار نعمت ہے

بابا کے شعروں کے کلیکشن میں سے یہ پہلا شعر تھا جوان کے منہ سے سنا۔۔۔ 

 میں نے تو یہ دیکھا کہ چہرے کو چمکتا ہوا بنانا ہو تو کریلے, بینگن, گاجریں اور کچی پیاز کھائیں اورمیک اپ چھوڑ دیں اور موقع ملے تو سرسوں کا تیل بھی لگائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

بالوں کو صحت مند بنانا ہو تو دہی, بند گوبھی, ہری پیاز اور انڈا کھائیں, اورفکر کرنا, سوچنا چھوڑ دیں۔۔۔۔۔۔۔ 

وزن کم کرنا ہو تو جو کھانا ہو اور جتنا کھاناہو بارہ سے چودہ گھنٹے کے وقفے سے کھائیں اورساتھہ میں دس بارہ چھوٹی والی ہری مرچیں, وقت پرکھانے کے بجائے جب بھوک لگے تب کھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

خون پتلا کرنا ہو تو اور دوران خون کو نارمل کرنا ہو تو لوکی, ترئی اورٹنڈے کھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ان تمام کھانوں کے ساتھہ پانی ضرور پئیں۔۔۔ پینے پر یاد آیا کہ کوکا کولا کی نئی ریسرچ نے سب کو شرابی ثابت کردیا۔۔۔ ہم بھی عجب  بے ضرر قوم ہیں, امریکہ جب  چاہے کچھہ نیا فارمولا ایجاد کرکے ہمیں کھلا پلا دیتا ہے اور ہم کھا پی لیتے ہیں۔۔۔ اور تعریف کرتے ہیں کہ واہ کیا قوم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر امریکہ اپنی ایجاد پر نئی ریسرچ کرکے ہمیں گناہ گار ثابت کردیتا ہے۔۔۔ اور ہم گالیاں دینا شروع کردیتے ہیں کہ کتنی دھوکہ باز قوم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ دینی لوگوں کو ابھی تک پتہ نہیں چلا شاید۔۔۔ با جماعت صلوت استغفارکب پڑھیں گے۔۔۔۔ اور ٹی وی پر کوکا کولا کے ایڈز آئے چلے جارہے ہیں۔۔۔اورادھر ٹی وی پر کوکا کولا کے ایڈز آئے چلے جارہے ہیں۔۔۔ ثابت یہ ہوا کہ یہ کہنا چھوڑ دیں کہ ہم مسلمانوں سے تو امریکن اچھے ہیں, دھوکہ تونہیں دیتے۔۔۔ لیکن کبھی کبھی سوائے دھوکے کے کچھہ نہیں دیتے۔۔۔ 

دوسرا تماشہ یہ لگتا ہے کہ فہد مصطفے صاحب, ندا پاشا صاحبہ, محترمہ شائستہ زیدی صاحبہ۔۔۔ بھارتی فلموں کی تشہیر کرتی نظر آتے ہیں کہ کہیں کوئی ان غلاظتوں سے بچ نہ جائے۔۔۔ حالانکہ بھارتی فلمیں تو پاکستانیوں کا اوڑھنا بچھونا ہیں۔۔۔ وہ ان سے غافل کیسے رہ سکتے ہیں۔۔۔ اور دؤلت اور شہرت کے لئے تو کسی بھی حد تک گرا جاسکتا ہے چاہے وہ بھارتی فلموں کےسیلز پرسن بن کر ہی کیوں نہ ملے۔۔۔۔آخرکار  گلی گلی والی سیلز مین شپ سے تو ہہتر ہے۔۔۔ جو قوم اتنی بے غیرت ہو جائے اسکے ساتھہ جو نہ ہو وہ کم ہے۔۔۔ حالانکہ نادیہ خان اور مایہ خان کے انجام سے سبکو سبق سیکھہ لینا چاہئے۔۔۔ کل تک پرستاروں کے فون پر فون۔۔۔ اور آج کوئی ٹکے کو نہیں پوچھتا۔۔۔ خیر ان پر تنقید بھی جدید تہذیب کے اصولوں کے مطابق نہیں کی جاسکتی ۔۔۔۔ تعریفیں یہ آپس میں ایکدوسرے کی حد سے زیادہ کرلیتے ہیں۔۔۔ 

یاالله, میں اس قوم سے بیزار ہوں جو پاکستان کی نمک حرامی کرنے کے بعد خود کو پاکستانی کہلائے۔۔۔۔


About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: