Walking Bus – پیدل چلیے

Our early school years were in early 70s.  Karachi wasn’t a crowded place like it is now.  Traffic was also less than now and so was the pollution.  There were few private schools around but not all of them had facility of school vans.  Our school was at such a distance that we were unable to go by ourselves.  Being a very busy housewife, ammi had not time so she hired an old lady for pick and drop.  As she was already looking for some work, few more parents from our neighbourhood hired her for the same reason.  Ammi told us not to let her carry our school bags because she was physically weak and used to wear burqa (traditional covering consists of long loose gown to cover the entire body and veiled scarf to cover head, shoulder and chest).  It was a fun walk for us.  We had to walk behind or by her side on the way to school and back home.  It was a ten-minute distance which we used to cover by watching out the riders, stepping up and down on sidewalks, plucking flowers from plants hanging over the boundary walls of houses and seeing people getting ready for the day.

.

If this was an equivalent to the concept of Walking Bus, then it had very few advantages.  For parents, it was a cheap pick, drop facility and a safe trip of children to and from school.  For uneducated, poor, old age people, it provided with a good source of income.  It was us who made our short journey fun because at that time there were no public parks around and we were not allowed to play out on the streets.

.
In 1992, David Engwicht, a social innovator from Brisbane, Australia, introduced the idea of “Walking Bus” in order to solve traffic related problems.  The concept also served as a physical activity for children, awareness to the surroundings and building good terms among community members.  His idea crossed the borders and reached UK and USA with more objectives pertaining to the problems in their societies.
Many children in most countries do walk to school in groups but it cannot be defined as Walking Bus.  Walking Bus has its own particular initiatives along with the flexibility in size, use of transportation, walking rules or any useful idea related to traffic and children.
.
.
“واکنگ بس یا پیدل بس” کے نام سے ١٩٩٢میں پیش کئے جانے والے اس خیال کو دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنایا اوراپنی نئی نسل کو فائدہ پہنچایا… اس کا مقصد بنیادی طورپربچوں میں ٹریفک اور ماحولیات کے متعلق احساس پیدا کرنا تھا… کسی بھی علاقے کے کچھ بچے مل کرایک یا دو بڑے اشخاص کی نگرانی میں گھر سے سکول تک اور سکول ختم ہونے کے بعد واپس گھرتک پیدل راستہ طے کرتے ہیں… اس دوران وہ آس پاس کی چیزوں پر نظر ڈالتے اور اس پر بات چیت بھی کرتے جاتے ہیں… راستے میں کیا چیز صحیح ہے اور کیا غلط، کوئی تبدیلی آنی چاہیے یا نہیں… انہیں اپنےعلاقے کے مسائل سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے… دوسرے یہ کہ علاقے کے لوگ ایک دوسرے سے اجنبی نہیں رہتے…
.
کیا پاکستان میں ایسے تجربات نہیں کئے جا سکتے؟… ضروری نہیں کہ ہر کام بڑے پیمانے پر ہو … مجھے یاد ہے، آٹھہ نوسال پہلے کی بات ہے… ہم صبح منہ اندھیرے اور اکثرشام کو بھی نزدیک کے پارک جایا کرتے تھے… وہاں ایک شخص اکیلا آیا کرتا تھا، کوئی پچاس پچپن کے درمیاں عمرہوگی … اور بچوں کو جمع کر کے انکے ساٹھ فٹبال کھیلتا اور پھر ایک تھیلی ہاتھ میں پکڑ کر بچوں سے پارک میں بکھرے ہوۓ کاغذ وغیرہ چنواتا… لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں، آٹے میں نمک کے برابر… 
اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم چلتے چلتے راستے میں ملنے والے بچوں سے ہیلو ہاۓ ہی کر لیں… ایسے ہی روک کر سلام کرلیں، کوئی اچھا جملہ کہہ دیں… ابھی عادی نہیں ہیں، آھستہ آھستہ ہو جا ئیں گے… میڈیا کے لوگوں کو تو بڑا شوق ہوتا ہے خود کو منوانے کا اور مشہور ہونے کا… وہ یہ کام بہت اچھی طرح کر سکتے ہیں… اس طرح پاکستانی چہروں کو بھی مثبت پہچان ملے گی… ورنہ بھارتی اداکاروں کا جادو توڑنا بہت مشکل ہے…
.
پاکستان میں بھی بہت پہلے پیدل سکول جانے کا رواج تھا… اب بھی بچے نزدیک کے سکول پیدل ہی جاتے ہیں… اکثردو یا تین بچے ملکرجاتے اور آتے ہیں… لیکن اسے “واکنگ بس یا پیدل بس” کا نام نہیں دیاجا سکتا کیوںکہ اس میں ایک تو کسی بڑے کی نگرانی کا اور دوسرے راستہ طے کرنے کا اصل مقصد بھی پورا ہونا ضروری ہے… یعنی بچوں میں ٹریفک اور ماحولیات سے لگاؤ پیدا کرنا…
پاکستان میں اگر بڑے ساتھ ہوتے بھی ہیں، چاہے پیدل یا گاڑی میں تو وہ خود قانون توڑ رہے ہوتے ہیں… جگہ جگہ تھوکنا، سگنل توڑنا، غلط گاڑی کھڑی کرنا، کوڑا پھیلانا، سگریٹ پینا… 
.
دنیا کے پڑھے لکھے معاشروں میں ہر شخص اک ترقی پسند یا بہتری کی سوچ رکھتا ہے… اس کی سوچ کا تعلق صرف اس کی اپنی ذات اور خاندان کے فائدوں کی حد تک نہیں ہوتا بلکہ وہ اس سے اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی مستفید کرتا ہے… ان ملکوں میں بھی سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں، دینی گروہ ہوتے ہیں… لیکن وہ اک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو کر عوام کو تقسیم نہیں کرتے… نہ اپنے معاشرے میں نفرت کو
بڑھنے دیتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں… 
.
پاکستان میں تعلیم کا گرتا ہوا معیار اور جہالت کا بڑھتا ہوا تناسب کوئی اختلافی مسلہ نہیں… لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب چند بچے کچھے پڑھے لکھے اور تہذیب یافتہ لوگ بھی اپنے تمام اختیارات کے دعوؤں کے باوجود کوئی تعلیمی بہتری لانے کے معاملے  بے بس نظرآتے ہیں… جو خود بے بس ہو وہ کسی دوسرے کو اختیار کیسے دلا سکتا ہے… اور اگرکوئی یہ کہے کہ ووٹ ملے گا تو کام ہوگا اور پارلیمنٹ میں بل پاس ہوگا تو اس سے بڑھ کر دھوکے باز کوئی نہیں… 
.
پاکستانی معاشرہ مغربی دنیا کے پڑھے لکھے معاشروں سے بہت مختلف ہے… سماجی قدروں کے اعتبار کے لحاظ سے بھی اور مذہبی عقائد کے لحاظ سے بھی… اور ترقی کے نام پر ان دونوں سے ٹکرانا بیوقوفی نہیں جرم بھی ہے کیوں کہ یہ صرف اور صرف فساد اور نفرت کو جنم  دیتا ہے … اور یہی ہو بھی رہا ہے… آزادی اور حقوق کے مغربی تصور کو پھیلانے کے لئے کسی بھی قسم کے میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ خطرناک ہے اگر سوچ سمجھ کر نہ کیا جائے… لیکن وہ ہو چکا ہے… آج ہماری نوجوان نسل پریشان حال کھڑی ہے کہ کدھر جائے…
بقول غالب…
ایمان مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر  
کعبہ میرے پیچھے ہے، کلیسا میرے آگے 
.
یہ بات ٹھیک ہے کہ سیاستدانوں نے پاکستان کو پوری دنیا میں نہ صرف بدنام کیا بلکہ اکیلا بھی کردیا… لیکن عوام بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے… خاص کرپاکستانی تارکین وطن… جنہوں نے باہر ملکوں میں رہ کر بھی  کبھی پاکستان کے حق میں کوئی لابی، کوئی فورم نہیں بنایا… یہ سارے کام ہم سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیتے ہیں… گلوبلا ئزیشن کے بعد دنیا تیرا میرا ملک نہیں رہ گئی… ہر ملک کے دوسرے ملک کے ساتھ مفادات ہیں اور کسی ایک ملک کا خطرے میں ہونا اس پورے خطّے کے لئے خطرہ ہوتا ہے…  لہٰذا اگر پاکستانی چاہتے تو بہت سے معاملات میں دلچسپی لے کر حکومت اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈال سکتے تھے جیسے کہ تعلیم، صحت، ماحولیات، انصاف… صرف عطیات بھیج دینے سے تو قومی فرض ادا نہیں ہو جاتا… اب بھی کیا بگڑا ہے… 
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: