Diddle with Riddle – سہیلی بوجھ پہیلی

Lets start with this riddle.

Riddle:

India wants to deliver it’s weapons of mass destruction (WMD) to Afghanistan with the purpose to help Americans to disintegrate Pakistan.

Facts:

Look at the map at the end of the post.  There a piece of land called Pakistan, surrounded by China at its head, Iran at its tail, Arabian Ocean at it’s bottom and Afghanistan and India on it’s opposite sides.

India and Afghanistan cannot reach each other without crossing Pakistan through land and air or without using waters route to coasts of Karachi, Balochistan and Iran.

India can also use all around trip through other countries like China, Russia, Turkmenistan and Iran at incredible cost.

India meets China at border, not Iran.  While India has better relations with Iran than China.

Question:

1- Would China and/or Iran allow India to use their land or air routes to reach Afghanistan for this purpose?

2- Would America help India through its air bases in Pakistan?

3- Would India built secret passages through Pakistan to reach Afghanistan?

Objection:

Why can’t America or India directly attack Pakistan?

Pakistan’s nuclear deterrence is the first resistance.  Second, people are the true strength of any country or neighbouring countries.  The purpose is not only to disintegrate Pakistan but to do that by keeping Afghan and Pakistani people away from each other and raising hatred among them by terrorist activities in both sides.  Politicians of all three sides (Afghanistan, India and Pakistan) are the best tool for provoking this hatred.

Why?  So, they (Afghanistan, Iran and Pakistan) don’t make a trio (to create the land of Khurasaan) as it is predicted in a hadith by Prophet Muhammad (pbuh). (Courtesy Dr. Israr Ahmed)

So whoever from Pakistan is involved in this bloody game will certainly be unveiled by God Almighty and will lick the dust, Inshallah!

.

خیالوں میں ہی اکثر بیٹھے بیٹھے 
بسا لیتا ہوں اک د نیا سہا نی
.
آج ناصر کاظمی صاحب کی چالیسویں برسی ہے… میں انھیں عظیم شاعرنہیں کہتی کیونکہ عظیم شاعر ثقیل بھی ہوتے ہیں جبکہ ناصر کاظمی صاحب کی شاعری بہت آسان تھی… تو پھر آج کی پوسٹ میں ناصر کاظمی کے شعر… کیسا…
.
گفتگو بھی ہوتی ہے اور شعرو شاعری بھی ہوتی ہے… یعنی کہ دونوں مؤنث ہیں… گفتگو کسی حد تک آزاد ہوتی ہے اور شعرو شاعری الفاظ کی ہم آہنگی کی پابند… اور شعرو شاعری گفتگو کا حسن کہلاتی ہے… مجھے ابھی بھی یہ سمجھ نہیں آیا کہ یہ جملے میں نے کیوں لکھے اور میں اپنے ان جملوں سے کیا نتیجہ نکالوں… چلو یہ نتیجہ نکال لیتی ہوں کہ مارننگ شو کرنے والوں کو یہ بات نہیں پتہ… اتنی چٹر پٹر کرتے ہیں، یہ نہیں کہ روزانہ ایک دو اچھے تہذیب یافتہ شاعروں کے شعرپڑھ دیا کریں… باتوں باتوں میں… اور کچھ نہیں تو قوم کے ذہنوں میں اپنے شاعروں کی سوچ داخل ہوگی… شاید کوئی اچھا نتیجہ نکل ہی آۓ…
.
ناصر آشوب زمانہ سے غافل نہ رہو
کچھ ہوتا ہے جب خلق خدا کچھ کہتی ہے
.
اور میں بھی خلق خدا ہوں، میں یہ کہتی ہوں کہ… عورت کے بارے میں میرا ایک فلسفہ ہے کہ اگر کسی انسان کو یہ احساس ہو جاۓ کہ او ہو میں تو مرد نہیں عورت ہوں… تو پھر اسے چاہیے کہ وہ کم از کم نیّر سلطانہ نہ بنے… بابرا شریف بن جاۓ… کیونکہ نیّر سلطانہ ٹائپ خواتین نے بہت بیڑا غرق کیا ہے… اپنا بھی اور مردوں کا بھی… خوامخواہ میں مسکین اور شریف بننے کی کوشش… بلاوجہ میں مردوں کو ڈھیل دینا اور جان بوجھ کر انکی باتوں میں آجانا… بے وقوفوں کی طرح ہر بات میں ہاں میں ہاں ملانا… بغیر کسی مقصد کے انکی خاطر قربانیاں دینا… زبان دی گئی  ہے مگر خاموش رہنا… ہاتھ دیے گۓ ہیں مگر روکے رکھنا… ٹانگیں دی گئیں ہیں مگر کھڑے رہنا، کبھی اس کونے کبھی اس کھدرے میں… مجال ہے جو گھرکی حالت پہ توجہ دے لیں… ایویں میں آنکھوں کے نلکے کھلے چھوڑ کر چہرے کو گیلا رکھنا… اور انکو پتہ ہوتا ہے کہ اگر یہ اپنی حرکتیں نہیں بدلیں گی تو مرد اسی طرح اکڑے ککڑے پھرتے رہیں گے… لیکن نہیں بھئی… دنیا سے شرافت، کردار اور وفاداری کا سرٹیفکیٹ جو لینا ہوتا ہے… اور دنیا بھی کیا، بس آس پاس کی فتنہ باز خواتین ہوتی ہیں جنکی فتنہ بازیوں کا در ہوتا ہے… بھئی انکے بناۓ معیار ہیں تو خود اپنے گھر میں پورے کریں… خدا کے بناۓ ہوۓ معیار تو نہیں… جن کی فکر کی جاۓ…
.
بھئی عورت ہی بننا ہے تو انسانی تاریخ اچھی مثالوں سے بھری پڑی ہے… حضرت حوا، حضرت ہاجرہ، حضرت مریم، حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ، حضرت فاطمه، حضرت زینب، حضرت فاطمه جناح، حضرت رعنا لیاقت علی خان،  حضرت بلقیس ایدھی وغیرہ… پھر آج کل کے زمانے میں بھی ہزاروں خواتین بہت اچھے اچھے کام کر رہی ہیں بغیر کسی بے ہودہ عورتوں کی باتوں کی پرواہ کے بغیر… 
.
جزدل کوئی مکان نہیں دہر میں جہاں
رہزن کا خوف بھی نہ رہے در کھلا بھی ہو
.
مجھے یاد ہے کہ ہمارے بچبن میں کبھی ہمارے گھر کے دروازے بند نہیں ہوتے تھے… سواۓ کہ کہیں جانا ہو یا پھر سردیاں ہوں اور رات کا وقت ہو… کبھی یہ خوف نہیں ہوتا تھا کہ کوئی کود کر آجاۓ گا… اور جس کو آنا ہو پھر بھی تو رات کو چوریاں کرنے آتا تھا، دن میں کسی کی ہمّت نہیں ہوتی تھی…ہمارے محلّے میں کسی کو کسی سے ایسا خوف نہیں تھا کہ اگر کسی نے کسی کو کچھ بتا دیا تو ڈاکہ پڑ جاۓ گا، چوری ہو جاۓ گی…. اور اس زمانے میں گھر جیلوں کی طرح بند نہیں ہوتے تھے… ہر گھر میں صحن اور برآمدہ تو ضرور ہوتا تھا… اب تو دو دو لوہے کے گیٹس، ان پر برآمدی تالے، صحن اور برآمدوں تک میں لوہے کی جالیوں کے دیواریں کھڑی ہوتی ہیں… اوپر چھت تک پر لوہے کا گیٹ اور اس پر تالا… پھر بھی دن دھاڑے ڈاکے پڑ جاتے ہیں… کوئی دروازے سے داخل نہ ہو جاۓ، چھت سے نہ آ جاۓ… نیچے کی منزلیں تو سب کی اتنی ڈھکی ہوئی ہوتی ہیں کہ سورج کی روشنی اور ہوا بھی داخل نہ ہو، جن بھوتوں کہ رہنے کے لئے بہترین جگہ… اچھا جگہ بھی چھوڑتے ہیں تو چاروں طرف کی باؤنڈری سے… اور اب تو اس کھلی جگہ میں بھی ایئر کنڈشنر لگا دیتے ہیں کہ گرم ہوا چاروں طرف کی باؤنڈری میں پھیل کر پورا حصّہ گرم کر دیتی ہے… اگر پودے وغیرہ وہاں ہوں تو وہ بھی جل جاتے ہیں… 
.
پہلے زمانے کے گھروں میں چاروں طرف کمرے ہوتے تھے اور درمیان میں جگہ خالی ہوتی تھی صحن اور برآمدے کے لئے… ابھی بھی کہیں ایسے گھر ہوں تو جا کر دیکھیں وہ زیادہ ٹھنڈے ہوتے ہیں گرمیوں میں… ویسے ہمارا ننھا منا سا گھر بھی بہت ٹھنڈا ہوا کرتا تھا… ایک تو امی اور باجی کی صفا یوں کی وجہ سے اور دوسرے اس لئے کہ سب کے سب کنٹرول میں ہوا کرتے تھے، ماں کے… حالانکہ وہاں آسیب وغیرہ سب تھے… لیکن وہ جو کہا ہے نہ کہ…. اچھی مانواں، ٹھنڈی چھاواں… ٹھیک کہا ہے… 
.
 سینچی ہیں دل کے خون سے میں نے یہ کیاریاں 
کس کی مجال میرا چمن مجھ سے چھین لے
.
یہ جذبہ اگر پاکستان کی عوام میں پیدا ہوجاۓ  کہ لیڈر سے زیادہ اپنی مٹی سے پیار کریں تو کسی کی کیا مجال کہ آنکھ اٹھا کر پاکستان کی طرف دیکھے… لیکن پاکستانی عوام بھی نیّر سلطانہ ٹائپ بن گۓ ہیں… سیاستدانوں کی حرکتوں پر روتے بھی رہتے ہیں اور وفاداری کا ووٹ بھی انہیں کو دے دیتے ہیں، قربانیاں بھی انکے لئے دیتے ہیں… فلموں میں دیکھیں تو ایسی خواتین کا شاید ہی گھر بسا ہو، اکثر بے گھر ہی دکھائی گئیں یا کسی اور کے در پر پڑی … وہی پاکستانی عوام کا حال ہے… نہ خود پر توجہ دیتے ہیں نہ ملک پر… صرف اور صرف سیاستدانوں پر نظر رکھتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں… انکو ہی روتے رہیں گے… یا پھر ملک انکے حوالے کر کے بھاگ جاتے ہیں… بھئی باہر بھی جاؤ تو ذرا نظر تو رکھو کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے…
.
اب دیکھیں بلوچستان کے مسلے پر کوئی سیاستدان بولا… اچھا ذرا یہ پہیلی تو بوجھیں، بلکہ اسے انٹرنیشنل ریلیشنز کے سلیبس میں ڈال دیں … ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آج کل ایک زمین کا خطہ ہے جو ساری دنیا کے نشانے پر ہے… اسکے سر پر چین، دم پر ایران، ایک سائیڈ پر بھارت اور دوسرے سائیڈ پر افغانستان… قدموں میں بحیرہ عرب کا پانی ہے اور بحیرہ عرب کے ساحل ہیں کراچی، بلوچستان اور ایران……. بھارت کی سرحد چین سے تو ملتی ہے لیکن ایران سے نہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ بھارت کی ایران سے تو دوستی ہے، چین سے نہیں… بھارت کے لئے افغانستان پنہچنے کا آسان زمینی یا ہوائی یا سمندری راستہ ہے پاکستان… راستہ اب بھارت افغانستان کچھ اسلحہ، جاسوس اور فوجی پنہچانا چاہتا ہے تاکہ وہاں سے انھیں پاکستان کے مختلف حصّوں میں سمگل کر کے اور خاص طور پر بلوچستان میں تباہی مچا سکے… تو بھارت یہ شیطانی کام کس راستے سے کرے گا… کیا بھارت کراچی اور بلوچستان کے ساحلوں کو براہ راست استعمال کرے گا، لیکن اس صورت میں اس کا افغانستان سے کیا تعلق، جبکہ بلوچ لیڈرز افغانستان سے بھارت کے لئے کام کرتے ہوۓ پکڑے گۓ ہیں…  کیا چین اور ایران اسے اپنے زمینی یا ہوائی راستوں سے یہ کرنے کی اجازت دیں گے؟… یا پھر بھارت کروڑوں روپے خرچہ کر کے روس اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے ہوتا ہوا افغانستان سب کچھ پنہچاۓ، یہ جانتے ہوۓ کہ پاکستان اور کراچی میں تو خاص طور پر بھارت کے دیوانوں کا راج ہے… اور وہ تو وفادار کتوں کی طرح ایک ہڈی پر راضی ہو جائیں گے… 
.
پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ بھارت اور افغانستان دو کان ہیں اور بیچ میں پاکستان ایک سر یا دماغ کی طرح ہے… اس سے آگے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ گڑبڑ ہو کہاں رہی ہے اور کہاں سے…
.
کون سوچے… پاکستانی مرد تو بھارت کی ان خواتین کے پجاری ہیں جنھیں بھارت نے برہنہ کر کے آگے کر دیا ہے… کہ لو انکا وقت، انکی غیرت، انکا ایمان، انکا پاکستان، سب چھین لو ان سے… فوج تو بھارت کی کسی کام کی نہیں تو انہوں نے بھی خواتین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا… کتنی سوچ کی ہم آہنگی ہے بھارت اور ایم کیوایم کی…
.
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: