Is dowry a curse? کیا واقعی جہیز ایک لعنت ہے؟

In Pakistan, dowry is the real attraction of wedding affairs and the bride and groom sides get excited when preparing it for each other.  Some people call it a curse as they can’t afford it and their daughters do not receive any proposals.  They demand the government to make laws against dowry.

Jahez is the form of dowry which is given to the bride by her parents, family and relatives, which consists of dresses, real gold jewelry, bedroom set, utensils and crockery, refrigerator, washing machine and other household stuff.  Sometimes, the groom and his family even demand car or motorbike.

Bari is the type of dowry which is prepared by the groom’s side for bride and it consists of few dresses, bangles and shoes.

Pehnaoniyan is a sort of dowry, mostly dresses, which is gifted to groom’s entire family by bride’s side.

Mehr is the cash amount fixed by both sides and groom is liable to pay it to the bride either at wedding night or any time after that.

Jahez, Bari, Pehnaoniyan and Mehr – all these materialistic exchanges are meant to build trust and strong ties between the two families.  They do if not dealt as a business matter and as a demand from each other.

Anything that was done by Prophet Muhammad (pbuh) cannot be a curse.  He (pbuh) prepared dowry for his daughter Fatimah Zahrah (r.a.) at the time of her wedding with Ali ibn Abi-Talib (r.a.).  It was a very simple dowry, basic household stuff that he (pbuh) and Hazrat Ali could afford.

Jahez is something that parents give their daughters for their love.  Bari shows in-laws’ love to the bride.  Pehnaoniyan is simply a family to family gift.  Mehr is the personal matter between bride and groom.  What can government or police do about it?

The idea of FAD “Fight Against Dowry” is a non-sense.  What right does any NGO or social worker has to go in fight with something that is purely a family matter and even in religion there are no laws about it.  However, people should be advised not to pressurize or threat the other side to buy anything that is out of their reach.

 

جہیز ایک لعنت ہے… جہیز کے خلاف قانون بننا چاہیے… جہیز پر پابندی لگانی چاہیے… جہیز مانگنے والے لالچی اور گھٹیا لوگ ہوتے ہیں… “فائٹ اگینسٹ ڈاؤری یعنی جہیز کے خلاف جنگ”…
.
جہیز کے بارے میں یہ وہ باتیں ہیں جو سالوں سے سنتے چلے آ رہے ہیں… مہر کی رقم اور پہناؤنیاں بھی ایک مسلہ ہوتی ہیں… البتہ بری کے بارے میں آج تک کوئی خاص باتیں نہیں کہی سنی گئیں… یہ رسمیں کہاں سے اور کیسے شروع ہوئیں، انکا معاشرے پر ، لوگوں کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے، انکا اسلام سے کوئی تعلق ہے بھی کہ نہیں… یہ کوئی نہیں سوچتا…
.
جہیز ایک لعنت ہے… کیا وہ عمل جسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم انجام دے چکے ہوں ایک لعنت ہو سکتا ہے؟ اور انہوں نے خود اس کے لئے کوئی اصول یا قانون کیوں نہیں بنایا؟  یا یہ کیوں نہیں کہا کہ جیسا فاطمه کا جہیز ہے ساری مسلمان لڑکیوں کا اسی طرح کا جہیز بننا چاہیے؟… 
.
جہیز کے خلاف قانون بننا چاہیے… کیا قانون بننا چاہیے کہ جہیز بالکل نہ دیا جاۓ… یا صرف بیڈروم سیٹ اور کپڑے دے جائیں، گاڑی، سکوٹر، فرج، ٹی وی، صوفہ، ڈائنگ ٹیبل، واشنگ مشین، برتن، استری وغیرہ نہیں… یا پھر صرف کپڑے اور زیور اور کچھ نہیں… اور شادی سے پہلے پولیس والے جہیز کا سامان چیک کریں گے؟ 
.
جہیز پر پابندی لگانی چاہیے… کیا پابندی لگے اور کون لگاۓ… کہ جہیز خالص لڑکی والوں کی مرضی سے لیا دیا جاۓ گا… اور لڑکے کے گھر والے یا خود لڑکا کسی چیز کی فرمائش نہیں کرے گا؟ 
.
جہیز مانگنے والے لالچی اور گھٹیا لوگ ہوتے ہیں… لڑکے والے کیا سوچ کر لڑکی والوں سے فرمائشیں کرتے ہیں اور لڑکی والے کیسے کہ اپنی بیٹی سے نجات حاصل کرنے کے لئے لڑکے والوں کی ہر نا جائز بات مان لیتے ہیں… جب خود سب مان لیتے ہیں تو پھر قانون اور حکومت سے کیا توقع کرتے ہیں… وہ کیا کریں؟… لڑکے کے گھر والوں کی پٹائی کریں، جہیز کا سامان واپس کروائیں… قانون بنائیں، پابندی لگائیں… 
.
“فائٹ اگینسٹ ڈاؤری یعنی جہیز کے خلاف جنگ”… کس سے؟ لڑکی والوں سے یا لڑکے والوں سے…
.
.
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ اتنے جنگ و جدل، بحث مباحثے، کاروباری لین دین، طنزوطعنہ، چہروں کے بھیانک تاثرات کے بعد شادی شادی کہاں رہ جاتی ہے… اور کون پاگل ہوگا جو یہ سوچے کہ اس طرح لڑکی اور لڑکا خوش رہ سکتے ہیں…
.
عجیب بات یہ ہے کہ جب کسی کے گھر میں شادی کا موقع آتا ہے تو وہ یہ ساری باتیں بھول جاتے ہیں… شادی چاہے لڑکی کی ہو یا لڑکے کی… خوشی سے زیادہ ایک بوجھ ہی بنی ہوئی ہوتی ہے… لڑکی والے جہیز اور لڑکے والے بری اور دونوں گھرانے مہر کے معاملات میں الجھے ہوتے ہیں… لڑکی کے شادی اور ولیمہ کے جوڑے  لڑکے والے اور لڑکے کے شادی اور ولیمہ کے کپڑے لڑکی والے دیتے ہیں… لڑکی والے پہناؤنیاں دیتے ہیں لڑکے کے تمام گھر والوں کے لئے… کتنے جوڑے دیے، مہنگے دیے، سستے دیے… کتنے سیٹ دیے، سونے کے ہیں، چاندی کے ہیں… لڑکی والے زیادہ مہر رکھوانا چاہتے ہیں کہ لڑکے پر دباؤ رہے جبکہ لڑکے والے کم مہر رکھوانا چاہتے ہیں تاکہ لڑکی ڈر کر رہے… 
.
میں نے آج تک شادی کے موقعوں پر لڑکی اور لڑکے کے گھر والوں کو سکون اور اطمینان سے انتظامات کرتے نہیں دیکھا… ہاں پریشان ہوتے ضرور دیکھا ہے، خاندان والوں کے سوالات سے ڈرتے ضرور دیکھا ہے، سسرال میں لڑکی کے خوش رہنے کے نام پر پیسہ لٹاتے ضرور دیکھا ہے… لڑکے والوں کو رعب میں رکھنے کے لئے انکے گھر کو بھرتے ضرور دیکھا ہے… بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دوسروں کی شادیوں پر تنقید تو کر دیتے ہیں لیکن جب انکے اپنے گھر میں شادیاں ہوتی ہیں تو وہی حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں… بہت سے خاندان تو جہیز اور بری کو کوئی مسلہ نہیں سمجھتے… انکے خیال میں یہ زندگی اور ہماری روایات کا حصّہ ہیں لہٰذا ان کو تو نبھانا ہی ہے…
.
.
اور جس دنیا سے ڈر کر یہ کام کے جا رہے ہوتے ہیں وہ امریکہ، اسرائیل، بھارت اور برطانیہ نہیں… لڑکی اور لڑکے کے اپنے خاندان والے، رشتہ دار اور محلے والے ہوتے ہیں… میں تو کہتی ہوں لعنت جہیز پر نہیں ایسے خاندان والوں، رشتہ داروں اور محلے والوں پر بھیجنی چاہیے جو ایک دشت گرد کی صورت میں ایک دوسرے کے اعصاب پر سوار رہیں… زندگی کے لئے عذاب بن جائیں اور خوشیوں کے موقعوں پر غم، دکھ اور پریشانی کا سامان بنیں… اس قسم کی گند کو یا تو صفائی کریں یا پھر اسے دور پھینکیں کوڑے کے ڈھیر پر… اور اپنی بیٹی اور بیٹے کے مستقبل کے بارے میں سوچیں کہ کس طرح یہ خوش رہ سکتے ہیں… 
.
گنتی کے چند خاندان اور لوگ ہونگے جو شادی کو ایک فرض سمجھ کر انجام دیتے ہیں اور اسے بوجھ اور غم کا سامان نہیں بننے دیتے…

.
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مثال:
.
جہیز کو جسٹفائی کرنے کے لئے ہمیشہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مثال دی جاتی ہے کہ انہوں نے بھی تو حضرت فاطمه الزہرہ کو جہیز دیا تھا… عجیب بات ہے کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم، حضرت فاطمه الزہرہ اور حضرت علی کی زندگیوں پر، سنتوں پر عمل کرنے کا معاملہ ہو تو ہم کہتے ہیں کہ وہ چنے ہوۓ لوگ تھے، ہم عام لوگ ان جیسے نہیں بن سکتے… وہ زمانہ اور تھا، یہ زمانہ اور ہے… لیکن اپنی رسموں اور روایات  کا دفاع کرنا ہو تو بڑی خوبصورتی سے انکی زندگی کے کسی حصّے کو اپنی زندگی میں فٹ کر لیتے ہیں…
.
ذرا رسول الله صلی الله علیہ وسلم، حضرت فاطمه الزہرہ اور حضرت علی کی زندگیوں پر نظر تو ڈالیں کہ وہ تھے کس قسم کے لوگ… انکی زندگیوں میں انسانوں، خاندان، رشتہ داروں اور دنیا سے ڈر کر کام کرنے کا کوئی تصور نہیں تھا… انکا ایمان ہر قسم کے خوف سے پاک تھا… انہوں نے اسلام کو اپنی زندگیوں میں فٹ نہیں کیا ہوا تھا بلکہ اسلام کے دیے ہوۓ اصولوں پر نہ صرف اپنے آپ کو فٹ کیا کرتے تھے بلکہ اپنے ماننے والوں کے لئے زندگی کی خوشیوں، سکوں اور کامیابی کے اصول بھی وضع کرتے تھے… انکی زندگی کا مقصد کپڑے، جوتے، کھانے اور معاشرے کی مرضی سے جینا نہیں تھا…
.
حضرت علی تو خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے گھر پر پلے بڑھے تھے… انکے پاس کوئی جائیداد نہیں تھی… وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کا ہی عکس تھے…
.
حضرت فاطمه الزہرہ کی شادی کے موقع پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت علی کو زرہ بیچنے کی ہدایت کی… مطلب کہ لڑکے کو خود اپنی شادی کا انتظام کرنے کو کہا نہ کہ قرض ادھار لے کر ہلا گلا کرنے کو…
.
مختلف روایات کے مطابق حضرت علی کو چار سو، چارسو اسی یا پچ سو درہم ملے جو انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے حوالے کر دیے اور جس سے شادی کا انتظام کیا گیا… جو چیزیں جہیز کے نام پر دی گئیں تھیں وہ یہ تھیں… ایک قمیص، ایک دوپٹہ، ایک کمبل، کجھور کے پتوں سے بنا ہوا ایک بستر، دو ٹاٹ کے فرش، چار تکیے، ہاتھ کی چکی، ایک تانبے کا برتن، چمڑے کی مشک، پانی پینے کے لئے لکڑی کا برتن، ایک کھجور کے بنے ہوے پتوں کا برتن، دو مٹی کے آبخورے، مٹی کی صراحی، زمین پر بچنے کے لئے ایک چمڑا، ایک سفید چادر اور ایک لوٹا…
.
جو لوگ کہ ہیں کہ وہ جہیز اس زمانے کے لحاظ سے تھا اور آج کے دور میں آج کے لحاظ سے…. تو ایسے لوگوں کو شاید معلوم نہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جہیز کا سامان دیکھا تو انکی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے تھے… جس کو سارے خزانوں کا مالک بنایا گیا ہو اسکی بیٹی کا یہ جہیز… 
.
کچھ روایات کے مطابق جہیز حضرت علی کی زرہ کی رقم سے ہی خریدا گیا تھا اور حضرت فاطمه الزہرہ کا حق مہر پانی تھا… کہیں ذکر ہے کہ انکا حق مہر چار سو درہم تھا اور باقی رقم سے جہیز خریدا گیا تھا…
.
بہرحال… رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بیٹی کی محبت میں اس کی شادی کی خوشی میں یا ضروریات زندگی سمجھ کر حضرت فاطمه کو جہیز دیا… یا پھر حضرت علی کے ہی پیسوں سے یہ سب انتظام کیا گیا… وہ ایک مثال ضرور ہے مسلمانوں کے لئے… لازمی نہیں کیونکہ خود الله سبحانہ و تعالی نے قرآن میں اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شریعت میں اس بارے میں کوئی قوانین نہیں بناۓ…
.
.
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا بیٹی کی شادی کے موقع پر محبت کے اظہار کے لئے کوئی قانون بنایا جاسکتا ہے؟  کیا بیٹی کی ضروریات زندگی کی فہرست کے لئے کوئی قانون بنایا جا سکتا ہے؟  کیا شادی کے موقع پر بیٹی کو کچھ دینا لعنت کہلایا جا سکتا ہے؟  کیا بیٹی کو شادی کی خوشی میں کچھ دینے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے؟  جو والدین اپنی بیٹی کو اپنی مرضی سے، اسکی محبت میں، زمانے کے خوف سے، رشتہ داروں کے در سے، سسرال میں با عزت رہنے یا کسی بھی وجہ سے جہیز دیتے ہوں تو کیا لڑکے والوں کو گھٹیا اور لالچی کہا جا سکتا ہے؟ کیا بیٹی کو دے جانے والی چیزوں کے خلاف جنگ کی جا سکتی ہے؟ 
.
جہیز، بری، مہر… خالص گھریلو معاملات ہیں اورانکا براہ راست تعلق دلہا اور دلہن سے ہوتا ہے… اور دلہا اور دلہن کو ہی اس کا فیصلہ کرنے دینا چاہیے… اس میں حکومت اور پولیس کچھ نہیں کر سکتے… خاندان اور رشتہ داروں کا بھی ان سے کوئی تعلق نہیں… ان تینوں کو فرض کی طرح نبھانا یا مسلہ بنانا لڑکی اور لڑکے والوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے…  
مسلہ یہ اسی صورت میں بن سکتے ہیں جب لڑکی والوں کے دل میں دکھاوا، حسد اور مقابلے بازی ہو اور لڑکے والوں کے دل میں لالچ… بھلا لالچ، دکھاوے، حسد، مقابلے بازی…. انکے لئے کیا قانون بنایا جا سکتا ہے…
.
شادی کو خوشی کا موقع بنانے کے لئے ضروری ہے کہ لڑکی اور لڑکے کے گھروالے اسے کاروباری شکل نہ دیں… انسان اور اس کے احساسات کپڑوں، جوتوں، زیور اور دنیا کی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں…

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: