World Women’s Day – بین الاقوامی یوم نسواں

 “(In principle) corrupt women are for corrupt men and corrupt men for corrupt women; just as good, pure women are for pure men and pure men for pure women…” (Surah An-Noor)

This is the Quranic or Divine rule for the companionship of men and women.  They don’t get attracted to each other by their appearance but by their instinct of evil desires or virtues.

But even Muslims seldom doubt on this rule as each man and woman consider themselves pure, innocent, pious and sin-free person.  Men don’t pray and read Quran but they want their wives to be a punctual in religion and women do the same thing.  Women do cheat on their husbands and yet blame them for enjoying prostitute gatherings and men do the same thing.  Parents lie and expect their children to speak truth.  Men and women watch adult movies and obscene clippings and want their children to grow up pious.  They want to save little ones from the moral and financial corruption they couldn’t resist.

It is women who demand dowry and create all kinds of problems at homes, they burn their daughter-in-laws, they conspire for their sister-in-laws, they hate their mother-in-laws and then they are the one who step out and shout slogans against dowry.

I still don’t get it that what is the real purpose of observing women’s day.  Women’s rights are seized by their own men, women’s are tortured and abused by their men at home.  Those men rule the world outside home – the employer, the officer, the colleague, the vendor, the agent.  Who do then women stand against and who do they ask for help?

Don’t most women realize that they are abused by men because of how they amuse men?  Or take it this way that women abuse themselves when they try to amuse wrong men the wrong way.

What do they demand as their right – food, clothes, shelter, healthy environment, educational and working opportunities, their participation and representation in national and social issues OR dancing and singing on the streets, exposing their body parts?  And if they do so then why do they complain about men behaving like men and treating them like women, while they both don’t behave humanly?

Why isn’t there a day for men too, don’t they have problems created by women, don’t they suffer frustrations and commit crimes due to them?  Why don’t men tell the world how they feel when women are around and if they want to protect their dignity as well as women’s honour or they take advantage of the situation?

.


 

تپش تو چھاؤں میں سورج سے بھی زیادہ ہے
جھلس رہا ہوں کہ شیشے کے سائبان میں ہوں
” خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے اور خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے… پاک مرد پاک عورتوں کے لئے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے…” (سوره النور) 
.
یہ قرآنی اصول ہے… لہذا عورتوں کو مردوں کی اور مردوں کو عورتوں کی شکایات کرنے سے پہلے اپنے کردار اور اوصاف بھی دیکھ لینے چاہییں… عورت اور مرد انسان پیدا کے گۓ ہیں… اگر عورت صرف خود عورت سمجھ کر اور عورت ہی کی خصوصیت کے ساتھ دنیا میں پیش کرے گی تو پھر مرد بھی صرف مرد بن کر ہی اس سے ملیں گے… 
.
عالمی یوم نسواں… خواتین کا عالمی دن… بین الاقوامی قوتوں نے چاہا کہ یہ دن یا کوئی بھی دن منائیں تو منا لیا… جو جو موضوع انہوں نے اس حوالے سے چاہا کہ اجاگر ہوں وہ کر دیے… اور کیوں نہ ہو ہما رے اور بین الاقوامی قوتوں کے درمیان یہ آقا اور غلاموں جیسا تعاون… آخر کو دنیا کے معاملات بگاڑنے میں انکی عقلمندی اور ہمارے انکی عقل پر ایمان لانے کا بہت بڑا حصّہ ہے….
.
اگر عورتوں کا عالمی دن ہو سکتا ہے تو مردوں کا کیوں نہیں؟  کیا مردوں کے مسائل نہیں ہوتے… انکے ساتھ بھی تو زیادتیاں ہوتی ہیں… انھیں بھی گھر کے اندر اور باہر پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے… انکی تربیت میں کمی یا زیادتی بھی تو مسائل کو ہی جنم دیتی ہے… 
.
اگر یہ عالمی دن ہر قسم کی خواتین کے لئے ہے تو اس کا اصل مقصد کیا ہوا؟ کیونکہ خواتین کوئی الگ مخلوق تو ہیں نہیں کہ ایک دن انکو سب دیکھیں اور انکی باتیں کریں اور تماشہ لگائیں… عورتیں خوش ہوں مبارکباد دیں کہآگیا آگیا ہمارا دن آگیا آگیا جیسے سال میں ایک مرتبہ عید بھی آتی ہے… خوشحال، مطمئن خواتین ان خواتین کا ذکر کریں جن پر ظلم ہوۓ ہیں… انکے لئے آواز اٹھائیں… اور مظلوم خواتین کو تھوڑی تسلی ہو جاۓ کہ کوئی ہمارا ہمدرد ہے… اور مل جل کر دن گزار لیا جاۓ…
.
اگر یہ دن مظلوم خواتین کے لئے ہے تو مبارکباد کیسی اور کس کی طرف سے کس کو؟ جس حساب سے ہم پورے سال خواتین کے حقوق، آزادی، مظلومیت، تشدّد اور جہالت کا رونا روتے رہتے ہیں… اس حساب سے تو سال کے تین سو پینسٹھ دن ہی خواتین کا ہی دن منایا جا رہا ہوتا ہے… تو اس ایک دن میں کیا خاص بات ہے… اور میں تو کہتی ہوں کیسی مظلومیت اور کیسے حقوق… ایم کیو ایم کے جلسے میں کیا کیا نہ کر گئیں… طوائفیں شریفوں کے گھروں میں نہیں آسکتیں تو کیا ہوا، گھروں کی  معزز خواتین تو سرعام ناچ گا سکتیں ہیں… اگر خوشبخت شجاعت صاحبہ دو لاکھ خواتین سے صرف اتنا بھی وعدہ لے لیتیں کہ وہ کوڑا سڑکوں پر نہیں پھینکیں گی اور اپنا اردو کا تلفظ ٹھیک کر لیں گی… تو یہ سمجھا جا سکتا تھا کہ انکا تعلیم و تہذیب سے کوئی تعلق رہ گیا ہے… 
.
.
عجیب ترین بات یہ ہے کہ زیادہ تر خواتین کے ساتھ جس بھی قسم کی زیادتی ہو وہ گھر میں ہو رہی ہوتی ہے لیکن انصاف مانگنے وہ سڑکوں پر نکل جاتی ہیں… لیکن کس سے، دوسرے مردوں سے جو کہ در حقیقت دوسرے مرد نہیں ہوتے بلکہ دوسروں کے مرد ہوتے ہیں اور کہیں نہ کہیں اپنی خواتین کے ساتھ زیادتیوں میں ملوث ہوتے ہیں؟… باپ، شوہر، بھائی، بیٹے، بہنوئی، جیٹھ، دیور، سسر، داماد، چچا، ماموں، تایا… اور ان سے رشتے میں بندھی ہوئی خواتین… اور پھر وہی مرد گھروں سے باہر کام کرتے ہیں بلکہ کہنا چاہیے کہ گھر سے باہر کی دنیا کے مالک بن جاتے ہیں… مختلف اداروں میں، مختلف کاروبار میں، مختلف روپ میں… 
.
ایک تازہ مثال وحیدہ شاہ کی ہی لے لیں… صرف تھپڑ ہی مارے تھے، زنا با لجبر نہیں کیا تھا، قتل نہیں کیا تھا، عورت کو برہنہ سر بازار نہیں گھمایا تھا… لیکن ہزاروں مرد نکل آۓ سڑکوں پر اور جھٹ پٹ سزا ہو گئی وحیدہ شاہ کو… وحیدہ شاہ کے گھر کے مردوں کو بھی شاید موت آ گئی تھی… یہی اگر وحیدہ شاہ کے باپ، بھائی، بیٹے یا شوہر کا معاملہ ہوتا تو وہ خود سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی ہوتیں انکی عزت بچانے کے لئے… 
.
جبکہ ہزاروں مرد جنسی زیادیوں، قتل، عورتوں کو برہنہ کر کے سرعام پھرانے، تیزاب یا مٹی کا تیل یا پٹرول پھینک کر جلانے، ناک کان کاٹنے جیسے بھیانک جرائم کرتے ہیں اور نہ تو انکی خواتین انکے خلاف کوئی اقدام کرتی ہیں، نہ پولیس، نہ حکام اورنہ ہی علاقے کے مرد…
.
مرد اور عورت اگر دونوں انسان ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے کے لئے مسائل کا باعث ہیں تو انسانوں کا عالمی دن کیوں نہیں منایا جاتا، انسانی مسائل سے نجات کا عالمی دن کیوں نہیں منایا جاتا، عزت و احترام کا عالمی دن کیوں نہیں منایا جاتا؟  
.
مردوں اور عورتوں کے مسائل تربیت اور انصاف نہ ہونے کی وجہ سے ہیں… تو پھر انصاف اور تربیت کا عالمی دن کیوں نہیں منایا جاتا؟
.
انسانی کرداروں کے بجاۓ  انسانی کردار کا دن کیوں نہیں منایا جاتا؟  
.
ذرا سوچیں اگر ایک ایک دن بھی اس طرح منا لیں تو کتنا سدھر جاۓ دنیا…. کہ آج سچ کا عالمی دن ہے تو آج کسی حال میں جھوٹ نہیں بولنا ہے… آج ایمانداری کا عالمی دن ہے تو آج کسی بھی صورت کسی کو دھوکہ نہیں دینا ہے… آج احترام کا عالمی دن ہے تو آج سب کو نظریں جھکا کر اچھے الفاظ میں بات کرنی ہے… آج امانت داری کا عالمی دن ہے تو آج کسی کی چیزوں میں، باتوں میں یا عزت میں خیانت نہیں کرنی ہے… آج رشک کرنے کا عالمی دن ہے، اس لئے آج کسی سے حسد نہیں کرنی بلکہ کوئی اچھائی تلاش کر کے تعریف کرنی ہے اس کے لئے کہتے ہیں “بَارَكَ اللهُ فِيْكَ” لڑکوں یا مردوں کے لئے اور “بَارَكَ اللهُ فِيْكِ” لڑکیوں اور عورتوں کے لئے، مطلب یہ کہ الله آپ کو برکت دے، یا سیدھا سیدھا “ماشاء الله” کہ دیں…. آج دعاؤں کا عالمی دن ہے تو آج صرف ایک دوسرے کو دعائیں ہی دعائیں دینی ہیں کسی بھی زبان میں… آج برداشت کا عالمی دن ہے تو آج ہر ایک کی بد تمیزی کو نظرانداز کرنا ہے… وغیرہ وغیرہ….
.
خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر میں اداکارہ میرا، ریما، صائمہ، ثنا، ریشم، نرگس، سنگیتا اور بہت سی ایسی ہی خواتین سے گذارش کروں گی کہ براۓ مہربانی فن اور اداکاری کے نام پر اپنے جسم کے حصّوں کو اتنے شدید جھٹکے نہ دیا کریں کہ ایسا لگے وہ ابھی آپ کے جسم سے نکل کر آپ کے چاہنے والوں اور پرستاروں کی گود میں جا گریں گے… خیر سے اسی کو بے ہودگی اور بے حیائی کہتے ہیں… فن اور اداکاری کے ذریعے دولت اکٹھی کرنا آپ کا حق ہے… فن اور اداکاری کے نام پر اپنے جسم کو آخری حدوں تک ننگا کرنا بھی آپ کا حق ہے لیکن شاید پبلک میں نہیں… اپنے ہی جسم کو برہنہ کر کے اپنے ہی ملک و قوم کے مردوں کو دیوانہ بنایا اور بھٹکایا تو کیا کمال کیا؟  تو پھر زرداری جیسے مرد ہی میرا کو صدارتی ایوارڈز دے سکتے ہیں کیوں کہ ایسے ہی کم نسلوں کو آپ تفریح فراہم کر رہی ہوتی ہیں… خیر ہو سکتا ہے کہ آپ کو عزت اور شرم و ہی کی یہی تعریف بتائی جاتی ہو…
.
.
عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پر وہ ایک عہد کریں کہ کم از کم کسی ایسے لڑکے یا مرد سے شادی نہیں کریں گی جو کس بھی قسم کے کرائسس سے گذرا ہو اور پھر نارمل نہ ہو سکا ہو… ہمارے معاشرے میں ایسے مرد سری زندگی خود کو مظلوم سمجھتے رہتے ہیں اور عیش کرتے ہیں… کبھی امّاں آگے پیچھے، کبھی بہنیں دائیں بائیں، کبھی بیٹی کو جذباتی بلیک میلنگ، کبھی بیوی کو دھمکیاں اور تشدد… کبھی نشے میں غموں کا علاج ڈھونڈ رہے ہیں… کبھی طوائفوں کے در پر پڑے اپنی ناکامیوں کی داستان سنا رہے ہیں… خوب مزے ہو رہے ہیں… ایسے مردوں کی نفسیاتی کیفیت اور باؤلا پن بھگتنے کے لئے انکی شادی کر دی جاتی ہے… اور وہ ساری زندگی اپنی محرومیوں اور زیادتیوں کا بدلہ اپنی بیوی سے لیتے رہتے ہیں جس کا کوئی قصور نہیں ہوتا… ایسے مردوں کو ایک سال باسی روٹی گرم پانی سے دو وقت کھلانی چاہیے اور دونوں کھانوں کے درمیان میں بارہ گھنٹے کا وقفہ ہونا چاہیے….شادی سے پہلے لڑکوں اور مردوں کا ایک سالہ چیک اپ ہونا ضروری ہے اور دماغی امراض کے ڈاکٹر اور نفسیاتی معالج سے سرٹیفکیٹ لینا چاہیے کہ یہ انسان کا بچہ بن کر نارمل زندگی گزار سکتا ہے کہ نہیں… لڑکے کے گھر والوں کے بارے میں بھی چھان بین کرنی چاہیے کہ انکو کیا کیا دماغی تکلیفیں ہیں… نارمل ہیں کہ نہیں… 
.
خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر خواتین عہد کریں کہ وہ کسی دوسری خاتون کے حقوق نہیں چھینیں گی، اس کو برباد نہیں کریں گی، اس کے منہ سے نوالہ نہیں چھینیں گی… طعنے نہیں دیں گی، اس کو گھر کے مردوں کے ذریعے تشدد نہیں کرائیں گی… اپنے بیٹوں کے عیب چھپا کر کسی لڑکی کو تباہ نہیں کریں گی… 

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

One Response to World Women’s Day – بین الاقوامی یوم نسواں

  1. سبحان اللہ
    کیا خوب لکھا ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: