All Hail or Hell to the Democracy

“He said, “Do you observe that which you have been worshipping,  you and your ancient fathers?  Verily! They are enemies to me, save the Lord of the ‘Alameen (mankind, jinns and all that exists)… Who has created me, and it is He Who guides me… And it is He Who feeds me and gives me to drink… And when I am ill, it is He Who cures me… And Who will cause me to die, and then will bring me to life (again)… And Who, I hope will forgive me my faults on the Day of Recompense (the Day of Resurrection)… My Lord! Bestow hikmat (religious knowledge, right judgement of the affairs) on me, and join me with the righteous people… And grant me an honourable mention in later generations… And make me one of the inheritors of the Paradise of Delight..” (Surah Ash-Shu’ara/The Poets)

“Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, inclining towards truth and I am not of those who associates others with Allah…” (Surah Al-An’aam/The Cattle)

“Say (O Muhammad, pbuh), Verily, my prayer, my sacrifice, my living and my dying are for Allah, the Lord of all the worlds…” (Surah Al-An’aam/The Cattle)

“And if Allah touches you with hurt, there is none who can remove it but He; and if He intends any good for you, there is none who can repel His favour which He causes it to reach whomsoever of His slaves He will.  And He is the Oft-Forgiving, Most Merciful.”  (Surah Yunus/Jonah, the Prophet)

Glorifying God Almighty or glorifying a person – what sounds more efficacious?  A quick answer to this would be ‘Glorifying God’, and we do glorify Him.

Yeah, we do glorify and remember Him – a timeless Being at times, an unlimited Being with limitations, the One beyond logic with reasons, the most direct One through sources.

But when it comes to glorify humans directly or indirectly, we disregard timings, limitations and logical reasons.  We pledge our lives to that person, we do sacrifices for his cause and we die in his/her name.

This is not leadership.  Breaking divine rules for a person, is not leadership.  Do things in a person’s name instead of God Almighty, is not leadership.  This is misguidance.

The way political workers and supporters hail their leaders and obey them is a non-sense.  They worship one person like crazy, they go wild at his/her insult, they become unjust while defending a morally corrupt person.

A party leader is party leader, he/she is not the god or goddess that the whole nation must hail otherwise suffer the wrath of their workers.  If they are so concerned with the dignity and honour of their leader, why don’t they ask him/her to behave human, civilized and normal?

How did the companions praised Prophet Muhammad (pbuh)?  Did Prophet Muhammad (pbuh) ever used his companions or people to be a threat for his enemies?  How disciplined and civilized were his companions and admirers, do we care?

Do political leaders and religious leaders have the rights to misuse or abuse moral values whenever and wherever they want?  Just because they have succeeded in gathering .05% or .50% of the population at one place.

Well, I say “NOT HAIL BUT HELL TO THESE LEADERS, THEIR WORKERS AND THIS DEMOCRACY”.

.

“ابراہیم نے کہا، اچھا کیا تم نے کبھی سوچا، کیا ہیں یہ جن کی تم پوجا کرتے رہے ہو؟  تم اور تمھارے وہ باپ دادا جو پہلے ہو گزرے… کیونکہ یہ سب تو میرے دشمن ہیں، سواۓ رب العالمین کے… جس نے پیدا کیا ہے مجھے، پھروہی میری رہنمائی فرماتا ہے… اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے… اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے… اور وہی جو مجھے موت دے گا، پھر دوبارہ زندہ کرے گا… اور وہی جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ بخش دے گا میری خطائیں روز جزا… اے میرے مالک! عطا فرما تو مجھے حکمت اور شامل فرما تو مجھے صالحین میں… اور باقی رکھ میرا ذکر خیر بعد والوں میں… اور شامل فرما تو مجھے نعمت بھری جنّت کے وارثوں میں…” (سوره الشعراء) 
“(کہا ابراہیم نے) بے شک کر لیا میں نے اپنا رخ اس ہستی کی طرف جس نے پیدا کے ہیں آسمان و زمین یکسو ہو کر…” (سوره الانعام) 
“کہ دو، بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت، سب الله کے لئے ہے… جو رب ہے سارے جہانوں کا… (سوره الانعام) 
“اور اگر پہنچاۓ تم کو الله کوئی تکلیف تو نہیں کوئی دور کرنے والا اس کا مگر وہی اور اگر پنہچانا چاہے تم کو وہ کوئی بھلائی تو نہیں ہے پھرنے والا کوئی اس کے فضل کو….” (سوره یونس) 
.
سارا کا سارا قرآن اور رسول صلی الله علیہ وسلم کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ الله سبحانہ و تعالی جو وعدہ کرتے ہیں پورا کرتے ہیں…
.
شخصیت پرستی کیا ہے… یہی نہ کہ کسی انسان سے اتنی محبت یا عقیدت کرے، یا اتنا خوف کھاۓ، یا اتنی امید لگاۓ کہ خدا کو بھول جاۓ… اس کے کہنے پر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا لے… قرآن کے مقابلے پر اپنے من چاہے قوانین نافذ کرے… اس کے لئے جان دینے کا عہد کرے اور دے بھی دے…
.
خدا پرستی کے مقابلے پر شخصیت پرستی پاکستانیوں کا سب سے پرانا اور پسندیدہ عیب ہے اور سارے فساد اور موجودہ حالات کی جڑ بھی… سیاستدان ہوں، مولانا ہوں، اداکار ہوں، گلوکار ہوں، ماں باپ ہوں، میاں ہو، بیوی ہو، محبوب یا محبوبائیں ہوں، پیر یا عامل ہوں…. غرض یہ کہ اپنی زندگی کو کسی نہ کسی انسان کے ہاتھوں میں دیے رکھتے ہیں کہ وہ اس سے کھیلے… اور باقی سب کے حقوق پورے نہیں کرتے…
.
میرے خیال میں رسول صلی الله علیہ وسلم سے پہلے عربوں میں کسی اور کا نام محمد نہیں تھا… لیکن اس کے با وجود ان کی پہچان انکا کردار تھا…  ‘امین’ اور ‘صادق’ کے نام سے مکے کے لوگوں کو پتہ چل جاتا تھا کہ کس کی بات کی جارہی ہے… یہی حال بعد میں صحابہ کا بھی تھا… صدیق، فاروق، غنی، حیدر، سیف الله… یہ القاب انہوں نے خود اپنے ناموں کے ساتھ نہیں لگاۓ تھے بلکہ دوسروں نے انہیں ان کے نام کا حصّہ بنایا تھا…
.
صحابہ رسول صلی الله علیہ وسلم کی شخصیت کو پوجتے نہیں تھے… بلکہ انکے احکامات کو احکامات خدا جان کر ان پر عمل کرتے تھے… رسول صلی الله علیہ وسلم  سے اپنی محبت کے اظہار کے لئے اپنی مرضی کے طریقے اختیار نہیں کر رکھے تھے انہوں نے… دوسری بات یہ کہ رسول صلی الله علیہ وسلم سے بے انتہا محبت کے باوجود اپنے گھروالوں کے، محلے کے، دوستوں کے، رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھتے تھے…
.
.
آج ہم اپنے معاشرے میں کتنے لوگوں کو انکو کردار سے بلکہ اچھے کردار سے پہچانتے ہیں… یہاں لوگ پیشے، عہدے، اور طبقے سے پہچانے جاتے اور عزت کیے جاتے ہیں…
ڈاکٹر، اینجنیرز، وکیل، جج، ہیڈ ماسٹر، استاد، چیف ایگزیکیٹو، منیجر، افسر، سیاسی لیڈر، سردار، وڈیرے، بزنس مین، صدر، گورنر، وزیر، ممبر قومی اسمبلی، کونسلر، مولانا صاحب، شاہ صاحب، مفتی صاحب، پیر صاحب، حافظ صاحب…….. بس اسی طرح ہم اپنے لوگوں کو پہچانتے بھی ہیں، انکی عزت بھی کرتے ہیں اور ان سے ڈرتے بھی ہیں… یہ سیاہ کریں یا سفید، صحیح کریں یا غلط… کسی کو ان سے سوال کرنے کا حق نہیں ہوتا… کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہوتا… کسی کے پاس انکے احتساب کے اختیار نہیں ہوتا… 
.
پاکستان میں ایک مسلہ یہ بھی ہے کہ جو باکردار ہو عوام اسے سوشل ورکر کی حثیت سے تو قبول کر لیتی ہے لیکن رہنما یا سیاستداں کی حیثیت سے نہیں… پاکستانیوں کا حال دیکھیں… پٹھان، بلوچی، پنجابی، سندھی، بنگالی، اردو بولنے والے، شیعہ، سنی، تبلیغی، اہل سنت، آغا خانی، قادیانی، پیپلز پڑتی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ، عوامی نیشنل پڑتی، تحریک انصاف، ڈیفنس والے، گلشن والے، کینٹ والے، نارتھ ناظم آباد والے، لالو کھیت والے، اورنگی ٹاون والے، ملیر والے، ڈاکٹر، استاد، تاجر، مزدور …. کتنے سارے کنوؤں میں بند مینڈک ہیں ہم سب… اپنے اپنے فائدے کے لئے نکلے، ٹرٹراۓ اور پھر اندر… 
پاکستان میں جو جس عہدے پر بیٹھ گیا یا بٹھا دیا گیا، نہ تو وہ خود ہٹنے کا نام لیتا ہے، نہ ہی دوسرے اس کے سامنے دم مار سکتے ہیں… عقیدت ہو، خوف ہو، محبت ہو، مقصد ہو، مطلب ہو یا مذاق… کوئی بھی وجہ ہو، ہمارے ہاں ایک شخص کو خدا بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی جاتی ہے… اس اپنے ہی جیسے بے بس انسان سے ساری امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں… وہی مسائل کا حل سوچے اور وہی ان پرعمل کرنے کے لئے یا کرنے کے لئے اپنی زندگی برباد کر لے… عوام تو کیا کرتی ہے… نعرے لگاۓ، اور کام نکلتا دیکھا تو صحیح ورنہ کسی دوسرے کے سا ۓ میں پناہ ڈھونڈنے نکل پڑے…
.
ہماری قوم نے لیڈر یعنی رہنما کے لئے کوئی معیار سامنے نہیں رکھا کہ کوئی لیڈر بننے سے پہلے سوچے کہ اسکی عوام اسے کن خصوصیات کے ساتھ قبول کرے گی…
ہم کبھی اس ایک انسانی خدا کے کردار کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے، پوچھتے نہیں اور اگر کوئی انکو بتاۓ تو الٹا اس کا دفاع کرتے ہیں… صرف روٹی، کپڑے، مکان، اختیار، حقوق اور آزادی کے وعدوں پر بک جاتے ہیں، غلام بن جاتے ہیں، رسولوں کی تعلیمات بھول جاتے ہیں، الله کے وعدوں پر یقین کرنا چھوڑ دیتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اپنے رب کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں… کس کے کہنے پر؟ اپنے ہی درمیان میں پلے بڑھے اپنے ہی جیسے کردار کے ایک آدمی یا عورت کے کہنے پر… جو خود کسی قابل نہیں، جسکے پاس خود کوئی اختیار نہیں… جو خود اپنے نفع نقصان پر قادر نہیں… جو خود اپنی زندگی کی حفاظت کے لئے دوسروں کی پناہ کا محتاج ہو… 
.
لیڈرز چاہے مذہبی ہوں یا سیاسی اور عوام… دونوں نے کبھی اپنا اپنا انجام نہیں دیکھا… صبح شام، دن رات ایک کر دیتے ہیں یہ رہنما… اربوں کی دولت جمع کر لیتے ہیں، محل بنا لیتے ہیں لیکن کبھی استعمال نہیں کر پاتے اور جو کچھ استعمال کر لیں تو گالیاں کھاتے ہیں، الزام سہتے ہیں، لعنت ملامت ہوتی ہے، کبھی انکے والدین کو برا کہا جا رہا ہوتا ہے اور کبھی بچوں کو بد دعائیں… یہی انکی زندگی کا حاصل ہوتا ہے…
.
عوام کو کیا ملتا ہے… خود کشی، خود سوزی، بھوک، فاقے، بیماریاں، محتاجی، بد حالی، ذلت………. روٹی، کپڑے، مکان، اختیار، حقوق اور آزادی کے لئے سڑکوں پر آۓ دن احتجاج، کتے بلیوں کی طرح دھوپ میں مارے مارے پھرنا، خواری اور ذلت نہیں تو پھر کیا ہے… کیا مذاق ہوتا ہے کہ ہزاروں اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر جمع ہو کر بھی اتنے بے بس کہ صرف سٹیج پر کھڑے رہنماؤں کے اشارے کے پابند ہوتے ہیں… ڈگڈگی انکے ہاتھ میں ہوتی ہے اور عوام بندر کی طرح انکے احکامات پر عمل کرتے ہیں… ناچ جاؤ، ناچ گئے… گانا شروع کردو، گانے لگے… تالیاں بجاؤ، تالیاں بجانے لگے… جلسہ ختم کردو، گھر واپس آ گئے… میں تو یہ سوچتی ہوں کہ کتنے خوش ہوتے ہونگے عوام کی بے بسی کا تماشہ لگا کر یہ سیاست دان… 
.
ہزاروں لاکھوں ایک ساتھ جمع ہو کی بھی کوئی قوت نہیں بنتے، کوئی مطالبہ لے کر اپنے لیڈرز پر دباؤ نہیں ڈالتے کہ یہ قانون بناؤ، یہ بل پاس کرو… جب الله رب العزت کو چھوڑ کر، اس کے دے ہوۓ آئین سے منہ موڑ کر، اس کی ہدایات کو ٹھکرا کر، ادھر ادھر بھٹکو گے تو یہ ذلت تو ملے گی… 
.
اور مزے کی بات یہ کی عوام اور لیڈرز، دونوں ایک دوسرے پر الزام بھی لگاتے ہیں… اور پھر ایک دوسرے کے ہی پاس جاتے ہیں…. سیاستدان ووٹ کے لئے اور عوام مسائل کے حل کے لئے… 
قرآن ایسے عوام اور ایسے لیڈرز کے بارے میں کیا کہتا ہے….“کمزور ہیں مدد مانگنے والے اور وہ جن سے مدد مانگی جاتی ہے…” (سوره الحج) 
.
شخصیت پرستی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان بے وقوف بہت بنتا ہے… اگر اس کو چاہا جاۓ تب بھی اور وہ کسی کو چاہے تب بھی… یہ سوچ ہی نہیں آتی کہ میں ہوں یا کوئی اور… ہیں تو انسان ہی، غلطی کر سکتے ہیں… محاسبہ بھی ہو سکتا ہے… تنقید بھی ہو سکتی ہے… مخالفت بھی ہو سکتی ہے… بے وقوفوں کی طرح بس کسی ایک شخص کی تعریفیں ہی تعریفیں ہوئی چلی جارہی ہیں… کوئی اسکے خلاف زبان نہ کھولے… الٹا سیدھا کچھ بھی کر کے اس کا دفاع کرنا ہے… زبان سے حق کے بجاۓ چکنی چپڑی باتیں نکلنی شروع ہو جاتی ہیں…
.
شخصیت پرستی کی ایک تازہ مثال اس وقت سامنے آئی جب ایک رکشے والے نے مجھ سے کہا کہ ‘باجی میں تو کہتا ہوں کہ یہی حکومت رہے، یوسف رضا گیلانی جیسا ایماندار، مڈل کلاس اور غریبوں سے محبت کرنے والا انسان وزیر اعظم رہے تو ملک کے حالات بدل جائیں گے’… میں صرف اس کا منہ دیکھتی رہ گئی… اور تعلیم یافتہ لوگوں کی نا اہلی کا ماتم کرتی رہ گئی…
.
اسی طرح کہیں دنیا میں ایسا قائد دیکھا ہے کسی نے، ناچنے گانے والا اور وہ بھی انتہا درجے چھچھورے پن کے ساتھ….
.
نواز شریف کی پرستش کرنے والوں نے تو حد ہی کر دی کہ محبت میں اتنے نعرے لگاۓ کہ لیڈر کو ہی بولنے نہ دیا… اورتواورماروی میمن صاحبہ نے کیا پلٹا کھایا… اور دونوں نے ایک دوسرے سے کوئی حساب نہیں لیا… نواز شریف نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ تو مشرف کے ساتھ تھیں اس کے ہر جرم میں اور ماروی میمن نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ نے کتنا کرپشن کیا اور کتنا قرضہ کھایا… 
.
پرویز مشرف صاحب کو اچھی طرح سمجھ آ گیا ہوگا کہ عوام پرسے شخصیت پرستی کا بھوت اگر اترے تو کیا رنگ دکھاتا ہے… یا ہو سکتا ہے کہ عافیہ صدیقی کی آہ لے ڈوبی ہو…
.
عمران خان صاحب کے پرستاروں کو کم از کم یہ تو پوچھ لینا چاہیے تھا کہ بھائی یہ کس وقت کا عمرہ اور فوٹو سیشن کیا جارہا ہے… اور اگر حج بھی ہو توچھوڑا جا سکتا ہے خاص کر اگر اتنے سارے لوگوں کی زندگی اور موت کا مسلہ ہے…  ایسا حج تو نہ ہو کر بھی مقبول ہوتا ہے…
.
 

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: