Love and Happiness – محبت اور خوشی

Beside what world think of love, a feeling, a passion, an expression, or whatever.  Just one person, one thing, one dream or one desire does not deserved to be the focus of love.  

Love is the happiness, peace and satisfaction that anyone can find in any moment due to any reason.  Love is to value the life God Almighty has given to us and enjoy His blessings.  It is to search pleasure and comfort in God’s world.  

Love has different meaning for different people.  Prophets found their pleasure in serving Allah (SWT) and suffer all trails to please Him.  The companions faced all difficulties gladly for the sake of Prophets’ cause.  Pakistan’s achievement was the love and passion of Allama Iqbal and Quaid-e-Azam.  Soldiers feel proud of sacrificing their lives for the love of their country.  

It is not hatred but sorrow and distress are the antonym of love.  That is why people fall into love with whatever or whoever causes the removal of bad situation and bad memories.

.
پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ شعرا کیا کہتے ہیں محبت کے بارے میں… نہیں علامہ اقبال کا حوالہ نہیں دونگی… انکی محبت کا فلسفہ پڑھ کر تو اچھی خاصی موَنث بھی آدھی مذکران حق بن جاتی ہیں… ان کوقرار داد پاکستان پر یاد کریں گے…
.
پہلے نمبر پہ مجھے اچھا لگتا ہے احمد فراز کا فلسفہ محبت….
میں اپنے آپ سے بڑھ کر کسی کو کیوں چاہوں
مجھی پہ ختم ہے قصّہ میری محبت کا
میں اپنے عشق میں سچا ہوں اور کہتا ہوں
میری رگوں میں بہت زہر ہے رقابت کا
ہزار اس نے یہ چاہا کہ میں بکھر جاؤں
سو میں نے صبر کیا، صبر بھی قیامت کا
پوچھیں کیوں… بھئی جس سے بات کرو کام کی کہتا ہے اپنے کام سے کام رکھو، اپنے پہ نظر ڈالو کہ خود کیا ہو، ہمارے معاملات میں نہ بولو، بے شرم یہاں تک کہتے ہیں کہ اپنے گریبان میں جھانکو، وغیرہ وغیرہ… اب ظاہر ہے اتنا دباؤ پڑے گا تو انسان کو نہ ہوتے ہوۓ بھی خود سے پیار ہو گا کہ نہیں…
پھر کہتے ہیں کہ یہ خود غرضی ہے… بھئی خود غرضی کہاں سے ہوئی… اچھا دیکھیں… میں خود کو خوش رکھنے کے لئے گول گپے، کچوری، چھولے اور دہی کے چھوٹے بڑے، برگر اور دنیا بھر کی الا بلا کھاتی ہوں… صحیح ہے نہ… پیسے بلکہ روپے خرچ ہوتے ہیں نہ… تو اس طرح میں نے دوسروں کو کاروبار دیا کہ نہیں… اب یہ بتائیں کہ پاچ دس روپے بھیک دینا زیادہ اچھا یا پچاس، ساٹھ روپے کا کاروبار… کیا یہ خود غرضی ہوئی… اسی طرح میں گھر کو صاف رکھنے کے لئے چیزیں خریدتی ہوں… کاروبار دیا کہ نہیں…. اگر سب میری طرح بھیک کے بجاۓ کاروبار دینے پر توجہ دیں تو بھکاریوں کو خود خیال آۓ گا کہ ارے کام کرنے سے پیسے زیادہ ملتے ہیں… اور جس میں اتنی سوچ پیدا ہو جاۓ وہ آگے خود ہی راستے بھی نکال ہی لیتا ہے…
ویسے پتہ ہے کیا… ایک دن میں چکن کی دکان پر کھڑی تھی تو ایک عورت ایک بچہ گود میں لئے آئی کہ باجی مجھے بھی ایک کلو گوشت دلادو، اس بچے کے لئے دلادو… میں نے اسے کہا، یہ بچہ میں نے پیدا کیا ہے، اس کو کھلا نہیں سکتیں تھیں تو پیدا کیوں کیا… وہ میرا منہ دیکھتی رہ گئی کیوں کہ لوگ یا تو مدد کر دیتے ہیں یا دھتکار دیتے ہیں…. نصیحت کوئی نہیں کرتا… یا مشورہ بھی کوئی نہیں دیتا… خیر وہ خاموشی سے چلی گئی… سب دکاندار مجھے دیکھنے لگے… لیکن اگر سب اس طرح انکی کاؤنٹر برین واشنگ کریں تو یہ بھی سوچنے کے قابل جائیں گے…
.
خیر بات ہو رہی تھی محبت کی… دوسرے نمبر پر آتے ہیں منیر نیازی صاحب…
ستارے جو دمکتے ہیں کسی کی چشم حیران میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں جمال ابر و باراں میں
یہ نا آباد وقتوں میں، دل ناشاد میں ہوگی
محبت اب نہیں ہوگی، یہ کچھ دن بات میں ہوگی
گزر جائیں گے جب یہ دن، یہ انکی یاد میں ہوگی
اب میرا تو کوئی تجربہ ہے نہیں محبت وغیرہ کا اس لئے بات سمجھ نہیں آئی پھر بھی اتنا معلوم ہو گیا کہ بقول ٹینا ٹرنر… محبت ایک سیکنڈ ہینڈ جذبہ ہے… یا بے وقتی جذبہ بھی کہ سکتے ہیں… پھرتو یہ جذبے سے زیادہ ایک مشغلہ ہو گیا کہ بعد میں سمجھتے رہو… بھئی منیر نیازی یہ کس قسم کے خیالات کا اظہار کر کے گئے ہیں، خواہ مخواہ کنفیوز کر دیا… لیکن عملی طور پر بات سچی ہے اس لئے انکو دوسرے نمبر پر ہی رہنا چاہیے…
.
تیسرے نمبر پہ آ گئے امجد اسلام امجد، وہ کہتے ہیں…
جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے
تیرے میرے اَبد کا کنارہ ہے یہ
استعارہ ہے یہ
روپ کا داؤ ہے
پیارکا گھاؤ ہے
جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے
کچھ مشکل سا انداز ہے لیکن انکی بات بھی ٹھیک لگتی ہے کہ بھئی اچھا برا جو کچھ ہو رہا ہے سب محبت کی وجہ ہے…
.
کبھی احمد ندیم قاسمی کچھ پریشان سے لگتے ہیں کہ… محبت ایک الجھا الجھا تجربہ ہے، کبھی یہ زعم وہ میرا ہے صرف میرا ہے …
.
فیض احمد فیض محبت کو ایک دکھ سمجھتے ہیں… اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا، راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا…
.
تقی عثمانی صاحب کے خیال میں…
محبت کیا ہے دل کا درد سے معمور ہوجانا
متاع جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہوجانا
قدم ہیں راہ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چور ہوجانا
یہ آخری فلسفہ محبت عملی طور پر بہت مشکل ہے، اس لئے اسے آخر میں رکھا ہے…
.
یہ سب تو خیر شاعروں کی باتیں ہیں اور شاعروں کو کم ہی سنا جاتا ہے…
ہاں فلمی گانوں میں جو محبت سکھائی جاتی ہے وہ ضرور آسان اور دلچسپ ہے، اسی لئے سب میں مشہور ہے… لیکن بھئی اس میں تو محبوب کو خدا کے برابر لا کر کھڑا کر دیتے ہیں… تو میری بندگی ہے… تیرا پیار میری عبادت… جہاں تیرا نام آیا وہیں پہ جبیں جھکا دی… ہم نے اے جاں وفا تیری عبادت کی ہے… جو فرشتوں سے نہ ہو پاۓ وہ چاہت کی ہے…… توبہ توبہ… کسی انسان کے لئے ایسے الفاظ… الله کی معافی…. بھئی الله کو منہ دکھانا ہے کہ نہیں…
.
چلیں اس حد تک نہیں جانا چاہیے… لیکن یہ بھی نہیں ہونا چاہیے جو آج کل چل رہے ہے کہ پٹائی اپنی اپنی… نتیجہ برا ہو تو راستہ اپنا اپنا…جب تک فائدہ تب تک ساتھ… جہاں ذرا مشکل دیکھی بھاگ لئے… حساب کتاب لیتے دیتے، الزامات لگاتے اور دفاع کرتے سارا وقت گذار دیتے ہیں… مگر پریشانی کی کیا بات ہے… یہ سب مسائل تو انکے ہیں جو محبت کے نام پر الجھنیں پیدا کرتے ہیں اور پھر ساری عمر انہیں الجھنوں کو سلجھاتے گذار دیتے ہیں…
.
اور رہی میری بات تو میں تو ان معاملات پر ذہنی صلاحیتیں ضایع نہیں کرتی… شاعروں نے اپنا دماغ لڑا لیا، اتنی کچھ تعریفیں کر دیں کافی ہیں… ساری زندگی میں صرف اتنا سمجھ آیا کہ محبت کسی ایک شخص، چیز، خواب، یا خواہش کا نام نہیں ہے… محبت تو خوشی، اطمینان اور سکون کا نام ہے اور جس لمحے انسان کسی بھی وجہ سے خوش ہو وہی لمحہ محبت کا ہوتا ہے… محبت تو الله سبحانہ و تعالی کی دی ہوئی زندگی کی قدر کرنے کا نام ہے… اس کی ایک ایک نعمت کا شکر ادا کرنے کا نام… خدا کی خدائی میں خوشی ڈھونڈنے کا نام ہے… اسی لئے تو رسولوں کو تکلیفوں میں بھی خوشی محسوس ہوتی تھی… صحابہ کو رسول صلی الله علیہ وسلم کی فرمانبرداری میں قرار آتا تھا… مجاہد تلواروں کے ساۓ میں سکون پاتے تھے… ابن بطوطہ کو دیس دیس گھوم کر مزے آتے تھے…  علامہ اقبال کو مسلمانوں کے مسائل سوچ سوچ کر اور قائداعظم کو تحریک پاکستان میں کیا اطمینان ملتا تھا… اور آج بھی ذرا فوجیوں کو دیکھیں اور ان سے پوچھیں کہ ان کے نزدیک محبت کیا ہے… محبت کی ضد نفرت نہیں بلکہ غم ہے… کیونکہ جب انسان غمگین ہوتا ہے تو اسے ہر چیز بری لگتی ہے…. اور اس وقت کوئی اور شے اس کا غم بھلا دے تو انسان خوشی محسوس کرنا شروع کردیتا ہے اور پھر اس شے سے دل لگا لیتا ہے…
.
یہ تو الله سمجھے فلموں اور ٹی وی والوں کو جو محبت کے نام پر کیا کیا خرافات لوگوں کے دماغوں میں بھرتے ہیں… انسان کو خدا بنا کر پیش کر دیتے ہیں…. 

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: