Home Sweet Home – The Earth

“Home Sweet Home” is not the house we buy and decorate and be proud on and fight over.  It is a place or a spot where anyone can relax and feel secure.

I was amazed to see the founder of Chani Ghar, how she lives, she literally lives in her garbage project.  I feel like giving her my pledge of allegiance and I swear this is the best use of an old age.

I love Allama Iqbal’s thought of dwelling he mentioned in wilderness in his poem “Aik Arzoo/A Wish”.  And he is great, because the whole country and the whole world is our home.

O Lord! I have become weary of human assemblages
When the heart is sad no pleasure in assemblages can be
I see escape from tumult, my heart desires
The silence which speech may ardently love
I vehemently desire silence, I strongly long that
A small hut in the mountain’s side may there be
Freed from worry I may live in retirement
Freed from the cares of the world I may be
Bird’s chirping may give the pleasure of the lyre
In the spring’s noise may the orchestra’s melody be
The flower bud bursting may give God’s message to me
Showing the whole world to me this small wine-cup may be
My arm may be my pillow, and the green grass my bed be
Putting the congregation to shame my solitude’s quality be
The nightingale be so familiar with my face that
Her little heart harboring no fear from my may be
Avenues of green trees standing on both sides be
The spring’s clear water providing a beautiful picture be
The view of the mountain range may be so beautiful
To see it the waves of water again and again rising be
The verdure may be asleep in the lap of the earth
Water running through the bushes may glistening be
Again and again the flowered boughs touching the water be
As if some beauty looking at itself in mirror be
When the sun apply myrtle to the evening’s bride
The tunic of every flower may pinkish golden be
When night’s travelers falter behind with fatigue
Their only hope my broken earthenware lamp may be
May the lightning lead them to my hut
When clouds hovering over the whole sky
The early dawn’s cuckoo, that morning’s mu’adhdhin
May my confidante he be, and may his confidante I be
May I not be obligated to the temple or to the mosque
May the hut’s hole alone herald of morning’s arrival be
When the dew may come to perform the flower’s ablution
May wailing my supplication, weeping my ablution be
May every compassionate heart weeping with me be
Perhaps it may awaken those who may unconscious be
.

 

 .
بہت سنا گھر پیارا گھر… مگر اب کسی کو بھی گھر پیارا نہیں ہوتا… گھر اب یا تو مسافر خانہ رہ گئے ہیں یا قتل گاہیں… جس کو گھر پیارا ہو وہ اس کی خاطر قتل و غارت مچا دیتا ہے… پھر جیل چلا جاتا ہے اور گھر وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے… 
.
ایک عجیب سی بات ہے… جنوبی ایشیا کا خطہ پتہ نہیں کتنے زمانوں سے جنگ و جدل کا میدان بنا رہا ہے… پھر بھی یہاں کے مسلمان صدیوں حسرت میں ہی رہے کہ وہ جائیداد اور دولت کے انبار نہ جمع کر سکے… جو والدین اپنی اولاد کے لئے کوئی گھر، بینک بیلنس نہیں بنا سکتے وہ بے چارے خود کو نکما ہی سمجھتے رہتے ہیں اور اسی طرح روتے پیٹتے دنیا کی شکایات کرتے دنیا سے چلے جاتے ہیں… اکثر انکے بچے بھی ماں باپ سے ناراض نظر آتے ہیں کہ ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑ کے گئے… اور اگر زندہ ہوں تو انھیں گھرمیں بوجھ سمجھا جاتا ہے یا پھر ایک سے دوسری اولاد کے گھر میں بھٹکتے پھرتے ہیں… کچھ زیادہ ہی سزا دینی ہو تو کسی ادارے میں رکھوا دیے گئے…
.
کیا بچوں کے لئے گھر اور جائیداد چھوڑ کر مرنا کسی مسلمان کی زندگی کا مقصد ہو سکتا ہے… ہاں ہاں، منع نہیں ہے، حرام بھی نہیں ہے… لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو کیا الله سبحانہ و تعالی کی نا شکری کرنی چاہیے…. کیا اس بات پہ ملامت کی جانی چاہیے… کیا اس بات پر سزا ملنی چاہیے… کیا یہ مذہبی اور قانونی جرم ہے…
اور یہ تو کافی زمانوں سے ہوتا چلا آرہا ہے… تو کیا اب بھی یہ ہونا چاہیے… کیا ٢٠١٢ کے مسلمانوں کی زندگی کا مقصد بھی وہی ہونا چاہیے جو ان سے پہلوں کا تھا… اور جو حالات ہیں اس دنیا کے… کیا کوئی دل لگاۓ زمینوں جائیدادوں میں… جو کچھ حاصل کرو چھین کر لے جاتے ہیں… 
.
اور آج کل کے نوجوان لڑکے لڑکیاں… انکی کی بھی تو کوئی کل سیدھی نہیں… کچھ سمجھ نہیں آتی چاہ کیا رہے ہیں…پڑھیں تو احسان، جاب کریں تو احسان، سو رہے ہیں تو احسان، جاگ گئے تو احسان، گھر کے کام کر دیے تو احسان…. پڑھائی چھوڑ، اداکار، گلوکار، فنکار، سب کچھ بننا چاہتے ہیں بغیر محنت کے… تجربے کے بغیر کسی بھی ڈگری کے ساتھ ملازمت ملے اور سہولتیں بھی… تنخواہ جو بھی ہو لیکن سارے مشاغل اور شوق پورے ہوں… کسی قسم کی کوئی قربانی نہ دینی پڑے اور الله نہ کرے ایک دو قربانیاں خود دینی بھی پر جائیں اپنے یا گھر کے لئے تو ایسا لگتا ہے جیسے دنیا پر کوئی احسان کر دیا ہے… گھر سے بیزار، گھر والوں سے بیزار… نہ اپنی زندگی کی پرواہ، نہ دوسروں کی خوشیوں کا کوئی خیال… بس ایک جنوں کہ جو ہم چاہ رہے ہیں وہ اسی وقت ہو جاۓ… چلو اگر بالفرض ماں باپ آپکی تربیت نہیں کر سکے… آپ خود اپنی تربیت کر لو… خود کچھ پڑھ لکھ لو… دنیا کا کوئی نظام ہو، وہ تھالی میں رکھ کر تو آپ کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں نہیں دے گا… اچھے سے اچھا نظام خواہشات پوری کرنے کی ذمہ داری نہیں لیتا…
اور ایسے بیزار نوجوانوں کے لئے کوئی بہت بڑی قربانی دینے کا کیا فائدہ… انکی تو بس تربیت کریں، تعلیم دلوائیں اور پھر باہر نکالیں باہر اپنی خواہشات پوری کرنے کے لئے… ماں باپ نے کوئی ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا انکی ساری زندگی کے رزق کا… آگے سے جو بہو داماد آنا ہے وہ بھی اپنے دل میں لالچ ہی لے کر آتا ہے کیوں کہ ماشااللہ سب ہی ایک طرح کے بچے پال رہے ہیں… بیٹی، بیٹا، بہو، داماد، سب اپنے بارے میں سوچتے ہیں… دوسروں کی زندگی سے انکا کیا تعلق…
.
ایک بات نوٹس کی ہے؟  کوئی نوجوان گھر کو گھر سمجھنے پر راضی ہی نہیں… بس ایک مسافر خانہ ہے… صبح نکلے، دوپہر یا شام واپس آۓ، کھانا کھایا، باہر نکل گئے یا ٹی وی دیکھا، پھر چاۓ پانی کیا، سو گئے… چھٹی آئی تو تقریب، کسی کے گھر چلے گئے یا کوئی آ گیا… گھر میں کیا ہونا چاہیے کیا نہیں، گھر کی صفائی، چیزوں کی دیکھ بھال، گھر کی چیزوں سے لگاؤ، محبت… کچھ بھی نہیں رہا… کچھ لیا، توڑ دیا یا ٹوٹ گیا… کیا پکنا چاہیے، کیا پکانا چاہیے، کوئی دلچسپی نہیں، پسند آیا تو کھا لیا نہیں تو چھوڑ دیا، کچھ اور منگوا لیا… کوئی شوق، کوئی مشغلہ، جس کا گھر سے کوئی تعلق ہو… جب زیادہ وقت گھر سے باہر گذارنا ہو تو پھر گھر بنانے کا کیا فائدہ؟ جو بنا لے وہ بھی بیچ کر کہیں جانے کی کرتا ہے… 
.
نہیں میں طنز نہیں کر رہی… واقعی میں… گھر بنانے سے بہتر ہے کہ چاندی گھر بنا لیا جاۓ… کھانا گھر بنا لیا جاۓ… یہ دو تو خیر بنے ہوۓ ہیں…. پانی گھر بنا لیا جاۓ، کہانی گھر بنا لیا جاۓ… خالی گھر بنانے سے تو بہتر ہی ہے… بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ خیمے بنا لیں… بھئی ایک خیمہ، ایک فولڈنگ اسٹول، ایک بیگ میں چند ضروریات کی چیزیں… اور کیا چاہیے… ویسے بھی پاکستانی آھستہ آھستہ بے گھر ہو رہے ہیں…
.

Chandi Ghar Project, Karachi

One of the smallest home in the world.

.


About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: