“The Candle and The Poet” – شمع اور شاعر

Lahore Resolution was presented and passed by Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah, in a three-day session organized by All India Muslim League on 23rd March, 1940, at Munto Park, Lahore.

Later on, the resolution was called Pakistan Resolution.  Munto Park became Iqbal Park.  All India Muslim League got the name  Pakistan Muslim League.  As a memorial of that event, a tower named Minar-e-Pakistan was built at the place where the session was held.
Pakistan Resolution is based on the Two-Nation Theory (TNT), which in simple words can be defined as Muslims are a distinguished nation.
In fact, the idea behind Pakistan Resolution was to find the peaceful and logical solution of a century long dispute between Muslims and other nations in the Sub-Continent.  It wasn’t a complete vision but the part of which he mentioned in a poem “The Candle and The Poet” in February 1912.
.
Look into my breast for the secret of this fiery music
Look into heart’s mirror for destiny’s manifestation!
The sky will shine mirror-like with the morning’s light
And the night’s darkness will be speeding away!
The hearts will again recall the message of prostrations
The foreheads will become acquainted with the Harem’s dust
Whatever the eye is seeing cannot be described by the lips
I am lost in amazement as to what the world will become!
The night will eventually disappear by sun’s appearance!
This garden will be filled with the Light of Tawheed!
.
 It was the time when the World War I hadn’t started yet, the Ottoman Caliphate wasn’t abolished and no one had had the idea of a separate Muslim country in the Sub-Continent.  The Muslims, however, were struggling hard for their social, legal, economical and political rights.  So the vision he described in this poem was not for Pakistan but for the entire region and interprets few prophecies of Prophet Muhammad (pbuh) about global Islamic Caliphate.
It hasn’t come true yet.  God knows the strategy He would use to make it come true.
.
٢٣ مارچ ١٩٤٠ کو منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے میں قرار داد لاہور پیش کی گئی… پاکستان بننے کے بعد قرارداد لاہور کو قرارداد پاکستان کا نام دیا گیا… منٹو پارک کو علامہ اقبال پارک کہا جانے لگا… آل انڈیا مسلم لیگ، پاکستان مسلم لیگ بن گئی… اور جس جگہ یہ جلسہ ہوا تھا وہاں مینار پاکستان کے نام سے ایک عمارت تعمیر کر دی گئی… جو اس تاریخی واقعے کی یاد گار ہے…
قرار داد پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ ہے… صاف لفظوں میں مسلمان قوم کا کسی بھی دوسری قوم سے مختلف ہونا… اور اس مختلف ہونے کی تفصیل قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک انٹرویو میں بیان کر دی ہوئی ہے… 
.
راز اس آتش نوائی کا میرے سینے میں دیکھ
جلوۂ تقدیر میرے دل کے آئینے میں دیکھ
آسمان ہوگا سحرکے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جا ۓ گی
 پھر دلوں کو یاد آ جا ۓ گا پیغام سجود ہ 
پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جا ۓ گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جا ۓ گی 
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے 
یہ چمن مامور ہوگا نغمۂ توحید سے  
.
یہ شعر “شمع اور شاعر” کا حصّہ ہیں جو علامہ اقبال نے فروری ١٩١٢ میں لکھی… ١٩١٢ تک نہ پہلی جنگ عظیم ہوئی تھی، نہ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تھا، نہ مسلمانوں کی الگ ریاست کا خیال کسی کو آیا تھا… البتہ بر صغیر میں مسلمانوں کے سیاسی، معاشی، قانونی اور سماجی حقوق کی جنگ لڑی جارہی تھی… ان حالات میں یہ نظم پاکستان کے نہیں بلکہ بر صغیر کے بارے میں علامہ اقبال کی سوچ اور بصیرت کو ظاہر کرتی ہے… یہ نظم علامہ اقبال کا وہ وژن ہے جو رسول صلی الله علیہ وسلم کی اسلامی خلافت ارضی کی پیشنگوئی کی ترجمانی کرتا ہے اور اس پورے خطے کے بارے میں ہے اور ابھی تک پورا نہیں ہوا…
.
شاید جس طرح معاملہ چل رہا تھا انگریزوں کے ہوتے ہوۓ یہ پورا ہو بھی نہیں سکتا تھا… اسی لئے اس کا پہلا حصّہ ١٤ اگست ١٩٤٧ کو پاکستان کی صورت میں قائدا عظم کے ہاتھوں وجود میں آ چکا ہے… باقی کے لئے قدرت کی کیا حکمت عملی ہے، کتنے حصّوں میں ہوگا اور کس کس کے ہاتھوں اور کیا صورت ہوگی اس کی… یہ سب باتیں الله کو معلوم ہیں…
.

پہلی جنگ عظیم ٢٨ جولائی ١٩١٤ سے ١١ نومبر ١٩١٨ تک یعنی چار سال جاری رہی… جنگی فریقین دو حصّوں میں تقسیم ہو گئے… اتحادی افواج میں برطانیہ، فرانس، روس، اٹلی، جاپان، ہندوستان اور امریکہ تھے… انکے مقابل مرکزی طاقتیں تھیں جن میں جرمنی، آسٹریا-ہنگری، سلطنت عثمانیہ اور بلغاریہ شامل تھے… اس جنگ کا انجام یہ ہوا کہ اتحادی افواج جیت گئیں… کڑوڑوں انسانوں کی جانیں گئیں، زخمی ہوۓ، بے گھر، بے وطن ہوۓ… پرانی سلطنتیں اور بادشاہتیں ٹوٹ کر نئے ملک بنے یا فاتح افواج کی کالونیاں بن گئے…
.
پہلی جنگ عظیم کی جوبھی وجوہات تھیں، ان میں ایک یقینا سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے اس کے حصّے بخرے کر کے مسلمانوں کو ہر لحاظ سے برباد کرنا تھا… اور سلطنت عثمانیہ کو خلافت اسلامیہ کہنا غلط ہوگا کیونکہ دنیا کے بہت سے مسلمان علاقے تو ان میں شامل نہیں تھے… مغل بادشاہوں کا بھی ان سے کوئی تعلق نہیں تھا… البتہ عام مسلمان ضرور انکے لئے ہمدردی کے جذبات رکھتے تھے… جس اسلامی خلافت کی بنیاد رسول صلی الله علیہ وسلم نے پہلی سنہ ہجری میں مدینے میں ڈالی تھی وہ تو حضرت علی رضی الله عنہ کی شہادت کے ساتھ ختم ہو گئی تھی… اسے واپس لانے کے لئے تو حضرت امام حسین نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا… لہذا کربلا کے بعد ایک منظم فلاحی اور متحد اسلامی قوت کا تصور ختم ہونے لگا تھا… کچھ خلیفہ اور بادشاہ دینی مزاج کے ضرور آۓ لیکن وہ بھی کسی متحد قوت اور فلاحی اسلامی ریاست کی بنیاد نہ ڈال سکے… خلافت راشدہ والا انداز کسی کا نہیں تھا…
.
بحرحال مسلمانوں کے زوال کی جو بھی وجوہات تھیں… ٢٩ اکتوبر ١٩٢٣ میں ترکی قائم ہوا اور ٣ مارچ ١٩٢٤ کو ترکی کے صدر مصطفے کمال پاشا نے  باقاعدہ طور پر سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کا اعلان کیا… اس سلطنت میں ویسے ہی کچھ جان نہیں تھی… مغلیہ سلطنت زوال پزیر ہو چکی تھی… برصغیر کے مسلمان جو پہلے ہی ١٨٥٨/١٨٥٧ کے مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد جنگ و جدل اور انگریزوں اور ہندوؤں کے مظالم کا شکار تھے… تحریک خلافت میں بھی شامل ہو گئے… گویا سارے جہاں کا درد انہوں نے اپنے جگر میں سمو لیا تھا…
.
کبھی کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ نعرہ پاکستان یعنی “پاکستان کا مطلب کیا، لا الہٰ الا الله” کے وجود میں آنے اور برصغیر کے مسلمانوں میں ہندوستانی قومیت سے ہٹ کر ایک اسلامی پہچان پر زور دینے کے پیچھے کافی ہاتھ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کا بھی تھا… شاید بر صغیر کے مسلمان پاکستان کی شکل میں ایک طاقتور اسلامی ریاست ہی نہیں بلکہ اسلامی خلافت کی ایک جھلک بھی دیکھنا اور دنیا کو دکھانا چاہتے تھے… 
.
مسلمان غلامی پر رضامند رہ نہیں سکتے… اس لئے ایک آزاد اسلامی ملک شاید دنیا کے ہر مسلمان کی خواہش ہوگی… مسلم دنیا میں ١٩٢٤ کے بعد جو حالات ہو ۓ ہیں اور جو انقلابات آ ۓ ہیں چاہے جہادی، چاہے علمی… انکا نتیجہ عوامی بیداری کی صورت میں نکلا ہے… وہ عوام جو کربلا کے واقے کے وقت کہیں سو گئی تھی، جاگتی جا رہی ہے… سارے مسلم مملک کا تو نہیں پتہ… لیکن ترکی کی ہی مثال سامنے ہے جو ملک سیکیولرزم کی بنیاد پر قائم ہوا آج اسلامی شریعت پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے… اور یہ اس شریعت سے مختلف ہے جو سلطنت عثمانیہ کے وقت وہاں نافذ تھی… مصر، یمن، تیونس، لیبیا، بحرین میں بھی عوامی انقلاب بھی جنم لے چکے ہیں… اور کیا پاکستان میں جو کچھ ہو نے جا رہا ہے کیا مغلیہ سلطنت کے قوانین سے مختلف نہیں… اور جو کچھ مغربی طاقتیں اور اپنے غدار مل کرکر رہے ہیں اس سے یہ اندازہ نہیں ہو جاتا کہ یہ سب آخر کیوں اتنی محنت کر رہے ہیں، کس چیز کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں…     
.
خلافت ارضی کی باتیں بھی اس وقت ترکی، پاکستان اور چند اور ممالک میں زیادہ زور پر ہیں…  پاکستان میں یہ باتیں دینی لوگ ہی زیادہ کرتے ہیں… اس لئے انکو ہی پاکستان کے عوام کو اور دنیا کو یہ سمجھانا پڑے گا کہ نفاذ شریعت اور اسلامی خلافت ارضی کا مطلب کیا ہے… پاکستان کا اس میں کیا کردار ہے… سارے کے سارے پاکستان کو مطمئن کے بغیر اسلحے کے زور پر تو وہ یہ کام کر ہی نہیں سکتے…
وہ اسلامی خلافت ارضی جس کو ہر فرقے کے مولوی اپنے طریقے سے پاکستان میں نافذ کرنا چاہ رہے ہیں، کیا اسی طریقے سے دنیا پر نافذ کر پائیں گے؟
اور کیا اسلامی خلافت ارضی صرف مولویوں کی ذمہ داری ہے، جبکہ پاکستان کا کوئی مولوی اور عالم اس قابل نہیں لگتا کہ اسے بین الاقوامی تعلقات اور مسائل کی سمجھ ہو… یا کم از کم اسلامی ممالک سے ہی کوئی عوامی، لسانی، سماجی، معاشی روابط ہوں؟ کیونکہ خلافت ارضی کے لئے مختلف زبانیں بولنے والے مسلمانوں کو تو اکٹھا کرنا پڑے گا، کیا حکمت عملی ہوگی…. 
اپنے فرقے اور عقیدے کی حد تک ہی سہی… کیا انہوں نے کوئی مضبوط معاشی، فلاحی اور علمی نظم قائم کیا ہے جو خلافت راشدہ سے ملتا جلتا ہو… جب اتنے چھوٹے پیمانے پر نہیں کر سکے تو قومی اور بین الاقوامی سطح پر کیسے کریں گے؟
کیا پاکستان میں دینی لوگ شریعت کے نفاذ کے بعد ہر انسان کو برابری کی سطح پر بنیادی حقوق دے سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو پھر ابھی کیوں نہیں اس کا مظاھرہ کرتے؟ 
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: