Happy Pakistan Day – 23rd March

Today is 23rd Mach, The Pakistan Day.   Is this the day for government to announce a holiday and media to show their interest in it?  What is common man’s participation in celebrating it?

That is it.  Whatever has happened is past.  The youth should take over Pakistan now.  They are talented, they are energetic, they are powerful.  They can make mistakes and learn from them.  I bet they don’t want to listen to the failure stories of our politicians.  No more unnecessary discussion for them.  They would want to see their fellows making world records.  They should stand up against unnecessary rituals and traditions.  They should force government to listen to them.  They should demand for what they want.

.

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تونے؟

وہ کیا گردوں تھا ، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا؟

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں

کچل ڈالاتھا جس نے پاﺅں میں تاجِ سرِدارا

تمدن آ فریں ،خلّاقِ آ ئین ِ جہاں داری

وہ صحرائے عرب ، یعنی شتر بانوں کا گہوار ا

گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے

کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہونہیں سکتی

کہ تو گفتار ، وہ کردار تو ثابت ، وہ سیارہ 

گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی

نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارا

مگر وہ علم کے موتی ،کتابیں اپنے آبا کی

جودیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتاہے سیپارا

.
آج ٢٣ مارچ ٢٠١٢ ہے… یوم پاکستان… آج کے دن کی ایک عام پاکستانی کی زندگی میں کیا اہمیت ہے… شاید یہ کہ حکومت نے چھٹی کا اعلان کردیا ہے… اور میڈیا کی طرف سے شوروغوغا غل غپاڑہ مچایا جانا ہے کہ “قوم قومی جوش جذبے کے ساتھ یوم پاکستان منا رہی ہے”… لیکن یہ تو حکومت اور میڈیا کی آوازیں ہیں… عام پاکستانی کی آواز کیا ہے… 
.
کیا آج کے عام پاکستانی کے قومی جوش جذبے کا مقابلہ ٢٣ مارچ ١٩٤٠ کے جلسے میں موجود ایک عام ہندوستانی سے کیا جا سکتا ہے؟… کیا انکے نزدیک اقبال پارک کی اہمیت منٹو پارک سے زیادہ ہے؟… کیا وہ مینار پاکستان کی طرح قرارداد پاکستان کو بھی سر اٹھا کردیکھنے کے قابل سمجھتے ہیں؟…. 
١٩٤٠ کے ایک عام ہندوستانی آدمی، عورت یا طالب علم میں اتنی ہمت اورشعور تھا کہ اپنے لئے ایک الگ خطہ زمین کا مطالبہ کرے اور اسے قائم کر کے دکھا دے… کیا ٢٠١٢ کے کسی آدمی، عورت یا طالب علم میں اتنی جرات اور مردانگی ہے کہ اس خطہ زمین کا دفاع کرسکے… 
.
زبان کی طاقت سے، کہ بات کہہ لے یا نغمہ بن جاۓ 
الفاظ کی طاقت سے، کہ تقریر یا شاعری کر لے 
ہاتھ کی طاقت سے، کہ گریبان پکڑ لے 
ہتھیارکی طاقت سے، کہ رعب میں لا سکے 
قلم کی طاقت سے، کہ تحریرسے سمجھا ۓ  
علم کی طاقت سے، کہ دلیل سے راہ دکھا ۓ 
یا پھرایمان کی طاقت سے، کہ خدا کا پیغام اور رسول کا ترجمان بن جا ۓ 
.
پاکستان کو بننا چاہیے تھا کہ نہیں؟… یہ فیصلہ ١٤ اگست ١٩٤٠ کو ہو گیا تھا…
.
پاکستان کو اسلامی ریاست ہونا چاہیے کہ سیکیولر؟… یہ دلائل علامہ اقبال کے ١٩٣٠ کے خطبۂ الہ آباد میں اور قائد اعظم کے ١٩٤٠ کے خطبۂ صدارت میں دیے جا چکے ہیں… اور وہ بھی بڑی تفصیل کے ساتھ…
.
پاکستان میں لوگ گمراہ اور مجرمانہ ذہنیت کے کیوں ہیں اور اتنے مسائل اور مصیبتوں میں کیوں گھرے ہیں؟… اس کا جواب… سوره المائدہ کی آیت ٥١ میں ہے، “اور الله ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا”….. سوره الانعام کی آیت ٢١ میں ہے، “اور بے شک، ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے”….. سوره الانعام، آیت ٤٧، “اور کہو ان سے کہ تم دیکھتے نہیں کہ جب الله کا عذاب آتا ہے، اچانک یا علی الاعلان، تو کیا ہلاک کرتا ہے کسی کو ظالموں کے سوا؟”…….
.
پاکستان کا اب کیا ہوگا اور اس کو اب کون سنبھالے گا؟…. پاکستان میں ایک دو نہیں اٹھارہ کڑوڑ انسان بستے ہیں… ان میں کچھ نہیں کچھ نہیں تو ١٠ کڑوڑ بچے اور نو جوان تو ہیں ہی… یہ سب کے سب تو باہر جانے سے رہے… چند ہزار چلے بھی گئی تو باقی کہاں جائیں گے… بس وہی سنبھالیں گے بھی….
ایک بات تو طے ہے کہ پاکستان کے بہت سے بزرگ اپنی انا، خاندانی روایات، جذباتی بلیک میلنگ اوراپنی ذات کے سحر سے بھر نہیں نکلنے والے… جو ٥٠ سے اوپر ہیں اور “میں نہ مانوں” قسم کے ہیں، ان کو انکے حال پر چھوڑ دیا جا ۓ… 
.
پاکستان نوجوانوں کے حوالے کر دیا جاۓ… کامیاب نہیں بھی ہوۓ تو ناکامیوں کے مزے تو اڑالیں گے… ان کے دل میں یہ حسرت نہ ہو گی کہ کچھ بھی نہیں کیا… اچھا نہیں تو برا کر کے دکھادیں گے… بیٹھے تو نہیں رہیں گے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے… ظاہر ہے جس قسم کا خوفناک ماحول بزرگ پاکستانیوں نے پچھلے ٢٠، ٣٠ سالوں میں تخلیق کیا ہے… اس میں ان بچوں اور جوانوں نے کیا سیکھنا ہے… گھروں میں بزرگوں کا خوف، سڑکوں پر سیاسی غنڈوں کا…… لہذا غلطیاں بھی یہ خوفناک ہی کریں گے… کرنے دیں… خود ہی سیکھ لیں گے جینا…
اور نوجوانوں کو بس اتنا خیال ضرور کرنا ہو گا کہ پرانی رسم، رواج، روایات، دینی ہوں یا سماجی یا خاندانی، بری یا فالتو ہیں تو ان سے جان چھڑائیں… چاہے کتنا ہی کوئی برا مانے… بلا وجہ کے منفی محاورے اور کہاوتوں کو گفتگو سے باہر نکال دیں… 
١٠ کڑوڑ بچے چند نکمے سیاست دانوں کی ناکامیوں کی کہانیاں سن کر کیا سیکھیں گے… بچے بچوں سے اور نوجوان نو جوانوں سے سیکھتے ہیں…بڑوں کو تو انکی ہدایت کا کام کرنا چاہے… جب یہ گرنے لگیں تو سنبھال لیں…
.
ہاں اس نسل کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ….اپنی زبان، اپنی زمین، اپنی قوم …. انکے بغیر کتنی بھی بڑی کامیابی ہو، مقبول نہیں ہوتی، دنیا اسے مانتی ہی نہیں… دنیا میں بہت سے پاکستانی بڑے بڑے کارنامے انجام دے رہے ہیں لیکن دوسرے ملکوں کی شہریت کی وجہ پاکستانی انہیں نہیں جانتے… عبد القدیر خان، عبد الستار ایدھی، عمران خان، ارفع کریم،  شرمین چناۓ کو ساری دنیا پاکستان کے نام سے پہچانتی ہے… 
.
کاش نو جوانوں کو علامہ اقبال کی آہ سحر لگ جا ۓ… انکی نظر، انکا سوز جگر اور نور بصیرت مل جا ۓ….
.
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویران سے 
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی 
.
World Youth Scrabble Championship
.
.
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: