Sense of Deprivation – احساس محرومی – Part 2

In Pakistan, ‘sense of deprivation’ seems more like a political strategy than a moral deficit.  Politicians have brain washed people’s mind by using this term over and over in their speeches and statements.  They started with the soft-synonyms “poor, exploited and oppressed” few decades ago.  Their verbal scheme (i.e shouting and choice of words in repetition) has disabled people from thinking process. Over and over and over, things heard and seen become the part of personality.
.
Nation’s sense of deprivation – this strategy of disabling their own people also helps politicians to receive funds from other countries.  I wonder which countries are funding Pakistani government (Zardari and People’s Party) for Benazir Income Support Program, which is an evil planning to increase their bank balances and nothing else.  Nawaz Shareef, in power, despoiled his own people’s money under the title of “loan-free Pakistan”.  Now he is involved in looting millions by distributing laptops.
.
Why am I sure that this is a planning?  That is because I am one hundred one percent sure that our politicians (even educated) are unable to write their own speeches.  They hire people to write it for them or it is given to them written by some hidden hands.  Our politicians can think evil but they are zero in writing skills.
.
Is it only shortage of food, clothing, shelter, high status that causes this feeling of not having anything or missing a news from Bollywood develops this tension?
I haven’t seen anyone sighing for lacking proper education, good leadership, healthy environment, nature, playground, freedom.
With the basic thoughts all corrupted, how can people be trusted to support any revolutionary movement.  When they say it, they don’t mean it.  They just repeat it following the social trend around the world.

انکا زمانہ، انکی عدالت اور انھیں کی تعزیرات… انکا دوست زمانہ سارا، اپنی دوست خدا کی ذات…

پاکستان میں احساس محرومی ایک اخلاقی کمزوری سے زیادہ ایک سیاسی حکمت عملی اور دین کے نام پر ایک ہتھکنڈا لگتا ہے… 
کئی سال پہلے کا ذکر ہے کہ پاکستانی لیڈرز پاکستانی عوام سے خطاب کرتے وقت “غیور، محنت کش اوربہادر”  کے الفاظ استعمال کرتے تھے… پچھلے کئی سالوں میں تمام کے تمام سیاستدان ہر پلیٹ فارم پر پاکستانی عوام کی تعریف کے لئے “غریب، بےبس اور مظلوم” کے الفاظ استعمال کرتے ہیں کیونکہ غیر ملکوں سے لوٹ کھسوٹ کے لئے اسی طرح دولت ملتی ہے… بینظیر کے نام، ذات، عزت اور لاش… سب بیچ کھائی پیپلز پارٹی نے بینظر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر… نواز شریف نے تو قرضہ اتارنے کے نام پر اپنے ہی پاکستانیوں کی جیبیں کاٹ لیں… اوراب لیپ ٹاپ کے فیض عام پر کروڑوں کا غبن…
خود ہی قوم کی مسیحائی کا دعوی لے کر کھڑے ہوتے رہے اور مسلسل قوم کی برین واشنگ کرتے رہے بار بار “غریب، بےبس اور مجبور” کہہ کہہ کر… نتیجہ یہ کہ عوام نے سوچنا ہی چھوڑ دیا کہ وہ کچھ سوچ بھی سکتے ہیں… اور چند مہینوں سے پے در پے “احساس محرومی” کا لفظ استعمال کر کر کے انکی بچی کچھی صلاحیتیں بھی ختم کرنے اور وہیں ذہنی طور پر پیرالا ئز کرنے کی حکمت عملی پر عمل ہو رہا ہے…
مجھے اس بات کا یقین… کہ یہ حکمت عملی ہے، اتفاق نہیں… اس لئے ہورہا ہے کہ ہمارے ہاں سیاست میں کوئی اس قابل نہیں کہ خود اپنی تقریریں لکھ سکے… ظاہر ہے یہ سب کسی سے لکھواتے ہیں… اور جس سے یہ لکھوائیں، وہ انکا چمچہ تو ہو سکتا ہے، اس ملک کا خیر خواہ نہیں… اس کا دماغ کسی اور کے ہی زیر اثر ہوتا ہے… تو تقریرکا متن باقاعدہ سوچ سمجھ کر لکھ کر دیا جاتا ہے… ذرا ان سب کی تقریریں جمع کریں، انکی ٹائم لائن بنیں اور موازنہ کریں… خود ہی بھید کھل جائے گا… 
.
یہ تو ہو گئی سیاستدانوں کی بات… اب دیکھیں کہ عوام کا کیا رویہ ہے… اور عوام سے کسی بھی قسم کے انقلاب کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے…
کبھی عوام سے پوچھیں کہ انکے نزدیک “احساس محرومی” کی کیا تعریف ہے… اور وہ کس محرومیوں کا شکار ہیں… 
احساس محرومی روٹی، کپڑا، مکان، کا نہ ہونا ہے؟ احساس محرومی کا تعلق گھرکے دو سو، چار سو، ہزار گز ہونے سے ہے؟ کیا فیشن سے دوری احساس محرومی کو جنم دیتی ہے؟  کیا کسی دن بالی ووڈ کی خبر مس کردینا بھی احساس محرومی کی ایک شکل ہے؟…
کیا کبھی عوام نے میں سے کسی نے یہ کہا کہ اچھی تعلیم کے نہ ہونے سے ہمیں احساس محرومی ہورہا ہے… اچھی لیڈر شپ نہ ہونے کی وجہ سے ہم دنیا میں احساس کمتری کا شکار ہیں… ہمیں قرآن سے دوری جینے نہیں دے رہی اور ہم احساس محرومی سے مرے چلے جا رہے ہیں، حلق سے نوالہ نہیں اتررہا… صاف ستھرا اور صحتمند ماحول نہ ہونے کی وجہ سے ہم خود کو محرومین سا محسوس کرتے ہیں… ہمارے احساس محرومی کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں رنگ برنگے پرندوں کی چہچہاہٹ نہیں سنائی دیتی؟؟؟
.
کسی بھی شخص کو… جو لالچ، بےغیرتی اور کم ظرفی سے پاک ہو… پاکستانیوں کا لیڈر بننے سے پہلے عوام کا رویہ ضرور دیکھ لینا اور سوچ ضرور پڑھ لینی چاہیے… کیونکہ انکی سوچ وہی ایجنڈا ہیں جو انکے ذہنوں میں ٹھونس ٹھونس کر بٹھا دے گئے ہیں اور ہمارے شوبز کے لوگوں نے اس معاملے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے…. اس لئے ہمارے سیاستدانوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ عوام کو کس طرح ڈیل کرنا ہے…
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: