Sense of Deprivation – احساس محرومی – Part 1

What urged me to write on this topic is the statement of a politician, “the sense of deprivation in people is causing the demand for new provinces”.  What I say, it is not ‘new provinces’ we are going to make but we are dividing the provinces with many cities into many small size provinces.  Who knows in future, further sense of deprivation would cause further division of citi-sized provinces into town-size and then neighbourhood-size provinces.  I think they were called tribes.  So we will become a tribal society.

.

Deprivation generally means missing some or more necessities of life, lacking physical abilities or mental powers, losing possessions or will to do something, etc.
.
People say that the increase in crime rate is due to deprivation.  According to psychologists, the feeling of deprivation can force people to jealousy, murder, depression and suicide.

What has come into observance, the practical meaning of word ‘deprivation’ in my country is to choose or create a reason or reasons to develop ‘sense of deprivation’, mostly to seek favours or win sympathies from others.  The strong stimuli behind this self-conspiracy is the fear of taking responsibility of actions and decisions.  Everybody wants to stand up proudly saying, “yeah, I know I am a sinful person, but at least I didn’t do this and that……(a long list of good intentions never practiced in real).”  People are in a greed of having everything while losing nothing.  This is an unnatural and evil behaviour.  They never get to realize that they keep losing everything and while getting nothing at the end but regrets and feelings of deprivation.   I hope I made my point clear to myself.  Thank You Lord!
.
As Pakistani society has divided itself into many occupational, status-based, age-wise and religious communities………such as youth, elders, politicians, show-biz, doctors, teachers, nurses, lawyers, journalists, farmers or Defense Area, Cant. Area, Gulshan Area, North Nazimabad Area, Gulberg Area, Model Town Area, Laloo-Khait, Surjani Town, Malir Town, Saudabad, Khokrapaar or Agha Khani Community, Khoja Community, Hindu Community, Christian Community, Memon Community, Dehli-Sodagraan Community, Saadaat Amroha Community, Rizvia Society, etc. (such division among Muslims except for administerial purpose is a kufr)………….. they all have developed their own “sense of deprivation”.
Religious people feel deprived when lose their donors and find themselves helpless for earning by physical work.
Politicians, when don’t get votes, go furious due to depression and go to any extent in revenge from both opposition and people.
Show-biz tycoons indulge into the lust of deprivation when don’t get awards and appreciation or lose fans.
Women are the most deprived part of our society as they are never satisfied with what they have and keep exploiting the term “women’s rights”.
Women love to live alive in a continuous state of depression related to their bodily shape, facial attraction and fashion.
Students convince themselves that they can’t study because of lacking facilities and good educational system.
Elders waste their old age in pushing their children into guilt by reminding the favours they had done to them and for not getting the same return.
Under-privileged think they have all the rights to become a crime-activist and prostitutes as the result of people’s negligence and as the system demands them to be.  The most famous dialogue preached by dramas and movies is, “what has society given to us? now its time to take revenge from society”.

;

قسم سے کہہ رہی ہوں اس ملک کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی، ہر کوئی، ہر شعبے کا ہر شخص، ہر گھر میں بیٹھا ہوا ہر شخص، اپنی کمیونٹی کی ایک برائی سننے کو تیار نہیں، الٹا اپنے اپنے کنوؤں کے مینڈکوں کے ہر الٹے سیدھے کام کا دفاع کرتے ہیں… ہر ایسی تنقید کو جس سے انکے دل کا چور سامنے آجاۓ  اور انکی تہذیب، روشن خیالی اور ملک و قوم کی خدمت کا پول کھل جاۓ… کہتے ہیں کہ یہ فالتو باتیں ہیں… کام کی باتوں پر توجہ دیں… مطلب کے جو انکے مطابق کام کی بات ہو وہ اہم ہے اور وہی سب کو کرنی چاہیے… واہ! کیا آزادی راۓ اور جمہوریت ہے… مطلب یہ کہ زبان تمہاری، الفاظ ہمارے… ہم تو جیسے پاگل ہیں…
.
اور جب زرداری، الطاف حسین، نواز شریف اور دوسرے سیاسی شیطانوں پر لعنت بھیجی جا سکتی ہے… تو پھر شوبز کے لوگ اور کھلاڑی کس کھیت کی مولی ہیں اور کیوں معصومیت کے ڈھونگ میں انہیں بخشا جاۓ… ارے غلط باتیں ہیں، الزامات ہیں تو دفاع کرو، سچ بتادو سب کو… ورنہ اعتراف کرو…
اور میں ٹھری دل جلی، پاگل، جاہل، خود سر، بد تہذیب اور بدتمیز… ایسی ہی باتیں کرتی رہوں گی جب تک دل چاہے گا… کیسی باتیں.. ایسی… کہ میرے لحاظ سے ملک کے تمام شعبوں کے لوگ برابر کے حساس، منحت کش، سچے، معصوم، ایماندار ہیں… اور سب کا حکومت کے مال پر برابر کا حق ہے… ہر شہری چاہے جس فیلڈ کا ہو برابر ہے… ورنہ سب شیطان یا سب غافل یا سب پاگل اور جاہل…
.
آج بات کرنی ہے میں نے “احساس محرومی” کی…
.
آج تک تو مہنگائی، غربت، جہالت اور دہشتگردی کو سسٹم کی ناکامی کی جڑ بتایا جاتا تھا… آج ایک نیا بیان سنا ایک سیاستدان کا کہ احساس محرومی کی وجہ سے نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے… کوئی کہ رہا ہے کہ احساس محرومی کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے… یہ تو کہا ہی جاتا ہے کہ احساس محرومی کے وجہ سے ڈپریشن ہوتا ہے… لوگ خود کشی تک کر لیتے ہیں…دوسروں سے حسد کرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کو قتل کر دیتے ہیں…
.
احساس تو سمجھ آ گیا… یہ محرومی کیا ہے… اگر محرومی چیزوں کے نہ ہونے کو کہتے ہیں تو اس لحاظ سے تو پاکستان کا ہر شخص خود کو محروم سمجھتا ہے… سب کے اپنے اپنے احساس محرومیوں کے معیار ہیں…
سیاستدانوں کو ووٹ نہ ملیں، مخالف جیت جائیں تو انھیں احساس محرومی ہو جاتا ہے…
دینی لوگوں کو چندہ نہ ملے تو وہ محرومین میں شامل کرلیتے ہیں اپنے آپ کو…
شوبز کے لوگوں کو ایوارڈ نہ ملے، ہزار بارہ سو لوگ تعریف نہ کریں تب تک وہ احساس محرومی کا شکار رہتے ہیں…
خواتین کو انکے من چاہے حقوق نہ ملیں تو انکی محرومی کا احساس انھیں کچھ کرنے نہیں دیتا…
طلبہ طالبات کو سہولتیں نہ ملیں تو احساس محرومی کی وجہ سے پڑھنے سے انکار کر دیتے ہیں…
بزرگوں کی بات نہ مانی جاۓ اور انکو انکے مزاج کے مطابق عزت نہ دی جاۓ تو وہ احساس محرومی سے ہر وقت چڑچڑے ہی بنے رہتے ہیں…
کھلاڑیوں کو موقع نہ ملتا رہے جب تک کہ وہ کبھی نہ کبھی کامیاب ہوکر دکھا دیں، انکا احساس محرومی ختم نہیں ہوتا…
غریب کا احساس محرومی کہ اسکے پاس کچھ بھی نہیں ہے، اسکو ہر قسم کے جرائم پر مجبور کر دیتا ہے…
.
اور ایک نئی بات بھی سامنے آئی کہ اگر کسی کی اصلاح بھی کرو تو اس کو بھی خواہ مخواہ احساس محرومی ہونے لگتا ہے کہ ہاۓ میرا دل توڑ دیا…
.
اگر محرومی معاشرے میں کوئی مقام نہ ہونے نہ پہچانے جانے کو کہتے ہیں کہ آتے جاتے ہر کوئی سلام کوئی کیوں نہیں کرتا… تو پھر یہ خالص شوبز کا ڈپریشن ہے… اور ان لوگوں کا جن کی نظر میں عزت ہوتی ہی وہ ہے جو دوسروں کے تعریف کرنے سے بنے… اسی لئے ہمارے معاشرے کی اکثریت اور خاص کر نوجوان ہر قسم کا کام ہر حد تک کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں… کہ بس لوگ آگے پیچھے بھاگیں، ٹوٹ پڑیں آٹو گراف لینے کے لئے…
.
پچھلے کئی سالوں میں جو نظر آیا پریشان اور بے سکون نظر آیا… جس سے پوچھو کہ کیسے حال ہیں وہ مہنگائی کا رونا رونے لگتا ہے… بیماریوں کی تفصیل بتانا شروع کر دیتا ہے… تھکاوٹ، وقت کی کمی، مایوسی، بیزاری… پہلے تو کچھ دوسروں کے معاملات کی کھوج کرتے تھے لیکن اب تو ایک بھاگ دوڑ سی مچی ہوئی ہے… اور اسکے ساتھ ہی ذرا نظر ڈالیں شاپنگ سینٹرز پر، فاسٹ فوڈ کی دکانوں پر، بوتیک پر، شادی ہالز پر، دن بدن سڑکوں پر بڑھتی ہوئی نئی نئی گاڑیوں پر، مختلف مقاصد کے لئے نکلنے والی ریلیوں پر جن میں اکثر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز گلی گلی پھرائی جاتی ہیں… ایک ایک گلی میں چار چار مہنگے اسکولوں پر… آۓ دن ہونے والی شادیاں اور ہر سال پیدا ہونے والے بچے…
.
یہ سب دیکھ کر صرف ایک احساس ہوتا ہے مجھے اور وہ یہ کہ اس قوم کو سب کچھ دے کرجن چیزوں  سے محروم کر دیا گیا ہے اور وہ ہے “سکون، آرام، چین، شکرگذاری، احسان مندی”…
.
احساس محرومی میں غلطی کس کی ہوتی ہے… انکی جو دوسروں کو اپنے سے کم تر جان کر انکو انکی محرومیوں کا احساس دلاتے ہیں… یا انکی جو خود کو احساس محرومی میں مبتلا کر لیتے ہیں…
عوامی سطح پر تو خیر جو اخلاق ہے ہماری ٩٥% عوام کا… عام لوگ اپنے سے نیچے والوں کو حقیر کرتے ہیں اور اپنے سے اوپر والوں سے حقیر ہو جاتے ہیں… لیکن اس میں ایک بہت بڑا اور برا کردار ہمارے سیاسی شیطانوں اور دینی تماشہ بازوں کا بھی ہے… جب اپنے ہی ووٹرز کو روٹی، کپڑا، مکان جیسی بنیادی ضروریات کو زندگی کا مقصد بنا کر پیش کیا جاۓ تاکہ لوگ اپنی چار پانچ فٹ کی ذات اور چند انچ کے پیٹ سے آگے کبھی کچھ سوچ ہی نہ سکے… ایک سے لے کر ہزار کپڑے، میچنگ جوتے، زیورات، صرف اور صرف کھانوں کی انٹرٹینمنٹ اور کھانوں کی پکنک اور پھر زمینوں کے گز بڑھانے کی کوشش…
اور پھر کوئی اور آجاۓ جاہل عوام کو اختیارات کے خواب دکھا نے… یا پھر غیر ملکی ثقافت اور رسموں اور رواجوں کے آئینے میں سکون اور خوشیوں کو تلاش کرنے کی تھیراپیز کرائی جاتی ہیں… دینی جماعتیں اور مذہبی علماء اکثر دنیا کی ہوس نہ کرنے اور دنیا کی آسائشیں چھوڑ دینے کو پریشانیوں سے نجات اور سکون باعث بتاتے ہیں…
.
خیر جو بھی ہے، ایک سوال یہ ضرور پوچھنا چاہیے سب کو خود سے کہ ہمیں کوئی احساس محرومی ہے کہ نہیں؟ اور ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اور کہیں یہ صرف ناشکری کا نتیجہ تو نہیں… کیونکہ الله ظالم تو نہیں کہ اٹھارہ کروڑ کے اٹھارہ کروڑ کو سزا یا آزمائش میں مبتلا کر دے…
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: