Prophet Muhammad (pbuh) and Deprivation

‘Mehroomeen’ is the Arabic word used in Qur’an for ‘those who are deprived’.  
“those in whose wealth, there is a known right for petitioner and deprived”… Surah Al-Ma’arij
.
Both petitioners and deprived lack all basic necessities of life.  Petitioners but feel no shame in asking help from people around.  The ‘mehroomeen’ hesitate because they don’t want the world to know about their miserable plight.
.
Now Prophet Muhammad (pbuh) and his companions also suffered the extreme shortage of food, clothes, shelter and power/status.  They never begged, never complained about their inadequacy.  At the same time, they never felt ashamed of their poverty.  people of Makkah and Madinah witnessed them living like an ordinary people, mending their clothes and shoes, laboring for their families, digging trenches, carrying loads.
They mission of life was quite different from what we have now “food, clothes, shelter and high status”.
.
Prophet Muhammad (pbuh) was born an orphan.  He lost his mother at the age of 6, grandfather at the age of 10.  His beloved uncle Abu-Talib and wife Khadijah died when he was facing a severe boycott from his people.  He suffered hunger, thirst and threats.  He was planned to be murdered by Makkans and he had to migrate from his birthplace.  His sons died at infancy.  Once he had to spend a month in Masjid An-Nabwi in protest to his wives.  He fought battles.  He lead a group of people and turned them into a nation.  The Prophet (pbuh)’s life style teaches us that the real deprivation is not lacking basic needs.
.
The real deprivation is the disappointment in the mercy of Allah Almighty and in His authority over all provisions.  The worst feeling of deprivation occurs when a person becomes neglectful even his/her own goodness. 
“Say (Allah says)! O my slaves! who have transgressed against themselves (by sins)! Despair not of the Mercy of Allah…verily, Allah forgives all sins.  Truly, He is Oft-Forgiving, Most Merciful.  And turn in repentance and in obedience with true Faith to to your Lord and submit to Him, before the torment comes upon you, then you will not be helped”… Surah Az-Zumr

“and enjoin prayer on your family and strictly adhere to it, and We do not ask for provision from you, (rather) We provide for you.  And it is fearing God that brings about best results”… Surah Ta-Ha
“and do not follow him whose heart We have made neglectful of Our remembrance – the one who has followed his own desires and his matter has crossed the limits”… Surah Al-Khaf/The Cave
“and be you not like those who forgot Allah; (in return) He made them forget themselves (their own souls)! such are the rebellious transgressors!”… Surah Al-Hasr
 
 
.
میں تو کہتی ہوں کہ “مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے… وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے”…
زندگی تو نام ہی محرومیوں کا ہے… زندگی کی ایک کمی کو دوسری زیادتی سے کیسے پورا کرتے ہیں اور وہ بھی کسی کے ساتھ زیادتی کے بغیر… یہ کمال ہے انسانیت کا اگر کوئی کر کے دکھا دے… 
لہٰذا کوئی کچھ بھی کہے، کتنا ہی تذلیل کرے، کتنے ہی طعنے دے، وقتی صدمہ اور ذلت کا احساس تو ہونا لازمی اور فطری عمل ہے لیکن وہ ایک مستقل احساس محرومی بن کرزندگی کے ساتھ نہیں چل سکتا… کیونکہ یہ بات تو خود ہی ہتھیار ڈالنے، خود ہی اپنے آپ کو دنیا کے لئے مشق ستم بنانے کے لئے پیش کرنا… تواگر انسان خود مطمئن ہے، خود اپنے آپ کو جوابدہی کے لئے تیار رکھے، اپنا دفاع کرنا جانتا ہے… اس کو بھلا کون احساس محرومی میں مبتلا کر سکتا ہے…
اورامیر امراء کی تو عادت ہوتی ہے… دولت اور اختیارات کی زیادتی انھیں انسانیت سے کافی دور کردیتی ہے… اور یہ رویہ جب سے دنیا بنی ہے تب سے ہے اور قیامت تک رہے گی… کوئی نئی بات نہیں… لیکن اصل تغیر اور انقلاب آتا ہے غرباء کے رد عمل سے… 
“اور وہ جن کے مالوں میں مقررہ حق ہے مانگنے والوں اور محرومین کے لئے”… سوره المعارج 
اسلام میں محرومین یقینا انہی لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس روٹی، کپڑے، مکان، اختیارات کی حد درجے کمی ہو… انکا حق ہے مسلمانوں کی کمائی میں… جیسے کہ مانگنے والوں کا… بات سمجھ آئی کہ نہیں… محرومین اورسائلوں کے حالات ایک جیسے ہوتے ہیں… لیکن محرومین مانگتے نہیں ہیں…  ان میں احساس محرومی ہوتا ہے اسی لئے انکی محرومین کہ گیا… کیونکہ جس میں احساس محرومی نہیں وہ تو ہاتھ پھیلا نے میں شرم محسوس نہیں کرے گا… لہٰذا محرومین ہاتھ  تو نہیں پھیلاتے لیکن ساتھ ہی اتنے با اعتماد بھی نہیں ہوتے کہ اپنی حالت لوگوں پر ظاہر کریں… اور جو اپنی حالت پر شرمندگی کی وجہ سے خاموش ہو وہ معاشرتی، سماجی اور قومی مسائل میں بھی پیچھے رہتا ہے… آواز اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی اس میں… کسی کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا وہ….
.
روٹی، کپڑے، مکان اور اختیارات کی کمی تو رسول صلی الله علیہ وسلم اور انکے صحابہ کے پاس بھی تھی بلکہ ان میں سے بہت سے تو زندگی کے آخری سانس تک اس کمی کو پورا نہ کرسکے… تو کیا رسول صلی الله علیہ وسلم اور انکے صحابہ محرومین کہلاۓ؟…. اور مکہ کے سرداروں، امیر امراء نے انکو احساس محرومی میں مبتلاکرنے کی کوشش بھی کی… کیا وہ کامیاب ہو ۓ؟… کیا وہ اپنے فاقے، اپنی غربت، اپنی خستہ حالت لوگوں سے چھپاتے تھے؟… کیا لوگوں نے انھیں باسی روٹی پانی سے کھاتے نہیں دیکھا؟… کیا رسول صلی الله علیہ وسلم اور انکے صحابہ کے کپڑوں پر پیوند نہیں دیکھے گئے؟… کیا مکے مدینے کے عوام انکی محنت مزدوری کرنے، بوجھ اٹھانے، خندقیں کھودنے، بکریاں چرانے کے گواہ نہیں؟…. 
یہ سب روٹی، کپڑے، مکان اور اختیارات کے نہ ہونے کے باوجود نہ صرف محرومین بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کے حق میں رحمت بن کر، عدل بن کر، رہنما بن کر کھڑے ہوۓ… کسی کی ملامت انھیں پریشان نہیں کرتی…
.
محرومین کی زندگی کا مقصد تو روٹی، کپڑا، مکان اور اختیارات ہو سکتا ہے… انقلاب لانے والوں کا نہیں… 
محرومین قابل رحم اور قابل عزت ہوتے ہیں… لیکن ان میں اور انقلاب لانے والوں میں بہت فرق ہوتا ہے…
 .
اور محرومی کس بات کی… جانتے ہیں ایک مسلمان کے لئے بڑی بڑی محرومیاں کیا ہوتی ہیں؟
١) سب سے بڑی محرومی اس کائنات کی یہ ہے کہ انسان الله تبارک و تعالی کی رحمت  سے مایوس ہوجاۓ … سوره الزمر میں رب العالمین کا ارشاد ہے…
“کہہ دو! (الله فرماتا ہے) اے میرے بندوں! جنہوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، مایوس نہ ہونا الله کی رحمت سے… بلا شبہ معاف کردیتا ہے سارے گناہ… یقینا وہ تو ہے ہی معاف فرمانے والا، مہربان… اور پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور فرمانبردار بن جاؤ اس کے، اس سے پہلے کہ آ جاۓ تم پر عذاب… پھر نہ مدد مل سکے تمہیں کہیں سے بھی…”
٢) جب انسان رزق کے معاملے میں خدا سے مایوس ہو جاۓ، وہ محرومی ہوتی ہے… 
وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں… جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کف جو…علامہ اقبال 
“اور حکم دو اپنے گھر والوں کو نماز کا اور پابند رہو خود بھی… نہیں مانگتے ہم تم سے رزق، ہم تو رزق دیتے ہیں تمہیں… اور انجام کی بھلائی تقوی سے ہے”…. سوره طہ….
٣) محرومی کی ایک اور بدترین صورت وہ ہے جب انسان خود سے غافل ہو جاۓ… اسے یہی نہ معلوم ہو کہ اس کی بھلائی کس میں ہے…
“اور تو اس شخص کی اطاعت نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے, اورہو لیا پیچھے وہ اپنی خواہشات کے اور حد سے بڑھ گیا”… سوره الکھف 
“اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو الله کو بھلا بیٹھے، پھر الله نے ان کی جانوں کو ہی ان سے بھلا دیا (وہ اپنی بھلائی ہی بھول گئے) اور یہی ہیں فاسق log… سوره الحشر 
.
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: