Minor Issues – چھوٹی چھوٹی ارادی غفلتیں

…  بڑی ہی عجیب سی بات ہے ملک بدترین حالات میں اور ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ وہ صحیح ہے 

تقریبا ہر کسی کی زبان سے ایک جملہ نکلتا ہے… “دیکھیں یہ تو چھوٹی سی بات ہے، ہمیں اصل ایشوز پر توجہ دینی چاہیے”… لیکن آخر جنھیں اصل ایشوز کہا جاتا ہے وہ ہیں کیا؟… 
جملہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن یہ جملہ کب کہا جاتا ہے… عموما جب کسی مرد یا عورت سے بات کرتے ہوۓ کوئی ایسا اعتراض سامنے آ جاۓ جسکا تعلق انکی ذات سے بھی ہو… چھوٹی چھوٹی غفلتوں کو جان بوجھ کر جسٹفاۓ کرنا بھی ایک فیشن بن گیا ہے… مثالیں بہت مل جائیں گی…
اگر بات کرتے کرتے یہ مسلہ آجاۓ کہ……
.
١) تعلیم اور نظام اردو زبان میں چلایا جاۓ یا انگلش میں… تو جواب ملتا ہے “دیکھیں زبان سے کچھ نہیں ہوتا، اب دنیا میں ترقی کے لئے انگلش ضروری ہے، اور اردو میں کونسا ریسرچ کرنی ہے… زبان کوئی بھی ہو بس ہم ترقی کریں، اچھی قوم بنیں کیونکہ اصل مسلہ ہماری پسماندگی ہے… وغیرہ”
.
٢) آج کل گھروں میں، ٹی وی پر، اسکولوں میں اردو کے الفاظ کا تلفظ بگاڑ کر استعمال کیا جاتا ہے… لائف بواۓ کول فریش صابن کے کمرشل میں ایک جاہل خاتون خود کو معصوم ظاہر کرتے ہوۓ لفظ خارش کو کھارش کہتی ہیں… ٹیچرز، بچے، ماڈرن بننے کی کوشش کرنے والی خواتین، اپنا لاڈلا پن ظاہر کرنے والی خواتین، اداکارائیں وغیرہ… حتی کہ بڑے بڑے عوام کے چہیتے نفسیاتی ڈاکٹر تک ہیلتھہ  ٹی وی چینلز پر غلط تلفظ سے اردو بولتے ہیں، اردو کے رول ماڈل بننا چاہتے ہوں گے… یہ بیماری خواتین میں زیادہ ہے…
چھوٹی سی بات ہے نہ، شاید بے چارے لوگوں کے بڑے بڑے مسلے حل کرنے والے اپنی ہی ذات کی اس کمی کو پورا کرنے کے قابل نہیں … 
بڑے فخر سے خیال کو کھیال، آخری کو آ کھری، خود کو کھد، غلطی کو گلتی، پیغام کو پیگام، نغنہ کو نگما، غلام کو گلام، قیمہ کو کیمہ، قیامت کو کیامت، اقبال کو اکبال، اور خ غ  ق کے سارے الفاظ کو بگاڑ بگاڑ کر بولتے ہیں… تو جواب آتا ہے “یہ چھوٹی سی بات ہے، ظاہر ہے آج کل کا ماحول ہے، لیکن ہمیں مل کر ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرنا چاہیے، اصل مسلہ ہے کہ جہالت ختم کریں، بلا بلا…”…
.
٣) پان کھا کر یا بغیر پان کھاۓ جگہ جگہ تھوکنا بری بات ہے…. “دیکھیں یہ تو چھوٹی سی بات ہے، اصل تو یہ جو کوڑے کے بڑے بڑے ڈھیر جا بجا پڑے ہوۓ انھیں حکومت ہٹاۓ ان سے بیماریاں پھیلتی ہیں”…
.
٤) اسکول کالج چند گھنٹوں کے لئے علم حاصل کرنے کی جگہ ہیں، یہاں گانے بجانے ناچنے کی تربیت نہیں دینی چاہیے اس کے لئے بہت ادارے، ٹی وی چینلز، اسٹیج کافی ہیں… “دیکھیں یہ چھوٹی سی بات ہے ناچنے گانے سے کچھ نہیں ہوتا، یہ تو بچوں کے لئے ضروری ہے، بس نظام تعلیم ٹھیک ہونا چاہیے، اس پر ہم توجہ نہیں دیتے”…
.
٥) ٹی وی پر یا پبلک میں مرد اور خواتین اپنے لباس کا خیال رکھیں… “کیا پہنا، کیسے لگ رہے ہیں، یہ سب کی ذاتی پسند نا پسند کا معاملہ ہے… اصل چیز ہے کہ انسان کسی کا دل نہ دکھاۓ، کسی کو تکلیف نہ دے، اچھے کام کرے”…
.
٦) فلاحی نظام عوام کی نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے یا عوام میں ہو تب بھی توایک مرکزی نظام کے تحت ہو، یہ چھوٹے چھوٹے ادارے کھول کر جو وسائل کو ضائع کیا جاتا ہے یہ نہ ہو … “لوگوں کی مرضی ہے، انکے پیسے وہ کسی کو بھی دیں یا خود کوئی ادارہ کھولیں کوئی پابندی تو نہیں”… 
.
٧) پرہیزعلاج سے بڑھ کر ہے، اس لئے ہسپتال کھولنے کے بجاۓ ماحول کو صحتمند بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، مریض اور مرض خود بخود کم ہو جائیں گے… “لیکن دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تو صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جاتا ہے، وہاں بھی ہسپتال ہیں، یہ سب الله کی طرف سے ہوتا ہے”… 
.
٩) شراب پر پابندی ہونی چاہیے… “دیکھیں شراب کا ایک تو کوئی واضح حکم قرآن میں موجود نہیں… دوسرے ترقی یافتہ قومیں اگر ان چکّروں میں پڑتی تو آج اتنی خوشحال نہ ہوتیں”…
.
١٠) سارے گھر والوں کو چاہیے کہ جب انکے مرد گھر سے نکلیں تو انھیں احساس دلادیں کہ باہرنکلنے والی خواتین کسی گھر کی عزت ہیں، انکے لئے شیطان کا روپ دھرنے کے بجاۓ انھیں بھی عزت سے دیکھنا… “لڑکی یا عورت کو خود ہی ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے، مردوں کی عادتیں تو ایسی ہی ہوتی ہیں”…
.
١١) ہندوستانی میڈیا کا بوائیکاٹ کریں، انکے چینلز بند کریں، تین تین چار چار سال کے بچوں کے ذہن اور روح آلودہ ہوتی ہے، خواتین کی بے حرمتی اور انھیں کس نظر سے دیکھنا چاہیے وہیں سے سیکھتے ہیں لڑکے… “یہ کیا بات ہوئی، ہم بھی تو ہندستانی فلمیں دیکھ دیکھ کر بڑے ہوۓ ہیں، ہمارے کردار اور تہذیب پر تو کوئی فرق نہیں پڑا اور ہمارے گھر کے مرد بھی صحیح ہیں، اصل چیز ہے کہ تعلیم کا نظم اچھا ہو”…
.
اب ذرا ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو ذرا ایک ساتھ جمع کریں… 
قومی زبان قوم کی علامت نہیں، ضروری وہ زبان ہے جس سے دولت کمی جاۓ …
قومی زبان کو بگاڑ کر بولنا آئین میں لکھا ہے قومی جرم نہیں ہے… زبان نہیں دل دیکھیں… حالانکہ دلوں کا
حال صرف الله جانتا ہے… ہمیں تو زبان ہی دی ہے پہچان کے لئے…
جگہ جگہ تھوکنے کا تعلق تہذیب سے نہیں ہے… کسی آئینے میں اپنا منہ دیکھ کر اس پر بھی تھوک لیں نہ…
اسکولوں کالجوں میں گانا ناچنا تعلیمی نظام کا حصّہ ہے… تو پھر اور کونسی چیز علم سے دوری کا سبب ہے؟
کسی بھی قسم کا لباس اورحلیہ پبلک میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا… حلیہ حلیہ ہوتا ہے گندا ہو یا ننگا…
لوگوں کے دس، پچاس، سو، ہزار ذاتی مال ہوتے ہوۓ بھی قومی دولت کا حصّہ ہوتے ہیں، اسے ضائع کرنا ذاتی پسند ہے… 
ماحولیات ایک غیر ضروری بحث ہے… خوبصورتی اور صفائی جیسی اعلی صفات سے اس قوم کا کیا تعلق…
شراب جائز ہے جرنیل کے لئے بھی، تمام شو بز کے لئے بھی، سیاستدانوں کے لئے بھی اور عوام کے لئے بھی (تو پھر باقی نشہ آور چیزوں پر کیوں پابندی ہے؟)…
عورت پر پابندی بھی اور ذمہ داری بھی، مردوں کو گھر اور سڑک پر کھلی چھٹی… 
گھروں میں بے حیائی، ننگے پن اور فحاشی سے تہذیب اور اخلاق پر کوئی اثر نہیں پڑتا… تو پھرریپ کا رونا کیوں روتے ہو… 
.
اور پتہ نہیں ایسی ہی کتنی باتیں ہیں… گویا ہر مشہور اور غیر مشہور شخص نے اپنی طرف سے تھوڑے  تھوڑے دھبّے لگاۓ ہوۓ ہیں… چھوٹی چھوٹی باتیں جن کی وجہ سے انھیں افراد کے بڑے بڑے کارنامے بھی بے سود اور غیر موثرہو کر رہ گۓ ہیں… 
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: